میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔۔۔علی اختر/ قسط 8

کچھ ہی دن بعد مجھے استنبول کے اوورسیز لوگوں کے آفس جانا تھا جو فاتح کے علاقے ہی میں واقع تھا تو کام سے فراغت کے بعد میں نے اورہان سے ملاقات کا سوچا ۔ آفس سے نکل کر میں نے اورہان کو کال کی اور ایڈریس کنفرم کرکے اسکی دکان کی جانب پیدل مارچ شروع کر دیا ۔

فٹ پاتھ پر چلتا اور دکانیں دیکھتا ۔ سیاہ چادروں میں لپٹے سفید چہروں کا دیدار کرتا میں اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا کہ ایک چھوٹے سے جنرل اسٹور پر مجھے اورہان دکھائی  دے گیا ۔ “سلام کاردیشم ، ہوش گیلدنز ” کہتے ہوئے اس نے گرمجوشی سے مجھے دیکھتے ہی ترک انداز میں کنپٹی سے کنپٹی ملا کر خوش آمدید کہا ۔ اپنی دکان دکھائی  ۔ دکان پر رکھی کھجوریں پیش کیں اور میری خواہش پر سلطان محمد فاتح کی مسجد دکھانے کو دکان اپنے چھوٹے بھائی  کے سپرد کرکے میرے ساتھ سڑک پر آگیا ۔

tripako tours pakistan

کچھ ہی دیر میں میں ایک چھوٹے سے خالی میدان میں کھڑا تھا اور فاتح مسجد استنبول کی پر شکوہ عمارت میرے سامنے تھی ۔ ارد گرد وہی ٹوپیوں, کفتان (قمیض پر پہننے والا لمبا کوٹ نما جبا) ، شلوار اور داڑھیوں والے مرد اور سیاہ چادروں سے نقاب کی ہوئی  ترک عورتیں گھوم رہی تھیں ۔ “اورہان ! یہاں کے لوگ باقی استنبول سے الگ ہیں ۔ یعنی اسلامی لباس والے جبکہ باقی استنبولیں اکثریت مغربی نظر آتی ہے ” میرے اس سوال پر اورہان کچھ دیر کے لیئے خاموش ہوگیا ۔ “علی ! ہمارے بزرگوں نے اپنی اسلامی تہذیب کو بچانے کے لیئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ شاید تم ادراک نہ کر سکو ۔ ایک وقت تھا جب ترکی میں لفظ میں خدا اور اسلام پر یقین نہیں رکھتا پڑھے لکھے اور قابل ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت جبکہ عربی لکھنے پڑھنے پر پابندی تھی ۔ عورتوں کو اسکارف اور مردوں کو داڑھی اور ٹوپیوں کے ساتھ سرکاری اداروں میں نوکری اور تعلیمی اداروں میں داخلے نہیں ملتے تھے ہم نے اسلامی تہذیب کو نہیں چھوڑا ۔ یہاں گھومنے آنے والے استنبول کا یہ چہرہ نہیں دیکھ پاتے ۔ بلکہ اب وہ معاملہ رہا ہی نہیں۔ اب تو حالات بہت اچھے ہیں ” ۔ فاتح کی مسجد سے اٹھتی عصر کی اذان کی دلفریب آواز نے ہماری گفتگو کاسلسلہ منقطع کر دیا تھا ۔

امام مسجد نے جماعت کرانے سے قبل ایک سورہ فاتح سلطان محمد فاتح کے لیے  پڑھنے کی درخواست کی ۔ مسجد میں نمازیوں کی اچھی خاصی تعداد تھی ۔ ہم نماز کے بعد مسجد کی پچھلی طرف واقع چھوٹے سے بازار میں چہل قدمی کر رہے تھے ۔ اورہان نے بات شروع کی ۔ ” ہم پر نوکریوں کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ ہم نے ہار نہیں مانی ۔ کاروبار کرنے، دکانیں کھولنے کو ترجیح دی ۔ داخلہ نہ ملنے پر ہم نے اپنے بچوں کو اپنے قائم کردہ مدارس میں تعلیم دی ۔ جو اسلام پسند کاروبار نہیں کر سکتے تھے انہیں ہم نےاپنے قائم کردہ کاروباروں میں ہی نوکریاں دینی شروع کر دیں ۔ غرض بہت مشکل وقت دیکھا لیکن اسلام کو ۔ اسلامی تہذیب۔ کلچر کو چھوڑنا گوارہ نہ کیا ۔ ”

مصنف فاتح مسجد کے سامنے

وہ کچھ دیر کو رکا تو میں نے ارد گرد نظر ڈالی یہ ایک مصروف بازار تھا ۔ پاس ہی نقاب میں ملبوس تین لڑکیاں کھڑی تھیں جبکہ چوتھی نقاب پوش سہیلی موبائل سے انکی پکچر  بنا  رہی تھی ۔ “یہ تصویر لوگوں کو دکھا کر  کیسے بتائیں گی یہ تصویر میں ہم ہی ہیں ” میرے اٹھائے گئے پوائنٹ کو سمجھتے ہوئے اورہان کھلکھلا کے ہنس دیا ۔ قریب ہی ایک فرن (بھٹی ) سے ہم نے “سمت “( تل لگی ہوا چھوٹی سی بسکٹ نما روٹی سمجھ لیں ) خریدا اور کھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ فاتح کی پرپیچ گلیاں ۔ پرانی سیڑھیاں ۔ گیلریوں میں بیٹھی فربہ ترک عورتیں جنکی نظریں نیچے کھیلتے انکے بچوں پر تھی ۔ عبایہ اور اسکارف کی دوکانیں ۔ عطر فروش ، اسٹالز پر بکتی ٹوپیاں اور تسبیحات ۔ سب مناظر مجھے صدیوں پہلے کے استنبول میں کھینچ کر لے گئے تھے ۔

“اورہان ! ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ ” میں نے ارد گرد کے مناظر ذہن میں اتارتے اورہان سے پوچھا ۔ “ہم “اسماعیل آغا جامی (مسجد) ” جا رہے ہیں ۔ وہ ہمارا یعنی نقشبندی صوفیوں کا مرکز ہے ۔ فاتح کے علاقے کو ترک حکومت نے اسماعیل آغا اسٹیٹ کا درجہ دیا ہوا ہے ۔ ” یہ سب سن کر میرا اس جگہ کو دیکھنے کا تجسس اور بھی بڑھ گیا تھا ۔

جاری ہے

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *