آئیے”پی ٹی ایم”کے علاؤہ غیر میں آپکا سواگت ہے۔۔۔مجید داوڑ

فاٹا میں قانون اورآئینی ضابطے نہ تھے، علاقہ غیر اسکا دوسرا نام تھا، بندوبستی علاقے کا قاتل، ڈاکو، چوراچکا، فراڈیا سب فاٹا کا رخ کرتے اورمقامی لوگ مجرم کے بارے میں کہتے کہ جرم اسکا “ذاتی فعل” تھا مگر اب یہ ہمارا “ہم سایہ” (آمسویا پشتو لفظ) ہے لہذا اسکا “باجماعت دفاع” ہم پر فرض ہے۔

یہی حال PTM کا ہے، کوئی قانون کوئی ضابطہ نہیں، بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ آئینی اور انسانی حقوق کیلئے اٹھی اس تحریک کو کیا سے کیا بنا دیا گیا؟ مثال کے طور پر گلالئی اسماعیل نامی آنٹی ایک بدنام زمانہ NGO چلاتی ہے، عزتیں، چادریں اسکا subject ہیں، اسکی دوکان (NGO) کو حکومت کی طرف سے مشکلات ہیں جسکی حفاظت کیلئے وہ اب PTM کے فاٹا میں بیٹھ گئی ہے۔ PTM کے مقامی رواج میں آنٹی انکی “آمسویا” ہے۔ اگر وہ جرم کرے تو وہ اسکا “ذاتی فعل” پر اگر اسکو حکومت پکڑے تو اسکا باجماعت دفاع PTM پر فرض۔۔

مذکورہ آنٹی نے کل صوابی کی ماؤں بہنوں کی چادر کا مذاق اڑایا تھا آج PTM کے سٹیج سے فاٹا کی  ماؤں بہنوں کی چادر تار تار کررہی ہے ، اور شرم و حیرانگی کا مقام یہ ہے کہ سامنے سے فاٹا کے کنفیوز خان اسکو شیم شیم کے نعروں سے داد دے رہے ہیں۔

آپ اپنی پارٹی کے مردے گھوڑے میں جان ڈالنا چاہتے ہیں؟ آپ علاقائی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں؟ آپ کسی Embassy کےSponsored شدہ لکھاری ہیں اور آپکو سکیورٹی مشکلات درپیش ہیں؟ آپ مخبر ملک ہیں مگرپولیٹکل ایجنٹ (DC) آپکو سنتا نہیں؟ آپکی فیس بک ID پر کوئی لائیک کمنٹ نہیں کرتا؟ آپکے فالورز نہیں؟ یا علاقہ آپکو، آپکے کرتوتوں کی وجہ سے “پش” “کتا’ یا “بلا” کہتا ہے؟ تو دیر نہ کیجئے PTM کے فاٹا میں داخل ہوں، انکے “آمسویا” بنیں پھر آپکی سیاست کو دوام، الیکشن میں جیتنے کے چانس پکے، سکیورٹی مسائل حل، DC آپکے قدموں میں، لائیکس اور فالورز کی بارش اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ پش سے پشم خان، کتا سے قطب الدین، اور بلا سے بلاور خان بن جائینگے !

کیونکہ PTM نہیں یہ فاٹا ہے، یہ علاقہ غیر ہے، یہاں کوئی قانون نہیں، یہاں کوئی ضابطہ نہیں چاہے آپ گلالئی آنٹی کی طرح پشتونوں کی عزت پر الزامات بھی لگادیں تو بھی آپکو نہ صرف واہ واہ ملے گی بلکہ آپکی  ہر بونگی کا باجماعت دفاع بھی کیا جائے گا، تو دیر کیس بات کی! PTM کا علاقہ غیر جوائن کیجئے !
آپکا سواگت ہے !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *