کراچی ایک مرتے ہوئے شہر کی کہانی ہے۔۔محسن علی

یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ہمارے صحافی و ادبی بھائی اقبال خورشید کا ہے، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کہی کیوں گئی ؟اسکے پیچھے کیا بات ہے ؟ اگر ہم ماضی قریب میں جائیں تو گزشتہ دس سال سے سندھ میں پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی کی ہے اور کراچی میں نمائندگی گزشتہ دس سال سے شہری علاقوں کی بڑی پارٹی متحدہ کے پاس رہی ۔ مگر افسوس عوامی مینڈیٹ رکھنے والی پارٹیوں نے یہاں کوئی خاص توجہ نہیں دی محض سیاسی چپقلش و لسانی سیاست کے دوسری جانب گزشتہ دور حکومت میں نوازشریف صاحب کے بارے میں یہ سننے میں آیا تھا اُنکا کراچی آتے ہوئے دل دُکھتا ہے اسلئے وہ کراچی نہیں آتے کچھ اس طرز کی بات سامنے آئی تھی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ وفاق سندھ و شہری سیاسی اکائیاں یہاں ووٹ لینے کو تو تگ دو کرتی ہیں مگر یہاں کے مسائل سے دلچسپی نہیں رکھتیں ۔ اس پر مزید یہ ہوا کہ جو بل پیپلزپارٹی کے دور میں پاس ہوا اُسکے بعد سے انتظامی معاملات میں شہری حکومت کے ہاتھ میں فقط نمائشی کرسیاں سی رہ گئی ہیں اختیارات میں کمزورکردیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ شہر آگ و خون کی ہولی دیکھ چُکا ہے جس کو قابو کرنے کے لئے سندھ پولیس کی قُربانیوں سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ۔ کراچی میں اگر کسی کا اثر و رسوخ بڑھا ہے تو وہ آرمی کی ہاوسنگ اسکیموں کا ۔ جبکہ کراچی کا مڈل کلاس طبقہ اور غریب طبقہ اب ابتر حالت کی جانب گامزن ہیں کیونکہ کراچی کی معیشت ملُکی معیشت کی طرح بیٹھ چُکی ہے .
مگر میں کراچی کو ان سب مسائل کے باجود مرتا نہیں دیکھ رہا ایک ایسا شہر جہاں جب گولیاں و ہڑتالیں جاری تھیں ایسے ماحول میں کراچی لٹریچر فیسٹیول کا سالانہ انعقاد ہر سال ہوتا رہا اور ایک دہائی مکمل کرلی اُس نے اپنی ۔کراچی لٹریچر فیسٹیول نے جہاں کتابوں سے رغبت رکھنے والوں کو ایک جگہ اکھٹا کیا وہاں ایک نسل کو کتابوں کی طرف بھی گامزن کرنے میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کیا کیونکہ کراچی لٹریچر فیسٹیول میں قومی نوعیت یا اُردو و انگریزی زبان کا غلبہ رہتا ہے کیونکہ یہ دو زبانوں کے لوگ وہاں زیادہ تعداد میں آتے ہیں انگریزی زبان باہر کے لوگوں تک اپنی ثقافت و ادب پہنچانے کا ذریعہ اس لٹریچر فیسٹیول سے دیگر لٹریچر فیسٹیول جنم لے چُکے ہیں۔ جو قوم حالت جنگ اور لسانی فسادات سے نبردآزما ہو کر اُٹھی اور اُسکے بعد چاروں صوبوں میں ایسے فیسٹیول اس بات کی نوید کہ آنے والا دور بہتر ہے مزید یہ کہ لیاری میں ایک عرصہ سے این جی اوز اور بہت سے لوگ کام کررہے ہیں اسکا شاخسانہ لیاری کی باکسر شاہ پر بنی ہوئی فلم اور اب لیاری لٹریچر فیسٹیول جب بھی کوئی قوم اپنے پاوں پر مضبوطی سے کھڑی ہونی شروع ہوتی ہے وہ ادب و فنون لطیفہ اور کھیلوں سے سامنے آتی ہے اس سلسلے میں لڑکیوں کا فٹ بال میچ بھی اُس اُمید کی جانب ایک اشارہ ہے کہ کراچی مرا نہیں ہے زندہ ہے ابھی کراچی میں زندگی باقی ہے ہاں لیاری جو کراچی کا دل کہلاتا تھا اب شائد کراچی کا ذہن بن کر اُبھرے گا کراچی کی آبادی لیاری سے شروع ہوئی تھی اور لیاری ہی اُسکو نئی زندگی دے گا ۔ وہ الگ بات ہے کہ کراچی اپنی طبعی موت مرجائے اگر سیاسی اکائیوں نے ادراک نہ کیا اور ریاست یونہی بیگانہ رہی کراچی کو آگے بڑھانے کو کراچی میں نئے انڈسٹریل زون جو تین ، پانچ یا سات سال کے ٹیکس فری زون ہوں قائم کرکے کراچی کی بے چینی کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔ باقی وقت اپنا فیصلہ کرتا ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *