پہلا لفافہ۔۔۔۔مشتاق خان

امید ہے کہ” لفافہ” کیا ہوتا ہے اس مضمون میں کچھ کچھ سمجھ آجائے  گا انشاللہ ۔
سٹاک ایکسچینج کا اس بری طرح گرنا ڈالر کی اونچی اُڑان، معیشت کی تباہی اور عوام کو اس بات کا یقین کہ  اب ہار یقینی ہے  اور اس یقینی ہار کو مزید یقینی بناتا  ہمارا میڈیا  ،ایسے  میں اکثریت ان نوجوانوں  کی ہے  جنہوں نے خان صاحب کی جوانی نہیں  دیکھی ،ان بچوں نے عمران خان کے بارے میں صرف کہانیاں سنی ہیں  ،ان کو ایکشن میں نہیں  دیکھا ۔
ہماری تو وہ جوانی کے دن تھے پورا ورلڈ کپ ہم  نے ایک ایک لمحہ دیکھا تھا حتی کہ  تقریباً سارے میچ ہارنے اور ورلڈکپ سے باہر ہو  جانے کے یقین کے باوجود کوئی میچ نہیں  چھوڑا ،دوسری ٹیموں کے حتیٰ کہ  انڈیا کے  بھی تمام میچ     دیکھے تھے ۔
یہ ورلڈ کپ اتنا اہم کیوں تھا اور ہم لوگ کیوں اس کپ کے جیتنے کے لئے مرے جارہے تھے ۔
تو میں آج کے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہو ں کہ  اس وقت کے سب کے سب روحانیت والے بزرگ اس بات پر متفق تھے کہ  اس ورلڈکپ کا جیتنا صرف ایک نشانی ہوگا کہ  عمران خان ہی وہ بندہ ہے  جو آگے چل کر پاکستان کی تقدیر بدل دے گا ۔

مجھے یاد ہے  کہ  امریکہ اور اسرائیل نے ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان یہ ورلڈکپ نہ  جیت سکے ،اس کے لئے ان ممالک نے ہارپ ٹیکنالوجی جو آج سب کو پتا ہے اپنائی   لیکن اس وقت صرف مجھے پتا تھا کیونکہ ایک بزرگ نے مجھے بتایا تھا کہ  امریکہ کے پاس ایک شیطانی ٹیکنالوجی آگئی ہے  جس کے ذریعے وہ قدرتی کاموں میں بھی عمل دخل کرنے لگ گیا ہے  ۔

امریکہ نے اس ورلڈکپ میں ہواؤں کے رخ کو، بارشوں کو کنٹرول کرکے پاکستان کو اس ورلڈ کپ سے باہر کروانے کی بہت کوشش کی لیکن روحانیت کی طاقت سے عمران خان کو مدد ملتی رہی اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا ۔
فائنل میچ میں بھی امریکہ نے اپنی اس ٹیکنالوجی کا بہت استعمال کیا لیکن اکیلا عمران خان امریکہ پر بھاری پڑ گیا مجھے یاد ہے  کہ    پاکستان کی ساری ٹیم دس رنز بھی نہ بنا سکی تھی پھر خان صاحب نے ایک ہاتھ میں الیکٹرک تسبیح اور دوسرے میں بیٹ پکڑ کے جو کھیلنا شروع کیا تو 262 رنز اکیلے ہی بنا ڈالے ۔

اسی طرح باؤلنگ کے وقت بھی جب انگلینڈ وسیم اکرم سمیت سب باؤلرز کی دھنائی کررہا تھا اور تقریباً جیت چکا تھا خان صاحب نے تب بھی تسبیح اور بال تھامی اور اگلے دو  اووروں میں پوری انگلینڈ کی ٹیم آؤٹ ہوچکی تھی ۔
اس میچ کے جیتنے پر جو جشن ہم  نے منایا تھا وہ بھی گواہ ہے کہ  صرف خان صاحب کی تصویریں اور پوسٹرز نظر آرہے تھے پورے مال روڈ پر ۔

آج کے نوجوانوں کو یہ سب بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے  کہ  ان بچوں کا ہماری طرح روحانیت پر یقین نہیں  ہے  ،یہ مسلسل ہار پر نا امید ہوکر پھر سے نواز شریف یا زرداری کی طرف راغب ہوسکتے ہیں  جبکہ روحانیت کی خاص بات ہی یہ ہے کہ  یہ مایوسی ،نا امیدی ،ناممکنات کی انتہاؤں پر جاکر کرامات کا کھیل شروع کرتی ہے ۔ آپ بس خان صاحب پر یقین رکھیں چاہے کچھ بھی ہو آپ بس یہ کہتے رہیں کہ  خان صاحب ہی واحد حل ہیں پاکستان کی تمام مشکلات کا، کسی کی بات نہ  سنیں اور آپ یقین کریں کہ  وہ وقت دور نہیں  ہے  جب امریکہ اسرائیل اور باقی سب دشمنوں کی سازشوں کو خان صاحب کے ساتھ موجود روحانی قوتیں آسانی سے ناکام بنا دیں گی، اور جو تیل گیس سونا چاندی امریکہ ہارپ ٹیکنالوجی سے پاکستان سے چوری کرکے لے گیا ہے  وہ خود بخود پاکستان کے سمندر اور کانیں اگل دینگی انشاللہ ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *