پرشانت کشور کی صلاحیت تسلیم۔۔ حفیظ نعمانی

ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اگر ہمارے قلم سے کوئی بات کسی کے خلاف نکلے تو ہم اپنی غلطی مان کر معافی مانگتے ہیں۔ ہم نے پرشانت کشورکے بارے میں جب بھی لکھا صرف یہ لکھا کہ انھوں نے اگر ۲۰۱۴ء میں مودی جی کی سرکار بنوائی تو ان کا کمال نہیں تھا بلکہ وہ تو کانگریس کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہر آدمی ان سے ناراض تھا اور وہ کانگریس کو ہرانا چاہتا تھا۔ اسی طرح جب کہا گیا کہ بہار میں نتیش لالو محاذ کی کامیابی پرشانت کشور صاحب کی وجہ سے ہوئی تب بھی ہم نے کہا کہ اگر لالو یادو پر الیکشن لڑنے کی پابندی نہ ہوتی تو جیتنا ناممکن تھا۔ اور ہم نے یہ کہا کہ اب اترپردیش میں کانگریس کو زندہ کریں تو ہم تسلیم کریں گے کہ واقعی وہ جادوگر ہیں۔

اور آج ایک مہینہ کی ا ن کی قیادت میں کانگریس یہاں سے اٹھ کر وہاں آگئی ہے، وہ پی کے کا ہی کارنامہ ہے اور ہم اپنے الفاظ اور تبصروں پر شرمندہ ہیں۔ انھوں نے دور رہتے ہوئے بھی وہ کمزوریاں پکڑلیں جن کی وجہ سے عوام کانگریس سے دور ہوگئے تھے۔ ہم خود اپنے زمانہ میں اچھے مقرر تھے اور اکثر ان علاقوں میں جہاں مسلم آبادی زیادہ تھی یہ مانگ ہوتی تھی کہ ایک تقریر کا پروگرام حفیظ نعمانی کا رکھا جائے۔ ہم نے جہاں کہیں دیکھا کہ ڈائس دورہے اور عوام کے اور اپنے درمیان فاصلہ ہے تو ہمیشہ ہم نے کہا کہ آپ لوگ قریب آجائیے تاکہ میں آپ کو اور آپ مجھے دیکھتے رہیں اور ایسی تقریروں کا اثر دوسرا ہی ہوتا تھا۔

۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۴ء تک یہی ہوتا رہا کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی جی کے لیے جو ڈائس بنائے جاتے تھے وہ اونچے ہوتے تھے اور اس کے سامنے Dکی شکل میں جگہ چھوڑ دی جاتی تھی تاکہ کوئی کچھ پھینک کر نہ ماردے ا ور اکھلیش یادو اتنے قریب کھڑے ہوتے تھے کہ سننے والے ان کے ہاتھ بھی چوم سکتے تھے اور آنکھ میں آنکھ بھی ڈال سکتے تھے، کہ اس کا بھتیجہ سامنے ہے۔

پرشانت کشور نے یہ انتہائی سمجھداری کا فیصلہ کیا کہ سننے والا ہر آدمی یہ محسوس کرے کہ انھوں نے جنتا کو خطاب نہیں کیا بلکہ مجھ سے باتیں کیں۔ اس کے بعد ان کا جو دوسرا قدم کھاٹ کے لیے اٹھا وہ کسان کو اپنے قریب لانے کا سب سے خوبصورت قدم تھا۔ ہم نہ کسان کے پوتے ہیں اور نہ نواسے، دادا صاحب زمین دار بھی تھے لیکن اپنے گاؤں کے ڈیرے میں جا کر آرام کرتے تھے، کھاتے پیتے تھے لیکن کاشت کاروں کو کبھی ڈیرے میں بلواتے نہیں تھے بلکہ خود نکل کر سب کے گھروں میں جاتے تھے، خیرت معلوم کرتے تھے اور اس کاشتکار کا سینہ چوڑا ہوجاتا تھا جسے وہ اپنے برابر چارپائی (کھاٹ) پر بٹھا کر بات کرتے تھے۔ پہلے پروگرام میں یہ ضرور ہے کہ ایک نئی بات ہونے کی وجہ سے بدمزگی ہوگئی سو وہ ابتدا تھی، ہم نے سیکڑوں بارلکھا ہے کہ جب تک راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے دربار میں پسینے سے تر بتر گرد بھرے جوتے والے کسانوں اورمزدوروں کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی کانگریس زندہ نہیں ہوسکتی۔ مسٹر پرشانت کشور وہ سب کررہے ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کانگریس کامیاب ہو نہ ہو زندہ ہوجائے گی اور اصل مسئلہ حکومت کا نہیں زندگی کا ہے۔

جس وقت یہ بات آئی تھی کہ مسز شیلا دکشت نے الیکشن لڑنے سے انکار کردیا ہے، ہمارے مضمون پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ ہم نے کہا تھا کہ یہ فرار ہے اگر وہ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے آئی ہیں تو سینہ ٹھونک کر کہیں کہ میں الیکشن لڑ کر وزیر اعلیٰ بنوں گی۔

جب جنتا پارٹی ۱۹۷۷ء میں الیکشن لڑنے جارہی تھی تو یہ سوال تھا کہ لکھنؤ سے کون لڑے؟ اور بہوگنا جی یہ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ وہ کہاں سے لڑیں؟ اس وقت ان کے دوستوں نے لکھنؤ کا مشورہ دیا تو بہوگنا جی نے کہا کہ جھنڈے والے پارک میں جلسہ بلاؤ اگر بھرا ہوا پارک کہہ دے کہ میں لکھنؤ سے لڑوں تو میں اعلان کردوں گا۔

مسز ریتا بہوگنا موجود ہیں وہ اعلان کریں اور ایک لاکھ کا مجمع بلا لیں اور اس میں اعلان کریں کہ شیلا جی لکھنؤ کی کس سیٹ سے لڑیں گی، اس کا فیصلہ لکھنؤ والوں پر چھوڑا جائے یا پرشانت کشور صاحب اپنے طور پر جائزہ لیں اور اعلان کریں لیکن لڑیں ضرور۔ ایک بات ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ شیلا جی کا دہلی کی کارگذاریوں کو بار بار گنانا اچھا نہیں لگتا۔ وہ دو الیکشن ہاری ہیں اور آج کی دہلی کانگریس بی جے پی کی باندی بنی ہوئی ہے اور اجے ماکن بی جے پی کے دلّال بنے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ خیال نہیں ہے کہ اروند کجریوال کی لمبائی چوڑائی دہلی تک ہے اور کانگریس کا مقابلہ پورے ملک میں بی جے پی سے ہے۔ وہ اگر کجریوال سے ناراض ہیں تو چپ رہیں بی جے پی کا کمل سینے پر لگا کر کیوں گھوم رہی ہیں؟ انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر بدلہ کی ٹھان کر کجریوال شیلا جی کی مخالفت کرنے لکھنؤ آگئے تو کتنا نقصان ہوگا؟

ناظرین کرام جانتے ہیں کہ ہم تو خانہ قید ہیں۔ بچوں سے معلوم ہوا کہ راہل گاندھی ان کسانوں سے ملنے جو بڑے کسان ہیں اور لکھنؤ میں رہتے ہیں، آج لکھنؤ آرہے ہیں اور لکھنؤ کی ہر وہ سڑک جدھر سے وہ گذریں گے ترنگی دلہن بنی رہے گی۔ ان کے پروگرام میں ندوہ کے ناظم سید مولانا رابع صاحب سے ملنا بھی ہے۔ حیرت ہے ان کانگریسیوں پر جنھوں نے لکھنؤ میں ندوہ میں حاضری کی ایک رسم بنا لی ہے۔ یہاں اٹل جی بھی آئے ہیں ۔چندر شیکھر بھی اور بہو گنا جی تو جب تک وزیر اعلیٰ رہے بقولِ خود بیٹری چارج کرانے آتے تھے۔ لیکن اس دربار سے ایک ہی جملہ ملتا ہے کہ ہم تو سب کو دعا دیتے ہیں۔ ندوہ میں کبھی کسی سیاسی لیڈر کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اساتذہ اور طلباء سے خطاب کرسکے اور نہ لڑکوں کواس کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ دیکھ لیں۔

اب اگر راہل گاندھی لکھنؤ سے ووٹ لینا چاہتے ہیں تو انھیں سلطان المدارس اور مدرسہ ناظمیہ میں حاضری دینا چاہیے۔ اور مولانا کلب صادق صاحب اور مولانا کلب جواد صاحب سے بھی ملاقات کرنا چاہیے، ایک زمانہ تھا کہ لکھنؤ کا ہر مسلمان کانگریسی تھا اور سید علی ظہیر صاحب مستقل کامیاب ہوتے تھے۔

پرشانت کشور صاحب نے اوپر سے تو کانگریس کو واقعی بدل دیا اور حیران ہیں کہ ہر کانگریسی پی کے کی ڈگڈگی پر ان کی مرضی کے مطابق کام کررہا ہے۔ اب انھیں ایسے لوگوں سے بھی ملنا چاہیے جو یہ بتائیں کہ ان کے سب سے مضبوط بازو گاندھی جی کے ہریجن اور مولانا آزاد کے مسلمان تھے۔ اب صرف برہمنوں کو اپنانے پر ساری توجہ صرف کرنا اور صرف ان مسلمانوں سے رشتہ رکھنا جو یہ نہ دیکھیں کہ لیڈروں کو مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھیں کہ چند مسلمانوں کے عہدوں کے لیے مسلمان ان کے لیے کیا کیا کریں؟ ہر کانگریسی لیڈر اور پی کے یہ جان لیں کہ کانگریس کو صرف ۲۰۱۷ء کی جنگ لڑ کر زندگی نہیں ملے گی انھیں زمین کے ہر اس ٹکڑے کے لیے لڑنا ہے جو کبھی ان کی تھی۔ اور بی جے پی کو وہاں پہنچانا ہے ۔جب لوک سبھا میں اس کے دو ممبر تھے جس دن یہ ہوگیا اس دن راہل شادی بھی کرلیں اور تلوار کو کو نیام میں رکھ کر سوجائیں اور پرشانت کشور کو ایک صوبہ کی حکومت دے کر ہمیشہ کے لیے کانگریس کا کا مشیر بنالیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *