• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یہ دنیا تمہارے رہنے کے قابل نہیں ہے فرشتہ ! ہاں میری بچی۔۔۔۔عامر عثمان عادل

یہ دنیا تمہارے رہنے کے قابل نہیں ہے فرشتہ ! ہاں میری بچی۔۔۔۔عامر عثمان عادل

اچھا ہوا جو تو بھی ہم سے روٹھ گئی انسانوں کی دنیا فرشتوں کے رہنے کے قابل ہی کب ہے۔
عین وقت افطار طرح طرح کی نعمتوں سے مزین دسترخوان سامنے پڑا ہے۔۔۔
ذرا تصور کیجیے اس بدقسمت گھرانے کا جن کی دس سالہ پھول سی بچی 4 دن سے لاپتہ ہو ،اسکی تلاش میں گزرے یہ 4 دن یوں لگیں جیسے 4 صدیاں بیت گئی ہوں کون سی سحری اور کیا افطاری  اور آج لاڈلی ملی بھی تو ادھوری کٹی پھٹی ،مسلی ہوئی  ،عین وقت افطار کیا انکے حلق سے نوالہ اترے گا؟۔۔۔
اپنی بچی کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے کیلئے تھانے جاتے ہیں تو ایس ایچ او صاحب فرماتے ہیں بھاگ گئی  ہو گی کسی کے ساتھ۔۔

فرشتہ بیٹی !
تمہارے ننھے وجود پر ہوس درندگی کے جتنے نشان ثبت ہو چکے تھے اگر تمہاری سانسیں باقی رہتی بھی تو تم نے زندہ کیسے رہنا تھا، خوف دہشت اور کرب نے ہی تمہارا گلا گھونٹ دینا تھا ،پارسائی  کے محراب ماتھے پر سجائے اس منافق معاشرے نے تمہیں طعنے دے دے کر جیتے جی مار دینا تھا۔
اب کچھ دن تمہاری تصویر کو یہ بے حس معاشرہ انسانیت کے ٹھیکیدار اور موم بتی مافیا خوب کیش کرائے گا ملک کے طول و عرض میں شور مچے گا میڈیا والے بھی خوب اچھل کود کریں گے سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈ ہو گی تمہاری سٹوری اور پھر غیرت کا بخار ہولے ہولے اترتا جا ئے گا۔
پھر کسی دن اقتدار کی اونچی مسند پر فائز غریبوں کا ان داتا تمہارے بابا کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس فرمائے گا اور تالیاں بجوا کر اپنی شاندار کارکردگی پر خود ہی داد بھی وصول کر لے گا بس یہی اوقات ہے ہماری۔۔

ایک زینب پامال کر دی جاتی ہے  ہم چار دن سوگ مناتے ہیں اور پھر سے کسی اور زینب کے اجڑنے کا انتظار۔۔
میری بچی۔۔
اب آسمانوں والا منصف ہی تمہارا انصاف کرے تو کرے یہ زمینی خدا تو تماشائی ہیں بیٹیوں کے مسلے جانے کے۔
شاید  اس لئے انہیں کسی زینب کی چیخ سنائی  دیتی ہے  نہ تمہاری فریاد کہ ان کی اپنی زینبیں اور فرشتے آہنی فصیلوں میں سکیورٹی کے حصار میں محفوظ ہیں ابھی انہیں یقین ہے  کہ کوئی  دست ہوس ان کی بیٹیوں کی چادر تار تار نہیں کر سکتا۔

یہ دنیا بہت گندی ہے تم جیسے معصوم فرشتوں کے رہنے کے قابل نہیں۔۔
جا ؤ  رب مہربان تمہارا منتظر ہے۔۔
حوریں بانہیں پھیلائے تمہیں اپنی آغوش میں لینے کو بے تاب ہیں،
جنت کے چشموں کے مقدس پانیوں سے تمہیں نہلائیں گی تمہارے بدن پر لگی دنیا کی ساری نجاستیں دھو کر گلابوں سے معطر کر کے خوبصورت فراک پہنا کر جھولا جھلائیں گی۔
اور ہاں تمہاری گڑیا بھی جنت میں تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *