برھان وانی ۔۔ کشمیر کا بھگت سنگھ ۔۔۔۔ سبط حسن گیلانی

کشمیر کی تحریک آزادی میں اپنا خون دے کرایک نئی روح پھونکنے والے برھان وانی شھید کے والد نے اپنے بیٹے کو دوسرا بھگت سنگھ قرار دیا ہے۔ کشمیر کے سبزہ زاروں سے لیکر فلک بوس پہاڑی چوٹیوں تک پھیلا ہوا آزادی کا ولولہ دیکھ کر لگتا بھی یہی ہے کہ برھان وانی کشمیر کا بھگت سنگھ ثابت ہو گا۔ ہماری بدقسمتی کہ آج کی نسل بھگت سنگھ سے زیادہ واقف نہیں ہے۔ بھگت سنگھ غالباً 1909میں لائلپور آج کے فیصل آباد کے قریب ایک گائوں میں پیدا ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک آزادی بر صغیر کے گلی کوچوں میں پھیل چکی تھی۔ بھگت سنگھ کے والد بھی تحریک آزادی کے ایک پُرجوش کا رکن تھے۔ بھگت ابھی لڑکپن میں ہی تھا کہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر اس قافلے کا ایک کم عمر مسافر بن گیا۔ 1928 میں پنجاب کے اس وقت کے قومی سطح کے لیڈر لالہ لاجپت رائے کو ایک احتجاجی جلوس کے دوران ایک پولیس افسر نے سر پر ڈنڈا مار کر زخمی کر دیا۔ بوڑھے لالہ اس زخم کو برداشت نہ کر سکے اور اپنی جان آزادی کی راہ میں قربان کر دی۔ ان کی شھادت سے پورے برصغیر بالخصوص پنجاب میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بھگت سنگھ کی اس وقت مسیں بھیگ رہی تھیں۔ وہ ابھی بیس سال کا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس قاتل انگریز پولیس افسر کو قتل کر ڈالا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے ہندوستان کی قومی اسمبلی میں دو بم پھینکے۔ یہ خطرناک بم آج کل والے طالبانی بم نہیں تھے۔قائداعظم بھی اس وقت اسمبلی میں موجود تھے۔ انہیں ان بموں سے کوئی گزند نہیں پہنچی۔ بعد میں انہوں نے کہا ، اگرچہ ان کے اس فعل کی تائید نہیں کی جا سکتی لیکن یہ لوگ آزادی پسند ہیں۔ ان سے نرمی برتی جانی چاہیے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ایک مختصر مقدمے کے بعد انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ 23مارچ 1931کو لاہور جیل میں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

بھگت سنگھ کی پھانسی پر پورا برصغیر رنگ نسل زبان و مذہب کے امتیازات سے ماورا ہوکر آزادی کے پرچم تلے ہم آواز ہو گیا۔ تحریک آزادی کے اُتار چڑھاو پر نظر رکھنے والے تقریباً سب ہی دانشور اور مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ بھگت سنگھ کی پھانسی نے تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک ڈالی اور سولہ سال بعد آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا۔ بھگت سنگھ جس وقت پھانسی چڑھا اس وقت وہ 23سال کا نوجوان تھا۔سچی بات ہے عظمت ماہ وسال کی محتاج نہیں ہوا کرتی۔ وہ اس چھوٹی سی عمر میں اپنے وسیع مطالعے سے جان چکا تھا کہ صرف انگریز سے سیاسی آزادی ہماری منزل نہیں ہو سکتی،جب تک آزادی کے بعد عوام تک مساوی سماجی و معاشی مواقع دستیاب نہ ہو، یہ آزادی ایک دوسری قسم کی غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

اس نے جیل سے لکھے گئے مکتوبات میں اپنے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کہتے ہیں موت کی سزا سنتے ہوے اس کے خوبصورت چہرے پر گھبراہٹ کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اور نہ ہی پھانسی کے پھندے کی طرف قدم بڑھاتے ہوے اس کے پائوں میں کوئی لغزش تھی۔ ہاں اس دوران چند لمحات ایسے ضرور آئے جب اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے طاقتور بازو بے جان سے ہو گئے تھے۔ وہ لمحے22 مارچ 1931کی شام اپنے ماں باپ سے آخری ملاقات کے وقت تب آئے جب اس کے بارہ تیرہ سال کے بھائی نے اُسے جپھی ڈال لی تھی۔ جیل کے عملے نے ملاقات ختم ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے ماں باپ اپنے آنسو پونچھ کر پیچھے ہٹ چکے تھے لیکن اس کا کم سن بھائی اس سے الگ نہیں ہو رہا تھا۔ بھائی کے آنسووں سے اس کے کھدر کے کُرتے کا دامن بھیگ چکا تھا۔ اُس کی خوبصورت آنکھوں کے کٹورے آنسووں سے لبا لب بھر چکے تھے۔وہ اپنی پوری طاقت سے انہیں چھلکنے سے روک رہا تھا۔ اس نے اپنے بھائی کا سر چوم کر بدقت اپنے سے الگ کیا اور تیز قدموں سے جیل کی کوٹھڑی کی طرف بڑھ گیا۔ جیل سے باہر نکل کر ماں نے اپنے چھوٹے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا جو ابھی تک چُپ نہیں ہو رہا تھا۔ ماں کو اپنا ہاتھ بھیگا ہوا محسوس ہوا۔ جو اس نے اپنے چہرے پر مل لیا۔بھگت سنگھ کی لاش اس کے ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔ رات کی تاریکی میں دریاے راوی کے کنارے اسے جلا دیا گیا۔دوسرے دن اس کے ورثا جو اس وقت پینتیس کروڑ تھے، باہر نکل آے۔ ایک شاعر نے اس کا بے مثال اور لا زوال سہرہ لکھا۔ جو آج بھی گایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ پینتی کروڑ تیرے جانجی وے لاڑیا۔۔۔۔۔ اے میرے دولہے پینتیس کروڑ لوگ تیرے براتی ہیں۔ اس وقت برصغیر کی آبادی پینتیس کروڑ تھی۔

اپریل 1931میں سری نگر کشمیر میں ایک احتجاجی جلوس پر پولیس نے فائرنگ کر کے 22بے گناہ کشمیریوں کو شھید کر ڈالا۔ کشمیر میں آزادی کے متوالے لوگوں کے بے گناہ  خون بہنے پر علامہ اقبال نے موچی گیٹ لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوے سری نگر سے اٹھنے والی اس تحریک کو تحریک آزادی قرار دیا تھا۔ پچھلے دنوں ہندوستان کے دو معروف صحافیوں سنتوش بھارتیہ اور اشوک نے کشمیر جا کر اپنی آنکھوں سے حالات کا مشاہدہ کیا۔ بھارتیہ جو  سابق ممبر پارلیمنٹ اور مودی کا دوست بھی ہے اس نے مودی کو ایک خط لکھا ہے۔جس میں وہ لکھتا ہے۔کشمیر میں بھارت کی فوج تعینات ہے۔ زمین پر ان کا قبضہ ہے۔ لیکن کشمیری بھارت سے الگ ہو چکے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم نے چھ سال کے بچے کے ہاتھ میں بھی پتھر دیکھا ہے۔ وہاں ایک چھیاسی سال کا بوڑھا کشمیری ملا۔ جس نے بتایا میں پچھلے چھیاسی سال سے لڑ رہا ہوں۔اگر اس بچے نے بھی اتنی عمر پائی تو وہ بھی ساری عمر لڑتا رہے گا۔ چھیاسی سالہ بوڑھا کشمیری 1931میں اس وقت پیدا ہوا تھا،جب اس کے آس پاس بے گناہوں کا خون بکھرا ہوا تھا۔ آج کے کشمیری بچے اپنے ہم عمر بچوں کو پیلٹ گنوں سے اپنی بینائی کھوتے اوراپنے بڑوں کا بے گناہ خون بہتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اب کون جاکر ہوش وحواس سے عاری نریندر مودی کے تیزی سے بہرے ہوتے ہوئے کانوں میں تاریخ کا یہ سچ اُنڈیلے کہ جو نسل اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ کا خون دیکھ لیتی ہے اس کے انتقام سے کوئی بچ نہیں پاتا۔

1931میں ان کے بڑوں کا قاتل برطانوی سامراج تھا جو اگلے پندرہ سال بھی ٹکِ نہیں پایا۔ آج کی نسل کا قاتل ایک ایسا کھوکھلا سامراج ہے جو برطانوی سامراج سے ہر گز طاقتور نہیں ہے۔برھان وانی کی شکل میں آج کی نسل کو ان کا بھگت سنگھ مل گیا ہے۔اب اپنے دن گننے شروع کرو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *