• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کشمیر کے غیر روایتی ممکنہ حل۔۔۔۔ ظفر ندیم داؤد 

کشمیر کے غیر روایتی ممکنہ حل۔۔۔۔ ظفر ندیم داؤد 

مجھے یاد ہے کہ جب جناب پرویز مشرف نے کشمیر کے غیر روایئتی حل کی بات کی تھی تو یہ بات مجھے پسند نہیں آئی تھی۔ کہ میرے نزدیک یہ بات غیر سرکاری سطح پر کرنے کی ضرورت تھی اور ہے، سرکاری سطح پر اس قسم کی کسی بھی تجویز پر بات کرنے سے پہلے ضرورت ہے کہ اس پر دونوں اطراف سے کافی گہری سوچ و بچار کی جا چکی ہے اور اس کا مقصد مسئلے کو الجحانا نہیں بلکہ اس کا ایک پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔ 

کشمیر کے غیر روایتی ممکنہ حل کے بارے کافی دیر سے مختلف حلقوں میں مکالمہ ہوتا رہا ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام نقطہ ہائے نظر کو پیش کیا جائے

کشمیر کے روایتی حل سے مراد وہ حل ہیں جو کشمیر کے مختلف فریقین پیش کرتے رہتے ہیں یعنی ایسا ریفرنڈم جس کے ذریعے سارا کشمیر بھارت یا پاکستان کے حوالے کیا جائے یا اسے مکمل آزادی دی جائے۔ ان تین حل کو روایتی حل کا نام دیا جاتا ہے

غیر روایتی ممکننہ حل کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ کشمیر کا فوجی حل ممکن نہیں اس کا سفارتی اور سیاسی حل ہی ممکن ہے اس لئے اس مسئلے کا ایسا ہی حل ممکن ہے کہ کشمیر کے تمام فریقین اسے اپنی شکست محمول نہ کریں بلکہ کچھ دو اور کچھ لو کے اصولوں کے تحت کشمیر کے تمام فریقین اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کریں اور برصغیر میں ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھیں

یاد رہے یہ تمام حل مختلف مکالموں اور گفت وشنید کے دوران پیش کئے جا چکے ہیں میں ان کو صرف اکھٹا کرکے پیش کر رہا ہوں۔

پہلا حل؛

کشمیر کا سب سے پاپولر حل یہ سمجھا جاتا ہے کہ 53 کی پوزیشن پر واپس جایا جائے یعنی انڈیا اپنے زیر انتطام کشمیر کو ایک خود مختار حیثیث سے تسلیم کرے۔ جیسا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلستان کو خود مختار علاقے تسلیم کیا ہوا ہے۔ جب بھارت اپنے زیر اہتمام کشمیر کو ایک خود مختار علاقے کی حیثیث سے تسلیم کرے گا جس کے دفاع، خارجہ امور اور مالی کنٹرول کی ذمہ داری معتلقہ حکومتوں کے پاس ہوگی۔ تو دونوں ممالک اپنے اپنے علاقے کو اس کی اجازت دیںگے کہ وہ اپنا اپنا شناختی کارڈ بنالیں۔ دونوں اطراف یہ قانون پہلے سے موجود ہے کہ ان علاقوں میں بھارتی اور پاکستانی باشندے جائداد نہیں خرید سکتے۔ اب دونوں اطراف کو ایک نیم وفاق کا معاہدہ کرنے کی اجازت دینا ہوگی کہ دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کے علاقے میں آزادانہ آجا سکیں اور کاروبار کرسکیں یعنی یہ ایک محدود خود مختاری کا علاقہ ہوگا۔ دونوں ممالک میں آنے والوں کو کشمیر جانے کے لئے خاص اجازت لینا ہوگی جو کشمیر کی حکومت دے گی۔ اس کو بعد میں ایک غیر فوجی علاقہ بنا دیا جائے گا جس کے دفاع کی ضمانت علاقے کے دونوں بڑے ممالک پاکستان اور بھارت دیں گے۔ پاکستان اور بھارت کو کشمیر میں آنے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی مگر یہاں کاروبار کرنے کے لئے ایک خصوصی اجازت نامہ لینا ہوگا۔

یہ ایک پچیدہ حل ہے مگر یہ ایک ایسا حل تصور کیا جاتا ہے جو کہ تینوں فریقین کے درمیان ایک پائیدار امن کی بنیاد ڈال سکتا ہے اور اس حل میں کسی فریق کی فتح یا شکست نہیں۔

دوسرا حل؛

یہ ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کا حل ہے اس میں گلگت بلستان کو پاکستان میں، جموں، پونچھ اور لداخ کو بھارت میں ضم کرنے کی تجویز ہے جبکہ وادی کشمیر کو ایک آزاد کشمیر کی طرح ایک محدود خود مختاری دینے کی تجویز ہے جس کو آزاد کشمیر سے نیم وفاق کی شکل میں متصل کیا جائے گا۔ یہ تجویز پہلی تجویز سے بہت ملتی جلتی ہے مگر علاقے کو آزاد کشمیر اور مقبوضہ وادی تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس حل کو دوسرا بہترین حل سمجھا جاتا ہے۔

تیسرا حل؛

مشرف کا چارنکاتی فارمولا ہے اس کے تحت جموں کشمیر کو ریاستی حدود میں ایک ںیم خود مختاری دینا ہے اس کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا ہے ریاست کے باشندے آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے علاقے میں آجا سکیں اور بھارت اور پاکستان اس کا مشترکہ انتظام و انصرام سنبھالیں۔ جبکہ اندرونی طور پر کشمیر ایک منتخب حکومت کے تحت چلایا جائے

چوتھا حل؛

بھی تیسرے حل سے ملتا جلتا ہے اس میں بھارت اور پاکستان اپنے اپنے زیر اہتمام علاقوں کو اپنے وفاق میں ضم کرلیں، وادی کسمیر کو بھارت کے اندر ایک نیم خود مختاری دی جائے جس میں پاکستانیوں کو کچھ رعایات حاصل ہوں۔ جیسے ویزے کے بغیر سفر، ایک خصوصی اجازت نامے پر باہمی سفر اور باہمی آزادانہ تجارت۔ اور اندرونی طور پر وادی کو مکمل خود مختاری اور غیر فوجی علاقہ بنایا جائے۔

پانچواں حل؛

ریاست جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کا حل ہے اس حل میں جموں اور لداخ کو انڈیا کے حوالے کرنا ہے جبکہ انڈیا اس کے بدلے وادی کشمیر کو پاکستان کے حوالے کر سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بہتر حل خیال کیا جاتا ہے مگر اس حل کے لئے تینوں فریقوں کو راضی کرنا ایک محنت طلب سفارت کاری کی ضرورت ہے برصغیر یا برصغیر سے باہر، برصغیر کے باشندوں کا ایسا کوئی آزاد فورم نہیں، جو برصغیر میں پائیدار امن کے لئے ایسی مشکل سفارت کاری کر سکے جبکہ کسی دوسرے ملک کو ایسا مشکل کام کرنے کی ضرورت نہیں۔

چھٹا حل؛

جو کہ پاکستانی حکام کے لئے کشش کا باعث رہا ہے وہ چناب فارمولا ہے۔ یہ حل 1960 کی دہائی میں پہلی بار سامنے آیا جب سورن سنگھ اور ذوالفقار علی بھٹو میں طویل مذاکرات ہوئے۔ اس حل کے تحت جموں کا آدھا علاقہ اور لداخ کا علاقہ پاکستان کو دیا جا سکتا ہے یعنی انڈیا کو 80 فی صد علاقہ چھوڑنا پڑتا ہے جو انڈیا کے لئے قابل قبول نہیں۔ مشرف دور میں بھی اسی فارمولے پر گفت و شنید ہوئی۔

ساتواں حل؛ 

جہلم فارمولا، جس میں دریائے جہلم کو سرحد بنایا جا سکتا ہے اس فارمولے میں پاکستان اور بھارت دونوں کو اپنے زیر اہتمام علاقے ایک دوسرے کے حوالے کرنے پڑتے ہیں۔

آٹھواں حل؛

بھارت اور پاکستان اپنے اپنے علاقے کو برقرار رکھیں مگر کشمیروں کو ایک خصوصی اجازت نامے کے ذریعے ریاست کے اندر سفر کرنے، تجارت کرنے اور رہائش اختیار کرنے کی اجازت دیں، امن و امان کی ذمہ داری دونوں اطراف میں ریاست کی اپنی ہو۔ جبکہ پاکستانی اور بھارتی افواج کو اپنی اپنی چھائونیوں میں رہنے کا پابند کیا جائے۔

یہ آٹھ حل ان تین روایتی حل کے علاوہ ہیں جس کے تحت کشمیر کو مکمل طور پر پاکستان یا بھارت کے حوالے کیا جائے یا مکمل طور پر خود مختار کیا جائے۔ یہ برصغیر سے باہر رہنے والے برصغیر کے باشندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ برصغیر میں ایک پائیدار امن کی خاطر غیر سرکاری طور پر کوششیں کریں اور تینوں فریقوں یعنی بھارت، پاکستان اور کشمیری راہنمائوں سے ساتھ مل کر ایک مستقل حل کی طرف راہنمائی کریں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *