• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شمالی وزیرستان کی حالیہ کشیدگی ،کیا حقیقت کیا فسانہ۔۔۔عارف خٹک

شمالی وزیرستان کی حالیہ کشیدگی ،کیا حقیقت کیا فسانہ۔۔۔عارف خٹک

میں نے اور عابد آفریدی نے پچھلے تین ماہ سے وہ کچھ دیکھا اور سُنا ہے۔کہ اگر ہم دونوں مُنہ کھولنے پر آجائیں،تو باخدا اگلے دن ہماری مسخ شدہ لاشیں ہمارے گھر والے بھی نہ پہچان پائیں۔ اور دوسری طرف سے یہ کہا جائے گا کہ چلو شکر ہے بوٹ پالشیوں سے تو جان چُھوٹ گئی۔اور یہ بھی  کہا جائے گا کہ وطن پر جان قربان کردی ہے۔ مگر بیویوں کی چوڑیاں ہماری ٹوٹیں گی۔

ہم نے ان تین ماہ میں فریقین کا جو غیر سنجیدہ رویہ دیکھا ہے۔اس کے بعد حالیہ میرانشاہ واقعہ ہمارے لئے کُچھ اتنا حیران کُن بھی نہیں ہے۔ میں پہلے دن سے ہی کہہ رہا ہوں،کہ دونوں فریق بہت ہی غلط ٹریک پر نکل چُکے ہیں۔

پی۔ٹی۔ایم کا مُحسن داوڑ اور علی وزیر کو جس طرح سے پاور آف اٹارنی دے کر تحریک کو ایک مخصوص ٹارگٹ کی طرف بڑھا  دیا گیا  ہے،وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اور جس طریقے سے فوج جان بُوجھ کر ایک پوائنٹ آف نو ریٹرن پر جاکر اس مسئلے کا حل اب بندوق میں ڈھونڈنے کی خواہاں ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے۔
میرانشاہ واقعہ میں مظاہرین کو فوجی بیریئرز نہیں توڑنے چاہیئے تھے۔اور فوج کو مظاہرین کو اس پوائنٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دینا چاہیے تھا۔ اسی سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کتنے سنجیدہ ہیں۔کبھی کبھار تو مُجھے لگتا ہے،کہ شاید دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے بی ٹیم کا کردار ادا کررہے ہیں۔

حالیہ میرانشاہ واقعہ مُجھے خُونی اسکرپٹ کی پہلا شُوٹ دکھائی دے رہا ہے۔اب اگلا شُوٹ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔میرے منہ میں خاک ،مگر ایک بات طے ہے۔کہ ہم ایک بار پھر سے تالیاں بجائیں گے۔دشمن کو نیست و نابُود کرنے کی خواہش رکھیں گے۔اور مُحسن داوڑ اور علی وزیر احسان اللہ احسان کی طرح ایک دفعہ پھر ریاست کے سُلطانی گواہ بن کر باقی ماندہ زندگی گُمنامی میں بسر کریں گے۔ مگر اپنے بچوں کی لاشیں اور ماؤں بہنوں کی تار تار چادروں کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔باقی رہ گئے بے آسرا اور یتیم بچے۔تو اُن کا کیا ہے۔ پل ہی جائیں گے کسی بکاخیل کیمپ میں گلالئی اسماعیل کے این جی او فنڈ پر۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دونوں فریقین کس کی  ایماء پر یہ سب کررہے اور کیوں کررہے ہیں؟ایک فریق کے پاس اگر ملکی طاقت اور پُشت پر ملکی میڈیا کھڑا  ہے۔جس کی وجہ سے اکیس کروڑ عوام کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے کا فائدہ مل رہا ہے۔تو دوسرے فریق کے ساتھ بین الاقوامی میڈیا کی طاقت اور کچھ مخصوص پوشیدہ قوتیں ہیں۔جو پاکستان پر اثرانداز ہونے کی طاقت بھی رکھتی ہیں۔ جو مستقبل قریب میں ایک نیا ملک بنانے کا مطالبہ بھی کرے گا۔ وزیرستان میں ایک نئے ہندوستانی کشمیر کا ظہور مجھے بھی دکھائی دے رہا ہے۔
ہماری ریاست کی پہلی غلطی یہ تھی کہ امریکی دہشت گردی کی جنگ ملک کی سرحدوں کے اندر لا کر لڑی گئی اور اس کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ پھر شریعت کا لالی پاپ دے کر جس طرح تحریکِ طالبانِ پاکستان لانچ کی گئی۔ اس کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔ خیر جو ہوا سو ہوا۔ مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ان ساری باتوں کی قیمت ایک عام وزیرستانی کو ادا کرنی پڑےگی۔

سیاسی جماعت کا کوئی وجود ہے یہاں؟ کوئی رہنماء نظر آرہا ہے آپ کو؟
نہیں؟
کیوں؟

کیوں کہ کہیں نہ کہیں کُچھ بُہت غلط چل رہا ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *