داستان زیست ۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط4

تعارف:

محمد خان چوہدری کا تعلق چکوال کے ، بجنگ آمد کی مصنف کرنل محمدخان کے قبیلہ سے ہے، جن کی چھاپ تحریر پر نمایاں ہے، میجر ضمیر جعفری بھی اسی علاقے سے ہیں انکی شفقت بھی میسر رہی، فوج میں تو بھرتی نہ ہو سکے لیکن کامرس میں پوسٹ گریجوایشن کر کے پہلی ملازمت فوج کے رفاعی ادارے میں کی، پھر اِنکم ٹیکس کی وکالت کی، لیکن داستان نویسی میں چکوال کی ثقافت حاوی ہے، مکالمہ  پر  ان کی دو درجن کہانیاں چھپ چکیں ہیں  ، آج کل داستان زیست قسط وار بیان کر رہے ہیں۔

گزشتہ قسط

مجھے تو شاک لگ گیا، خیر ہمت کر کے بتایا کہ یہ آپکے علم میں ہوگا کہ میری پھر پروموشن ہو رہی ہے۔۔۔جہلم مل میں اکاؤنٹس چیف کی جگہ خالی ہے، مجھے عہدہ تو ڈپٹی چیف کا مل سکتا ہے کہ سارے چیف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، کام چیف کا ہو گا، بنیادی تنخواہ پچیس سو روپے ، رہائش اور گاڑی ،
ہنکارا بھر کے بولے ، یہ تو گریڈ اٹھارہ کے سرکاری افسر کے سکیل سے بھی زیادہ ہے، تو مسئلہ کیا ہے ؟۔۔۔۔
میں نے انکے خالی گلاس میں پیگ بنایا اور عرض کی، وہاں تین ہزار سے زائد لیبر اور سٹاف ہے،انکے یونین پرابلم ہیں۔
مجھے کل اسلام آباد ایک ایمبیسی جانا ہے، وہ پینتیس سو بنیادی پے اور دیگر سہولیات دیں گے، بیس پچیس ملازم جن میں تین خواتین اور پانچ ڈپلومیٹ بس ، اسلام آباد میں رہنا ، سر جی ۔۔
مجھے اچانک خیال آیا کہ نئے سوٹ کی میچنگ شرٹ اور ٹائی  خریدنی ہے، باس کو کہا صدر بازار چلتے ہیں ، کھانا بھی کھا آتے ہیں ۔
وہ تیار ہوئے گاڑی نکالی ، بنک روڈ پے ریڈی میڈ ڈریسز کی دکان کے سامنے پارک کی، اتُرے تو سامنے خالد شاہ، فرحی اس کی دوسری کولیگز، دو اور حضرات، قہقہے لگاتے یکدم دکان سے نکل کے سامنے آ گئے، خالد شاہ نے پورے فوجی انداز میں سلیوٹ ٹھوک دیا۔۔۔

چوتھی قسط

فرحی نے بھی سلام کیا ۔ باقی مارکہ نے وہیں سے ہاتھ ہلا کے ٹائم وِش کیا، راجہ صاحب ان سب کو غور سے دیکھتے سٹور کی طرف بڑھے ہم بھی انکے پیچھے تھے کہ سٹور کے مالک سُرعت سے باہر آ گئے، جھُک کر راجہ صاحب کے گھٹنے چھوئے ، سلام کیا ، دروازہ پکڑ کے کھڑے ہوئے اور ہم سٹور میں داخل ہو گئے، سیٹھ رحمت اللہ بھائی  کراچی سے پنڈی شفٹ ہوئے تھے اور شاید  راجہ صاحب کے مرید تھے، ان کی خوشی دیدنی تھی،
باس نے ہمارا تعارف یوں کروایا ۔ یہ ہمارے اکاؤنٹس آفیسر ہیں ، کل اسلام آباد کسی بڑے سفارت کار سے ملنے جا رہے ہیں، ہم ان کو پہن کے جانے کے لئے بلیو شیڈ میں شرٹ اور سُرخ رنگ کی نکٹائی  گفٹ دینا چاہتے ہیں کہ اس کی برکت سے انکی ملاقات مبارک رہے،انکے پاس بلیو سُوٹ تو ہے۔

سیٹھ نے معاون کو اشارہ کیا جس نے ہمارا گلا ناپا، پل بھر میں فورٹین نک سائز کی شرٹ اور ٹائی  کاؤنٹر پر دھری تھی۔۔

ہمارے باس نے چیک کیں ، ہمیں دے کے ٹرائی  روم  بھیجا  شرٹ  پہن کے باہر نکلے تو نکٹائی  پہنا کے دیکھا ،مسکرائے۔اور فرمایا ، ڈپلومیٹ لگ رہے ہو، سیٹھ کو حکم دیا ، شرٹ کے کاج بٹن چیک کریں ،استری کرا کے، نکٹائی  کی ناٹ  کھولے بغیر ہینگر پے لٹکا کے دیں، قیمت پوچھی تو سیٹھ نے کہا آپکے نائب ہمارے تو پیئر  ہیں یہ ہم ان کو ہدیہ کرتے  ہیں ۔
آپ دونوں ہمارے ساتھ ڈنر کریں ۔ پلیز ۔۔۔۔
راجہ صاحب نے قہقہہ لگایا ، اور فرمایا، رحمت بھائی  مالک تمہیں برکت دے، یوں کرو ، سامنے کامران کیفے کے گنجے کے بنائے دو سپیشل برگر اور چپس پیک کرا دو ، ابھی ہم ڈنر سے چار گلاس کی دوری پر ہیں ، سٹور میں سب بندے  مسکرا رہے تھے۔

پنڈی صدر ۔ٹانگہ سٹینڈ
پنڈی صدر بازار
پنڈی بنک روڈ

خیر یہ سودا سلف کار میں رکھوا کے ہم صدر بازار سے روانہ ہوئے تو سیدھے خادم حسین روڈ پے آ کے رُکے۔
راستے میں باس بھی خاموش رہے جیسے خیالات مجتمع کر رہے، تھے  کار چھوٹی سڑک پر موڑ کے ہمارے گیٹ کے سامنے روکی، ہم سامان اٹھا کے اترے تو ڈرائیونگ سائیڈ کا ڈور کھول کے سیٹ پر بیٹھے بڑی گھمبیر آواز میں مخاطب ہوئے۔
،، تمہاری بات میں وزن ہے ،ٹیکسٹائل مل سے ایمبیسی بہت بہتر ہے، فارن آفس اور بڑے سرکاری دفاتر سے  رابطہ رہے گا، اسلام آباد ویسے بھی آفیسر کالونی ہے ، تم پالش ہو جاؤ گے، لباس  اور  گفتگو پر دھیان دینا، سفارتی  آداب سیکھنا، اور لُوز ٹاک سے پرہیز کرنا، یاد رکھنا سفارت خانے کی عمارت پاکستان کا حصہ نہیں  ہوتی ، جیسے اس ملک کا سفیر یہاں اس کا نمائندہ ہے تم ایمبیسی میں ہمارے نمائندہ ہو گے۔
ہمیں  پہلی دفعہ وہ باس نہیں  بلکہ راجہ صاحب محمود آباد لگے ،ہمارے پاس انکے فرمان کا کوئی  جواب نہ تھا۔
بس رندھی آواز میں یہ کہہ پائے ، سر آپ دعا کریں۔۔۔
وہ بھی اپنی کیفیت سے جس میں ایک بزرگ کے پند و نصائح برستے ہیں ، نکل آئے۔
چہرے پر بڑی دبیز مسکراہٹ پھیل گئی، ایک آنکھ دبا کے بولے !
تمہاری فرحی اچھی دوست بن سکتی ہے ، وہ تمہیں بہت پسند کرتی ہے اور ۔۔۔۔۔
She is not pregnant ! She is hot and horny ۔۔۔۔۔
دھپ سے کار کا دروازہ بند کیا ، سلف مارا اور شُوں کر کے چرچراتے ٹائروں سے باس صاحب یہ جا اور وہ جا۔۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *