سفر نامہ لاہور۔۔۔۔عارف خٹک/دوسری قسط

بستر پر دراز ہوتے ہی ڈاکٹر خرم خٹک کا فون آگیا کہ وہ ڈاکٹر عارف مروت اور ڈاکٹر زاہد خٹک کے ساتھ آرہے ہیں۔ دس منٹ بعد تینوں بچے اندر آگئے۔ پانچ منٹ تک میں بُردباری اور متانت سے ان سے حال احوال پوچھتا رہا، کہ پریکٹس وغیرہ کیسی چل رہی ہے۔ ساتھ میں یہ بھی نصیحت کی،کہ اپنے قول و فعل سے ثابت کرو کہ پشتون بہت باکردار ہوتے ہیں۔کیونکہ فضل خان بڑیچ کی عزت کا سوال ہے۔ تینوں نے سر جُھکا کر کہا،آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں لالہ۔ ان کے لئے  چائے منگوائی۔ چائے کا سِپ لیتے ہوئے ڈاکٹر خرم خٹک نے آہستہ سے پوچھا لالہ مراد سعید واقعی واشل ہے؟۔۔

یہ سوال گویا شرافت کے بیرئیرز ہٹانے کے  مترادف تھا۔سو اب کُھل کر گفتگو شروع ہوگئی۔جس میں دنیا جہان کی معلومات کے خزانے بہا دیئے گئے۔ ڈاکٹر بچے میری قابلیت اور خود کی کم علمی کے معترف ہوگئے۔ بحث سمیٹتے ہوئے میں نے ان تینوں ڈاکٹروں کو کہا کہ میں تم تینوں کی قابلیت اس وقت مانوں گا کہ آپ تینوں مجھے بتا سکو  کہ کھوتی اتنی ٹھنڈی کیوں ہوتی ہے؟اس پر تینوں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ بالآخر تینوں نے با آواز بلند کہا۔کہ ہم ایم بی بی ایس والے ڈاکٹر نہیں ہیں،بلکہ فارمیسی پڑھی ہے۔
میں نے ان کو کہا کہ ایک عدد پی ایچ ڈی ہم نے بھی کی ہوئی ہے۔مگر نام کے ساتھ ڈاکٹر اس لئے نہیں لکھتے،کہ کہیں لوگ جاہل نہ سمجھنا شروع کردیں۔
بالآخر عبدہُ پُہنچ گئے۔ اور وہ بھی بحث میں شامل ہوگئے۔ آدھے گھنٹے بعد مجھے خود شرمندگی محسوس ہونے لگی۔کہ عبدہُ بھائی جیسے بندے کے ساتھ کوریا والے اپنی بہن بیٹیوں کو کیسے شمالی علاقہ جات تک اکیلے بھیج دیتے ہیں۔۔۔
عبدہُ بھائی وہ واحد انصافی ہیں  جن کو ملک کی فکر نہیں، حالیہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی گراوٹ کا احساس بھی نہیں۔ ان کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں ہے کہ ملک کی معیشت کہاں جارہی ہے۔بلکہ وہ  تو اس بات کے قائل بھی نہیں ہیں کہ وزیراعظم خان ہے یا پھر چیف آف آرمی سٹاف ہیں۔ مگر عبدہُ بھائی کو واحد اس بات کی فکر کھائے جارہی ہے کہ ن لیگی دانشور کیسے اور کیوں انصافی خواتین کو پریشان و ہراساں کررہے ہیں۔
خیر سحری کھائی اور تینوں خٹک ڈاکٹروں کو زبردستی رخصت کرڈالا۔ ثاقب سے جان چُھڑائی اور عبدہُ بھائی کو اپنے ساتھ زبردستی کمرے میں روک لیا۔ عبدہُ بھائی  نے بہتیرا منع کیا۔ مگر ان کو بولا،کہ رات کو اکیلے ڈر لگتا ہے۔یہ کہتے ہوئے اچانک نظر اُٹھائی تو فضل بڑیچ کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر میں نے چیخ ماری۔۔۔
عبدہُ بھائی گھبرا گئے،چپل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پوچھا،کدھر ہے بڑیچ؟۔ میں نےصوفے کی طرف اشارہ کیا تو عبدہُ خفا ہوگئے کہ اچھا مذاق کرلیتے ہو۔ اور مُنہ بنا کر لیٹ گیا۔
اس دوران بابا کوڈا بھی آگئے اور ہمارے بیچ لیٹ گئے۔ بابا کوڈا اپنے کالم میں مصروف تھے ان کو سمجھایا کہ بابا سیاسی طور جو کرنا ہے وہ کریں۔ مگر مذہبی اور مسلکی معاملات سے دور رہیں کیونکہ ریاست ان باتوں کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔ بابا نے بات سن لی مگر دیکھتے ہیں کہ ہمارا مشورہ کتنا مانا ہے۔ یہ تو مستقبل قریب میں معلوم ہوگا۔
عبدہُ بھائی ایک شریف النفس مرد ہیں۔ مردانہ محفلوں سے دُور بھاگتے ہیں۔جہاں دو تین سہلیاں دیکھ لیں،فوراً اپنی کتاب پکڑا کر ایک سیلفی لیں گے۔اور بعد میں پورے جہاں کو بتاتے پھریں گے کہ یہ ہے میری بہن جو بہت سیکسی ہے۔ان کی  ایک اضافی خوبی ،کہ یہ فیس بک کی دائی بھی ہیں۔کسی بھی آئی ڈی کی ڈی پی پر انگلی رکھ کر آپ کو بتا سکتے ہیں۔کہ پیچھے خاتون ہے یا کوئی عبدالغفور بیٹھا ہے۔ عبدہُ بھائی ایک پروفیشنل ٹریکر ہیں۔ کوریا سے خواتین لاتے ہیں اور شمالی علاقات میں اکیلے چھوڑ دیتے ہیں۔کوئی خاتون پسند آجائے تو آدھی ادھوری شادی بھی رچا لیتے ہیں۔اور سیزن ختم ہونے کے بعد کتابیں لکھ کر ہم پاکستانیوں کو مزید اذیت،بے چینی و بے سکُونی اور ایک نا ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔

پوری رات عبدہُ بھائی نے آنکھوں میں کاٹ لی۔ صبح میں نے بستر سے اُٹھ کر پوچھا،کہ آپ سوئے کیوں نہیں بھائی جان؟
جواب دیا کہ آپ بھی تو نہیں سوئے۔
اگلے دن صبح سویرے تیار ہوکر میں ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ اور فروٹ کھانا شروع کردیا۔ فروٹ کھاتے کھاتے عبدہُ بھائی سے پوچھا کہ آجائیں کچھ کھا لیں۔ تو جناب نے فوراً یاد دلا دیا کہ لالہ روزہ ہے۔ میں نے خشمگیں نگاہوں سے اُسے گھورا۔کہ کیسے مسلمان ہو اگر میں بُھول گیا تھا تو آپ کو یاد نہیں دلانا چاہیئے تھا۔کیوں کہ ایسے مسلمانوں کیلئے پشتو میں ایک بہت بُرا لفظ ہے۔ کم از کم نسوار تو رکھنے دیتے۔
گیارہ بجے چیک آؤٹ کیا۔ اور فیصلہ ہوا کہ آج شاہی محلے کا چکر لگائیں گے۔ فون آیا کہ ڈیرہ غازی خان سے پروفیسر عارف گل صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔ ثاقب آفریدی نے مجھے  سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ کیا لاہور میں پروفیسروں کی کمی تھی؟
پروفیسر صاحب سے مل کر پتہ نہیں کیوں ایسا لگا۔ ایک عجیب سی اُداسی چہرے پر سجائے ہوئے،جیسے زبردستی کسی فیصل آبادی الہڑ مٹیار کی شادی تونسہ کے مولانا انوار حیدر سے ہورہی ہو۔ جو شہد میں چینی ملا کر بیچتا ہے۔
چاروں سوزوکی اوڈی میں بیٹھ کر شاہی محلے کی طرف نکل گئے۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ رمضان میں ایسی جگہوں پر جانے والوں پر پھٹکار بھیجی گئی ہے۔ مگر “تاریخ کا طالبعلم” ہوں سو معلومات لینا فرض تھا مگر جو معلومات ملی کہ شاہی محلے کی ساری طوائفیں شریف ہوکر لاہور ڈیفنس، شادمان یا اچھرہ چلی گئی ہیں۔ جو باقی بچی ہیں،اُنھوں نے مختلف چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن میں اسلام سکھانے کی ذمہ داری اپنے نازک کاندھوں پر اُٹھا لی ہے۔ میں نے لاہور کی سنسان سڑکوں کو دیکھ کر پوچھا،کہ لڑکیاں کہاں غائب ہیں۔ معلوم ہوا کہ 80 فی صد بچیاں لاہور کے مختلف مالز میں جاکر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ٹک ٹاک پر دیسی مُجرے ریکارڈ کروا رہی ہیں۔ سو شاہی محلے کو چُھوتے ہوئے شاہی مسجد چلے گئے۔
شاہی مسجد میں چاروں نے نماز پڑھ لی۔ اور دیواروں کیساتھ لگ کر ایک دوسرےکے ساتھ گریہ زاری بھی کی۔ مسجد سے نکل کر جیسے ہی موتی محل کی طرف گیا۔تو کسی خاتون کی آواز کانوں سے ٹکرانے لگی۔کہ مغل بادشاہ نے ممتاز نامی عورت کیلئے کیا کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ میں آج تک یہی سوچتے سوچتے زندگی بتا بیٹھی۔کہ ممتاز کے ساتھ آخر ایسا کیا تھا جو ہم عورتوں کے پاس نہیں۔ ہمارے شوہر تو شادی کے دوسرے مہینے گھر والوں سے الگ کرکے کرائے کے دو کمرے والے گھر میں رکھ چھوڑتے ہیں۔ ممتاز میں ایسی کیا خوبی تھی؟ جو آج سے صدیوں پہلے ان کے لئے نو لاکھ کا کمرہ بنا دیا گیا۔ میں نے رنجیت سنگھ کے تخت کو مخاطب کرکے کہا۔کہ محمود نے ایاز جیسے چھوکرے کےلئے اپنی محبت کو عقیدے اور احترام تک کا نام دیا۔ اور بے عزتی ہم بنوسی اور خٹکوں کے نصیب میں لکھ دی گئی۔ورنہ ایاز مُجھ سے زیادہ خوبصورت تھا؟جو لاہور کا گورنر بنا دیا گیا۔ جب کہ یہاں تو یہ حال ہے۔کہ ہمیں پشاور کے قوم پرست بھی گھاس نہیں ڈالتے۔
یہ کہتے ہوئے میں رنجیت سنگھ کے پایۂ تخت پر لعنت بھیجنے ہی والا تھا۔کہ اس تخت کے پیچھے سے عارفہ رانا برآمد ہوئی۔ عارفہ رانا اور عبدہُ کیساتھ مل کر ہم نے چھم چھم کھیلا۔پھر  پانچوں مطالعہ پاکستان کے اسیران علامہ اقبال مرحوم کے چرنوں میں جاکر بیٹھ گئے۔اور لوکل دانشوروں کی جلانے کے لئے عکس بندی بھی شروع کردی۔


تین سے پانچ بجے تک محمود فیاض بھائی کےساتھ ہسپتال میں جرگہ پاکستان کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔۔ہسپتال میں عامر خاکوانی صاحب کی والدہ ایڈمٹ تھی۔ اُن کی عیادت کی۔
ساڑھے پانچ بجے کے قریب ممتاز نظر صاب مجھ سے ملنے خصوصی طور تشریف لے آئے۔گلے ملنے کے بعد ممتاز بھائی شروع ہوگئے۔اور نان سٹاپ بولتے بولتے سڑک کنارے ہمیں افطاری کروائی۔
میرے اندر مزید سننے کی سکت نہیں تھی سو سب کےساتھ ایک مشترکہ سیلفی لےکر ایئرپورٹ کی طرف بھاگا۔ اور ایسا بھاگا کہ کراچی جاکر ہی دم لیا۔ آج تیسرا دن ہے،بیگم ناراض ہے کہ آپ ہم سے بات کیوں نہیں کررہے. اب ان کو کیا جواب دوں کہ جو باتیں اور بولنے سُننے کا سٹیمنا تھا۔وہ ممتاز نظر صاحب نے ختم کر دیا ہے ۔سو اب عید کے بعد ہی ریچارج ہوسکتے ہیں۔
بیگم نے مینار پاکستان کے بابت دریافت کیا کہ قریب سے کیسے نظر آرہا تھا۔ جواب دیا لاہوری بڑی دو نمبر قوم ہے ہر لیٹی شے کو سلمان دواخانہ کا کشتہ کھلا دیتے ہیں تھبی تو ان کی ہر لیٹی چیز ہمارے مشر محسن داوڑ کی طرح یوں تن کر کھڑا ہے۔
ختم شد۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *