• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پشتون مسائل، جرنیلی خبط خدائی کی بندگلی میں ۔۔۔عبدالمجید داوڑ

پشتون مسائل، جرنیلی خبط خدائی کی بندگلی میں ۔۔۔عبدالمجید داوڑ

بھائی عارف خٹک کی کال نے جگایا، کافی پریشان تھے، محسن کے زخمی اورعلی کی گرفتاری کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہے تھے۔ ایک لمحے کیلئے تو آنکھوں کے سامنے بالکل اندھیرا سا چھا گیا۔ بہرحال، رحیم اور افتخار کو کال کی، محسن کے گھر کال کی، دونوں محفوظ تھے، کچھ تسلی ہوئی، عارف بھائی کو حال احوال بتایا مگر ایک ناقابل بیان دکھ اور فکر یہ کہ رمضان، فائرنگ، زخمی اور لاشیں؟ آخر گالی اور گولی کے اس کھیل کو فل سٹاپ کب لگے گا؟ سٹریس سے فرار حاصل کرنے کے لیے  موبائل  بند  کیا، توجہ ہٹانے کو  گزشتہ دنوں سے آدھا  پڑھا، Mary Wollstonecraft Shelley کا ناول “فرینکن سٹائن” (1818) دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو پتہ نہیں کیوں گزشتہ 8 عشرے  قبل سے آج تک ہمارے “جرنیلوں” کے کردار اور ناول کے مرکزی کردار “ڈاکٹر وکٹر فرینکن سٹائین” میں مجھے کوئی فرق نظر نہ آیا۔ وہاں مرکزی کردار (ڈاکٹر) اگر اپنے علم ودانش کی وجہ سے “خبط خدائی” (God Complex) نامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے تو یہاں مرکزی کردار (“جرنیل) اپنے طاقت کے بموجب اسی “خبط خدائی” کا شکار ہے۔

فرینکن سٹائن ایک جدید تجربہ گاہ بنا کر انسان کے مقابلے میں ایک نئی مخلوق تخلیق کرتا ہے، جب وہ مردہ انسانوں کی اعضاء کی پیوند کاری سے ایک وجُود کی تخلیق کرکے اس میں جان ڈالنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تب اس پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس نے نئی مخلوق کے نام پر بہت بڑی عفریت کو تخلیق کیا ہے۔ ناول کے آخر تک وہ عفریت اس کی کم سن بیٹی اور بیوی کی ہلاکت سمیت پورے خاندان کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔

یعنی یہاں کے جرنیلوں نے اس دھرتی کو فرینکن سٹائن کی تجربہ گاہ بنایا ہوا ہے، اس تجربہ گاہ میں انہوں نے داخلی سیاست کو اپنی مٹھی میں رکھنے کیلئے کنونشن لیگ، آئی جے آئی، ایم کیو ایم، ایم ایم اے اور قاف لیگ جیسے کئی عفریت تشکیل دئیے جو جمہوریت کے فطری ارتقاء کو مفلوج اور اپاہچ کرکے جمہوری قدریں تک نگل گئے ہیں۔

انہوں نے کشمیر کاز کیلئے سفارتی محاذ پر زور دینے کی بجائے اپنی تجربہ گاہ میں جیشوں، لشکروں اور جماعتوں کی صورت عفریتوں کو تخلیق کیا اور آج عالمی تنہائی، بدنامی اور گرے و بلیک لسٹ کے اژدھے اس دھرتی کو دبوچنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کیلئے اپنی تجربہ گاہ میں اسلامی جنگجوؤں اور حقانیوں کے عفریتوں کو جنم دیا جن کی باقیات نے ڈیورینڈ لائین کے آرپار پشتون خطے کا وجود ادھیڑ کررکھ دیا۔

آج ایک بار پھر ایک نیا عفریت تشکیل دیا جا رہا ہے، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، میں یہ نہیں کہتا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا رویہ بالکل درست ہے، میں انکی جن چیزوں پر معترض ہوں وہ ببانگ دہل لکھ چکا ہوں، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جرنیلوں کا خبط خدائی پشتون آبادی کے آئینی مسائل کو ایک “طویل المدتی مستقل حل” دینے سے پہلو تہی کرکے، انکی پرامن نمائندہ تحریک PTM کوARY جیسے چینلز، ٹویٹر ٹرینڈز اور آج کے سانحہ وزیرستان جیسی  حرکتوں کی تجربہ گاہ میں ایک ایسا پُرتشدد عفریت بنانے جارہا ہے جو نہ صرف اس دھرتی، اس خطے بلکہ خود ان جرنیلوں کیلئے فرینکسٹائین کے عفریت سے کم ثابت نہ ہوگا۔

ہاں اس ڈاکٹر اور ان جرنیلوں میں فرق صرف ندامت کا ہے، اسکو اپنی پہلی تخلیق پر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا مگر ان جرنیلوں کو اب تک نہیں ہوا۔

کب تک عام پشتون کے مسائل “خبط خدائی” میں مبتلا ان “جرنیلوں” اور “حادثاتی لیڈرز” کے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ٹویٹر ٹرینڈز، لائیو بیانوں، پریس کانفرنسوں اور گالی و گولی کی بند گلی سے نکل  کر ایک طویل المدتی حل پذیر منصوبے میں ڈھلیں گے؟ کچھ نہیں معلوم !

کہ ہر سمت خبط خدائی کا راج ہے !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *