• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عزت مآب وزیر اعظم! بھیڑیے بھوکے ہیں، زندوں کو کھا رہے ہیں، سوال آپ سے ہوگا۔ عفت نوید

عزت مآب وزیر اعظم! بھیڑیے بھوکے ہیں، زندوں کو کھا رہے ہیں، سوال آپ سے ہوگا۔ عفت نوید

سال کے گیارہ مہینے بد کرداری کے خیال اور جال میں جکڑے شیطان صفت اس ایک ماہ کا احترام کیسے کر سکتے ہیں۔ مہینوں اور دنوں کو اعلیٰ شخصیات اور عبادات کی معرفت احترام کی تبلیغ کر نے والے انسانیت کا احترام کب جا نیں گے۔ جن کے سفلی جذبات کے آگے ان کے اپنے گھر کی بچیاں محفوظ نہ ہو ں ان کی دسترس سے محلے،پڑوس، دوست احباب کی بچیاں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیکس دماغ میں اتنا گھسا کیسے ہے۔ ہر بات عورت کے جسم سے شروع ہو کر جسمانی تشنگی پوری کرنے پر ختم ہو جا تی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ عورتیں ان کے جذبات ابھا رتی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ہمارا نظام تحفظ دیتا ہے۔ ہماری عدالتیں گونگی بہری بن جا تی ہیں۔ جب پورا معاشرہ سراپا احتجاج بن جا تا ہے، جب نظامِ زندگی مفلوج کر دیا جا تا ہے، جب حکومتی معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں تب کہیں جا کر محل سرا میں خفیف سی بھراہٹ ہو تی ہے۔ خوشامد پسند غلام، کم عقل، ضدی عوام کی ہٹ دھرمیوں اور ان کے باغیانہ موڈ کے بارے میں باد شاہ سلامت کو اطلاع دیتے ہیں، انہیں انتباہ کرتے ہیں کہ بڑھتا ہوا احتجاج، بغاوت میں تبدیل ہو سکتا ہے جس سے ان کا تخت بھی ہل سکتا ہے۔ تختِ شاہی کے بچاؤ کے لیے محل اور اس کے اطراف ہل چل کے نتیجے میں پکڑ دھکڑ شروع ہو جا تی ہے۔ اور عوام پر احسان کیا جا تا ہے کہ دیکھیں ہمارے قانون کے رکھوالوں نے کتنی تندہی سے مجرم کو پکڑا ہے۔

ہمارا یہ سوال نہیں کہ، ریاستِ مدینہ میں ایک کتا بھوکا مر گیا تو اس کا جواب حضور کیادیں گے۔کیوں کہ حضور کے پاس کتا کیا انسانوں کے بھی بھوک سے مرنے کی ہزاروں تاویلیں ہوں گی۔ آپ کے شہر میں کتے بھوک سے نہیں مرتے۔ کیوں کہ ان   کی غذا اور بقا کا آپ کے طفیل عمدہ انتظام ہے۔ اب بات پیٹ سے کچھ آگے چلی گئی ہے۔
بھیڑیوں کی تعداد اور ان کی بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔وہ آبادی میں گھس آئے ہیں۔ بے بس گھرانوں کے زندہ بچوں کو کھا رہے ہیں۔
آپ کی مثالی ریاستِ مدینہ میں جہاں اسلام اور کچھ ہی فاصلے پر آپ کا مسکن آباد ہے، کل پھر ایک معصوم فرشتہ کی چھ دن پرانی لاش ملی ہے، جس کے ساتھ کسی پیٹ بھرے بھیڑیے نے زیادتی کر کے اپنی سفلی بھوک مٹائی پھراسے جان سے مار دیا۔ شہوانی خصلت رکھنے والے بھیڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔شہر بھر سے ان کی صفائی کے لیے کوئی گولی مار مہم یا   زہر آلود غذا کا انتظام کروائیے عالی جاہ، یا پھر ا ن جیسے بھیڑیوں کی بھوک کا انتظام کیجیے۔

ہمیں معلوم ہے یہ آپ کے درجے سے ادنیٰ بات ہے۔ سر کار کیا  آپ جا نتے ہیں کہ ایسے بھیڑیوں کی ہوس کو علامہ طارق جمیل کی ہزار بار بتلائی ہوئی جنت کی حسین ترین حوریں بھی نہیں پورا نہیں کر سکتیں، یہ بھوکے ہی نہیں پاگل اور وحشی بھی ہیں۔ یہ گیارہ ماہ کے تربیت یافتہ،انہیں صرف ایک ماہ کا حترام کا طعنہ دینے والے در اصل انہیں گیارہ ماہ کی چھوٹ دینا چا ہتے ہیں کہ جاؤسال کے گیارہ مہینے ہر بد فعلی تمہارے لیے جا ئز ہے۔ گیارہ مہینے بد فعلی کرنے والے عادی بد کاروں کی عادات صرف ایک ماہ میں کیسے ختم ہو سکتی ہیں، انہیں مہینوں، دنوں، غیر مرئی اشیاء، مقدس ہستیوں اور ان کے مزاروں کا احترام تو سکھا یا گیا لیکن انہیں انسان کا احترام نہیں سکھا یا گیا۔ یوں ہر متبرک چیز بھی حیثیت کھوتی چلی گئی۔ ہوس، گندگی، شہوت جیسی صفات ان بھوکے بھیڑیوں کا طرہء امتیاز بن کر رہ گئیں۔ اب ان بھیڑیوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بھوک سے بلبلائے، کسی شکار کی تلاش میں ہیں۔

کاش آپ نے ریاستِ مدینہ کے علاوہ کسی اور شہر کی مثال بھی سنی ہوتی جہاں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر بہیمانہ قتل ہونے پر باد شاہ وقت سے سوال کیا جا تا اور باد شاہ وقت اس سوال پر کانپ اٹھتا، لیکن قصور آپ کا نہیں ریاستِ مدینہ ایک مثالی ریاست تھی جہاں کوئی انسان بھوکا نہ سوتا تھا، اس لیے کتوں کی بھی بھوک کا بھی سوال بادشاہ سے ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ میرے نبیﷺ  کی ریاستِ مدینہ نہیں،جانوروں کا آستانہ  ہے اگربھیڑیوں کو سزا دینا، اور معصوم بچوں کو تحفظ دینا آپ کے بس میں نہیں تو، اس آستان سے بھیڑیوں کو نکال کر ان کے لیے ایک نیا جنگل آباد کیجیے،اور بلا مقابلہ منتخب ہو کر قوم کے سامنے آکر بھرائی ہوئی آواز میں بھیڑیوں سے خطاب کیجیے، کہ آپ کی اس ریاست میں ایک بھی بھیڑیا بھوک سے مرا تو سوال آپ سے ہوگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”عزت مآب وزیر اعظم! بھیڑیے بھوکے ہیں، زندوں کو کھا رہے ہیں، سوال آپ سے ہوگا۔ عفت نوید

  1. very painful and effective write up m written from your heart…yes we are in the country where sheep are eating little girls and nothing is happening.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *