کیچڑ۔۔۔محمد افضل حیدر

اس رات ہونے والی طوفانی بارش نے مٹھو ہوٹل والے کی فکر میں بے حد اضافہ کر دیا تھا۔ اسے اپنے گھر اورچھپر ہوٹل کی فکر کھائے جا رہی تھی،پچھلی بارش پر بھی اس کے گھر کی سر کنڈوں سے بنی چھت ٹپک پڑی تھی۔جس کو ٹھیک کرنے میں اس کا کافی سارا وقت اور پیسہ برباد ہوا تھا۔ وہ اور اس کے بیوی بچے مسلسل ہاتھ اٹھائے دعائیں کر رہے تھے۔۔”یا اللہ اب کی بار بچا لے ہمارے نحیف وجود میں اتنا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں ہے۔“دعاؤں کے دوران ہی کمرے کی چھت نے جگہ جگہ سے ٹپکنا شروع کر دیا۔ مٹھو نے جب پہلا قطرہ اپنی پیشانی پر گرتا  محسوس کیا تو اُس کا دل بیٹھ سا گیا۔اس نے رضیہ کی طرف دیکھا اور حواس باختہ پثرمردہ چہرے کے ساتھ اس سے گویا ہوا۔”برباد ہو گئے رجو!“
جگہ جگہ سے ٹپکنے والے قطرے برداشت سے باہر ہوئے تو اس نے بیوی بچوں کو کمرے کے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھنے کا کہا۔اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اس طوفانی بارش کے تھپیڑوں سے لڑتا بھڑتا ابھی اسی وقت اپنے گھر کی چھت پر پہنچے اور سر کنڈوں سے بنے چھپر پر جھولیاں بھر بھر کر مٹی ڈالے،یا خود اس کے اوپر لیٹ جائے تاکہ غربت کی ذلت سے یہ نا آشناپانی اس کی غریبی کے بھرم کو کہیں بہا کر نہ لے جائے۔۔بارش تو بارش تھی ساتھ طوفانی ہواؤں نے باہر کہرام برپا کر رکھا تھا۔ اسی اثنا  میں باہر دھڑام سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔وہ باہر کی طرف بھاگا لپکنے والے آسمانی بجلی کے کوندوں کی روشنی میں اس نے گھر کی دیوار کو زمین پر دراز دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے یہ بوسیدہ دیوار زمین پر نہیں بلکہ اس کے نحیف وجود پر گری ہو۔ دوڑ کر واپس کمرے میں آیا اور تقریبا ً بھیگ چکے بیوی بچوں کو لے کر محلے کی مسجد کی طرف بھاگا۔مشکل کی اس گھڑی میں اسے سر چھپانے کے لئے خانہ ء  خد اسے بڑھ کر کچھ نظر نہ آیا،رضیہ اور چھوٹی ثریا مولوی صاحب کے گھر چلی گئیں جو کہ مسجد سے ملحق تھا۔مولوی صاحب گھر سے نکل کر اپنے حجرے میں آ گئے۔

مٹھو کی بیوی اپنی بربادی پر تمام رات ماتم کرتی رہی،اسے وہ وقت یاد آ رہا تھا جب اس نے مٹھو کے ساتھ اپنا پیٹ کاٹ کر ایک ایک روپیہ جمع کیا اور گھر بنانا شروع کیا پچھلے پندرہ سالوں میں وہ جتنے پیسے جمع کر پائے اس سے صرف گھر میں ایک کمرہ ہی بن پایا،چار دیواری کے لئے مٹھو اپنی بہن سے زیور مانگ لایا تھا،جس سے وہ یہ مکان بنا پائے جو آج بادلوں کے رحم و کرم پہ تھا۔مٹھو اور رضیہ نے رات جاگ کر گزاری۔صبح فجر کی اذان سے پہلے بارش کے تھم جانے پر سب لوگ گھر آئے تو گھر کسی ندی نالے کا منظر پیش کر رہا تھا۔کمرے کی چھت پانی  میں بہہ گئی تھی۔تین ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں کشتیوں کی مانند پانی میں تیرتی پھرتی تھیں۔اکا دُکا برتن بھی پانی کی سطح پر جھول رہے تھے۔سارا منظر ان سب کے لئے کسی بہت بڑی قیامت سے کم نہیں تھا۔سب چھوٹے بڑوں نے مل کر اس آفت ِخداوندی سے نبرد آزما ہونے کی ٹھانی۔دونوں میا ں بیوی پانی میں گھس گئے اور دو بڑی بڑی دیگچیوں سے پانی کو باہر پھینکنا شروع کر دیا۔ بچے بھی بڑھ چڑھ کر ماں باپ کا ساتھ دے رہے تھے۔طلوع آفتاب سے پہلے انہوں نے تمام پانی باہر گلی کی نالیوں میں پھینک دیا۔مٹھو کا دل بوجھل تھا۔وہ اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔اس کا رونے کو جی چا ہ رہا تھا مگر چاہتے ہوئے بھی اس کے آنسو آنکھوں کی پتلیوں میں کہیں اٹک کہ رہ گئے۔محلے کی ایک عورت نے ترس کھاتے ہوئے سفید چاول ابال کر ان کو ناشتے کے طور پر لا دیے جو ان قسمت کے ماروں نے بڑی خوشی سے کھائے اور ر ب کا شکر بجا لائے۔

مٹھو نے گھر کی مصیبت سے فراغت پائی تو اسے اپنے ہوٹل کی فکر کھانے لگی اسے احساس تھا کہ سرکنڈوں سے بنا اس کا چھپر ہوٹل بھی قدرت کے اس کڑے امتحان پر پورا نہیں اترپائے گا ا ور اس کی حالت بھی گھر سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی۔ مٹھو کا ہوٹل شہر کے ایک گنجان آباد علاقے میں ایک بڑی سڑک کے عین اوپر واقع تھا۔سڑک کے دوسری طرف سبزی منڈی تھی۔شہر سمیت اردگرد کے علاقوں سے آنے والے پھیری والے مزدور اسی سڑک سے گزر کر منڈی کا رخ کرتے۔اکثرپھیری والے اپنے تھکے ماندے جسم کو آرام دینے کی غرض سے اپنی سائیکلیں مٹھوکے ہوٹل کے عین سامنے کھڑی کر کے اس کے ہوٹل سے چائے ضرور پیتے۔پانچ روپے کی ایک پیالی کے ساتھ پانچ روپے مزید خرچ کرکے تین عدد رس بھی خریدے جا سکتے تھے۔غر یب مزدوروں کے لئے ناشتے کے نام پر اپنے پیٹ کو بھرنے کے لئے یہ ایک معقول جگہ تھی۔

مٹھو سورج کی آب و تاب سے بہت پہلے اپنے ہوٹل پہنچ چکا تھا۔اس کے کھوکھے  نما ہوٹل کے اوپر چھپر کی چھت جگہ جگہ سے ٹپکی ہوئی تھی۔بعض جگہوں پر تو بڑے بڑے سوراخ ہوچکے تھے،جس کی وجہ سے آ سماں بھی اوپر سے اس کی غربت اور بے بسی کا نظارہ کر رہا تھا۔ کھوکھے  میں موجود ایک بدنما میز پر پڑی چائے کی پیالیوں اور اکا دُکا کیتلیوں میں بھی بارش کے پانی نے قبضہ جما رکھا تھا۔زمین پر فرش نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی مٹی کیچڑ میں بدل چکی تھی۔اسے اپنی مجرمانہ غفلت  اور  خود پر بے انتہا غصہ آرہا تھا۔وہ خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے بارشوں کے موسم سے پہلے اپنے چھپر کی لپا ئی کیوں نہ کی۔۔!!

بارش نے شہر کے ساتھ ساتھ اس کے ناتواں ارادوں پر بھی پانی سا پھیر دیا تھا۔ وہ رونا چاہ رہا تھا لیکن اس کی آنکھیں چھلکنے کے انتظار میں بیٹھے آنسوؤں کے لئے ضبط کی ایک کڑی فصیل ثابت ہو رہی تھیں ، ۔ اسے اپنی اجڑی ہوئی دنیا کو پھر سے بسانا تھا مگر کیسے؟ اس کا جواب اس کے پا س نہیں تھا۔اسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ مرمت اور بحالی کا یہ کام وہ کیسے اور کہاں سے شروع کرے۔۔۔
اس وقت اس کی جیب میں محض پچاس روپے کا ایک بوسیدہ سا نوٹ تھاجو کہ آج اس نے دودھ والے کو چکانا تھا۔غربت اور بے بسی کا جان لیوا احساس ایک ٹیس بن کر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتا جا رہا تھا۔اسے آج کے دن ہوٹل نہ لگ پانے کی ٖفکر اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک دن ہوٹل سے چھٹی کا مطلب،اس دن اپنے معصوم بچوں کو بھوک جیسے و حشی درندے کے آگے ڈالنا تھاتا کہ وہ انہیں مسلے کاٹے اور پھر کھا جائے۔رات گھر لوٹتے وقت اس کے ہاتھ میں بچوں کے لئے کچھ نہیں ہو گا۔یہ احساس اندر ہی اندراُسے کھائے جا رہا تھا۔اس نے التجائیہ نظروں سے ایک بار آسمان کی طرف دیکھا،اورایک طویل سرد آہ بھری اور سر جھکا لیا۔

شاید  وہ اللہ سے اس کڑی آزمائش کی وجہ اور اس کا حل دریافت کررہا تھا۔اس کے پاس اس مصیبت سے نپٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔وہ سر پر دونوں ہاتھ رکھے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔ اپنی قسمت پر ماتم کرنے کایہ ایک معقول انداز تھا۔وہ کن اکھیوں سے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو تک رہا تھا،مگر بے حسی اور زندگی کی رفتار کے ہاتھوں مجبور یہ سنگدل لوگ اس کی آنکھوں میں چھپی ا لتجا اور چہرے پر چھائی یاسیت کو جانتے ہوئے بھی جاننا نہیں چاہ رہے تھے۔ان سب کے نزدیک مٹھو اس معاشرے کا ایک بے کار کردار تھا جس سے چائے کی پیا لی کے علاوہ اور کوئی غرض وابستہ نہیں کی جا سکتی تھی چائے کی پیالی اور وہ بھی پیسوں سے یہ کیسی غرض ہو سکتی تھی۔

رشید پھیری والے نے منڈی سے واپسی پر مٹھو کو پریشان حال دیکھا تواپنی سائیکل کو سڑک سے ملحقہ ایک نیم کے درخت کے ساتھ کھڑا کرکے اس کی جانب چل نکلا۔پاس پہنچتے ہی اس نے استفسار کیا۔۔”کیا ہوا مٹھو؟۔۔پریشان لگ رہے ہو۔اور ابھی تک ہوٹل بھی نہیں لگا یا تم نے؟“
مٹھو منہ سے تو کچھ نہ بولا مگر اس کی آنکھوں نے غافل بنے رشید کی راہنمائی کردی۔۔رشید جلد سمجھ گیا، اس نے چھپر کے نیچے جاکر دیکھا تو مٹھو کا اجڑا ہو جہان دیکھ کر اس کا دل لرزسا گیا۔بارش سے چھلنی سرکنڈوں کی چھت،اور اس چھت سے رسنے والے بے رحم پانی اور اس پانی سے برباد پیالیا ں کیتلیاں،کپ،غرض اس غریب کی کل کائنات اس حال میں برباد دیکھ کر اس ٹھنڈے موسم میں بھی رشید کے سلوٹوں سے بھرے ماتھے پر چند قطرے پسینے کے نمودار ہو گئے۔وہاں سے باہر آتے ہی اس نے مٹھوکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا: ”اب کیا سوچا ہے یار!یہ جو بھی ہوا بہت بُراہوا۔!!مٹھو کچھ دیر توقف کے بعد لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں گویا ہوا۔”یہی تو سوچ رہا ہوں اتنی دیر سے کہ اب کیا سوچنا ہے مجھے۔کچھ سمجھ نہیں آرہا رشید بھائی کہ کیا کیا جائے۔ہوٹل توکچھ بھی نہیں گھر کی حالت اس سے بھی خراب ہے۔گھر کے اکلوتے کمرے کی چھت ساری ٹپکتی رہی۔ نائیلون کی دو بوریاں اوڑھے  میں اور میرے بیوی بچے تین گھنٹے تک بارش کے آگے مزاحمت کرتے رہے۔میں اکیلا ہوتا تو یہ سب ٹھیک تھا مگر مجھ سے سردی سے ٹھٹھرتے اور بارش کے پانی کو بالٹیوں اور ڈبوں میں بھر بھر کر کمرے سے باہر دھکیلتے اپنے معصوم بچے نہ دیکھے گئے۔سب کچھ قدرت کے ان بے رحم پانیوں کی نذر کرکے۔بچوں کو ساتھ لئے محلے کی مسجد میں سر چھپایا۔ بچے تو سو گئے مگر میں نے ساری رات خود سے الجھنے میں گزار دی۔بچوں کی قسمت پہ روتا رہا کہ آخر انہوں نے جنم بھی لیا تو کس بھکاری کے گھر جو انہیں بارشوں سے مقابلہ کرنے کی سکت رکھنے والی ایک محفوظ اور مضبوط چھت بھی نہ دے سکا۔محض ایک محفوظ چھت۔۔!!!“

اس بات نے اس کے ساتھ ساتھ رشید کی آنکھوں کو بھی آنسووؤں سے گیلا کر دیا تھا۔رشید نے اسے گلے لگایا اور ایک بے نام سی تسلی دی۔اس کے نزدیک قدرت کی طرف سے ملنے والی ہر آزمائش اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی حل بھی لیکر آتی ہے،وہ پریشان مت ہو،اس کی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں وہ ایسے تنہا ہرگز نہیں چھوڑے گا،اُس نے آزمائش میں ڈالا ہے وہی نکالے گا۔تم ہمت مت ہارنا اور کوشش کرنا حالات سے لڑنے کی۔۔اس کی تمام باتیں چپ چاپ سننے کے بعد اس نے اپنی جیب سے پچاس روپے کا ایک بوسیدہ سا نیم بھیگا ہوا نوٹ نکالا اور اسے دکھاتے ہوئے بولا۔”کیا اتنے پیسوں سے لڑا جا سکتا ہے شیدے؟ان پچاس روپوں کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔آج ہوٹل نہ کھلنے کی وجہ سے رات کے کھانے کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں۔“رشید نے ایک مختصر سی سرد آہ بھری اور نظریں نیچی کئے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی سے سر کھجانے لگا۔کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا۔ ”کسی سے قرض لے لو یار! سردیوں کا موسم ہے گھر کی چھت نہیں ہے کس طرح گزارا کر و گے؟“

”قرض نہیں لے سکتا شیدے! مجبوری ہے کوئی اور حل ہے تو بتا دو۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ گویا ہوا۔ ”ایک اور حل ہے میرے پاس اگر تم سننا چاہو تو؟“
”ہاں بتاؤ“۔ ”دیکھو مٹھوتم نے اور ہم سب نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ووٹ چودھری صاحب کو د ئیے اور وہ ہمارے تعاون سے کامیاب بھی ہوئے۔ہم نے ہر الیکشن میں انہیں کامیاب کرایا مگر اس کے بدلے میں ان سے کچھ نہیں مانگا۔مگر آج وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان سے تمہارے گھر اور ہوٹل کی بحالی کے لئے کچھ پیسوں کا تقاضا کریں۔مجھے امید ہے وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔“ ”نہیں رشید بھائی۔۔۔میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ہاتھ تو کسی کے سامنے تب بھی نہیں پھیلائے جب گھر میں فاقے تھے۔اب دو چھتیں چھن گئیں ہیں تو کیا ہوا جس نے چھینی ہیں وہ واپس بھی دے دے گا۔
”تمہیں کس نے کہا ہم ان سے بھیک مانگیں  گے پگلے!ہم تو ان سے گرانٹ لیں گے تمہارے نقصان کے ازالے کے لئے۔وہ یہ گرانٹ جیب سے نہیں بلکہ حکومتی خزانے سے لیکردیں گے جو ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔جس سے سارے مسائل حل ہو جائیں گے تمہارے۔۔اور حکومتیں تو مائی باپ ہوتی ہیں پگلے! ان سے نہیں مانگیں تو اور کہاں سے مانگیں گے۔۔تم تیار رہو میں اور دو چار لوگوں سے بھی بات کرتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ چلیں تاکہ چودھری صاحب پہ تھوڑا بھار پڑے۔اور آج تم اپنے سامان کو سمیٹ کر گھر چلے جاؤ کل جمعہ ہے اور چودھری صاحب اپنے گاؤں والے ڈیرے پر موجود ہوں گے۔کل سب مل کر ان سے تمہارے حوالے سے بات کریں گے۔مجھے پورا یقین ہے وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔

مٹھو اثبات میں سر ہلاتا رہاوہ بہت کچھ بولنا چاہتا تھا مگر بول نہیں پایا شاید  رشید کے ضرورت سے زیادہ اخلاص نے اس کے منہ پر چپ کے تالے ثبت کردئیے۔رشید اس کے سامنے امید کا روشن چراغ بن کر آیا تھا جس کی ٹمٹماتی روشنی میں اسے اپنی منزل نظر آرہی تھی۔ایک روشن دن کے جیسے اجلی ہوئی منزل۔ وہ من ہی من میں سوچنے لگا کہ ان پیسوں سے اس کی تمام پریشانیاں جھٹ سے ختم ہو جانی تھی۔کچھ پیسوں کے خرچ کرنے سے گھر اور ہوٹل کی مرمت کرائے گا۔مُنی اور بیوی رضیہ کو نئے کپڑے اور جوتے لے دے گا اور رضیہ کے لئے گرم شال بھی آخر کتنے دنوں سے کہہ رہی تھی بے چاری! بڑے پیجو کو ورکشاپ سے ہٹاکر کوئی دکان کھول کر دے گا۔اپنے کام میں خوش رہے گا کتنا میلا ہوکر آتا ہے کام سے۔ چھوٹے میدو کے لئے ایک پیاری سی شہری بچوں والی سائیکل لے گاجس پر سوار ہوکر محلے کے دوسرے بچوں کی طرح وہ بھی شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے سکول جائے گا پھر۔۔ان پیسوں سے اس کی زندگی میں کتنی بڑی تبدیلی آسکتی تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ وہ اس وقت اپنے بوسیدہ اور بدبودار ماضی سے پیچھا چھوڑا کر مستقبل کے حسین سپنے بُن رہا تھا۔۔گھر واپس لوٹتے وقت بھی وہ خیالات کے گہرے سمندر میں غوطہ زن رہا،گھر آتے ہی اسے ٹوٹی ہوئی کمرے کی چھت،گری ہوئی دیوار،بھوک سے بلکتے بیوی بچے کچھ حد تک بھول گئے۔وہ ابھی بھی رشید کی باتوں کے سحر میں کھویا ہوا تھااور کل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔وہ سوچ رہا تھاکہ کل امام مسجد صاحب،شوکت کریانے والا اور دلاور کونسلر کو اپنے ساتھ چودھری صاحب کے ڈیرے پر لے کر جائے گا۔بیوی رضیہ نے کھانے کے متعلق خوشخبری سنائی کہ  کھانا ابھی بڑا بیٹا پرویز دے کر گیا ہے۔اور پڑوسن ثریا نے بھی چاول بھیجے ہیں بچوں کے لئے۔مٹھو کے لئے یہ سب کچھ بہت اطمینان بخش تھا اس کے نزدیک اس کے دن اب پلٹنے والے تھے جس کا آغاز ہوچکا تھا۔مٹھو نے باری باری ان سب لوگوں سے کل  چودھری صاحب کے ڈیرے پر چلنے کی بات کی جنہوں نے بلا تردد ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔

رات ہونے سے پہلے مٹھو نے چھوٹے دونوں بچوں کو بیوی رضیہ کے ساتھ اس کی بہن کے گھر بھیج دیا جوکہ ریلوے لائن کے ساتھ کچی بستی میں رہتی تھی وہ آج کی رات بچوں کو سخت سردی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔اس کے نزدیک آج کا یہ سورج اس کی غربت بھی ساتھ لیکر ڈوبے گا۔چودھری صاحب کی سرکاری گرانٹ سے اندھیرے اب چھٹنے والے تھے۔جاڑے کی ان بے رحم راتوں کو شکست ہونے والی تھی۔نئی صبح اس کی زندگی کا نقطہ آغازثابت ہونے والی تھی۔ یہی حسین سپنے دل و دماغ میں سجائے رشید نے وہ رات دلاور کونسلر کے ڈیرے پر گزاری۔صبح کا ناشتہ بھی اسے وہیں مل گیا۔دلاور اور دوسرے تمام محلے والوں کو اکٹھا کرتے د ن کے دس بج گئے۔رشید بھی اپنی سائیکل کے ساتھ براجمان ہوا۔ تمام لوگ دن کے گیارہ بجے چودھری صاحب کے گاؤں جانے کے لئے وہاں سے روانہ ہوئے۔ایک گھنٹے کی مسافت طے کرکے یہ لوگ وقفے وقفے سے وہاں پر جمع ہوئے، دلاور اور شوکت کریانے والا ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ کر وہاں پہنچے قاری صاحب اپنی سائیکل پر اور مٹھو رشید کے ساتھ وہاں پہنچا۔

ڈیرے پر علاقے کے لوگوں کا ہجوم تھا ۔علاقے کے طول و عرض سے لوگ اپنے مسائل لیکر وہاں پر موجود تھے۔ مٹھو اور اس کے ساتھی محلے والے ایک خالی چارپائی پر جا کر بیٹھ گئے۔ تھوڑے انتظار کے بعد چودھری صاحب اپنی پجارو پر وہاں وارد ہوئے۔ڈیرے پر موجود تمام لوگ احتراما کھڑے ہو گئے۔ایک واشگاف نعرہ فضا میں بلند ہوا۔چودھری صاحب۔۔۔!! لوگوں نے آواز کانوں کے ساتھ ٹکراتے ہی زندہ باد کی صدا کے ساتھ واپس فضا میں اُچھال دیا۔چودھری صاحب نے دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور لوگوں کو ہاتھ ہلاتے دھکم پیل سے بچتے بچاتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔کمرے کے دروازے پر ان کے دو کارندے تن کر کھڑے ہو گئے۔ایک کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کاپی تھی جس پر وہ وہاں آنے والے لوگوں کے نام اور پتے درج کر رہا تھا۔سب نے ترتیب سے اٹھ کر اپنے اپنے نام درج کروائے۔دلاور کونسلر اپنی باری پر اٹھا تو رشید کے کان میں ایک سرگوشی کی۔رشید نے مٹھو کی طرف دیکھا دھیمی سی آواز میں تقاضا کیا ”مٹھو جیب میں کچھ پیسے ہیں؟“مٹھو نے جیب میں جھانکا اور کانپتے ہاتھوں سے پچاس کا وہی بوسیدہ سا نوٹ نکال کر رشید کی ہتھیلی پر رکھ دیا جو اس کی کُل جمع پونجی تھا۔۔دلاور پیسے لیکر آگے بڑھا،کارندے کی مٹھی گرم کی اور فاتحا نہ انداز میں باچھیں کھولتا واپس آکر بیٹھ گیا۔

ٹھوڑی دیر میں کارندے نے دلاور کا نام پکارا،دلاور آگے بڑھا تو باقی محلے والے بھی اس کے ساتھ چل پڑے۔دروازے کے نزدیک پہنچے تو کارندے نے ہاتھ کا بیرئیر بنا کر انہیں روک لیا۔چودھری صاحب موبائل پر بات کر رہے  ہیں تھوڑا انتظار کریں۔ بیس منٹ وہاں کھڑے ہونے کے بعد حکم صادر ہواکہ صرف دلاور کونسلر اندر جا سکتا ہے باقی تمام لوگ باہر کھڑے ہوکر انتظار کریں۔دلاور باقیوں کو باہر چھوڑ کر اندر چلا گیا اور دو تین منٹ بعد باہر صحن میں آگیا۔اس نے مٹھو کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”چودھری صاحب نہایت عزت سے پیش آئے ہیں۔انہوں نے پوری بات بڑی توجہ سے سنی ہے،۔انہوں نے تمہاری  بھر پور امداد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ کل ایک عمارت کے افتتاح کے لئے وہ شہر آرہے ہیں۔ان کا قافلہ تمہارے ہوٹل والی سڑک پر سے گزرے گا۔کہتے ہیں میں گاڑی روک کر،نیچے اتر کر اس کے ہوٹل کے عین سامنے اس کی مدد کروں گا اور میرے لئے یہ بڑی خوشی والی بات ہوگی کہ میں اپنے ایک غر یب ووٹر کی مدد کروں۔اور ہاں! مجھے تو کہہ رہے تھے کہ دلاور تم تو میرے پاس ہی رک جاؤ کل اکھٹے شہر چلے جائیں گے،بہت کم کم نظر آتے ہو“۔دلاور نے باچھیں کھولتے ہوئے سب کو اپنی اہمیت کا احساس دلانے کی ایک کامیاب کوشش کی۔

سب ملے جلے جذبات کے ساتھ گھر واپس لوٹے مٹھو کا دل بجھا بجھا سا تھا شاید  اسے یقین ہو چلا تھاکہ چودھری صاحب کے ہاں جانے سے اس کی بات نہیں بنی مگر رشید اور دلاور کی تسلیوں نے اسے آج کی رات بھی اطمینان اور سکون کے ساتھ گزارلینے کی امید دی۔ پرویز ورکشاپ سے واپسی پر باپ کے لئے ہوٹل سے کھانا لے آیا جو مٹھو نے خوشی خوشی کھایا،اور دونوں باپ بیٹے اپنے تباہ حال غریب خانے میں سردی سے کانپتے کانپتے سو گئے۔

اگلی صبح دروازے پر ہو نیوالی دستک نے اس کو نیند سے بیدار کیا۔دروازے پر ملک منظور تھاجس سے مٹھو نے بیس ہزار قرض لے رکھا تھا۔ملک منظور پراپرٹی ڈیلر تھا مگر پیسے کی ہوس نے اسے سود خوری پر لگا رکھا تھا۔مٹھو کے علاوہ اور بھی بہت سارے سفید پوش تھے جن کو اس نے قرض دے کر اپنا زر خرید غلام بنا رکھا تھا۔اصل رقم اپنی جگہ قائم رہتی سود بھی برابر وصول کرتا اور اس وقت تک کرتا جب تک اس غریب آدمی کا سب کچھ بک نہ جاتا یا پھر وہ موت کو گلے سے نہ لگا لیتا۔اس نے بیس ہزار روپے ملک منظور سے رضیہ کی بیماری پر بطور قرض لئے تھے۔ ثریا کی پیدائش پر حلیمہ دائی سے معاملہ بگڑنے پر اسے قریبی ہسپتال لے جانا ُپڑا جہاں دس ہزار کا بل بنا۔پیسے چکانے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔مجبوری اسے ملک منظور کے در پر لے آئی جہاں پر اصل رقم کے ساتھ مہینے کا ایک ہزار سود طے پایا،قسط واجب الادا نہ ہونے پرقرض کی اصل رقم میں اضافہ اور قسط بھی دوگنی ہونا طے پائی۔آج قرض کی رقم دس سے بڑھ کر بیس ہزار ہو چکی تھی اور ملک منظور مہینے کی ہر دو تاریخ کی طرح اس بار بھی اس کے دروازے پر آ دھمکا تھا۔اس نے سختی سے رقم کا تقاضا کیا۔مٹھو نے اسے یقین دلایا کہ وہ بہت جلد اس کے تمام پیسے لوٹانے کے قابل ہو جائے گا۔تھوڑی ردوقد  کے بعد اس کی جان بخشی ہوئی۔ملک منظور سے جان چھڑانے کے بعد وہ اور پرویز بارش سے گرجانے والی گھر کی داہنی دیوار کی اینٹیں ایک جگہ اکٹھی کرتے رہے۔

سورج نکلنے کے بعد مٹھو پیدل ہوٹل کے لئے روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچا تو سب کچھ کل جیسا ہی تھا بس ہوٹل کے سامنے کھڑا ہوجانے والا بارش کا پانی اب کیچڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔دن کے بارہ بج چکے تھے مگر ایم این اے کے قافلے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔سڑک پر ٹریفک معمول کے مطابق تھی۔بڑی چھوٹی گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئیں مسافتوں کو شکست دیتی سڑک پر رواں دواں تھیں۔۔اس کے لئے گاڑیوں کا شور وغوغا ایک معمول کی سرگرمی تھی۔راہ چلتی گاڑیوں میں بیٹھے مسافر کبھی کبھار اس کے پاس چائے وغیرہ پینے کے لئے رکتے تو اس کے لئے باعثِ رحمت ثابت ہوتے۔آج بھی وہ گاڑیوں کے انتظار میں تھا ایک ایسے سیاستدان کے قافلے کی گاڑیاں جن سے ایک اچھے مستقبل اور حسین خوابوں کی تعبیر نے اتر کر اس غریب بے حال کے پاس آنا تھا۔۔

وہ تھوڑی کے بال کھجاتا بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلتا رہا،اور سوچتا رہا کہ وہ حالات کے ہاتھوں پہلے بھی اتنا ہی بے بس تھا جتنا کہ اس وقت ہے۔کیا زندگی کو جینا ایک غریب کے لئے سزا ہے؟اللہ کی بنائی ہوئی اس دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان پایا جانے والا فرق اتنا زیادہ کیوں ہے؟ایک ایسا شخص جو اپنے بیوی بچوں اور خود کو اس زندگی میں کچھ بھی نہیں دے پایا کیا اسے مزید جینے کا حق بھی ہے کہ نہیں؟ سارا دن لوگوں کے جوٹھے برتنوں کو دھونے اور جی جلا کر کام کرنے کے باوجود اُس کی جیب میں محض پچاس روپے ہی کیوں تھے۔ اُس کی محنت میں کوئی کمی تھی یا نیت میں۔ جی جان سے کام کرنے کے باوجود وہ خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو ایک پر آسائش زندگی کیوں نہیں دے پایا۔

وہ اور اس کے بیوی بچے انسان نہیں۔۔محلے کی مسجد کے مولوی صاحب کہتے ہیں اللہ کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں مگر دس سال سے ہوٹل چلانے والا یہ گریب مزدور جیب میں پچاس روپے کا نوٹ دبائے امیروں کی برابری کیسے کر سکتا ہے۔۔ یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابات شائد اس کے پاس بھی نہیں تھے۔ وہ ایک طرف قدرے پر اعتماد بھی تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے الیکشن کے دنوں میں محلے بھر میں چودھری صاحب کے لئے مہم بھی تو چلائی تھی۔ محلے کی کارنر میٹنگ میں چودھری صاحب نے اسے سب کے سامنے گلے بھی لگایا تھا۔ وہ آج اپنے اس مخلص کارکن کے پاس اس کی مشکلات کو حل کرنے یہاں پر ضرور آئیں گے۔اتنا سا کام ان کے لئے کون سا مشکل ہے۔ ہمارے ووٹوں سے ہی تو وہ ایم این اے بنے ہیں،ہمیں کیسے بھول سکتے ہیں وہ۔؟ وہ خود کلامی کے اس طویل عمل میں خدشات اور توقعات کے گہرے سمندر میں غوطہ زن تھا۔سوچ کے اس طویل سفر سے تھک ہار کر اس نے اپنے قدموں کو جنبش دی اور سڑک کنارے آ کھڑا ہوا۔کچھ دیر ادھر ادھر تکنے کے بعد اس نے ایک راہگیر سے دریافت کرنے کی ہمت کرلی۔

”بھائی اپنے ایم این اے صاحب آج شہر آئے ہوئے ہیں آپ کو معلوم ہے کیا؟“
راہگیر نے بے خبری میں سر ہلایا اور منہ ہی منہ بڑبڑایاآئے یا جائے مجھے کیا!

دن کا تسلط تیزی سے ٹوٹ رہا تھا۔شام اپنے پاؤں جمانے کے لئے پر پھیلا رہی تھی۔دن کا پچھلا پہر چل رہا تھا۔مگر اس غریب ہوٹل والے کے عزم اوریقین کے نہاں خانوں میں ابھی بھی کچھ روشنی باقی تھی۔اس کی سوچ کا دن کے تغیر اور ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔اسے ابھی بھی یقین تھا کہ چودھری صاحب کسی کے ساتھ غلط بیانی نہیں کر سکتے۔۔وہ آج یہاں ضرور آئیں گے۔ سوچ کا یہ دھارا طلاطم میں تھا کہ اسے سڑک کے دائیں جانب سے چند گاڑیوں کا ایک قافلہ سا اس طرف کو آتے ہوئے محسوس ہوا۔اس کے دل کی  دھڑکن بے ترتیب ہوئی چہرے پر ایک پھیکی سی چمک جگی اور وہ سڑک سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔۔اسے یقین ہو گیا کہ دلاور ایم این اے صاحب کو اُسی کی طرف ہی لا رہا ہے۔اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔میں نہیں کہتا تھا کہ دلاور اس کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتا۔اس نے ایک تنقیدی نگاہ خود پر ڈالی ا ور دونوں ہاتھوں سے اپنی میلی کچیلی قمیص کی سلوٹیں درست کیں۔ ہاتھوں سے کنگھی کی اور اپنی پھٹی ہوئی چپل کے دونوں پاؤں کی گرد کو پتلون سے رگڑ کر باری باری جھاڑا۔گاڑیاں قریب دکھائی  دی تو اس نے غیر ارادی طور پر اپنا دایاں ہاتھ فضاء میں بلند کیا اور نعرہ لگانا ہی چاہا چودھری صاحب۔۔۔!!سب سے آگے والی گاڑی  کا بڑا سا ٹا ئر ہوٹل  کے سامنے موجود کیچڑ والے گڑھے میں گھوما اور کیچڑ کا ایک بڑا سا گولا ساکت کھڑے مٹھو کے منہ پر جا پڑا۔ کیچڑ کے چھینٹوں نے اس کے گدلے اور بے وقعت سے وجود کو مزید گدلا کر دیا۔گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئیں آگے بڑھ گئیں مگر مٹھو اور اس کا برباد ہوٹل بے بسی کی تصویر بنے وہیں موجود رہے۔

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *