یورپ جہاں زندگی آزاد ہے۔۔میاں ضیا الحق/ حصہ سوم

یورپ میں آمد اور پہلی رات کو روم شہر کی سیر سے واضح ہوچکا تھا کہ یہاں دسمبر میں آنا کسی اور خطے کے باسیوں کے لئے تو شاید اچھا فیصلہ ہو لیکن 14 سال سے دبئی کے گرم موسم سے شناسا  میاں کے لئے اچھا خاصا سرپرائز تھا۔ اوپر نیچے ڈبل کپڑے اور جیکٹ پہن کر بھی لگ رہا تھا جیسے فریزر کے اندر بیٹھے ہیں۔ پہلی رات ہوٹل کے گرم کمرے نے وہی سکون دیا جو دسمبر پر لکھے گئے شعروں میں بتایا جاتا ہے۔
ٹورسٹس کے لئےخاص ایڈوائز یہ ہے کہ کوئی بھی ہوٹل بک کرتے وقت فری ناشتہ والے ہوٹلز کو ہی سیلیکٹ کریں ۔ اس سے ایک تو آپ اگلے دن جلدی اٹھ سکیں گے کہ ناشتے کا وقت نو بجے تک ہی ہوتا ہے دوسرا یہ کہ باہر سے ناشتہ ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہیں ہوتا۔ صبح فری کا ناشتہ بوفے ہوتا ہے اور کھایا بھی دبا کر جاتا ہے کہ لنچ معلوم نہیں کیسا ملے یا کب ملے۔
ہوٹل کی لوکیشن ایسی تھی کہ یہ ائیرپورٹ اور روم شہر کے درمیاں میں واقع تھا اور اگر اس ہوٹل سے روم شہر جائیں تو ویٹیکن راستے میں پڑتا تھا اس لئے طے کیا کہ پہلے ویٹیکن پھر روم کا کلوسیم اور دیگر تاریخی مقامات کی سیر کی جائے۔

ویٹیکن کا مختصر تعارف:
ویٹیکن تقریبا ًً 2 مربع میل یا سو ایکڑ پر مشتمل دنیا کا سب سے چھوٹا خودمختار ملک ہے جس کو دنیا تسلیم بھی کرتی ہے۔ یہ کیتھولک عیسائیت چرچ کا مذہبی مرکز ہے یعنی پوری دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کیتھولک عیسائیوں کا “مثال کے طور پر” مکہ مدینہ ہے۔ جس کا انتظام پوپ کی سربراہی میں مونارچی کے پاس ہے۔
اس کی آبادی 1000 کے آس پاس ہے جس میں  اتفاق سے ہی کمی بیشی ہوتی ہو۔ اس ملک کی شہریت یہاں نوکری سے منسلک ہے یعنی آپ کی نوکری گئی تو آپ کی شہریت بھی کینسل اور فوراً آٹومیٹک طریقے سے آپ اٹالین شہری بن جائیں گے۔ چونکہ پوپ کو شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے اس لئے وراثتی حکمرانی کا تصور ہی نہیں ہے۔ پوپ کے مرنے کے بعد نئے پوپ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس وقت ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ پوپ فرانسس ویٹیکن کے حکمران ہیں اور پناہ گزینوں کے لئے خاص طور ہر نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کے پاوں چومنے پر خاص جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ امن پسندی اور نرم گوئی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ یہ پہلے غیر یورپی پوپ ہیں جن کو اس منصب کی سربراہی سونپی گئی ہے۔
ویٹیکن میں پولیس یا فوج نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظتی ذمہ داریاں جس دستے کے پاس ہیں ان کو سوس گارڈز کہا جاتا ہے. خوش رنگ یونیفارم میں ملبوس پورے 135 سوس گارڈز ہیں اور ٹورسٹس ان کے نزدیک سیلفیاں لے کر اپنی حفاظت کروا رہے تھے۔ یہ ویٹیکن کے مختلف علاقوں میں مارچ کرتے نظر آتے ہیں جن کا کام پوپ کی حفاظت اور امن و امان قائم رکھنا ہے۔ یہاں ہونے والے خطرناک جرائم میں سرفہرست جیب تراشی۔ دکان سے چیز اٹھا کر بھاگنا شامل ہے۔ 2017 کے پورے سال میں پورے 1300 کیسز رجسٹر ہوئے اور اس طرح یہاں کا کرائم ریٹ 130 فیصد ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔
یہاں کوئی جیل نہیں ہے اس لئے روم شہر کی جیل استعمال کی جاتی ہے۔ شادی کرسچین اصولوں پر ہوتی ہے لیکن طلاق کا کوئی قانون نہیں ہے۔
ویٹیکن کا ذریعہ آمدن ٹورسٹ ٹکٹس، ڈاک کی ٹکٹ اور رسالے اور میگزینز پر مشتمل ہے اس کے علاوہ ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ ان کی معاشی مدد کرتے ہیں۔
روم شہر نے ویٹیکن کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے یعنی ویٹیکن از سینڈوچ  اور صرف ایک سفید لائین کراس کرکے آپ ویٹیکن میں ویزہ اور ٹکٹ فری داخل ہوسکتے ہیں۔
ٹیکسی والے نے روم کی آخری حد پر چھوڑا تو تقریبا ً 50 میٹر بعد ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز سکوئیر کا داخلی راستہ نظر آیا۔ یہ لمبے ستونوں سے گھرا ہوا ایک بڑا میدان تھا جس میں ٹورسٹس کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔
ویٹیکن کو ایک عیسائی روح پرور شہر سمجھ کر یہاں داخل ہوا تو اردگرد کے ماحول سے ایسا سمجھنا تقریبا ًناممکن ہوگیا۔ تقریبا ًسبھی ٹورسٹس اسی لباس میں تھے جس میں پکنک پر آیا جاتا ہے فوراً اندازہ ہوگیا کہ مذہب کو صرف ایشینز ہی سیریس لیتے ہیں ورنہ میں تو ارادہ کرکے آیا تھا کہ یہاں سے بھی فیض و برکات ساتھ لے کرجاوں گا بالکل ایسے ہی جیسے نیپال میں ایک ہندو سادھو سے وصول کی تھیں۔
سورج نکلنے کے باوجود 2 سینٹی گریڈ ٹمپریچر نے جینا محال کررکھا تھا ۔ پس ثابت ہوا کہ سردی اور غیرت محسوس کرنے پر زیادہ اثر کرتی ہے۔
حسب ضرورت کچھ ٹورسٹس سے فوٹوز بنوائیں اور اس سکوئیر کا تفصیلی دورہ شروع کیا۔ چرچ اور میوزیم میں داخلے کی ٹکٹ ہے اور اس ریاست کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ۔ٹکٹ خریدنے سے زیادہ مشکل کام 2 گھنٹے لائین میں لگ کر اندر داخل ہونا تھا کیونکہ ایک وقت میں لوگوں کی ایک محدود تعداد کو ہی اندر داخل ہونے دیا جا رہا تھا۔ یہ ایک تاریخی چرچ تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے اندر جانے پروگرام کینسل کرکے ویٹیکن شہر کا دورہ کرنا زیادہ ضروری سمجھا۔ اس سکوئیر کے مشرقی سمت ایک پر رونق راستہ تھا جو کہ اس شہر کے باقی علاقوں کی طرف لے جاسکتا تھا۔ پرانی طرز کے رومن سٹائل گھر اور ان کے باہر کھڑی اکا دکا گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان میں لوگ بھی رہتے ہیں۔ نہ کوئی سپر مارکیٹ نظر آئی نہ دودھ دہی کی دکان۔ فٹ ہاتھ پر بنے ایک سوئنییر کیوسک پر ایک سکھ متر سے گپ شپ ہوئی تو اس نے بتایا دو سال سے ادھر ہی ہے۔
یہاں صرف ایک بنک ہے ویٹیکن بنک جہاں تمام ریاست اور عوام مل جل کر بجلی کے بل جمع کرواتے ہیں۔ ڈاکخانہ اور پاسپورٹ آفس کی سہولت بھی موجود ہے۔ چند ایک گلیوں میں قدم رکھا تو محسوس ہوا کہ صرف میاں ہی ان گلیوں میں پھر رہا ہے باقی نہ  کوئی بندہ نہ بندے کی ذات۔ واپس چرچ پر جانے کی ٹھانی تو درمیان میں ایک پانی کا چھوٹا فوارہ نظر آیا جس پر لکھا تھا کہ اس پانی کو پی بھی سکتے ہیں۔ روحانی فیض و برکت کی طلب میں جی بھر کر پانی پیا اور کچھ ساتھ بھی لے لیا کہ ویٹیکن کی نشانی ہے۔ نہ مجھے کچھ ہوا نہ  ہی فوارے کو 🙂

نیرو اور ویٹیکن:
ویٹیکن کا نام دراصل ایک ویٹیکن پہاڑی کے نام پر رکھا گیا ہے جو یہاں واقع تھی۔ اس پر اب سینٹ پیٹرز بیسیلیکا یا چرچ قائم ہے اس کی بھی ایک الگ سٹوری ہے۔ 64 ء میں عیسائیت اپنے عروج پر تھی اور عوامی مقبولیت کے ساتھ ساتھ حکومتی امور میں بھی مداخلت کا سبب بن رہی تھی۔ یہ 16 سال کی عمر میں بادشاہ بننے والے رومن شہنشاہ نیرو کا دور تھا۔ نیرو فنون لطیفہ شعر و شاعری اور موسیقی کا بھی شوقین تھا۔ نیرو کو محسوس ہوا کہ عیسائیت بہت جلد اس کے تخت پر بھی غلبہ پا لے گی۔ زیادہ تر روایات کے مطابق اسی خوف میں مبتلا نیرو نے ایک بھیانک پلان بنایا اور اپنے وفادار سپاہیوں کے ذریعے 19 جولائی 64 ء کو رات کے وقت چپکے سے پورے روم شہر کو آگ لگا دی جس کو اب بھی دنیا گریٹ فائیر آف روم کے نام سے یاد کرتی ہے۔ کچھ روایات کے مطابق اس آگ کا سبب نیرو اپنے نئے محل کے لئے جگہ خالی کروانا تھا جو بعد میں اس نے بنا بھی لیا۔ نیرو ذاتی طور پر ایک سفاک نوجوان تھا جس نے اپنی ماں Agrippina کو بھی قتل کیا اور اپنے استاد اور فلاسفر Seneca کو خودکشی پر مجبور کیا۔
میکسمس سرکس کے نزدیک تاجروں کے غلوں سے شروع ہونے والی یہ آگ ہوا کی تیزی کے باعث 9 دن تک روم شہر کو جلاتی رہی۔ 60 ہزار عمارتیں جل کر راکھ ہو گئیں جو کہ کل شہر کا 90 فیصد بنتی ہیں۔ اس وقت روم شہر کی آبادی دس لاکھ تھی۔ عمدہ رومن ٹاون پلاننگ کی وجہ سے عوام محفوظ مقامات کی طرف نکلنے میں کامیاب ہوگئی لیکن لکڑی سے بنے مکانات تباہ ہوگئے۔اس حادثے میں صرف 6 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حادثے کے وقت 26 سالہ نیرو 35 میل دور ایٹیم شہر میں تھا اور آگ لگنے کے دوران بانسری سے “ٹرائے کی بربادی” والا میوزک بجا رہا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق نیرو کی مخالفت میں یہ بات اس سے منسلک کی گئی ہے کیونکہ بانسری 11 صدی عیسوی میں بطور میوزک آلہ استعمال ہونی شروع ہوئی۔
رومن لوگ دنیا کے پہلے لوگ تھے جنہوں نے جمہوریت متعارف کروائی۔ 509 قبل مسیح میں رومن ریپبلک کی بنیاد پڑی جس میں ایک سینیٹ ہوتا تھا اور سینیٹرز ملکی معاملات ایسے ہی چلاتے تھے جیسے آج کل لیکن زیادہ بااختیار طریقے سے۔

روایات کے مطابق اس حادثہ کی تحقیقات کے لئے بھی انہی سینیٹرز پر مشتمل ایک جے آئی ٹی بنائی گئی تھی جس کے رہتی دنیا تک یادگار رہنے والے اسی طرح کے اعلامیےکے مطابق اس وقت نیرو روم شہر سے 35 میل دور اٹیم شہر میں تھا اور فوراً روم شہر پہنچا تاکہ متاثرین کو امداد دی جاسکے اور پس ثابت ہوا کہ نیرو بےقصور ہے۔
حالات و واقعات نیرو کو اس آگ سے بری الذمہ قرار نہیں دے پائے اور اب تک کچھ شک رکھ کر اسی کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
اس کے بعد نیرو نے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری میں بھرپور مدد کی لیکن روم شہر کے وسطی حصے کو اپنے نئے محل کے لئے منتخب کرلیا جہاں 300 ایکڑ پر مشتمل اس کا گولڈن ہاوس یا Domus Aurea بنایا گیا جو پہلے عام شہریوں کی رہائش گاہ تھا۔
دوسرا اہم کام جو نیرو نے کیا وہ عیسائی لوگوں کو اس آگ کا ذمہ دار قرار دے کر زندہ جلانے اور خونخوار درندوں کے آگے ڈالنے کا تھا۔ نیرو نے اس وقت کے تقریبا ًتمام معلوم عیسائیوں کو زندہ جلا ڈالا۔ سینٹ پیٹرز اس وقت عیسائیت کا سربراہ تھا جس کو ہلاک کرکے اسی ویٹیکن پہاڑی پر ہزاروں عیسائیوں سمیت دفنا دیا گیا۔ بعد میں اس پہاڑی پر اسی سینٹ پیٹرز کے نام ہر چرچ بنایا گیا جس کے نیچے نیرو کے ظلم کے شکار عیسائیوں کی قبریں اب بھی موجود ہیں۔
نیرو کا اقتدار مزید 4 سال چل سکا اور بغاوت کے باعث اس کو محل چھوڑ کر ایک گھر میں پناہ لینی پڑی اس کی غیر موجودگی نے سینیٹ نے اس کو عوام دشمن قرار دے کر موت کی سزا تجویز کی۔ چونکہ نیرو جولین کلیڈیس فیملی کا آخری بادشاہ تھا اس لئے سینٹ کے کچھ ممبران خاندانی انسیت کے سبب اس کو بچانے کی کوشش میں لگے تھے۔ بالآخر مخبری پر سپاہی اس کے گھر پہنچ گئے نیرو ان کے آنے سے پہلے ہی خودکشی کرنے کا پلان بنا چکا تھا۔ اپنی جان لینے پر ناکامی کے بعد اپنے گارڈ سے یہ کام سرانجام دلوایا اور 9 جون 68ء کو تیس سالہ نیرو ہنگامہ خیز زندگی گزار کر دنیا چھوڑ گیا۔

یہ تو تھا نیرو اور اس کا برننگ روم۔ اب دوپہر 12 بجے تک کوئی مذہبی سرگرمی نظر آئی نہ ہی کوئی عیسائی پادری اپنے مریدین کے ہمراہ یہاں ڈیرے ڈالے نظر آیا۔ کافی کوشش کی کہ کوئی تو عبادت گزار نظر آئے جو اپنے رب سے گڑگڑا کر اپنے گناہ معاف کروا رہا ہو یا اپنے رب اور اس کے پیروکاروں کی ترغیبات عام کرریا ہو لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہر کوئی ہنستا مسکراتا اپنی زندگی جیتا اٹھکھیلیاں کرتا مگن تھا۔ ان عیسائیوں کو بھی آخرت کی بالکل فکر نہیں۔
ویٹیکن جیسے پررونق ملک نما محلے میں گھومنے پھرنے کے بعد اب روم شہر جانے کا وقت ہوا تاکہ رات گئے تک جو ممکن ہوسکے دیکھ لوں کہ کل صبح 9 بجے پیرس کی فلائیٹ ہے۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *