گُرو۔۔۔اے وسیم خٹک

وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے یونیورسٹی میں ٹیچنگ کررہا تھا ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹی میں ترقی پانے کے لئے تحقیقی مقالے شائع کرنے کی شرط رکھی۔

اُس نے پہلی دفعہ شارٹ کٹ استعمال کرتے ہوئے سرقہ نویسی کی اور کچھ پیپر شائع کئے۔۔

ایک پیپر میں وہ سرقہ نویسی کےمرتکب پائے گئے۔

اُس نے کہا یہ الزام ہے۔۔ جس پرہائیرایجوکیشن نے کمیٹی بنائی کہ وہ دیکھے کہ سرقہ نویسی کی گئی ہے کہ نہیں۔

ہائیرایجوکیشن نے کمیٹی بنائی جس شخص کو کمیٹی کا چئیرمین بنایا گیا وہ اس قسم کے پیپر شائع کرانے میں مہارت رکھتا تھا اور اس کام میں گُرو تصور کیا جاتا تھا۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *