• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لوڈشیڈنگ نے سیاسی اعلانات کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔۔۔طاہر یاسین طاہر

لوڈشیڈنگ نے سیاسی اعلانات کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔۔۔طاہر یاسین طاہر

اداریہ

حکمت اگر منڈیوں کی جنس ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ خریدار پاکستانیسیاستدان ہوتے۔یہ مگر خداد اد چیز ہے ،اللہ جسے چاہتا ہے اسے حکمت و دانائی عطا کرتا ہے۔دانا آدمی کا ای وصف یہ بھی ہے کہ وہ بولنے سے پہلے بہت سوچتا ہے،بولتا ہے تو حقائق بولتا ہے اور جھوٹ بولنےسے گریز کر تا ہے۔ خوابوں کے سوداگر البتہ چالاک ہوتے ہیں۔جیسا کہ تاجروں کی تاریخی داستانیں بتاتیہیں کہ وہ اپنی جنس کو عمدہ کر کے بیچ ہی دیتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو۔سیاسی تاجر بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔اپنے مشور کو عوامی منشور کہہ کے بیچ دیتے ہیں۔ اپنے اور اپنے خاندان و دوستوں کے مفاد اور ترجیحات کو عوامی مفاد اور ترجیح کہتے ہیں۔جمہوریت بہترین انتقام ہے،سسٹم کو نقصان نہ ہو،ترقی کا سفر رکنے نہ پائے،ایسے الفاظ خوش کن ہوتے ہیں مگر یہ کیسی جمہوریت ہے جو انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے؟ یہ کیساجمہوری سسٹم ہے جو بجلی کے بغیر چلتا ہے؟یہ کیسا نظام ہے جو غریبوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتا ہے؟یہ کیسی ترقی ہے جو اندھیروں کو فروغ دے رہی ہے؟ یہ کیسی ترقی ہے جس میں بحران ہی بحران ہیں؟کوئی ادارہ فعال نہیں۔دشمن جنگ کے لیے للکار رہا ہے اور ہمارے ہاں 16,16گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔میر درد بہت یاد آتے ہٰں، اگرچہ ان کے عہد مٰں لوڈشیڈنگ کا جھنجھٹ نہ تھا مگر صوفی شاعر نے ہمارے عہد میں جھانک کر ہم کی ترجمانی کر دی تھی۔

          زندگی ہے یاکوئی طوفان ہے

         ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

ہمارا المیہ صرف بجلی،مہنگائی،غربت اور بے روزگاری ہی نہیں،بلکہ لیڈر شپ کی کمی بھی ہے۔ قحط الرجال ہے،البتہ شعبدہ باز ہمیں اپنی طرف متوجہ کیے رکھتے ہیں۔سہانے خواب انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔سیاسی جماعتیں غریب انسانوں کی اس نفسیاتی کیفیت سے خوب آگاہ ہیں۔سابق آمر جنرل ر پرویز مشرف کے عہد میں لوڈشیڈنگ نہ تھی،نگران حکومت آٗی تو لوڈشیڈنگ بھی شروع ہو گئی،پھر یہ مرض پیپلز پارٹی کی حکومتمیں منتقل ہوا جو بالآخر ان کی پارٹی کا ستیا ناس کر گیا۔عوام لوڈشیڈنگ سے اس قدر عاجز ہوئے کہ رہے نام اللہ کا۔نون لیگ اور پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ وفاق میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور لوڈشیڈنگ بھی اپنے عروج پہ تھی تو آئے روز پنجاب میں بالخصوص لوڈشیڈنگ اور ناکام حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے تھے جن کو نون لیگ کے وزیر اعلیٰ المعروف خادم اعلیٰ خود لیڈ کیا کرتے۔وزیر اعلیٰ پنجاب جو افتخار چوہدری والی سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لے کر اپنی حکومت چلا رہے تھے مینار پاکستان کے سائے تلے ہتھ پنکھی لے کر لوڈشیڈنگ کے خلاف تنبو والا احتجاج بھی کیا کرتے تھے۔لوڈشیڈنگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ان کی اور وزیر اعظم میاں محمد نوز شریف صاحب کی تقریریں عوامی تفریح کا سامان ثابت ہوئیں۔ کیا بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف نون لیگ کی سیاستکاری کو ہم بھول گئے ہیں؟ نہیں،اکتوبر 2011 کی بات ہے۔لوگوں کو مظاہروں کے لیے انگیخت کیا جاتا۔تاریخ یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہرگوجرانوالہ اورگجرات میں مشتعل مظاہرین نے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔گوجرانوالہ میں مظاہرین نے ٹرینوں کو روک دیا تھا اور ایک پٹرول پمپ اور ریسکیو کی سرکاری ایمبولینس سمیت متعدد گاڑیوں کو نذرآتش کیا جب کہ دو بینکوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔للۂ انٹرچینج پر موٹروے پر گھنٹوں ٹریفک بلاک کی گئی اور جہلم میں ڈی سی او کے دفتر کا گھیراؤ کیا گیا۔سیالکوٹ میں گرڈ سٹیشن کا گھیراؤ کیا گیا ،توڑ پھوڑ کی گئی اور بورے والا، اوکاڑہ میں بھی تاجروں نے ہڑتال کی اور شہریوں نے جلوس نکالے۔ اسی دوران میںلاہور سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی نے غیر اعلانیہ لوڈشینڈنگ کے خاتمے کے لیے ایک ریلی بھی نکالی۔مسلم لیگ نون کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی یہ ریلی لاہور کے علاقے لوہاری گیٹ سے شروع ہوئی۔ اس ریلی کی قیادت وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کر رہے تھے۔ارکان اسمبلی کی یہ ریلی شاہ عالم مارکیٹ کے قریب پہنچ کر ختم ہوئی جہاں رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے خطاب کیاتھا۔حمزہ شبہاز نے خبردار کیا تھا کہ اگر لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا گیا تو مسلم لیگ نون لانگ مارچ کرے گی۔اسلام آباد میں میاں نواز شریف نے ایک پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوں۔مئی 2011میں لاہور میں بجلی کی بندش کے خلاف جاری ایک عوامی مظاہرے میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف بھی پہنچ گئے تھے اور لوگوں کے ساتھ مل کر بجلی کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے لگائےتھے۔ کیا یہ سچ نہیں کہنون لیگ نے تو الیکشن ہی لوڈشیڈنگ چھ ماہ میں ختم کرنے والے اعلان کے ساتھ لڑ تھا۔؟

نون لیگ وفاق میں حکومت میں آئی تو بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو رقم دے کر ڈنگ ٹپا لیا،مگر تا بہ کے؟ اب بجلی کی لوڈشیڈنگ کا جو مسئلہ ہے وہ لین دین کا ہے۔ خبریں ہیں کہ کئی سو ارب روپے حکومت کے ذمے واجب الاد ہیں۔تین پرائیویٹ پیداواری یونٹ بند ہو چکے ہیں۔اعلان یہ ہے کہ 2018 میں لوڈشیڈنگ مکمل ختم کر دی جائے گی۔ سوال مگر یہ ہے کہ حضور اگر لوڈشیڈنگ نے 2018میں آپ کے ہاتھوں مکمل ختم ہونا ہے تو اب لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم ترہونا چاہیے تا کہ یہ آپ کی طرف سے دی جانے والی نئی تاریخ پر ختم ہونے کے امکانات کااظہارہو،آپ کی کرامات سے تو لگتا ہے ہم 2010/11میں جی رہے ہیں۔آپ نے پوری مسلم لیگ نون کو بجلی سیاست پر لگا دیا تھا اور مظاہروں کی قیادتیں کر رہے تھے۔کیا آپ کے اقدامات اور طویل لوڈشیڈنگ نے آپ کے سیاسی اعلانات کا گلا نہیں گھونٹ دیا؟کیا 2018 میں نندی پور والا پاور پراجیکٹ انگڑائی لے کر آپ کو سیاسی توانائی دے گا یا پھر ترکی سے پاور ٹرانزیکشن ہو جائے گی ؟کچھ تو بتائے حضور!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *