• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان کی سیاسی اور آئینی زندگی کا اہم کردار۔ملک غلام محمد/داؤد ظفر ندیم۔۔۔قسط1

پاکستان کی سیاسی اور آئینی زندگی کا اہم کردار۔ملک غلام محمد/داؤد ظفر ندیم۔۔۔قسط1

ملک غلام محمد کا تعلق لاہور کے ایک ککے زئی خاندان سے تھا آپ کی پیدائش 25 اپریل 1895تھی۔ آپ کا تعلق لاہور کے موچی محلے سے تھا۔ آپ نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا۔
ملک غلام محمد نے عملی زندگی کا آغاز انڈین اکاؤنٹ سروس میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کیا اس کے بعد ریلوے بورڈ میں ذمہ دار عہدے پر کام کیا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران کنٹرولر آف جنرل سپلائی اینڈ پرچیز کی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ پہلی گول میز کانفرنس میں نواب آف بہاول پور کے نمائندے کے طور پر شرکت کی۔ آپ نے نظام حیدرآباد کے مشیر خزانہ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں۔
کہا جاتا ہے کہ دوران ملازمت آپ دوقومی نظریئے اور مسلم لیگ کے بڑے حمایتی تھے۔ انہوں نے سرکاری ملازمتوں اور سرکاری محکموں میں شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کا بڑا خیال رکھا۔ اس لئے آپ کے غیر مسلم کولیگ اس مذہب کے معاملے میں آپ کو متعصب سمجھتے تھے۔

تقسیم ہند کے قبل جو عبوری کابینہ بنی اس کابینہ میں آپ خان لیاقت علی خاں کے معاون تھے اور آپ نے نواب زادہ لیاقت علی خاں کو وہ تاریخی بجٹ تیار کرنے میں مدد دی جس کی وجہ سے خاں لیاقت علی خاں اور قائد اعظم محمد علی جناح کا آپ کی معاشی سمجھ بوجھ پر اعتماد پیدا ہوا۔اسی لئے قیام پاکستان کے بعد آپ کو پاکستان کا پہلا وزیر خزانہ مقرر کیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سخت وقت تھا، بہت محدود وسائل اور انتقال آبادی کی وجہ سے پاکستان سخت مسائل سے دوچار تھا ایسے میں جہاں جناب گاندھی کی کوششوں سے پاکستان کو بھارت سے اپنے واجبات ملے وہاں جناب غلام محمد کی معاشی اور مالی مہارت نے بھی ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے میں مدد دی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے ملک کی بیورو کریسی میں چوہدری محمد علی کے ساتھ مل کر شمالی ہندوستان خصوصا ً اردو بولنے والے افسران کی مضبوط لابی قائم کی۔ حالات و واقعات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آپ بنگالیوں کو محدود کردار دینے کے حمایتی تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے  تھے جو صرف اردو زبان کو قومی زبان بنانے کے حمایتی تھے۔ 26 نومبر1949ء میں پاکستان نے اسلامی معاشی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک صاحب نے اسلامی ممالک کا معاشی بلاک بنانے کی تجویز دی۔

کہتے ہیں کہ اسی دور میں جناب غلام محمد اور سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کی دوستی کا آغاز ہوا اور اسی دور میں ان کے پاکستان فوج کے ایک ممتاز آفیسر جناب ایوب خاں سے تعلقات پیدا ہوئے۔ جناب غلام محمد ان لوگوں میں شامل تھے جو امریکہ سے قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے اور جناب لیاقت علی خاں کو روس کی بجائے امریکہ کے دورے کے لئے جن لوگوں نے تیار کیا ان میں ان کا بھی بڑا کردار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس دوران جناب ملک غلام محمد اور نواب زادہ لیاقت علی خاں کے مابین اختلافات پیدا ہوئے اور نواب زادہ لیاقت علی خاں نے آپ کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا کہ اس دوران جناب لیاقت علی خاں کی پرسرار شہادت کا واقعہ پیش آیا۔

نواب زادہ لیاقت علی خاں کی پرسرار اور بے وقت شہادت نے ملک صاحب کے مقدر بدل دیے ۔ کابینہ اور حکومت میں ملک غلام محمد سب سے طاقت ور شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حکومت میں موثر کردار کے لئے وزارت عظمی کی بجائے گورنر جنرل کا عہدہ زیادہ موثر ہے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصٖلہ پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں بہت برا فیصلہ ثابت ہوا۔ اگر ملک غلام محمد گورنر جنرل کی بجائے وزیر اعظم بننے کا فیصلہ کرتے تو پاکستان کی سیاسی اور پارلیمارنی تاریخ مختلف ہوتی ملک غلام محمد کو براہ راست سیاسی قیادت کا موقع ملتا تو ملک ان محلاتی سازشوں کا شکار نہ ہوتا تو پس پردہ رہ کر انھوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیں اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیا۔
کابینہ نے فیصلہ کیاکہ خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سونپی جائیں جبکہ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کا عہدہ دیاجائے۔ اس طرح ملک غلام محمد نے پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل کے طور پر حلف لیا۔ اور خواجہ ناظم الدین نے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔

یہ ملک میں بیوروکریسی کی سازشوں اور گٹھ جوڑ کی ابتدا تھی۔ ملک غلام محمد بنگالی سیاست دانوں اور افسروں کو حکومت کے لئے اہل نہیں سمجھتے تھے وہ طاقت اور اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز رکھنا چاہتے تھے اس لئے ان کی کسی بھی وزیر اعظم سے نہیں بن سکی۔ آپ کی کوشش تھی کہ آئین میں کسی طرح بھی بنگالیوں کی سیاسی بالادستی نہ قائم ہو سکے بلکہ ان کو حکومت اور ریاستی معاملات میں جونیئر پارٹنر اور ماتحت کے طور پر شریک کیا جائے اسی لئے انھوں نے خواجہ ناظم الدین جیسے شریف آدمی سے بھی نباہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی اور ان کو اس وقت برطرف کیا جب دو ہفتے قبل ہی انہوں نے دستور ساز اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ یہ برطرفی سکندر مرزا اور جناب ایوب خاں کی حمایت کی وجہ سے ممکن ہوئی اور پاکستان میں پہلی دفعہ ایک باوردی شخص کو وزیر دفاع کا عہدہ دے کر کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔

وزیر اعظم محمد علی بوگرہ ایک تابعدار وزیر اعظم کے طور پر انتخاب تھے اسی دوران مشرقی بازو کے وزیر اعلی جناب نورالامین نے سندھ کے وزیر اعلی جناب عبدالستار پیرزادہ کے ساتھ مل کر دستور اسمبلی ترمیم پیش کرنے کی کوشش کی تاکہ گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی کی جائے گورنر جنرل غلام محمد کو جب ان حالات کا علم ہوا تو انہوں نے 24 اکتوبر، 1954ء کو فوری طور پر دستور سازاسمبلی کو برخواست کر دیا ۔
23 اکتوبر سن  1954 پاکستان کی تاریخ کا ایک پر آشوب دن تھا جب اُس زمانہ کے نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرا امریکا کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر لندن کے راستہ کراچی واپس آئے تو ہوائی اڈہ سے انہیں پولیس کے سخت پہرے میں عملی طور پر ایک قیدی کی طرح سیدھے گورنر جنرل ہاؤس لےجایا گیا، جہاں گورنر جنرل ملک غلام محمد ، فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اور اُس زمانہ کے مشرقی پاکستان کے گورنر، جنرل سکندر مرزا صلاح مشورہ کر رہے تھے۔ ہوائی اڈہ پر موجود چند صحافیوں نے وزیر اعظم بوگرا سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن صاف منع کردیا گیا۔ حتیٰ کہ پرنسپل انفارمیشن افسر کرنل مجید ملک بھی بے بس تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

کراچی میں بھاری تعداد میں فوج کے دستے    نقل  و حرکت کر رہے تھے۔ طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم تھا اور قیاس آرائیوں کا زور تھا۔ وہ آشوب انگیز رات تھی۔ پوری رات صحافی اہم اعلان کا انتظار کرتے رہے۔ گورنر جنرل ہاؤس میں، تین کے ٹولہ کے طویل صلاح مشورہ اور منصوبہ بندی کے بعد وزیر اعظم بوگرا کو فوجی افسروں اور پولیس کی معیت میں بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کے سٹوڈیو لے جایا گیا جہاں سے انہوں نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب دستور ساز اسمبلی نے آئین کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی تھی اور ملک کےپہلے آئین کا مسودہ چھ روز بعد ایوان میں پیش کیا جانے والا تھا۔

دستور ساز اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین نے اس برطرفی کوسندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ سندھ کی اعلیٰ عدالت نے مولوی تمیزالدین کے حق میں فیصلہ دیا کہ گورنر جنرل کا فیصلہ غیر آئینی تھا اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، تو اس کے نتیجے میں جسٹس منیر کا فیصلہ سامنے آیا جس میں گورنر جنرل کا فیصلہ جائز قرار دیا اور اسے نظریہ ضرورت قرار دیا کہ دستور ساز اسمبلی اپنی اہمیت و افادیت کھو چکی ہے۔ اس فیصلے نے پاکستان میں فوج اور بیوروکریسی کی سازشوں کا ایک نہ رکنے والا باب کھول دیا۔ جسٹس منیر نے فیصلے میں یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان نے مکمل آزادی حاصل نہیں کی ہے اور اب بھی جزوی طور پر تاج برطانیہ کا حصہ ہے۔ اس رو سے دستور ساز اسمبلی گورنر جنرل کے ماتحت ہے اور گورنر جنرل کو اسے برخواست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس مقدمے میں صرف ایک غیر مسلم جج جسٹس کارنیلس نے  یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان مکمل طور پر آزاد مملکت ہے اور دستور ساز اسمبلی ایک خود مختار ادارہ ہے جسے گورنر جنرل برطرف نہیں کر سکتا۔ اسی مقدمے میں جسٹس منیر نے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی  دفعہ نظریہ ضرورت کا  لفظ  بھی متعارف کروایا۔

گورنر جنرل غلام محمد بلڈ پریشر،لقوے اور فالج کے مریض تھے ان کی کہی ہوئی باتیں سمجھنا مشکل اور دشوارتھا ملک غلام محمد کے آخری سال ایک ایسے فالج زدہ شخص کے سال تھے جن کی باتوں کو ان کی غیر ملکی نرس سے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا اور اسی غیرملکی نرس کے ذریعے پاکستانی حکومت کا سارا کام ہو رہا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ اتنے بڑے عہدے پر رونق افروز تھے ،ان کی علالت کی وجہ سے انہیں دوماہ کی رخصت پر بھیجاگیا ان کی جگہ سکندر مرزا کو قائم مقام گورنر جنرل کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ ملک صاحب نے 12 ستمبر1956ء کو 61 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پائی بہرحال یہ بات حقیقت ہے کہ جب تک ملک غلام محمد زندہ رہے انھوں نے پاکستان کا آئین نہیں بننے دیا۔۔

جاری ہے

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *