دودھ۔۔۔وہارا امباکر

بیس کروڑ سال قبل زندگی میں ایک نئی جدت آئی۔ یہ جدت سفید سیال مادے کی تھی جس کو ماں نے اپنے بچوں کو پلانا شروع کیا۔ جانداروں کی یہ قسم ممالیہ کہلاتی ہیں ۔ پلاٹیپس، گینڈا، ہپوپوٹامس، انسان یا اونٹ اپنے بچپن میں اپنی ماں سے اسے حاصل کرتے ہیں۔ دودھ ماں کے جسم سے کئی چیزوں کا نچوڑ ہے۔

اس وقت یونیورسٹی آف کیلے فورنیا ڈیوس میں عمارتوں کا ایک بلاک دودھ کی سائنس پر تحقیق کے لئے وقف ہے اور اس ٹیم کی سربراہی بروس جرمن کر رہے ہیں۔ نیچے دی گئی معلومات بروس جرمن کے اپنے الفاظ میں۔

“دودھ غذائیت کا ایک پرفیکٹ سورس ہے۔ واحد غذا جو “سپر فوڈ” کہلانے کی اصل حقدار ہے۔ خون، تھوک، بلغم وغیرہ پر ہونے والی تحقیق کو میڈیکل سائنس دلچسپی لیتی ہے، اس سیال پر نہیں۔ غذائی سائنس میں اس کو شوگر اور فیٹ کا مرکب سمجھا جاتا رہا ہے جس کا متبادل بآسانی بن سکتا ہے۔ ڈیری انڈسٹری کی توجہ گائے سے زیادہ سے زیادہ دودھ نکالنے پر رہی ہے۔ لیکن یہ سفید مائع ہے کیا، کام کیسے کرتا ہے، اس کو زیادہ نہیں پڑھا گیا۔ اس وجہ سے دودھ پر تحقیق پر زیادہ دلچسپی نہیں لی گئی اور اس پر ریسرچ پیپر بہت کم ملیں گے۔ ہماری ٹیم اس کو بدلنے پر کام کر رہی ہے۔

بیس کروڑ برس میں دودھ خود میں ہونے والی تبدیلیوں نے اسے شیرخوار بچے کے لئے مکمل اور ایک انتہائی شاندار غذا بنا دیا ہے۔ ہر ممالیہ جانور اسے پیدا کرتا ہے لیکن انسانی دودھ جیسا کچھ بھی اور نہیں۔ اس کے اجزاء میں تیسرا بڑا حصہ اولیگوسیکرائیڈ (HMO) ہوتے ہیں۔ ابھی تک 200 مختلف ایچ ایم اوز کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان کو بچے کے لئے اہم غذائی جزو ہونا چاہیے۔ ٹھیک؟

نہیں۔ بچہ ان کو ہضم ہی نہیں کر سکتا۔۔۔

جب مجھے پہلی بار اس کا پتا لگا تھا تو میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ماں کا جسم اس قدر توانائی ان پیچیدہ مالیکیولز کو بنانے میں کیوں خرچ کرتا ہے جب یہ ہضم ہی نہیں ہو سکتے اور بے کار ہیں۔ فطری چناوٗ کے عمل میں ایسا تو نہیں ہوتا۔ لیکن دودھ صرف بچے کے لئے غذا نہیں۔

یہ شوگر معدے اور چھوٹی آنت سے بغیر تبدیل ہوئے گزر جاتی ہیں اور پھر بڑی آنت تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں پر جسم کے سب سے زیادہ بیکٹیریا بستے ہیں۔ کہیں ان کا تعلق ان سے تو نہیں؟ اس پر بیسویں صدی میں دو الگ قسم کی تحقیقات ہوئی تھیں، جن سے اس کا اشارہ ملا تھا۔ اس پر تحقیق کرنے والے نوبل انعام یافتہ سائنسدان رابرٹ کوہن اور پال گریگوری تھے، جنہوں نے پتا لگایا تھا کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں کے جسم میں جراثیم کا نظام ہی مختلف ہوتا ہے اور ان میں بِف بیکٹیریا خاصی زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ یہ دودھ کا حصہ تو نہیں ہوتے۔ اس کا تعلق ان ایچ ایم او سے ہے۔

اس پر 2006 میں ہونے والی تحقیق سے اس سب کا طریقہ پتا لگا۔ ایچ ایم او ہر بیکٹیریا کو غذائیت نہیں بہم پہنچاتیں۔ ان میں سے ایک نوع غذائیت حاصل کر کے دوسروں سے خاصی زیادہ پھل پھول ہو جاتی ہے۔ باقی دوسری انواع پر ہونے والا اپنی طرح کا اثر ہے اور ہر کوئی اس مالیکیول کو اپنی طرح استعمال کرتی ہے لیکن ماں کے دودھ کا یہ حصہ جسم میں ان جراثیم کی آبادی کو شکل دیتا ہے۔

ان جراثیم کا اور دودھ کا ارتقا باہم ہوا ہے۔ دودھ ان جراثیم کو رہنے کے لئے غذائیت دیتا ہے اور یہ جراثیم اس شیرخوار بچے کو شارٹ چین فیٹی ایسڈ بنا کر۔ ان میں سے ایک بیکٹیریا بی انفانٹس آنتوں کے خلیوں میں چپکدار پروٹین بناتا ہے جو مدافعتی نظام کو تربیت دیتے ہیں۔ یہ والا بیکٹیریا یہ کام صرف اس وقت کرتا ہے جب اسے وہ اجزاء ملیں جو ماں کے دودھ میں ہوتے ہیں، ورنہ یہ اس طریقے متحرک ہی نہیں ہوتا۔ میرے ساتھی مائیکروبائیولوجسٹ کے مطابق یہ بیکٹیریا ماں کے دودھ کا ہی حصہ ہے، حالانکہ یہ خود دودھ میں نہیں ہوتا۔

ماں کا دودھ کئی حوالے سے باقی جانوروں سے بڑا مختلف ہے۔ اس میں گائے کے دودھ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ اقسام کے ایچ ایم او ہیں اور ان کی مقدار سینکڑوں گنا زیادہ ہیں۔ انسان کے دودھ کے قریب قریب بھی کوئی اور نہیں۔ اس کی وجہ کا نہیں پتا لیکن کچھ اچھے اندازے ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس کا تعلق دماغ سے ہے جس کا مقابلہ کسی بھی دوسرے جاندار سے نہیں۔ اس کو تیزی سے بڑھنے کے لئے سیالک ایسڈ چاہیے۔ یہ سیالک ایسڈ بھی ایک ایسا کیمکل ہے جو یہ بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔ اس بیکٹیریا کو خوش رکھ کر بچوں کے دماغ کی بہتر نشوونما کی جا سکتی ہے۔ سوشل انواع جیسا کہ بندر یا دوسرے ایپ ہیں، ان کے دودھ بھی اولیگوساکرائیڈ کی مقدار دوسرے ممالیہ سے زیادہ ہے۔ زیادہ دوستیاں کرنے، زیادہ سوشل تعلقات بنانے اور زیادہ حریفوں کا سامنا کرنے کے لئے دماغ کی زیادہ نشوونما کی ضرورت پڑتی ہے جو تنہا رہنے والے جانداروں کو نہیں ہوتی۔

اس پر ایک اور خیال بیماریوں کا ہے۔ سوشل جانداروں میں بیماریاں جلد لگ سکتی ہیں۔ ان کے خلاف مضبوط دفاع کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایچ ایم او کی شکل حیرت انگیز طور پر آنتوں کے گلائیکن سے مشابہہ ہے۔ بیماری والی جراثیم بچے کے جسم کے بجائے ان سے چپک جاتے ہیں اور بچہ بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے ہر قسم کی بیماری، بشمول ایڈز، کے دوسرے بچوں سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ یہ خیال اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ایچ ایم او اتنے زیادہ اقسام کے کیوں ہیں۔

ابھی ہماری ٹیم کو بہت سا کام کرنا ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ ابھی تو ہم نے شروع ہی کیا ہے۔ لیکٹوز، فیٹ اور ایج ایم او کے علاوہ بھی دودھ کو سمجھنا ہے۔ مثال کے طور پر، ماں اپنے بچے کو دودھ کے ذریعے ایک اور تحفہ دیتی ہے۔ وائرس۔ اور ایک آدھ نہیں، ڈھیروں ڈھیر۔ یہ وائرس فیج ہیں جو بیکٹیریا کے شکاری ہیں۔ یہ جسم کے اندر بلغم سے چپک جاتے ہیں اور بیکٹیریا کا شکار کرتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے والوں میں یہ دس گنا تک زیادہ موثر رہتے ہیں۔

وائرس، بلغم، مدافعتی نظام کے مختلف بازو، دودھ کے اجزاء الگ الگ نہیں، ایک ہی گندھے ہوئے نظام کا حصہ ہیں۔ اس دماغ کو چکرا دینے والی حقیقت میں
وائرس ہمارے دوست ہیں اور اتحادی۔
مدافعتی نظام خود بیکٹیریا کو پالتا ہے۔
ماں اپنے بچے کو زندگی کے آغاز پر ایک بڑا اہم تحفہ جراثیم کا دیتی ہے۔ یہ کام شیر مادر کا ہے۔

دودھ محض کیمیکل بیگ نہیں۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ماں اپنے بچے کو زندگی کے ابتدائی دنوں میں مفید ساتھیوں کی ٹیم بنا کر دیتی ہے اور اس کو آئندہ زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *