بسلسلہ چوپائے یا مردے سے وطی ۔۔۔ معاذ بن محمود

مرد مومن مرد حق کے سیاسی افق پر ظہور سے پہلے پاکستانی معاشرہ مذہبی اطوار میں نسبتاً لچکدار سمجھا جاتا تھا۔ بیشک مذہب کے بنیادی خطوط پر تشکیک پیدا کرنے والے کو گھر تک چھوڑ کر آنا بھی اسی قوم کا طرہ امتیاز رہا ہے جس کی واضح مثال دور حق سے پہلے قادیانیوں کا اسلام کے دائرے سے دخول تھا، تاہم معاشرے کے بنیادی اطوار میں ڈرامائی تغیر کا سہرا آم کی تاب نہ لا کر شہید ہونے والے مرد حق الواحد کے سر ہی جاتا ہے۔ ان سے پہلے یہی معاشرہ قدرے لبرل راہ پر گامزن کسی مذہبی اثر کے ردعمل کی بجائے طبیعت سے آزاد منش اور روایتی مذہبی قدامت پسندی سے قدرے آزاد تھا۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ دورِ حاضر میں آزاد منش لبرل کے لبرلزم کی جانب سفر کے محرکات کیا ٹھہرے؟ کیا یہ تحریک سخت گیر ملا کے ردعمل کے طور پر پیدا ہوئی یا ملا کے رویے سے قطع نظر ایک آزاد خیال “جیو اور جینے دو” پالیسی پر مبنی رہی؟ یہ سوال اہم ہیں کیونکہ ان کے جواب میں ہمیں کئی مثبت نظریات کے خود ساختہ نمائیندگان کے منفی رویوں کی اصل وجہ نظر آتی ہے۔ ردعمل پر مبنی نفسیات بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ مثال کے طور پر جس مذہبی شدت پسندی کو پکڑ کر آپ آزاد خیالی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں، کیا وہ خود ایک مادر پدر آزاد معاشرے یا اس کے تصور کا ردعمل نہیں؟ ضد کا جواب ضد سے دیتے ہوئے ہر دوسرا فریق پہلے کی جائز نظریات و مطالبات کو بھی رد کر جاتا ہے۔ یہی معاملہ ہمارے ضدی آزاد خیال جنہیں غیر معروف اصطلاح میں “دیسی لبرلز” بھی کہا جاتا ہے، میں آج کل عام ہے۔

چند دن ہوئے کہ فقہ پر مبنی کتب کو لے کر سوشل میڈیا پر اچھا خاصہ ٹھٹھہ شغل جاری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص اظہار آزادی رائے کا مستحق ہے تاہم یہی اتحقاق دوسروں کو بھی حاصل ہے۔ ان معاملات کو لے کر کئی دوست مذہب پر لب کشائی کیا کرتے ہیں۔ خوش گمانی کا تقاضہ یہ سوچ ہے کہ تمام دوست اچھی نیت سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوں گے تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جن کی وجہ تسمیہ مذہب کے ہر دوسرے حکم کی ضد ہے۔ یہ مضمون ایسے ہی دوستوں کی خدمت میں ایک عاجزانہ سی کوشش ہے۔

حال ہی میں در مختار نامی کتاب میں مذکور “چوپائے یا مردے سے وطی” کو لے کر کچھ مختصر تحاریر سامنے آئی ہیں۔ مسئلہ کچھ ایسے بیان ہوا کہ روزے کی حالت میں کوئی شخص چوپائے یا مردے سے جنسی اختلاط کر ڈالے جس کے نتیجے میں انزال بھی نہ ہو تو روزہ ٹوٹے گا یا نہیں۔ بظاہر یہ انتہائی عجیب اور پست قسم کا مسئلہ دکھائی دیتا ہے کہ بھلا کوئی چوپائے یا مردہ انسان کے ساتھ جنسی عمل کیونکر کرے گا۔ یہ بات حقیقت ہے کہ نارمل انسان کے دماغ میں ایسا خیال تو نہیں آسکتا لیکن معاملہ اتنا بلیک اینڈ وائیٹ نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایبنارمل انسان کتنے ہیں یہ آپ آئے دن معصوم پھولوں کے مسلے جانے سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اس قسم کے مسائل ہیں تو عجیب ہی لیکن میرا خیال ہے آج سے چند سو سال پہلے جب نہ میڈیا اتنا عام ہوتا اور نہ فتاوی جات اتنی آسانی سے میسر ہوتے اور جب فارینسکس جدید خطوط پر استوار نہ ہوتیں کہ ایسا مجرم باآسانی پکڑا جائے، اس دور میں ایسے غیر معمولی جرم کے بعد (یا ایک آدھ حج کرنے کے بعد) ایسے مجرمین ہی فقہاء سے رابطہ کرتے ہوں گے۔

یہ جتنی قبیح حرکت ہو، زمانہ جاہلیت میں بیٹی زندہ درگور کرنے سے بدتر نہ ہوگی۔ لوگوں نے وہ احساس ندامت بھی نبی کریم علیہ السلام سے شئیر کیا۔

ہو سکتا ہے اس زمانے میں اس قسم کے مجرم قدرے تواتر سے ملتے ہوں اور کسی بااثر حاجی یا متواتر سائل کی جانب سے پوچھے جانے پر اسے مسئلہ مان کر جواب پیش کر دیا گیا ہو۔ ہو سکتا ہے جنسی عمل کے دوران کسی حاجی صاحب کی اہلیہ کی روح پرواز کر گئی ہو اور حاجی صاحب بعد ازاں اپنی نماز روزے کو لے کر ٹینشن میں آگئے ہوں؟ مطلب ایک مسئلہ ہے جو بہت ہی عجیب و غریب ہے تاہم سامنے آگیا ہے۔ اب اسے کتاب میں نقل کرنا تضحیک کا باعث ہوگیا؟

دوسری جانب ایسے frequently asked questions کی بابت یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایسے سوالات پوچھے جائیں تو کیا اس معاشرے میں بڑے ہوتے نوعمر جوانوں کے لیے ایسے کاموں کو قبیح نہ ماننے کا جواز میسر نہیں ہو گا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ مسئلے کا حل بتاتے ہوئے اس فعل کی قباحت پر بھی بات ہوتی کہ یہ جواز نہ لگتا؟ یہ بات ہمارے فقہاء کو ایسی کتب تحریر کرتے سوچنی چاہئے۔ شاید سوچتے بھی ہوں اور مذکورہ بالا کتاب ایک تخصیص ہو۔

ان سب ممکنات کے باوجود میرا اعتراض جس کا عندیہ تمہید میں دیا گیا، یہی ہے کہ ایسے مسائل چند خاص لوگ ہی، جن کا تاثر مذہب بیزاری عام ہے، کیوں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں؟ مذہب بیزاری کی ترویج کرنی ہے تو مذہب کے اچھے برے ہر حکم پر ایک ایک کر کے بحث ہونی چاہیے۔ کسی قسم کا بغض نکالنا ہو اسی صورت میں صرف منفی زاویے پر منفی تضحیک ہوا کرتی ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہوگیا کہ کسی کو معاذ بن محمود سے کوئی حساب چکتا کرنا ہو اور وہ میرے کسی ذاتی فعل کی بنیاد پر میرے ادارے کو جہاں میں کام کرتا ہوں رگڑنا شروع کر دے۔ نہیں؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *