• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • این جی اوز ۔۔۔ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی؟۔۔۔آصف محمود

این جی اوز ۔۔۔ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی؟۔۔۔آصف محمود

این جی اوز، کرائے کے یہ لشکری ، بیرون ملک سے فنڈ لے کر اپنی سوچ اور ضمیر رہن رکھ دینے والے یہ اہل ہوس، سوال یہ ہے کہ ان کے بارے میں ریاست کب یکسو ہو گی؟ کیا ڈالرز کے عوض شعور رہن رکھ دینے والے ان نابغوں کو جو ہر معاملے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ، اس بات کی مکمل اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ سماج ، مذہب ، ریاست جس کو چاہیں ، جب چاہیں اور جہاں چاہیں سینگوں پر لے لیں، کوئی روکنے والا نہیں؟ این جی اوز کوئی معمولی واردات نہیں ، یہ الگ بات کہ ہمیں بطورقوم اس واردات کی ہلاکت خیزی کا ابھی تک احساس نہیں ہو سکا۔ ان کے اجزائے تراکیبی سے طریق واردات تک ہر چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔پہلے ذرا ان کے اجزائے تراکیبی کو سمجھ لیجیے۔ پاکستان میں دو طرح کے بے روزگار پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو غیر تعلیم یافتہ ہیں اور ایک وہ جو تعلیم یافتہ ہیں لیکن زندگی کی اس دوڑ میں کسی سمت کا تعین نہیں کر سکے اور تلاش معاش کے لیے ادھر ادھر ہاتھ پائوں مارتے رہے۔ ان تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے مسائل کو ریاست معنویت کے ساتھ مخاطب نہیں بنا سکی۔ایک خلاء موجود تھا ۔مغرب نے یہ خلاء این جی اوز کی شکل میں بھر دیا۔دھڑا دھڑ این جی اوز بنیں ۔ باہر سے ڈالر آ رہے تھے، یوں گویا مغرب کی ڈگڈی پر رقص کرنے والی کٹھ پتلیوں کے لشکر تیار ہو گئے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا مغرب ان این جی اوز کو فنڈز کیوں دیتا ہے؟سرمایہ دارانہ نظام میں جہاں فری لنچ کا کوئی تصور نہیں ، این جی اوز پر ڈالرز کی بارش کیوں ہوتی ہے؟ کیا کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ ان این جی اوز کو فنڈز دینے والے غیر ملکی ادارے کون کون سے ہیں ، ان کا پس منظر کیا ہے اور ان کا ایجنڈا کیا ہے؟وہ چاہتے کیا ہیں؟کیا کسی کو علم ہے ملک میں کتنی این جی اوز کام کر رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ، کیا ہمیں معلوم ہے انہیں کتنی رقم باہر سے ملتی ہے اور وہ رقم کہاں خرچ ہوتی ہے؟ کیا کسی نے یہ پرکھنے کی کوشش کی کہ یہ این جی اوز جس ایجنڈے پر کام کر رہی ہے وہ ہماری مذہبی ، سماجی ، تزویراتی ضروریات سے کتنا متصادم ہے؟کیا حکومت کے کسی ادارے کے پاس ان کی سرگرمیوں کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟ ڈونر ایجنڈا ترتیب دیتا ہے اور این جی اوز کشکول پروپوزل کے نام پر دست سوال دراز کر دیتی ہیں۔ جسے بھیک مل جائے وہ کامرانی اور کامیابی کے احساس کے ساتھ کام میں مصروف ہو جاتی ہے۔ کوئی سیکیورٹی کا ماہر بن جاتا ہے ، کوئی ہمیں رواداری سکھانے آ جاتا ہے ، کوئی عورتوں کے حقوق کے نام پر دکان کھول لیتا ہے ۔ ڈونر جس جس شعبے میں واردات ڈلوانا چاہتا ہے اس اس شعبے میں ’’ ماہرین‘‘ کام میں جت جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ایک کارٹل وجود میں آ گیا۔ بڑے ہوٹلوں میں سیمینار اور وہی پیشہ ور حاضرین اور پیشہ ور ماہرین۔ اس این جی او کی تقریب کو رونق بخشنے وہ آ گئے اور ان کی تقریب ہوئی تو اسے منور کرنے یہ پہنچ گئے۔ایک انجمن ستائش باہمی بنی جو بعد میں ایک فکری مافیا کی شکل اختیار کر گئی۔ذرائع ابلاغ ان کی عمومی گرفت میں ہیں۔جس نے این جی اوز کے بارے میں کوئی سوال اٹھایا کھڑے کھڑے جاہل ، مولوی، بنیاد پرست ، قدامت پسند، جنونی اور جانے کن کن القابات سے نوازا گیا تا کہ سند رہے اور عبرت کے لیے بوقت ضرورت سند کا کام کرے۔آج ذرا حکومت معلوم تو کرے پاکستان میں کون کون این جی او بنا کر بیٹھا ہے۔چاروں طبق محض روشن نہیں ہوں گے ، منور ہو جائیں گے۔ پاکستان کا فکری منظر نامہ غیر محسوس طور پر یر غمال ہو چکا ہے۔کسی بھی معاشرے میں اس کی سول سوسائٹی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ وہ بالعموم وہ طبقہ سمجھا جاتا ہے جو سیاسی عصبیتوں سے آزاد ہو کر رائے قائم کرتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے این جی اوز کے خواتین و حضرات ہی اب سول سوسائٹی کہلاتے ہیں۔غیر ملکی قوتوں سے فنڈز لے کر ایک مہم برپا کی جاتی ہے اور اس چاند ماری کو سول سوسائٹی کے مطالبے کا نام دیا جاتا ہے۔ این جی اوز کے یہ کارندے بظاہر ہمارے سماج کا حصہ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارے سماج کا حصہ نہیں۔یہ فکری پیراسائٹس ہیں جو ہمارے فکری وجود کو لاحق ہو چکے ہیں۔انہوں نے ایک حکمت عملی کے تحت انتشار فکر کو فروغ دیا ہے۔ یہ ڈونر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ، ڈونر کی زبان سے بات کرتے ہیں اور ڈونر کے ذہن سے سوچتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ پر یہ مطالعہ پاکستان کی پھبتی کستے ہیں، مذہب پر بات کرنے والا ان کے نزدیک جنونی اور کم عقل ہے، ہر قومی دن کے موقع پر یہ سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں۔یوم دفاع منایا جا رہا ہو یہ شکست برآمد کر کے بیٹھ جائیں گے، 23 مارچ ہو انہیں فوجی پریڈ سے تکلیف ہو جائے گی، 14 اگست ہو یہ ابولکلام آزاد کی آرتی اتارنا شروع کر دیں گے۔حج آئے گی انہیں حج اخراجات کی تکلیف شروع ہو جائے گی اور غریبوں کا درد جاگ اٹھے گا، خنزیر کے گوشت مزے لے لے کر کھانے کے بعداس کے ذائقے بیان کرنے والے یہ دانشور عید قربان پر جانوروں کے لہو بہائے جانے پر دلگرفتہ پائے جائیں گے۔ دینا کے ہر ملک کی ہر پالیسی میں کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی لیکن پاکستان کی ہر پالیسی ان کے نزدیک مجموعہ جہالت ہے اور پاکستان نے اپنی قومی تاریخ میں ان کے خیال میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی تحسین کی جا سکے۔یہ تہذیب مغرب کے مجاور ہیں ، ویلنٹائن ڈے ہو یا اس تہذیب کا کوئی اور رنگ یہ بائولے ہو جائیں گے اور ہمیں سمجھائیں گے دنیا ایک گلوبل ولیج ہے اور کلچر کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن عرب کلچر کے دو رنگ نظر آ جائیں یہ بدحواس ہو کر چیخنا شروع کر دیں گے ’’ بدو ، اونٹ ، الباکستانی‘‘۔مستثنیات ہر شعبے میں ہوتی ہیں لیکن عمومی تصویر وہی ہے جو بیان کر دی۔آپ دیکھ لیجیے اس طبقے کا وزن کبھی پاکستان کے پلڑے میں نہیں ہوا۔ یہ وہ فکری پیرا سائٹس ہیں جو پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے بارے میں ریاست کب فیصلہ کرے گی؟ کب ہماری آنکھ کھلے گی؟ؒ

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *