ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات۔۔۔۔محمد کمیل اسدی

گارے مٹی میں لتھڑے ہوئے مزدور یا لکڑی لوہے کا کام کرنے والوں یا بوجھ اٹھانے والے مزدوروں کی بات تو سب کرتے ہیں اور ہم بھی اس بات کے انکاری نہیں بلکہ ان کے حقوق کے لئے ہم آواز ہیں۔ لیکن کچھ مزدور ایسے بھی ہیں جن پر بات کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا یا عموماََ نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
پرائیویٹ کمپنیز میں ایک عام ورکر سے لیکر انجینئر مینیجر تک سب کا شمار مزدورں میں کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق وہ آٹھ گھنٹہ نوکری کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ مختلف کمپنیز میں تو باقاعدہ سافٹ وئیرز ، ایپلیکیشنز یا ہارڈ کاپی میں دستخط اور رضامندی لی جاتی ہے کہ ہم اس کمپنی میں لیبرآورز کے مطابق ہی کام کررہے ہیں۔ کمپنیز ایسا صرف اور صرف اپنی سیفٹی کے لئے کرتی ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
پاکستان میں پرائیویٹ کمپنیز بالخصوص چائینزٹیلی کام کمپنیز اور ان کے ماتحت کام کرنے والی سبکون (سب کمپنیز) نے لیبر لاز کی دھجیاں اڑا رکھی ہیں۔ ورکرز سے آٹھ گھنٹہ کی بجائے روزانہ 12 ، 14 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ اکثر کمپنیز میں اوور ٹائم کا بھی کوئی رواج نہیں۔ کچھ کمپنیز میں اگر اوور ٹائم دیا بھی جاتا ہے تو 200، 300 اوور ٹائم کرنے کے بعد صرف چند گھنٹے کلیم کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اگر زیادہ شد و مد کی جائے تو ٹکا سا جواب دیا جاتا ہے کہ اس سے اچھی کمپنی نظر آتی ہے تو وہاں کی راہ پکڑیں۔
ہفتہ و اتوار ورکر انجینئر اور مینجر وغیرہ کے لئے کوئی نا کوئی کام نکالنا واجب سمجھا جاتا ہے اور سب سے زیادہ نامعقول بات یہ ہے کہ ان چھٹیوں کے متبادل کوئی چھٹی بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی  اوور ٹائم کی مد میں کوئی خطیر رقم دی جاتی ہے۔
کہاں یورپ و امریکہ کے فسانے کہ کمپنیز اپنے ملازمین کو جبراََ سالانہ چھٹیاں مختلف مراعات کے ساتھ عنایت کرتی ہیں تاکہ ان کے ملازمین فریش ذہن کے ساتھ کمپنی کی بہتری کے لئے عمدہ طریقے سے کام کرسکیں اور کہاں ہمارے دیس کی حقیقت کہ جہاں ہفتہ اتوار بھی فیملی کے ساتھ گذارنے کی بجائے کسی لق و دق صحرا ،جنگل یا جناتی ٹھکانوں پر بغیر کسی نفع کے تاریں سیدھی کرنے میں گزارا جائے۔
ٹیلی کام سیکٹر میں سب  لوگوں  کے حالات کچھ زیادہ ہی  دگرگوں ہیں۔ اکثر کمپنیز میں 3 سے 5 ماہ تک کی تنخواہوں کو ترسا جا رہا ہے۔ ہم جدید دنیا کےلیبر قوانین کی بھی پیروی نہیں کررہے اور نہ ہی اسلام کے قوانین کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دی جائے پر عمل پیرا ہیں۔
سب سے پہلے تو میری ان سبکون کے اوونزز سے درخواست ہے کہ رمضان شریف میں ہزاروں رکعت اور کروڑوں کا صدقہ خیرات کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی کمپنیز کے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھیں اور انکی تنخواہیں وقت پر دینے کی ریت ڈالیں۔
دوسری درخواست حکومت وقت سے ہے کہ لیبر لاز کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ یہ صرف چند باتیں تھیں ورنہ اندر کی کہانیاں بہت طویل ہیں آغاز کیا جائے کوئی مثبت قدم اٹھایا جائے تو مزید پہلوؤں پر بھی تفصیلی بات ہو سکتی ہے۔

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *