داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط1

“ یار آپ کے جاننے والی کوئی  گائنی کی ڈاکٹر ، لیڈی ہیلتھ وزیٹر، مڈ وائف یا دائی ہے جو رازداری کے ساتھ  ابارشن کرتی ہو، مناسب فیس بے شک لیتی ہو لیکن پردہ رکھنے کی گارنٹی ہو ؟۔۔“
خالد شاہ کے سوال پر ماتھا ٹھنکا، اس سے تعلق ایسا تھا کہ صاف انکار ممکن نہ تھا اور اقرار کی صورت  بھی مشکل تھی، تو ڈپلو میٹک جواب ہی مناسب تھا، لمبے وقفے کے بعد کہا، دیکھنا پڑے گا۔

یہ اُس زمانے کا واقعہ ہے جب پنڈی کی مال روڈ واقعی مال روڈ تھی، لاہور جتنی طویل نہ سہی اور درختوں  کی قامت بھی ذرا کم ضرور تھی لیکن بہت پر سکون اور شاندار تھی، کچہری چوک سے شروع ہوتی ، ہلکا سا بل  کھا کے سیدھی ہوتی تو مغرب کو رخ ہوتا، بائیں طرف میس ، سٹیٹ بنک، انٹر کانٹیننٹل ہوٹل، کرکٹ گراؤنڈ  اور پنڈی کلب ، دائیں طرف کالج، میس ، پنج سڑکی چوک کو جاتی سڑک ، چرچ  کے پیچھے سیکرٹیریٹ ، مری روڈ  کے بعد فلیش مین ہوٹل اور صدر بازار، جہاں اس کے متوازی بنک روڈ پر دو سینما تھے ، صدر بازار میں  بنک، شیزان اور سلور گرل ریسٹورینٹ ، دو وائن سٹور،  برطانوی دور کی بنی برآمدہ والی عمارات میں دکانیں  تھیں، دو بک شاپس مشہور تھیں ، کیفے بھی تھے مطلب صدر بازار پنڈی کینٹ کا دل تھا، جہاں کی شام ہر لحاظ  سے شام کلیان ہوتی تھی، سوٹڈ بوٹڈ حضرات اور بنی ٹھنی بیگمات شاپنگ اور سیر کرنے آتے۔۔۔دیگر شوقین بھی بکثرت گھومتے اور جھومتے اسی سڑک پہ بار بار آتے جاتے رہتے۔

خالد مال روڈ کے بڑے ہوٹل میں سپروائزر تھا ،اس سے جان پہچان تو کالج سے تھی، ہمارے شہر میں اس کے والد ریلوے میں اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر تھے۔وہاں سے اس نے بی اے کیا تھا، لیکن ہماری کوئی  دوستی نہیں  تھی، ایک تو وہ بہت ہی دبلا پتلا اور کم شکل تھا۔۔چہرے پر بس ناک تھی وہ بھی کسی گدھ کی چونچ جیسی، دوسرے ہمارا خاندان کا چوہدری گروپ کافی بڑا تھا۔
درجن سے زائد کزن تھے، کالج میں اکٹھے رہتے ،شام کو ایک چائے خانہ پہ  سب بیٹھتے ، چائے کے ساتھ گراموفون  پر ریکارڈ سنتے، ہر کسی کی پسند کے گانے کی باری لگتی، گراؤنڈ میں کھیلنا بھی ساتھ ہوتا ، ہمارے ساتھ دیگر سٹوڈنٹ  کافی محتاط رہتے، خالد نے بی اے کیا اور وہ لوگ پنڈی آ گئے، ہوٹل میں نوکری کی ، یہاں ملاقات بھی اچانک  اور خاص صورت حال میں ہوئی۔۔

خالد کے ہوٹل میں بھی ڈرنک ملتی تھی ، بار بھی تھی، ہمارے چند شرفا دوست آئے ، انکا اصرار تھا وہاں بیٹھنے کا۔۔۔ہم ہوٹل آتے جاتے تھے لیکن بار کے اندر کبھی نہیں  گئے تھے، جھجک تھی، وہاں خالد سے آمنا سامنا ہوا۔۔۔اس نے پہچان لیا، ہماری بطور میزبان عزت بھی محفوظ رہی کہ اس نے بار روم کی وی آئی  پی نشست پہ  ہم سب کو براجمان کیا اور سروس کو بھی سپروائز کرتا رہا، میل ملاقات ہونے لگی ، خالد تو نہ صرف اپنے ہوٹل بلکہ  پورے صدر میں ڈرنکس کا بادشاہ تھا، ہمیں سہولت میسر ہوئی  یوں ہم اسکے دوست، گاہک اور یار بن گئے۔۔

اسکی لیڈی ڈاکٹر والی فرمائش کے دوسرے دن لنچ پہ  ہوٹل کے ڈائیننگ حال میں ملاقات ہوئی ۔۔حال کو فولڈنگ ڈورز سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، آدھے حال میں کسی بڑے افسر کی طرف سے فیملی لنچ تھا۔باقی حال میں بھی کوئی  میز خالی نہ تھی، خالد تیر کی طرح میری طرف آیا، اس نے پوچھا، کام ہو گیا ؟
اس کا چہرہ پریشان تھا، جواب دیا ، کہیں بیٹھ کے تفصیل سے بتاؤں گا، بے صبری سے بولا، بات ہوئی  کسی سے ؟
اثبات میں سر ہلایا، تو وہ بازو پکڑ کے مجھے بار کی طرف لے جاتے سٹاف کو ہدایات دیتا رہا،بار روم میں بیئر کا گلاس پکڑا کے ساتھ چپس کی پلیٹ رکھ کے ، اور انتظار کرنے کا کہتے حال کی طرف چلا گیا،کافی دیر کے بعد جب تین گلاس بیئر پی چکا تو ہانپتا کانپتا، کھانے سے بھری پلیٹ لئے واپس آیا۔۔نکٹائی  ڈھیلی کر کے بیٹھا ، معذرت کی اور کھانے کی پلیٹ میرے سامنے رکھ دی۔۔

اب میں نے سوال پوچھا کہ اس حمل کے باعث تم ہو ؟ جواب کی بجائے اس نے سوالیہ لہجے میں کہا، کیوں ؟
لیڈی ڈاکٹر میری جاننے والی ہے، یہ اس نے کہا ہے کہ لڑکی اور لڑکا دونوں اس کے سامنے بیان دیں کہ یہ ان کی غلطی ہے، وہ رضامندی سے ابارشن کرانے پر راضی ہیں۔
اب اس نے نیا بم گرا دیا ، یہ میری غلطی نہیں  ہے، میں تو دوستی میں یہ نیکی کر رہا ہوں ، کہ فرحی کے گھر والوں کو پتہ نہ چلے اور اس مصیبت سے اس کی جان بھی چھوٹ جائے۔۔۔۔۔
لڑکھڑاتی زبان اور قدرے اونچی آواز میں جب یہ کہا کہ وہ جانے اور اس کے گھر والے ، تم خدائی  خدمت گار !
اُس  نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، پلیٹ اور گلاس سامنے سے ہٹا کے ، میرا ہاتھ تھام کے مجھے اٹھایا۔۔۔
بار مین سے کہا یہ تین گلاس بیئر میرے حساب میں لکھ لینا، بیرے کو ٹپ بھی اپنی جیب سے دی، مجھے تھام کے  سائیڈ ڈور سے پارکنگ میں لے آیا، ہوٹل کے ڈرائیور کو بلانے کا کہہ کے، میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا۔
جیسے تم نے خالی پیٹ بیئر چڑھا لی، اب تم ڈرائیو نہیں  کر سکتے، میں گاڑی پہ  تمہیں گھر چھوڑ کے آؤں گا !
کیونکہ تم میرے دوست ہو، عین اسی طرح فرحی دوست ہے اور میں اس کو ہیلپ کرنا چاہتا ہوں۔۔
کل صبح تمہارے آفس آؤں گا اور تفصیل سے بات کریں گے۔۔۔
مجھے اس کا چہرہ بدلا ہوا سا لگا، مطلب اس پہ  کراہت کی جگہ اتھاہ شفقت اور شرافت نظر آئی ۔۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *