پکوڑوں کی فضیلت۔۔۔حمزہ حنیف

پکوڑوں کی فضیلت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ پکوڑے افطاری کا دوسرا اہم رکن ہیں۔
پکوڑے اکیلے لازم نہیں ہوئے تھے اسکے ساتھ سموسے اور کچوریاں بھی برابر مانی جاتی ہیں- اگر کسی مجبوری کے تحت پکوڑے نہ مل سکیں تو آپ سموسے اور کچوری سے کمی پوری کر سکتے ہیں اور لذت افطاری میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گھر کے بنے ہوئے پکوڑے افضل ہیں اور ثواب بھی زیادہ ہے۔
رمضان کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض ہوئے ہیں لیکن پکوڑے برصغیر خصوصاً پاکستانی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر پکوڑوں کا شجرہ نسب تا حال معلوم نہیں ہوسکا مگر انکو بنانے کے کام میں زیادہ تر ماؤں کو ہی دیکھا گیا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

پکوڑے مختلف شکلوں کے بنائے جاتے ہیں سب سے مشہور شکل کوئی شکل نہیں ہے گول چکور لمبے نیز ہر قسم کے پکوڑے یکساں مقبول و مشہور ہیں۔
پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے لیکن عصر جدید میں کیچپ وغیرہ کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔
اب تک پکوڑوں کی سب سے زیادہ قسمیں شیف ذاکر اور مرحومہ  زبیدہ آپا نے ایجاد کی ہیں۔
ابھی تک پکوڑوں کو کسی بھی محاورے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا مگر بعض افراد کی ناک کو پکوڑے سے تشبیح دی جاتی ہے جو کہ اسلامی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔
یہاں یہ بھی مفروضہ غلط ہے کہ سکندر اعظم یہاں پکوڑے کھانے آیا تھا۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی سند موجود نہیں ۔

Facebook Comments

حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply