ہمیں قحبہ خانے چاہئیں ۔۔۔۔علی اختر

اس موضوع پر قلم اٹھاتے مجھے افسوس بھی ہے اور شرم بھی محسوس ہو رہی ہے ۔ میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ  میں صحیح ہوں اور نہ ہی یہ خواہش رکھتا ہوں کہ  میرے قارئین مجھ سے اتفاق کریں ۔ یہ محض میرا تجزیہ اور ذاتی رائے ہے ۔ جیسے سب کی رائے کسی نہ کسی معاملے میں ہوتی ہے اسی طرح۔

ایک کمسن معصوم بچی فرشتہ مہمند کے ریپ اور بہیمانہ قتل کا واقعہ چک شہزاد میں پیش آیا ۔
بہت سی باتیں ہیں جو زیر بحث ہیں ۔ اسکی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی  ۔ پوسٹ مارٹم نہیں ہوا ۔ اسکے والد افغانی ہیں ۔ پشتون کارڈ کھیلنے والے بھی میدان میں موجود ہیں ۔ جسٹس فور فرشتہ مہم بھی چل رہی ہے ۔ قاتلوں کی گرفتاری کا معاملہ ۔ سرعام سزا کا مطالبہ ۔ لیکن کوئی  اس جڑ پر بات نہیں کر رہا جو اس قسم کے واقعات کا باعث بنتے ہیں ۔ بات ہوتی بھی ہے تو عجیب و غریب ۔ جیسے پورن فلمیں دیکھ دیکھ کر لوگ جنسی جنونی ہو رہے ہیں ۔ عورتوں کے لباس پر بات ہوتی ہے ۔ معاشرے کے بگاڑ پر تبصرے کیے  جاتے ہیں ۔
جنسی ضرورت پر کوئی  بات نہیں کرتا ۔

انسان جس طرح بھوک ، پیاس ، نیند وغیرہ کی ضرورت لے کر پیدا ہوا ہے اسی طرح جنسی ضرورت بھی اسکی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے ۔ اللہ نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے  نکاح کا پاک و جائز راستہ دکھایا ۔ ہم نے دنیاوی رسومات، تعلیم، اسٹیٹس، سیٹل ہونے کے نام پر اسے مشکل سے مشکل تر بنایا ۔

چلیں ایک بیانیہ نکاح میں جلدی و آسانی کا بھی جمع کرتے ہیں ۔ بھائیو نکاح میں آسانی کرو ۔ خواہشات کم رکھو ۔ گھر والے بھی خواہ لڑکی کے ہوں یا لڑکے کے اپنے بچوں کا نکاح جلدی و آسانی سے کریں ۔ وغیرہ وغیرہ۔ افسوس کہ  یہ باتیں سالوں سے جاری ہیں اور سالوں سے ہم نکاح کو اور مشکل بنا رہے ہیں ۔ ہم سدھرنے والے نہیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  یہ بیانیہ ہمارے مسئلے کا حل نہیں ۔ تو پھر حل کیا ہے ۔

سستااور فوری انصاف۔ چلیں ایک بیانیہ اور ایڈ کرتے ہیں ۔ اگر اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے لٹکا دیا جائے تو ایسے واقعات میں کمی آسکتی ہے ۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ہے ۔ کرپشن ہے وغیرہ وغیرہ۔ افسوس  کہ   یہ بیانیہ بھی رد ہو چکا ۔ جلد نہیں تو بدیر زینب کے قاتل کو بھی تو لٹکایا گیا ۔ کیااسکی سزا باقیوں کے لیئے باعث عبرت نہیں تھی ۔ قانون تو موجود ہے ۔ عمل بھی کہیں نہ کہیں ہو ہی جاتا ہے پر زینب کے واقعے کے بعد بھی کئی  واقعات ریکارڈ پر اور پتا نہیں کتنے واقعات آف دی رکارڑ بھی ہوں ۔ افسوس کہ یہ بھی حل نہیں ۔

تو یہ جنسی فرسٹریشن نکالنے کا کیا طریقہ ہو ؟ ۔ پورن سائٹس موجود ہیں ۔ پابندی لگتی ہے ۔ ہم ہاٹ اسپاٹ شیلڈ استعمال کرتے ہیں ۔ مرد و زن دونوں سائبر سیکس ، موبائل پر پیکج لے کر ٹیلی سیکس میں مشغول ہیں ۔ ہم کبوتر کی مانند آنکھیں بند کرلیں تو الگ بات ورنہ یہ سب حقیقت ہے ۔ جنسی فرسٹریشن اپنے عروج پر ہے ۔ میں اور آپ دونوں اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور یہ سب جانتے بھی ہیں ۔ تو پھر کیا ۔ ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ  صرف پورن سائٹس اور سائبر سیکس قدرت کی  پیدا  کردہ اس جنسی ضرورت کا مکمل حل نہیں ۔ بحالت مجبوری اور اپنی اپنی قوت برداشت کی بدولت لوگ ان سب سے کام تو چلا رہے ہیں لیکن مکمل جنسی تسکین کے لیئے مخالف جنس کا جسم ، مکمل انٹرکورس بھی بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے ۔ یہ ضرورت جب حد سے گزرتی ہے تو زینب و فرشتہ جیسے واقعات کا سبب بنتی ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا قحبہ خانے، جسم فروشی کے اڈے ، مساج سینٹرز وغیرہ مملکت خدا داد میں موجود نہیں ؟ جی یہ بھی موجود ہیں پر عام نہیں ۔ پولیس کی ریڈ کا خوف الگ سے ہے ۔ جنسی اختلاط پر پابندی ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے ۔ ہم جنس مخالف سے دوبدو ملاقات ( ڈیٹ پر جانے ) کو بھی معیوب ترین گردانتے ہیں ۔ شادیاں ہم نے پہلے ہی نہیں ہونے دینی  اور حال یہ ہے کہ  ٹرک اڈوں پر موجود ہوٹلوں پر “سویٹ ڈش” کے نام سے نو عمر بچوں کی سپلائی تک جاری و ساری ہے ۔

تو بھائی  یا تو مکمل مسلمان بنو یا کافر یہ منافقت ہمارے معاشرے کو گٹر سے زیادہ گندہ بنا چکی ہے ۔ ایڈز و جنسی امراض الگ پھیل رہے ہیں ۔ اب یا تو وقت پر شادیوں کو رواج دیا جائے ۔ جہاں ضرورت ہو ایک سے زیادہ شادیوں کو بھی سہولت سے ہونے دیا جائے یا جیسا کہ  مغربی معاشروں میں موجود ہے قحبہ خانوں کو لیگل کر دیا جائے ۔ جہاں سیکس ورکرز میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ ہمارے معاشرے کی جنسی ضرورت کو پورا کرنے کو سستے میں آسانی سے موجود ہوں تو میری ناقص رائے میں ایسے واقعات میں کمی آسکتی ہے ۔

نوٹ : راقم سے اختلاف قارئین کاحق ہے ۔ آپکی رائے کے لیئے بھی مکالمہ کے صفحات حاضر ہیں ۔ شکریہ

ادارتی نوٹ:تحریر میں بیان کیے گئے  خیالات مصنف کی ذاتی سوچ  پر مبنی ہیں ،اس  سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *