منورنجن کی اصل کہانی،الوک کمار ساتپوتے

امریکی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت پر مجھے ذرا سا بھی یقین نہیں ہورہا تھا۔ میں نے وہ خبر بار بار دیکھی، الگ الگ چینلز پر دیکھی، غیر ملکی چینلوں پر دیکھی۔ تب کہیں جا کر مجھے یقین کرنا ہی پڑا کہ ہمیشہ وہی نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ مجھے لگا تھا کہ وہ تو ایک کاروباری آدمی ہے۔ اس پر بھلا کون یقین کرکے اسے ووٹ دے گا۔ اس کی اتنی بڑی جیت میرے لیے ریسرچ کی وجہ بن گئی۔ میں نے انٹرنیٹ پر اس کی ساری تقریریں كھوجی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے جیت دلانے میں اس کے لالی پاپ جیسی رسیلی تقريروں کا ہی ہاتھ تھا۔

دراصل آج عوام کا ٹیسٹ پوری طرح بدل گیا ہے۔ وہ سیاست نہیں منورنجن (entertainment) چاہتی ہے۔ اسے یہ لگنے لگا ہے کہ اسے سمجھ دار اور گہری سوچ والا لیڈر نہیں چاہیے۔ اسے یہ لگنے لگا ہے کہ جو اچھی تفریح مہیا کرتا ہے، وہی اچھا حکمران ہو سکتا ہے۔ وہ حکمرانی کرے یا نہ کرے، کم سے کم لوگوں کا انٹرٹینمنٹ تو کرتا ہی ہے۔ اس بات کو ٹرمپ نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ اس لیے اس نے عورتوں کو مذاق کی چیز مانا، جیسا کہ ساری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ وہ ان پر بے ہودہ جملے کستا رہا۔ اور امریکہ کے ووٹر عورت کی توہین میں بھی فرحت کی تلاش کرتے رہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے، کہ پہلے مذہب ہی سب سے بڑا لالی پاپ ہوا کرتا تھا۔ جسے ساری دنیا چوستی رہتی تھی۔ پھر یہ مذہبی لالی پاپ ٹکروں میں بٹتے بٹتے چھوٹا سا ہوتا  سائیکل کی valve ٹیوب جتنا ہی چھوٹا رہ گیا۔ جسے چوسنا مشکل ہو گیا۔ ٹرمپ اور اس جیسے دوسرے تمام حکمرانوں کو یہ بات سمجھ میں آ چکی تھی۔ اس لیے ہٹلر سے متاثر ہو کر انہوں نے نیا لالی پاپ بنایا۔ جس کا نام انہوں نے قومیت (nationalism) رکھا۔ اسے بڑے ہی مزے اور آسانی کے ساتھ چوسا اور چسوایا جا سکتا تھا۔ اس لالی پاپ کی یہ خاصیت ہوتی ہے۔ کہ یہ (dildo) جیسا ہی ہوتا ہے۔ اور بڑی آسانی سے اصل کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے۔ اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں چل پاتا۔ کیوں کہ اس لالی پاپ کو آنکھیں بند کرکے ہی چوسا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے بھی اسے خوب چسوایا۔ اور ساتھ ہی اس کے by پروڈکٹس کی طرح مسلمانوں سے نفرت اور تارکین وطن کو امریکہ میں رہائش پر پابندی اور ہندؤں سے محبت نام کے لالی پاپ بھی تیار کروائے تھے۔ اس طرح میٹھے لالی پاپ چوسنے اور چسوانے کی آرٹ میں مگن امریکیوں کا ووٹ ٹرمپ نے اپنی طرف داری میں کروا لیا۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا اور ٹرمپ امریکہ کا نیا صدر بن گیا۔ ٹھیک اسی فارمولے کے تحت مودی دوبارہ انڈیا کے پردان منتری بن گئے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *