محبت کا ہُما۔۔۔۔۔ اسماء مغل

جس سمت بھی کروٹ لوں سامنے تم ہی ہوتے ہو۔۔۔اتنے قریب کہ ہاتھ بڑھاؤں اور چھو لوں۔لیکن میں ایسا نہیں کرتی۔۔کہ آنکھیں اجازت نہیں دیتیں۔
جس طرح میری بینائی تمہیں جذب کرتی ہے ہاتھ شاید نہ کرپائیں۔۔لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ جو اپنے لبوں کا ذائقہ تمہاری ہتھیلی کے سپرد کرنے کی خواہش ہے وہ دم توڑ گئی ۔
انتظار تو اس بات کا ہے کہ اس وقت تمہیں چھوؤں  جب تمہارا لمس خود مجھ سے گرمائش چاہے۔

میرا خیال تو تمہاری اس بُکل ،جو تم نے باہر کے شور سے تنگ آکر اپنے اندر ہی مار لی ہے، میں تمہارے ساتھ ایک پہلو میں دُبکا خاموشی سے تمہیں دیکھتا رہتا ہے۔۔تم جو اس وقت آنکھیں بند کیے کسی اور ہی دنیا میں پہنچے خود کلامی میں مصروف ہو۔۔تمہاری یہ خود کلامی میری حسرت کو دو چند کردیتی ہے کہ کاش تم مجھ سے ہمکلام ہوئے ہوتے۔۔۔
جی چاہتا ہے سرد کردوں اس جہنم کو جو دن رات تمہاری سوچوں کو سلگائے رکھتی ہے ۔۔
لیکن کیا کروں تم مجھ سے بے خبر ہی نہیں بے پرواہ بھی ہو۔۔۔۔

سچ بتاؤ۔۔۔۔کیا کبھی میری یاد نہیں آتی؟
کبھی بھی میرا خیال تمہیں یوں اچانک چھو کر نہیں گزرتا کہ تم کتاب بند کرکے چند لمحوں تک خلا میں دیکھتے میری محبت کا کوئی نقش تلاش کرتے رہ جاؤ۔۔اور ناکامی پر یوں مایوس ہوکر دوبارہ سے کتاب کھولو  کہ جیسے قافلے میں پیچھے رہ جانے والا بچہ آخری کہار کے بھی نظر سے اوجھل ہوجانے پر اپنی لالٹین کی لوء ذرا مدھم کرکے وہیں ویرانے میں خیمہ لگا لیتا ہے۔۔۔۔۔میری آواز کہ جب تمہارا نام پکاروں تو لہجہ یوں محسوس ہو جیسے جنگل میں رات کے تیسرے پہر نر اور مادہ گلہری کے میلاپ کے بعد ان کی سانسوں سے درخت کی وہ اوک دہکنے لگے۔۔ وہی آواز کبھی تنہا بیٹھے تمہاری سماعتوں سے نہیں ٹکرائی ؟۔۔۔۔یوں کہ تمہاری خاموشی خود تم ہی سے بولنے کی،مجھے کچھ لفظ دان کرنے کی التجا کرے۔۔۔
تمہارے دائیں کاندھے کے تِل نے میری آنکھ کی پُتلی سے جو راز و نیاز کیے ہیں اُن سے تم خود بھی لاعِلم ہو جانِ آسماں۔۔
جانے تم کِن ناہموار راہوں پر محوِ سفر ہو اِن دِنوں۔۔۔لیکن کل تمہیں دیکھ کر دل چاہا ایک بُکل تم نے اکیلے ہی اپنے گِرد ماری ہے۔۔۔اور ایک بُکل میں ہم دونوں کے گرد مار لوں۔۔کوئی دلخراش سوچ،تلخ لمحہ،بے نام الجھن تمہاری گرد کو بھی نہ پاسکے۔۔۔بس میں ہوں اور میرے پُرحدت جذبوں کا بیان ہو۔تم ہو اور تمہارے پُرفسوں لہجے کا نشان ہو۔۔۔
ہیجان ہو نہ بے کلی۔۔۔۔
بس یہی ہو دنیا اور یہیں ہو دنیا۔۔۔۔۔۔!!!

پریشان،مضمحل،سوچوں اور خیالات سے نالاں۔۔۔ تمہیں ایسے دیکھنا دل کو ہر بار اذیت میں مبتلا کردیتا ہے۔۔میرے اختیار میں ہو تو تمہاری پیشانی پر اپنی انگلیوں کی پوروں سے محبت اور طمانیت کے نغمے تحریر کردوں۔۔خوشی اور ہنسی تمہارے چہار جانب یوں رقصاں ہو جیسے حجلہ عروسی میں بے خودی صبح کے تارے کی روانگی تک دھمال مچاتی ہے۔
اور ہنسی سے یاد آیا تمہاری ہنسی میرے دل کے مندر میں جلنے والا وہ دیا ہے جس کی لوء ایک داسی کبھی مدھم نہیں پڑنے دیتی اور اپنی بھگتی کے تیل سے دیے کی بتّی کو زندہ رکھتی ہے۔
تم تھک گئے ہو تو ۔۔۔آؤ ۔۔ذرا سستا لو۔۔یہاں دھوپ میں ٹھنڈک ہے ,نہ چھاؤں میں تپش۔۔موسم اپنے اصل ذائقے اور رنگت کے ساتھ تمہارے منتظر ہیں۔۔ تمہارے تھکے ماندے قدموں کی دُھول میں اپنی ہتھیلیوں پر سجا لوں گی۔۔۔محبت میرے آنچل سے بندھی تمہارا ہی پتہ پوچھتی ہے۔
جب بھی آواز دو گے اپنا منتظر پاؤ  گے۔۔
میں کہیں بھی رہوں میرے دل کا ایک ٹکڑا ہمیشہ تمہارے سینے میں دھڑکے گا۔۔اور دل میں میرے اس اعتراف کی گونج تمہاری انا کو جوان رکھے گی کہ”مجھے تم سے محبت ہے”۔۔

رات کا تیسرا پہر سحر کا دامن تھامنے کو بے چین ہے۔۔۔تین بج کر تیس منٹ۔۔۔۔کسی گہرے خیال سے نیند ٹوٹی،اور وہ خیال تمہارے علاوہ اور کس کا ہوسکتا ہے۔فون پر وقت دیکھنا چاہا تو تمہارا نام جگمگا رہا تھا۔۔
دھندلائی آنکھوں کو دو تین بار بچوں کی طرح مسلا۔۔۔پیغام پڑھ کر دلِ خوش فہم جتنی تیزی سے محوِ پرواز ہوا۔اُسی سرعت سے اگلے ہی پل تم نے زمین بوس کردیا۔
,تم کب تک ماضی کو یونہی اپنے ساتھ باندھے رہو گے۔۔۔؟
پرندوں کو آزاد کردو۔۔۔۔۔۔اس سے تمہاری زندگی بھی سہل ہوگی اور شاید کسی اور کی بھی۔۔۔

یہ اگلی رات ہے۔۔پہلا پہر دوسرے پہر کے آنگن میں چپکے سے پاؤں  پسار رہا ہے۔۔اور تمہارا خیال میرے گداز سینے پر اپنی تھوڑی پیوست کیے ,پلکیں اٹھائے میری جانب دیکھ رہا ہے۔

تم کچھ بولتے کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔

تمہیں معلوم ہے نا میں جب بولوں گا تو تمہارے سب الفاظ جو تم لکھتی ہو میرے سامنے دست بستہ آن کھڑے ہوں گے۔۔۔
تم نے کسی قدر شرارت سے جواب دیتے ہوئے مسکرا کر میری جانب دیکھنے کا شغل جاری رکھا۔۔

تو تمہارے لیے ہی تو لکھتی ہوں سب۔۔۔

تم نے اس بات کے جواب میں خاموشی سے چند لمحے پکڑ کر میری مٹھی میں بند کردیے ہیں۔

انہیں سنبھال کر رکھوں گی۔۔۔میں نے اپنی نیم بند مٹھی ، جس میں ایک جگنو سبز روشنی اوڑھے جگمگ جگمگ کررہا تھا کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

رات کا نزول جاری رہا۔۔۔ہم دونوں کو چاند محویت سے  تک رہا تھا۔۔۔
مجھے یاد آیا کہ ایک دن میرے محبت بھرے اظہار پر جب تم ہنس پڑے تھے تو میں کتنا روئی تھی۔۔۔۔
میرے گِلے شکوے،تمہاری اٙنا۔۔۔اور خدا کی بے نیازی۔تینوں مل کر کیسی قیامت برپا کرتے ہیں۔۔کوئی کبھی نہیں جان پائے گا۔۔ہاں لیکن وہ جو تم ایسے عیسٰی نفس سے زندگی پائیں گے۔۔اس راز سے ضرور واقف ہوجائیں گے۔۔۔

سوچو ذرا کسی صبح تم آنکھیں کھولو تو تمہارے دل کی سرزمین پر میرے خیال کے نوخیز پودے تناور درخت بن چکے ہوں۔۔۔
پھر جب رات آئے تو انہی درختوں کی جڑیں مزید گہری ہوکر تمہاری روح کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔
درد پھیلتا ہی جائے۔۔۔۔۔مگر یوں کہ جیسے دھیمی آنچ پر رکھا ہو۔۔نہ جلے،نہ اْبلے مگر کڑھتا رہے۔۔۔

سُنو کرب کے رنگ ہوتے تو تمہاری ذات میں میرا رنگ سب سے نمایاں ہونا تھا کہ میں گفتنی کا عذاب سہہ رہی ہوں اور تم ناگفتنی کا۔۔

لیکن تمہاری نظموں نے تمہیں اظہار سکھا دیا ہے۔۔انہیں سُن کر لگتا ہے جیسے میرے ہی خیال کی پُشت سے ٹیک لگا کر لکھی گئی ہوں۔۔میرا ہاتھ تھام کر۔ہماری انگلیوں نے آپس میں جو بھی راز و نیاز کیے وہ تم نے کاغذ کے سپرد کردیے ہوں۔
محبت سا خوش فہم زمانے بھر میں کوئی نہ ہوگا۔۔۔۔مجھے ہی دیکھ لو ۔۔یقین آجائے گا۔۔

یاد رکھنا اب کی بار ملاقات میں ،مَیں کہیں کہیں سے آدھی ادھوری تم میں گُھل جاؤں گی۔۔۔اور خبر رکھنا کہ تمہاری زندگی کا ایک سچ جو تم میرے علاوہ کسی کے سامنے بول نہیں پاؤ گے،وہ میری ہی ذات سے منسوب ہوگا۔۔

موسم آئیں گے اور جائیں گے لیکن مجھ سے وابستہ تمہارا سچ پانچواں موسم بن کر ہمیشہ تمہارے من آنگن میں نیل کنٹھ بنا اٹھکھیلیاں کرتا کبھی کسی سوچ منڈیر پر بیٹھے گا تو کبھی کسی۔۔۔۔۔میری محبت کا یہ ہُما میری آخری سانس تک تمہارے سر پر سایہ فگن رہے گا!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *