داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط2

گزشتہ سے پیوستہ

لڑکھڑاتی زبان اور قدرے اونچی آواز میں جب یہ کہا کہ وہ جانے اور اس کے گھر والے ، تم خدائی  خدمت گار !
اُس  نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، پلیٹ اور گلاس سامنے سے ہٹا کے ، میرا ہاتھ تھام کے مجھے اٹھایا۔۔۔
بار مین سے کہا یہ تین گلاس بیئر میرے حساب میں لکھ لینا، بیرے کو ٹپ بھی اپنی جیب سے دی، مجھے تھام کے  سائیڈ ڈور سے پارکنگ میں لے آیا، ہوٹل کے ڈرائیور کو بلانے کا کہہ کے، میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا۔
جیسے تم نے خالی پیٹ بیئر چڑھا لی، اب تم ڈرائیو نہیں  کر سکتے، میں گاڑی پہ  تمہیں گھر چھوڑ کے آؤں گا !
کیونکہ تم میرے دوست ہو، عین اسی طرح فرحی دوست ہے اور میں اس کو ہیلپ کرنا چاہتا ہوں۔۔
کل صبح تمہارے آفس آؤں گا اور تفصیل سے بات کریں گے۔۔۔
مجھے اس کا چہرہ بدلا ہوا سا لگا، مطلب اس پہ  کراہت کی جگہ اتھاہ شفقت اور شرافت نظر آئی ۔۔

دوسری قسط

خالد شاہ سے گزشتہ روز اس کے ہوٹل میں ہو ئی  ملاقات کا ہینگ اوور صبح تک رہا۔ آفس بھی دیر سے پہنچ،ساتھ موجودہ ادارے میں پروموشن اور جہلم پوسٹنگ کی کاروائی  بھی جاری تھی اور اسلام آباد میں سفارت خانے کے چیف اکاؤنٹنٹ کی جاب کی بات بھی چل رہی تھی، ذہنی دباؤ اپنے عروج پر تھا ۔آفس اٹینڈنٹ نے اطلاع دی کہ خالد شاہ صاحب ملنے آئے ہیں۔گھڑی پر ٹائم دیکھا تو صبح کے پورے دس بجے تھے، یاد آیا کہ یہ ملاقات تو کل طے ہوئی  تھی، دروازہ کھلا اور  خالد شاہ نے داخل ہوتے بڑے ادب سے کہا، سر السلام علیکم، دیکھیئے میں عین وقت پہ  حاضر ہو گیا ہوں۔
غور سے اسے دیکھا تو چہرے پر کل والی کیفیت نہیں تھی، کلف والی سفید کاٹن کی شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ  میں وہ کچھ زیادہ پریشان دکھائی  دے رہا تھا۔ شاید  دفتری پروٹوکول اور کچھ افسرانہ ماحول کا بھی اثر ہو،  ہم اٹھ کے ملے۔۔۔ وہ  سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا، دفتری نے چائے کافی کا پوچھا جسے ہم نے منع کر دیا اور اسے کیشیئر کو بھیجنے کا کہا۔۔۔۔
خالد کچھ کہنے کو بیتاب تھا اسے حوصلہ دیا کہ دفتر کے چیک سائن کر کے باہر جا کے ناشتہ کرتے ہیں۔
وہاں تسلی سے باتیں کریں گے۔۔چیک اور واؤچر پر دستخط کئے، اپنے نائب کو بلا کے چند ضروری فائلز تیار کرنے کا کہا اور اسے بتایا کہ کوئی  پوچھے تو کہنا بنک تک گئے ہیں، خالد کے ساتھ دفتر سے نکلے اور پیدل ہی شیزان ہوٹل پہنچے۔۔

شیزان ہوٹل

اپنے مخصوص بیرے زراعت خان کو ناشتہ آرڈر کیا اور پہلے دو کپ کافی لانے کا کہا۔۔خالد اس دوران اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن دانتوں سے کاٹتا رہا جو اس کے ذہنی ہیجان کا مظہر تھا۔
یہ میڈم فرحی ہیں کون ؟  ہم نے پہلا سوال پوچھا۔۔۔
خالد نے بے صبری سے فوری جواب دیا۔۔۔۔۔ سر! آپ اس سے ہوٹل میں بارہا مل چکے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔
وہ آپکو بہت اچھی طرح جانتی ہے !
یہ کیا بکواس ہے !ہم نے  تلملا کے  کہا، اس سے پہلے وہ جواب دیتا زراعت کافی لے آیا، ہینگ اوور کا سر درد کم کرنے کے لئے چار پانچ گھونٹ جلدی سے نگل لئے، سگریٹ سلگائی ، کرسی کی بیک سے ٹیک لگائی ،  پھر کہا   کھل کے بتاؤ۔۔
خالد شاہ بہت نروس تھا ، ہم نے کہا کہ آرام سے کافی پیؤ، ریلیکس ہو کے تفصیل سمجھاؤ۔۔
کہنے لگا فرحی آپکے جاننے والے منیر شیخ کی سالی ہے، ان کے ساتھ رہتی ہے، باپ فوت ہو چکا ہے، ماں اور اسکی چھوٹی بہن جو معذور ہے گاؤں میں رہتی ہیں، اس نے یہاں رہ کے بی ایس کیا ہے، ہمارے ہوٹل میں بطور ٹرینی  دیگر چھ لڑکیوں کے ساتھ تین ماہ سے ٹریننگ کورس کر رہی ہے، آپکے شہر کے ملحق گاؤں ہے۔
زراعت ناشتہ لے آیا بات میں وقفہ ہوا، کافی سے کچھ ذہن بیدار ہوا، سر درد ہلکا ہوا تو منیر شیخ اور گاؤں دونوں اچھی طرح سمجھ آ گئے۔
فرنچ فرائیڈ کھاتے شاہ نے بتایا کہ تین سہیلیوں کا گروپ ہے سیمی اور فرحی ویسٹریج رہتی ہیں کلاس فیلو تھیں اور  نادرہ لالہ زار رہتی ہے ان سے سینئر  ہے، اچھے امیر گھرانوں سے ہیں شوقیہ ہوٹل مینجمنٹ سیکھ رہی ہیں، ہوٹل سے صرف لنچ فری ملتا ہے۔

اب یاد آیا کہ کئی بار ان خواتین سے ہوٹل میں شاہ کے ساتھ ہیلو ہائے ہوتی تھی، پنڈی میں رہتے دس سال میں کافی  لوگوں سے دعا سلام اور جان پہچان تو ہونی تھی، منیر شیخ کے پٹرول پمپ تھے، نادرہ کے والد ریٹائرڈ افسر تھے،سیمی کے خاندان سے تعارف نہیں  تھا۔
ناشتہ کر چکے تو سیدھا یہ سوال پوچھا کہ فرحی اور خالد کے بیچ کیا تعلق تھا؟

خالد شاہ کے بارے میں کالج والا تاثر لگا بالکل صحیح تھا۔
جواب دینے کے بجائے نئی کہانی شروع کر دی۔۔۔۔۔
سر نادرہ اور سیمی کے تو پرانے بوائے فرینڈز ہیں،لیکن فرحی کا تعارف ثقلین نقوی سے میں نے کرایا ، نقوی میرا دوست ہے، اس کی پوسٹنگ ہونی تھی اور کچھ شارٹ بریفنگ کورس کرنا تھا وہ کلب میں ٹھہرا ، شام کو ہوٹل آ جاتا ، بس گپ شپ میں اس کا فرحی سے تعارف کرایا۔لنچ کے بعد نادرہ اور سیمی کے دوست بھی ہوٹل آ جاتے اور اس طرح فرحی بھی نقوی کے ساتھ فری ہو گئی
لیکن سر وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے !
وہ کیوں ؟۔۔۔۔۔
سر میں نے اسے ابارشن کے لئے یورین ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا ساتھ آپ کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ پہلے وہ آپ سے مل کے ساری بات شیئر کرے گی، سر وہ آپکو بہت اچھی طرح جانتی ہے  !
اب غصہ تو آنا تھا، کہا میرا اس سارے معاملے سے کیا لینا دینا ہے، تم نے مدد مانگی وہ کرنے کو تیار ہوں ۔۔
اچانک ذہن میں خیال آیا ۔۔۔
شاہ سے پوچھا ، کیا تم لوگ شادی کرنا تو نہیں  چاہتے؟
زراعت بل لے آیا، تو یاد آیا آج جنرل مینجر صاحب سے استعفی بارے بات کرنی ہے تو بل دے کے باہر نکلے،کھلی فضا میں چند لمبے سانس لئے، موڈ بھی بہتر ہوا ، یہ بھی یاد آیا کہ شام کو کچھ شریف دوست بھی آنے والے  ہیں اور خالد شاہ کی خدمات کی ضرورت ہو گی۔
اس کا ہاتھ پکڑ کے پیار سے کہا، ہوٹل میں پرسوں لنچ پہ  ملاقات رکھ لیں لیکن تم ساتھ ہو گے،
سر کل پہ رکھیں ، دن اوپر ہوتے جارہے ہیں، میں نے سنا ہے تیسرا مہینہ لگ جائے تو ابارشن میں جان کو خطرہ  ہوتا ہے،
اب اس کے بھول پن پہ  پیار آ گیا، پیار سے کہا، کل اسلام آباد جانا ہے ایمبیسی انٹرویو ہے۔۔۔تم شاہ جی ہو دعا کرنا، میڈم سے کہنا وہ بھی دعا کرے اور شام کو ایک بلیک کی بوتل مجھے چاہیے،
سر! وہ تو مل جائے گی، آپ پرسوں فرحی سے ملیں گے ناں ، میں نے اسے کنفرم کرنا ہے۔
ہنستے ہوئے ، دفتر جاتے ، پیدل چلتے ، کہا ، یار کوئی  ڈیٹ تو نہیں  ہونی ، جو اتنے فکر مند ہو !
اس کے چہرے پر مکارانہ مسکراہٹ تھی، جب اس نے یہ کہا، سر کیا پتہ ۔۔۔ ایسا بھی ممکن ہے۔
۔۔ جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *