• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بحران کی زد میں۔۔۔۔۔ممتاز علی بخاری

آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بحران کی زد میں۔۔۔۔۔ممتاز علی بخاری

پچھلے چند روز سے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ریاست ایک عجیب سی غیر یقینی  کا شکار ہے۔ حکومت مکمل طور پر ڈگمگا رہی ہے۔

فاروق حیدر ایک  جرات مند  اور محنتی انسان ہیں۔ حکومت میں آتے ساتھ ہی موصوف نے دو اہم کام کیے جو ابھی تک ان کی شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالا دستی کے حوالے سے مقبول عام ہیں۔ ان میں محکمہ تعلیم میں نان گزٹڈ پوسٹوں کے لیے این ٹی ایس کا نفاذ اور آزادانہ پی ایس سی کا قیام شامل ہیں۔ ان کی ترجیح بتدریج دوسرے اداروں میں  بھی این ٹی ایس کے ذریعے تقرری کا عمل نافذ کرنا تھا جو بوجوہ ابھی تک نہ کر پائے۔ اس کے علاوہ موصوف نے وفاق سے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ، ایکٹ 74 میں ترمیم جیسے کئی کام کیے جو آزاد کشمیر کی عوام کبھی بھلا نہ پائے گی۔ جہاں ان کی خوبیاں ہیں وہیں ان کی خامیاں بھی موجود ہیں۔

آج کل حکومت آزادکشمیر ایک بڑے بحران کا شکار ہے۔ مبینہ طور پر وزیراعظم کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں وہ مسلم لیگ ن کے آزاد کشمیر کے نامور رہنما اور سابق صدر و وزیراعظم آزادکشمیر سردارسکندر حیات خان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خواتین کے حوالے سے بھی ناقابل بیان زبان استعمال کی گئی ہے۔

اس آڈیو کے لیک ہونے پر سردار سکندر حیات کے بیٹے اور وزیر مال سردار فاروق سکندر نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے اور بہت سے دیگر وزراء نے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کے خلاف صف بندی کر لی ہے۔آڈیو لیکس پر حکمران جماعت ن لیگ کے سینئر رہنماء چوہدری طارق فاروق اور شاہ غلام قادر سمیت پارٹی کے بعض رہنماوں نے تشویش کا اظہار کیا ۔سردار سکندر حیات خان نے ایک انٹرویو میں راجہ فاررق حیدر خان کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے بوجھ اٹھانے والے ایک جانور سے تشبیہ بھی دی تھی۔ حکومتی اراکین کے علاوہ اپوزیشن کی طرف سے بھی اس آڈیو پر راجہ فاروق حیدر کے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان جیسا آدمی وزارت عظمیٰ کے لیے اہل نہیں ہے لہٰذا انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اب تو ریاست بھر میں آڈیو معاملے پراحتجاج شروع ہو گیا ہے۔

دوسری طرف فاروق حیدر نے آڈیو لیک کرنے کے جرم میں پروٹوکول آفیسر سعید اختر کو آڈیو لیک کرنے کے الزام میں برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

آزادکشمیر کے وزیر مال فاروق سکندر اور ممبر اسمبلی سردار صغیر فاروق حیدر کے خلاف قراردادیں پیش کرنا چاہ رہے تھے لیکن وزیراعظم کی عدم موجودگی کے باعث انہوں نےاس معاملے کو بدھ تک مؤخر کر دیا ہے

آزاد کشمیر کی تاریخ میں کسی وزیراعظم کی گفتگو پر مشتمل آڈیو کا اس طرح وائرل ہونے کا یہ پہلا واقع ہے ۔ خصوصاً جو گفتگو وائرل ہوئی ہے اسے معاشرے کے تمام طبقات نے انتہائی غیر مناسب اور شرمناک قرار دیا ہے ۔ راجہ فاروق حیدر خان اس حوالے سے غیر محتاط واقع ہوئے ہیں کہ اپنی نجی محفلوں کی گفتگو اور ٹیلی فونک بات چیت میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ریکارڈنگ کے ذریعہ وہ عوام کے سامنے اس روپ میں   آئیں گے۔

اتنے اہم منصب پر فائز ہونے کے بعد گفتگو میں احتیاط لازم ہونی چاہیے ۔ دوسری طرف یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ذاتی نوعیت کی گفتگو کو اس طرح وائرل کرنا بھی اخلاقی لحاظ سے اتنا ہی گھناؤنا قدم ہے جتنا آڈیو میں موجود گفتگو۔۔۔۔ ہم سب کو اس کا محاسبہ کرنا چاہیے  اور کوشش کرنی چایے کہ اس طرح کی فضا بننے ہی نہ پائے۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک آڈیو فاروق حیدر کی کشتی ڈبو دے گی؟؟ کیا ان کا اقتدار خاتمے کے قریب ہے؟ کیا مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کوئی بیچ بچاؤ کرانے کی پوزیشن میں ہے یا پھر یہ سب انہی کی ایماء پر ہو رہا ہے؟کیا ان کے بعد آنے والا سیٹ اپ ان کی ،کی گئی ریفارمز کو جاری رکھے گا؟؟

کیا این ٹی ایس اور غیر جانبدار پی ایس سی کے قیام کے حوالے سے جاری مخالفت ایک نئے لیبل کے ساتھ آگئی ہے؟ بہت سوں کا کہنا ہے کہ سازش بہت عرصہ پہلے شروع ہو گئی تھی آڈیو لیکس تو بس بہانہ مل گیا ہے اس سازش کو مزیدف بھڑکانے کا!

حکومت میں موجود کچھ لوگ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دونوں متحارب گروہوں کی صلح کے لیے کوشاں ہیں تو کچھ لوگ نئے ممکنہ سیٹ اپ میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ عوام کا جس قدر احتجاج ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اتنے لوگ احتجاج میں سامنے آ نہیں رہے۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *