برطانیہ اور پاکستان کا ریلوے۔۔سہیل احمد لون

بچوں کی گرمیوں کی چھٹیوں کا آخری ہفتہ تھا اور لندن کا موسم بھی واقعی گرم تھا ۔ بچوں کی فرمائش تھی کہ کہیں سیر کے لیے جانا ہے ، سمندر کے کنارے، سفاری پارک، چڑیا گھر، میوزم، چلڈرن پارک وغیرہ تودیکھ چکے تھے اس بار کسی نئی جگہ کا انتخاب کرنا تھا۔ گوگل پر بچوں نے اپنی پسند کی ایک جگہ ڈھونڈ کر مجھے بتا دی۔سرے کاؤنٹی میں Thames Ditton Miniature Railwayدیکھنے کا پروگرام بنا ۔ یہ وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ریلوے کا نیٹ ورک تھا سکولوں کی چھٹیوں اور اچھے( یعنی سورج والے )موسم کی وجہ سے وہاں کافی رش تھا۔ریلوے سٹیشن کسی بڑے جنکشن کی طرح ٹکٹ گھر کے سامنے لمبی قطار تھی اور لوگ بڑے نظم و ضبط سے اپنی باری پر ٹکٹیں لے رہے تھے۔ وہاں ایک ریسٹورنٹ بھی تھا ایک مخصوص حصے میں بار بی کیو کرنے کا انتظام بھی موجود تھا اور لوگ اپنے اپنے سٹائل میں پکنک منا رہے تھے۔وہاں دو قسم کے ریلوے ٹریک تھے ایک زمین سے تقریباً بیس فٹ کی بلندی پر تھا جسے Elevated Railwayاور دوسرا زمین پر تھا جس کا نامGround Railway تھا۔ ٹرین کی پٹریوں کا سائز حیران کن حد تک چھوٹا تھا پٹری کی دونوں لائنوں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ تھا اور لائنوں کی چوڑائی بھی تین انچ سے زیادہ نہ تھی۔ تین تین انچ کی دو لائینوں پر مسافروں سے بھری ریل گاڑیاں بڑی سبک رفتاری سے دوڑ رہیں تھیں۔ کوئلے سے چلنے والے انجن(Steam Engine)،بجلی سے چلنے والے (Electric Engine)جو بیٹری سے چلتے ہیں، اور تیل سے چلنے والے (Diesel Engine)وہاں پر اپنے پیچھے لگی بوگیوں کو کھینچ کر فراٹے بھر رہے تھے۔ ہر انجن کے پیچھے تین سے چار بوگیاں تھیں اور ہر بوگی میں چار سے پانچ مسافر بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ڈرائیور انجن پر اکیلا بیٹھتا تھا جبکہ گارڈ گاڑی کی آخری بوگی کی آخری سیٹ پر جھنڈی اور سیٹی پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے زندگی میں اتنے چھوٹے سائز کی ٹرین نہیں دیکھی تھی اور اس پر سفر کرکے یہ بات تو سمجھ میں آگئی کہ ریل کے موجد گورے ایسے ہی نہیں بنے۔

ٹرین کے ایک ڈرائیورڈیوڈ مورگن سے میری بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ گزشتہ پنتیس برس سے یہاں کام کر رہا ہے اور وہ تینوں قسم کے انجنوں کو یکساں مہارت کے ساتھ چلا سکتا ہے۔ وہاں پر ایک ورکشاپ بھی تھی جس کا طرز بناوٹ لاہور میں واقع مغلپورہ ریلوے ورکشاپ جیسا ہی تھا۔ 1944ء سے Malden and Distric Society of Model Engineering Ltdریلوے ورکشاپ اور ریل سروس کام کر رہی ہے ۔ٹرین سرنگ سے بھی گزرتی ہے اور اونچے پل سے بھی۔ ورکشاپ میں مکینک اور انجینئر انجنوں اور گاڑی کے ڈبوں کی مرمت کرنے میں مصروف تھے۔کانٹا بدلنے والے اور سگنل سرخ سبز کرنے والے اپنی ڈیوٹی نبھارہے تھے ۔چھوٹا سا ماڈل نما ریلوے کا نیٹ ورک قیام پاکستان سے پہلے بنایا گیا تھا اور آج تک منافع کے ساتھ چل رہا ہے ۔ پاکستان بنا تو ہمارے حصے میں ایشاء کی سب سے بڑی ریلوے کی ورکشاپ آئی جو مغلپورہ لاہور میں ہے لنڈی کوتل سے کراچی تک ریلوے کا ٹریک بچھا ہوا تھا ۔15ستمبر 1830ء کو پہلی مال بردار اور مسافر گاڑی مانچسٹر سے لیور پول روانہ ہوئی۔اگلی دو دہائیوں میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں ریلوے کا نظام متعارف ہو گیا تھا۔16اپریل1852ء کو پہلی ٹرین 400مسافروں کو لیکر بمبئی سے تھانہ روانہ ہوئی جسے تین بھاپ والے انجن کھینچ رہے تھی برصغیر کی اس پہلی ٹرین کو اس وقت سات توپوں کی سلامی دی گئی۔1947ء کو قیام پاکستان کے وقت تقریباً 8122میل ریلوے لائن پاکستان کے حصے میں آیا اور ایشیا کی بہترین ریلوے ورکشاپ بھی۔ریل ہر دور میں بچوں ، بوڑھوں اور بڑوں کی ہر دلعزیز سواری رہی ہے ۔

tripako tours pakistan

 ایک زمانہ تھا جب بچے کھیل کود میں بھی ریک گاڑی بن کر چھک بم چھک بم کرتے ہوئے کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔ جیسے جیسے پاکستان ریلوے پر زوال آتا گیا بچوں نے بھی اس کھیل کو خیر باد کہنا شروع کر دیا۔پاکستان بننے کے بعد کوٹ ادو سے کشمور تک ریلوے لائن بچھائی گئی اور ملتان سے لودھراں کا ٹریک ڈبل کیا گیا۔مگر حقیقی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آج بھی پاکستان ریلوے کے پاس انگریزوں کے بچھائے ہوئے ریلوے ٹریک سے زیادہ ریلوے لائن کام کرنے کی حالت میں نہیں۔برطانیہ نے فرانس تک جانے کے لیے زیر سمندر سرنگ بنا کر پچاس کلو میٹر لمبی Channel Tunnelبنا دی ہے ۔ جاپان Seikam Tunnelکے نام سے زیر سمندر سرنگ بنا کر ٹرین سروس چلا رہا ہے جبکہ پاکستان میں ہر حکومت اپنے ریلوے میں ’’سرنگ ‘‘لگا دیتی ہے۔

سوئٹزلینڈ پہاڑوں کی چوٹیوں پر ٹرین سروس دے کر سیاحوں کو کھینچ رہا ہے۔ کئی ممالک میں جہاز کی رفتار سے چلنے والی بلٹ ٹرین بھی چل رہی ہیں ۔ ویسے بلٹ ٹرین کا وعدہ میاں صاحب نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا اور ملک کی بد قسمتی دیکھیں کہ ریلوے کا وزیر اسے بنایا گیا جسے اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ بلٹ ٹرین کیا ہوتی ہے اور اس کے لیے کس قسم کا مخصوص ریلوے ٹریک درکار ہوتا ہے۔جس شخص کو ریلوے میں بیٹھنے کیلئے ٹکٹ خریدنے کے باوجود سرکاری اجازت کی ضرورت ہے اُسے آپ نے ریلوے کا منسٹر بنا دیا ہے ۔ میاں صاحب نے یہی سوچا ہو گا کہ نوجوان ایم ۔ اے ۔ او کالج کے دور میں ویگنوں سے جگا ٹیکس لے کر مال بنانے میں مہارت رکھتا ہے سو ریلوے میں اس سے زیادہ بہتر آدمی تو مل ہی نہیں سکتا اور وہ شیر کا بچہ بھی ہر سال منافع دکھا دکھا کر ریلوے کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔خواجہ سعد رفیق بارے میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ اچھا سیاسی ورکر ہے لیکن ریلوے چلانے کیلئے جو مخصوص ’’عقل‘‘ درکار ہے وہ اِس سے عاری ہے اور اِس کی زندہ مثال تو حال ہی میں چائنہ سے درآمد شدہ انجنوں کی حالتِ زار ہی ہے ۔ریلوے پاکستان ہمارا وہ ادارہ تھا جسے تقسیم کے بعد ہم آسمان کی بلندیوں تک پہنچا سکتے تھے اور یہ نیٹ ورک سارے ساؤتھ ایشیا تک با آسانی پہنچ سکتا تھا لیکن ہمیں ریلوے سے زیادہ پیار اُس کے گرد و نواح کی زمینوں اور دوسرے بہت سے منافع بخش ذاتی کاموں سے ہے ،سومیں نہیں سمجھتا کہ موجود ہ حکومت کبھی بھی ریلوے کو بہتر بنا سکے ۔ اورنج ٹرین آپ کے سامنے ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آئی جی کی موجودگی میں آئی جی جیل خانہ جات بھی ہوتا ہے حالانکہ اس کام کو ایک ہی آئی جی بخوبی چلا سکتا ہے لیکن پھر میں سوچتا ہوں جو آئی جی اپنی پولیس درست نہیں کرسکتا اُس پر اضافی بوجھ اُس کی بُری کارکردگی کومزید بُرا کردے گا ۔ اورنج ٹرین کیلئے بھی الگ سے ملازمین کی ایک فوج بلکہ ایک محکمہ بنانا پڑے گا جبکہ اسے بھی ریلوے کے ماتحت ہونا چاہیے لیکن منافع کمانے کے ماہر ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔برطانیہ میں آج بھی ماضی مرحوم کے انجن اپنی پوری آب و تاب سے رواں دواں ہیں لیکن اپنے جدید عہد کے زندہ و سلامت ریلوے انجن آئے روز کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔کبھی گاڑیاں لوگوں کے گھروں میں گھس جاتی ہیں توکبھی نہروں میں اتر جاتی ہیں اوریہ سب کچھ بھی اس لیے ہے کہ اس میں عام آدمی نے سفر کرنا ہوتاہے ورنہ نون لیگی قائدین کی جتنی زبان چلتی ہے اگر اتنا دماغ چلے تو ریلوے بہتر ہوسکتا ہے ۔ منی ایچر کسی بڑی شے کے چھوٹے ماڈل کو کہتے ہیں ٗ سرے کاونٹی کا چھوٹا سا ریلوے ہمارے بڑے ریلوے اسٹیشن سے بہرحال بہت بہتر ہے۔

Advertisements
merkit.pk

سہیل لون برطانیہ میں مقیم صحافی اور کالم نویس ہیں

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply