صحافتی کتاب کی تقریب رونمائی ۔۔۔۔ سہیل احمد لون

برطانیہ خصوصاً لندن میں سیاست کی طرح ادبی سرگرمیاں بھی عروج پر رہتی ہیں ۔ شاعر اور صحافی ہونے کی وجہ سے سیاسی اورادبی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مختلف پروگرامز میں جانا ایک معمول کی بات ہے مگر وطن سے دور ہونے کی وجہ ایسی تقاریب پاکستان میں دیکھنے کا اتفاق بہت کم ہوتا ہے۔ شاید اسے ہی غریب الوطنی کہتے ہیں ۔

گزشتہ دنوں میں پاکستان تھا اور بیس برس بعد اپنے دیس میں عید منانے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ پاکستان میں عید منانے کے علاوہ اپنے پرانے دوستوں اور محلے داروں سے ملنا بھی کسی عید سے کم نہیں ہوتا ۔ میرے ملنے والوں کی اکثریت صحافیوں اور فوجیوں کی ہے کیونکہ میری عملی زندگی کا زیادہ وقت انہیں شعبوں میں فرائض کی بجا آوری میں گزرا ہے ۔

پاکستان کے دورے کے دوران اپنے پرانے پیٹی بند (فوجیوں)اور نئے پیٹی بند بھائیوں (صحافیوں)سے ملنے کا موقع بھی خوب ملا۔ برطانیہ سے پاکستان جاتے ہوئے میں نے اپنے دوست احباب سے پوچھا کہ ولایت سے کوئی چیز چاہئیے تو خاکسار لیکر حاضر ہو جائے گا۔ قلم کے مزدور محترم سید بدر سعید شاہ نے آن لائن جنرلزم پر کوئی اچھی کتاب لانے کی فرمائش کی۔ میں نے اپنی پسند کی دو کتابیں لے لیں۔ پاکستان پہنچا تو معلوم ہوا کہ ان کی دوسری کتاب ’’صحافت کی مختصر تاریخ ۔قوانین و ضابطہ اخلاق‘‘ کی لاہور پریس کلب میں تقریب رونمائی ہونے کو ہے ۔

پاکستان میں کبھی کسی کتاب کی رونمائی کی تقریب دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کبھی پریس کلب لاہور میں جانے کا۔ بدر بھائی سے ملنا، انکی امانت پہنچانا،پریس کلب میں جانا اور کتاب کی رونمائی کی تقریب دیکھنے کے علاوہ معروف ادبی شخصیات اور سینئر صحافیوں سے ملنے کا موقع ۔۔۔یعنی ایک تیر سے پورا جنگل شکار کرنے والی بات تھی۔ میں تو مقررہ وقت پر پریس کلب کے آڈیٹوریم میں پہنچ گیا۔ تقریب میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئر مین جناب حافظ شفیق الرحمن ، صحافی و تجزیہ نگار ایثار رانا، معروف صحافی سہیل وڑائچ کے علاوہ دیگر قلم کاروں نے بدر سعید کی کاوش کو سراہا۔ اس تقریب کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ صدارت کے فرائض شاہ صاحب کے والد محترم جناب سید ظفر نقوی صاحب نے انجام دیے۔ انتساب اپنے والدین کے نام کرنے کے بعد سید بدر سعید کا یہ دوسرا جرات مندانہ فیصلہ تھا۔

حیران کن طور پر پروگرام کا آغاز صرف تیس منٹ تاخیر سے ہوا جبکہ برطانیہ میں ایسی تقاریب ایک دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہونا معمول کی بات ہے۔ شاید ہم افطاری اور سحری کے علاوہ کوئی کام بھی مقررہ وقت پر کرنے کے عادی نہیں رہے۔ حسب روایت کتاب اور مصنف کے بارے میں مقررین نے اظہار خیال کیا جن میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو کتاب پڑھ کر آئے تھے ورنہ مسودہ دیکھے بغیر دیباچہ لکھنا اور کتاب پڑھے بغیر تبصرہ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں۔ تقریب کے آغاز سے اختتام تک سید بدر سعید کے چہرے پر ایک پر سکون مسکراہٹ تھی۔

برطانیہ میں انگریزی یا اردو کتابوں کی تقریب رونمائی میں پروگرام کے آخری حصے میں حاضرین کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ مصنف سے کتاب کے متعلق سوالات کرسکیں ۔ مجھے یاد ہے ہاؤس آف لارڈز لندن میں ایک صحافتی کتاب کی تقریب رونمائی کی گئی تھی پروگرام کے آخری حصے میں بیس منٹ کا وقت حاضرین کو دیا گیا کہ وہ مصنف سے سوالات کر سکیں۔ بد قسمتی سے پہلا سوال ہی ایسا کیا گیا جس سے پاکستان کے معروف اینکر، صحافی اور کتاب کے مصنف کے پسینے چھوٹ گئے۔ برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس میں اظہار رائے پر پابندی نہیں، اس لیے پروگرام کے آرگنائزر لارڈ صاحب بھی سوال کرنے والے کی زبان بند نہ کر سکے البتہ پاکستان سے تشریف لائے مہمان اور مایہ ناز صحافی و مصنف کی حالت دیکھ کر پروگرام وہیں ختم کر نے کا اعلان کر دیا گیا اور ساتھ میڈیا سے ہاتھ باندھ کر درخواست کی گئی کہ اس سین کو کبھی آن ایئر نہ کریں۔

بدر سعید صاحب نے مجھے بھی اپنی کتاب عنایت کی جس پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے کے بعد یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان سے کتاب کے متعلق درجنوں سوالات بھی کیے جائیں تو ان کو جواب دینے میں کوئی پریشانی ہوگی، نہ ہی انتظامیہ کو یہ کہنے کی نوبت آئے گی کہ یہ ’’ٹوٹا’’ نہ چلانا۔

29 جولائی کو میں نے لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی تو برطانیہ میں مقیم اپنے صحافی دوستوں کو ایک ڈنر پارٹی دی جس میں ہماری تنظیم IPJOانٹرنیشنل پاکستانی جرنلسٹ آرگنائزیشن کے چیئر مین جناب راجہ فیض سلطان جو نجی چینل Geoسے منسلک ہیں نے مجھے صحافت پر کتاب لکھنے کو کہا جس کے متعلق میں بھی سیریس ہو کر سوچ رہا تھا۔ مگر بدر سعید کی کتاب دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے ۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی۔اے صحافت اور ایجوکیشن میں کیا تھا۔ اب لندن سے صحافت میں بی۔اے آنر کیا ہے ۔ دونوں ڈگریاں کرنے کے بعد بدر سعید کی کتاب پڑھی تو میں یہ بات دیانتداری سے کہہ رہا ہوں کہ کم از کم پاکستان میں صحافیوں اور صحافت کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب ریفرنس کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

برطانیہ میں فل ٹائم سٹوڈنٹ کو ڈگری حاصل کرنے کے لیے تین برس درکار ہوتے ہیں اور صحافت میں ڈگری کرنے کے لیے کم از کم چودہModulesہیں جن میں سے دس لازمی اور چار اختیاری ہوتے ہیں۔پہلے سال ہمیں چار Modulesپڑھائے گئے جن میں سے ایک Journalism history and ideas تھا ۔ دوسرے سال میں Media Laws and ethicsکا ایک Module بھی پڑھایا گیا۔بدر سعید کی کتاب کا ٹائٹل ان دونوں Modulesکا مرکب ہے۔ بدر سعید نے بڑی مہارت سے قلمی تقاضے پورے کیے اور صحافت کا بنیادی اصول (KISS)یعنیkeep it short and simpleپر عمل بھی کیا۔بدر سعید کی یہ کاوش یقیناً قابل ستائش ہے ۔ تحقیق پر مبنی کوئی تحریر بھی بہت مشکل مراحل سے گزر کر قاری تک پہنچتی ہے ۔ Creative writingمیں تخیلات، ذاتی رائے،خواہش،جانبداری اور ناقد بن کر قلم چلائی جا سکتی ہے مگر ’’صحافت کی مختصر تاریخ ۔قوانین و ضابطہ اخلاق‘‘ لکھتے وقت سید بدر سعید شاہ کو Reality,facts, figures,innovatiobn, discoveries, limited narative,balance, impartial, research, informations اور Anylasisکو بنیاد بنا کر کام کر نا پڑا ہے جو اتنا آسان کام نہیں۔ ہم نے یونیورسٹی میں صحافت کی تاریخ 59قبل مسیح روم میں شائع ہونے والا Acta Diurnaسے شروع کی تھی مگر بدر سعید کے خیال میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا فیصلہ کیا گیا تو ’’خبر‘‘ فرشتوں کو دی گئی اس لحاظ سے تخلیق آدم کائنات کی پہلی’’ بریکنگ نیوز ‘‘ ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں صحافت بھی ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی ، ملٹی میڈیا آن لائن جرنلزم اور سوشل میڈیا میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بدر سعید ان دنوں آن لائن جرنلزم پر کتاب لکھ رہے ہیں ۔ امید ہے وہ بھی ’’خود کش بمبار کے تعاقب میں ‘‘ اور ’’ صحافت کی مختصر تاریخ ۔قوانین و ضابطہ اخلاق‘‘ کی طرح گوہر نایاب ہوں گی۔پڑھائی کے دوران اگر کتاب لکھنے کا یہ جنون ہے تو تعلیم سے فارغ ہو کر امید ہے شاہ صاحب کی کتابیں سلطان راہی کی فلموں کی طرح مارکیٹ میں آئیں گی جو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود Hit ہوتی تھیں۔ جس طرح بدر سعید نے یہ کتاب لکھی ہے اسی طرح اگر وہ Data journalism, Sports – Fashion, Politics, Science Technology Enviorment & Health، کے علاوہ Campaigning journalismپر بھی لکھ دیں تو پاکستان میں صحافت کے طالب علموں کے ساتھ ساتھ شاید ہمارے کچھ صحافیوں کا بھی بھلا ہو جائے۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *