• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عدم تحفط،عوامی ردعمل کو ہوا دینے لگا۔۔۔۔اسلم اعوان

عدم تحفط،عوامی ردعمل کو ہوا دینے لگا۔۔۔۔اسلم اعوان

گزشتہ ہفتہ کے دوران خیبر پختون خوا کی دو معصوم بچیوں کی  جنسی زیادتی کے بعد قتل کے دردناک واقعات کو اگرچہ معاشرے کے مجموعی اخلاقی زوال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لیکن فی الحقیقت ان انسانیت سوز جرائم کے ڈانڈے ہمارے قانونی نظام کی زبوں حالی سے جا ملتے ہیں،اب تو بڑھتے ہوئے سماجی جرائم کے خلاف پولیس کا کمزور رسپانس ایسے اشتعال انگیز عوامی ردعمل کا محرک بن رہا ہے جو بلآخر باغیانہ جذبات کو ہوا دیکر ریاست کی آئینی بنیادوںکو کمزور کر دے گا،خاتون سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کی متنازعہ تقریر اسی رجحان کی دلخراش مثال ہے لیکن ارباب اختیار اپنے غرور کی بنا پہ ان تباہ کن تغیرات سے بے خبر ہیں۔

15مئی کو پہلا واقعہ وفاقی دارلحکومت کے مضافاتی علاقہ چک شہزاد میں پیش آیا جہاں مہمند ایجنسی کے غریب خاندان کی دس سالہ بچی فرشتہ کو کسی سفاک شخص نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا،دوسرا کیس 20 مئی کو ضلع بونیر کے گاوں ایلئی مشوانی میں رونما ہوا جس میں 19سالہ صنم علی الصبح،مدرسہ کےلئے،گھر سے نکلی لیکن دوپہر کو قریبی جنگل سے اسکی مسخ شدہ نعش ملی۔ملک بھر میں عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں میں روزافزوں اضافہ فوجداری نظام کی شکست و ریخت کا غماض ہے کیونکہ کریمنل جسٹس سسٹم کی ابتداءایف آئی آر کے درست اندراج اورمقدمہ کا انجام تفتیشی افسر کی صلاحیتوں سے معلق رہتا ہے،اسی لئے پولیس کی غفلت و نااہلی ہی فوجداری نظام انصاف کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا سبب بنتی ہے،چنانچہ جزاو سزا کے اسی قانونی عمل کی ناکامی کے بعد ہی یہاں انسانیت کے خلاف ہولناک جرائم کا سیلاب امنڈ آیا۔

بچوں کے حقوق پہ کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم”ساحل“کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2017 کی نسبت  2018  میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ساحل، کی رپوٹ میں بتایا گیا ”جنوری سے دسمبر 2017 تک چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر بچوں سے زیادتی کے 3445 مقدمات رپوٹ ہوئے لیکن گیارہ فیصد اضافہ کے ساتھ سنہ 2018 میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 3832 کیس ریکارڈ پہ لائے گئے تاہم ریلیز کردہ رپوٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے ان واقعات کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں ہماری سماجی اقدار کے پیش نظر پولیس ریکارڈ پہ نہیں لایا جاتا۔

ساحل،رپوٹ کے آخری تجزیہ میں بتایا گیا کہ پاکستانی معاشرہ میں ہر سال بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مجموئی طور پہ 33 فیصد اضافہ ہو رہاہے،عموماً پانچ سے لیکر اٹھارہ سال کی لڑکیاں اورچھ سے پندرہ سال کے لڑکے جنسی درندوں کا آسان ہدف بنتے ہیں“۔ہولناک جرائم صرف بچوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وسیع پیمانہ پہ قانون سازی اور کرائم فائٹنگ فورس کو غیرمعمولی مراعات اور لامحدود اختیارات تفویض کرنے کے باوجود عورتوں کے خلاف جنسی تشدد،اغواءبرائے تاوان،ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ہوشرباءاضافہ دیکھنے کو ملا،اگر پوری مراعات لینے کے الرغم بھی متعلقہ ادارے شہریوں کے جان و مال اور آبروکے تحفظ کی ذمہ داری نہ نباہ سکے تو ریاست بہت جلد شہریوں کا اعتماد کھو بیٹھے گی۔رائٹ ٹو سروسیز کمشن خیبر پختون خوا کے چیف کمشنر مشتاق جدون کہتے ہیں”سرکاری ادارے صرف ہائی پروفائل مقدمات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پہ کاروائی کرتے ہیں،اگر سیاسی مدد اور میڈیا کی توجہ نہ ملے تو سنگین ترین کیس کو معمول کے مقدمہ جتنی اہمیت بھی نہیں ملتی کیونکہ اب ادارے صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں،جب عدالت عالیہ،وزیراعظم یا وزیراعلی کیس کا نوٹس لیں، افسوس کہ جن مقدمات کو میڈیا پہ اچھالا جاتا ہے وہ بھی کچھ دن بعد خاموشی کی دبیزدھند میں ڈوب جاتے ہیں۔

مانسہرہ اور حویلیاں میں زیادتی  کے بعد قتل کیسیز کا کیا بنا؟پچھلے دسمبر میں مانسہرہ میں ایک نابالغ افغان بچی کو زیادتی کے بعد جوہڑ میں پھینک دیا گیا لیکن عوامی ردعمل اور میڈیا کا دباؤ  نہ ہونے کے باعث کیس پہ معمولی پیش رفت بھی نہ ہو سکی،اکثر مقدمات میں تو پولیس عوامی دباو کو کم کرنے کی خاطر بے گناہوںکو پکڑ لیتی ہے،جنہیں بعد میں ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث عدالتیں بری کر دیتی ہیں(جیسے ہری پور میں 15 سالہ عبداللہ کے قتل کیس میں ہوا)سماج کی ریاستی اداروں سے وابستہ امیدیں ٹوٹ رہی ہیں،بدقسمتی سے ہم ہر روز اسی قسم کے مقدمات سے جڑی بریکنگ نیوز کے ساتھ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں لیکن ان میں سے بہت کم ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی منطقی انجام دیکھ پاتے ہیں“۔کوئی بھی زندہ ضمیر شخص جس میں رتی برابر شرف آدمیت موجود ہو گا وہ دس سالہ فرشتہ کا درد کئی دہائیوں تک اپنی روح میں محسوس کرتا رہے گا۔

ذرا تصور کریں اس باپ کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی اور اس خاندان کا اجتماعی دکھ کیسا عمیق ہو گا،جنہوں نے ناگہاں اپنی عزیزترین متاع کھو دی ہو،لیکن جب وہ فریاد لیکر تھانہ پہنچیں تو محافظ انہیں زبردستی پولیس اسٹیشن کی صفائی پہ لگا دیں،اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس جواب دہی کے ہر احساس سے عاری ایک ایسی مطلق العنان فورس بن چکی ہے،جو لامحدود اختیارات اور غیر معمولی مراعات وصول کرنا تو اپنا حق سمجھتی ہے لیکن فرض کی ادائیگی کے تصور سے ناواقف ہے۔قانون کی جبریت کا انداز دیکھیے   کہ عام سائلین کو تو چھوڑیئے،اب تو اس قسم کے معاملات میں ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کو بھی پولیس آرڈیننس 2002 کی خلاف وردی سمجھا جاتا ہے۔خدا کا شکر ہے کہ اسلام آباد میں یہ آرڈیننس لاگو نہیں تھا اس لئے یہ ممکن ہوا کہ انتظامیہ نے آگے بڑھ کے مظلوموں کی اشک شوئی کر کے ریاست کے خلاف نفرت اور غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی،ورنہ پورے ملک میں تو سماج کو بھڑکانے والے اس قسم کے واقعات میں میئر،ناظم ،ممبران اسمبلی یا ڈپٹی کمشنر پولیس سے بات تک نہیں کر سکتا۔س

ماجی جرائم سے قطع نظر کراچی میں نقیب اللہ محسود،انتظار حسین،داؤد  میڈیکل کالج کی طالبہ نمرہ اور دس سالہ ایمل عمر کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت جیسے کئی دلخراش سانحات نے ریاست کے خلاف نفرتوں کے بیج بوئے،ساہیوال میں سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے چار بیگناہوں کا قتل اورلاہور میں مبینہ مقابلہ میں ڈالفن فورس کے ہاتھوں نوجوان کی دردناک موت نے بائیس کروڑ لوگوں کو تڑپا کے رکھ دیا لیکن سماج کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے چاروں صوبوں کے پولیس افسران پھر اکھٹے ہو کر پولیس کو سیاسی مداخلت(جواب دہی کے ہر عمل)سے آزاد بلکہ خود مختیار ادارہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس قسم کے سانحات میں پولیس کے خلاف انکوائری  کا نتیجہ بھی سب کو معلوم ہے،آخرکار محررسطح کے کسی اہلکارکو تنخواہ میں ایک یا دو سالانہ اضافوں سے محروم کر کے معاملہ کو نمٹا دیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت کے آغاز میں اس وقت کے آئی جی پی نے خفیہ پیغام کے ذریعے تمام اضلاع کے ڈی پی اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے ضلع میں”بدعنوانی“ میں ملوث ستّر سے اسّی پولیس کانسٹیبلز،تیس سے چالیس ہیڈکانسٹیبلز اور دس سے بارہ اے ایس آئیز اور ایس آئیز کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائریز شروع کرائیں تاکہ کمانڈ،حکومت اور عوام کو یہ تاثر دے سکے کہ پولیس سے تمام بُرے لوگوںکو نکال دیا گیا،اس تراشیدہ مہم کے دوران مجموعی طور پہ جن چھ ہزار اہلکاروں کو برخواستگی،تنزلی اور معطلی کی”سزائیں“دی گئیں ان میں سے 99 فیصد دوبارہ اپنی ملازمتوں پہ بحال ہو چکے ہیں،کیونکہ یہ مصنوعی مہم پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں بلکہ حقیقی احتساب سے بچنے کی طویل المدت منصوبہ بندی تھی،پولیس کا یہی طرز عمل سماج کے اندر ریاست کے خلاف نفرت و عداوت کی زہریلی فصل کاشت کررہاہے،اگر سویلین فورس کو قانونی جوابدہی کے موثر نظام کے اندر نہ لایا گیا تو بہت جلد معاشرہ بکھر جائے گا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *