پروفیسر صاحب۔۔۔اسرار احمد

سعید صاحب ستر برس سے زائد عمر کے تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پڑھانا ترک نہیں کیا تھا،طبیعت کی خرابی ہو یا موسم کی چھٹی کرنا شاید ان کی سرشت میں ہی  شامل نہیں تھا،ہمیشہ وقت سے پہلے کلاس میں موجود ہوتے۔۔نسیان کی وجہ سے ایک مرتبہ سنائے ہوئے کسی واقعے کو بار بار بیان کرتے تھے۔لڑکے اس بات پر خوب زچ ہوتے،اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے۔

ان کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ شاید اس عمر میں تنہائی سے بچنے کے لیے پڑھانا ترک نہیں کیا۔کچھ دل جلے اسے پیسے کی محبت بھی قرار دیتے تھے،حالانکہ ان کے پاس سب کچھ تھا اور اس کا وہ اکثر ذکر بھی کیا کرتے تھے،اور اسے ہمیشہ اپنے والدین اور اساتذہ کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیتے۔

بظاہر ان کا رویہ سب سے مشفقانہ تھا،لیکن کسی غلط بات کو لے کر ان کا غصہ قابل دید ہوتا تھا۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ انہوں نے  اچانک آنا چھوڑ دیا،سب نے اسے ان کی بیماری سے تعبیر کیا،بعد میں کالج انتظامیہ نے بھی اس کی تصدیق کی۔

ایک ہفتہ بعد جب میں عصر کی نماز پڑھنے کے لیے باہر نکلا تو دیکھا کہ وہ بھی  سست قدموں سے مسجد کی طرف آرہے تھے،علالت کی وجہ سے بے حد نحیف ہوچکے تھے،میں نے  آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا،مجھے پہچاننے کے بعد ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی،نماز کے بعد جب ہم باہر نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ چلنے لگا،ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو فوراً بولے اب میں بالکل ٹھیک ہو گیا ہوں یہ موسمی وبائیں تو پھوٹتی رہتی ہیں،ان شا اللہ کل سے کلاس لوں گا،ویسے بھی میری وجہ سے کافی نقصان ہو گیا ہے آپکی پڑھائی کا۔

نہیں سر بلکہ  آپ کو اب آرام کرنا چاہیے،اور میں تو کہتا ہوں آپ کو پڑھانا  بھی چھوڑ دینا چاہیے میں نے جھجھکتے ہوئے مشورہ دیا،میری بات سن کر ان کے چلتے قدم رک گئے،ان کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر میں پریشان ہو گیا اور دل میں خود کو کوسنے لگا۔چند لمحوں بعد ان کے چہرے پر غصے کی جگہ اضطراب نے لے لی تھی،میں نے معذرت کرنا چاہی تو الفاظ گلے میں اٹک گئے۔

مجھے کامیاب دیکھنا میرے والدین کا خواب تھا،وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔۔جب میں پڑھنے کے لیے ولایت گیا تومختصر عرصے میں والدین وفات پا گئے،میں وہاں خوب رویا پریشان ہوا لیکن میرا واپس آنا ممکن نہیں تھا۔۔ میں نے خود کو پڑھائی میں مصروف کرلیا کیونکہ والدین کا خواب بھی تو  پورا کرنا تھا۔۔ آخری وقت میں ان کے پاس نہ ہونا کسک بن کر چبھتا رہا۔

لیکن جس دن میرا بطور پروفیسر کالج میں پہلا دن تھا،اس سے ایک رات پہلے میں نے خواب دیکھا کہ میں پڑھا کر کمرے سے باہر نکلا ہوں تو وہ سامنے کھڑے ہوئے مجھے گلے سے لگا لیتے ہیں،جب میں نیند سے بیدار ہوا تو ان کا لمس اس وقت بھی باقی تھا۔

پچاس برس سے جب بھی پڑھا کر نکلتا ہوں تو وہ ملاقات کا منظر سامنے آتا ہے اور  وہ لمس بھی محسوس ہوتا ہے گویا اس بہانے  روز ان سے ملاقات ہوتی ہے ۔۔آج ایک ہفتے سے ملاقات نہیں ہوئی ان سے وہ رندھی ہوئی آواز میں بولے۔۔۔

میں اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ گیا ایسا لگا کہ میرے سامنے ستر برس  کا بوڑھا نہیں بلکہ ایک پانچ برس کا بچہ جو ماں باپ سے بچھڑ گیا ہو،آنکھوں میں آنسوں لیے کھڑا تھا لیکن میں اسے اسکے ماں باپ سے نہیں ملا سکتا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *