نظم”بوڑھی آنکھیں,ایک تجزیاتی مطالعہ”۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

فیصل فارانی کا دوسرا ادبی محبت نامہ موصول ہوا۔ انہیں شاید اپنے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔انہوں نے میری نظم کے چار مصرعے نقل کیے ہیں
میری ماں کی اندھی محبت
میرے پاوں کی زنجیر بنی تھی
میں نے اس زنجیر کی خاطر
ہجرت کا اک زہر پیا تھا
میرا خیال تھا کہ اگر وہ نظم کا مصرعہ نہ ہوتا نثر کا جملہ ہوتا تو یوں ہوتا
میں نے اس زنجیر (کو توڑنے) کی خاطر ہجرت کا اک زہر پیا تھا۔۔۔تا کہ میں آزاد ہو سکوں۔۔۔
میرا خیال تھا IT IS STATING THE OBVIOUS
یہ علیحدہ بات کہ بعد میں وہ زہر امرت بن گیا اور دکھی ماں بیٹے کی کامیابیاں دیکھ کر سکھی ہو گئی۔
A BREAKDOWN TRANSFORMED INTO A BREAKTHROUGH
شاعری میں چونکہ الفاظ تشبیہات اور استعارے بن جاتے ہیں اس لیے مختلف قاری اس کے مختلف معنی لے سکتے ہیں۔
اس نظم میں بھی۔۔۔ماں۔۔۔زنجیر۔۔۔زہر۔۔۔کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔
چونکہ اس نظم کا بنیادی موضوع۔۔۔ہجرت ہے۔۔۔
اس لیے ماں دھرتی ماں بھی ہو سکتی ہے۔۔اور اس کا شاعر بیٹا اور عنبر بیٹی۔۔۔اس کے ان شہریوں کے استعارے ہیں۔۔۔جو پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جا بسے ہیں۔
ایسے مہاجروں نے جن وجوہات کی وجہ سے ہجرت کی ہے وہ وجوہات تلخ بھی ہیں شیریں بھی۔۔ان میں PULL FACTORS AND PUSH FACTORS دونوں شامل ہیں۔ جن میں دکھ بھی شامل ہیں۔۔۔سکھ بھی۔
اس نظم میں ہجرت کی مختلف کیفیات کو CAPTURE کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

میرا خیال ہے فیصل فارانی صاحب اس نظم اور اس فن پارے کی شاعرانہ اور AESTHETIC APPRECIATION کی بجائے ایک مقالے کی طرح نہایت منطقی تفہیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ وہ نظم ہے جسے پڑھتے پڑھتے غیر ارادی طور پر کبھی قاری کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور کبھی چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔
اس نظم میں شعوری اور لاشعوری عناصر یکجا ہو گئے ہیں۔ میری فیصل فارانی سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اس نظم کا منطقی تجزیہ کرنے کی بجائے اسے دوبارہ پڑھیں اور اگر ممکن ہو  تو اس کی لاشعوری لہر کو چھو کر دیکھیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک مہاجر کا اپنی ماں اور دھرتی ماں سے رشتہ شعوری بھی ہوتا ہے لاشعوری بھی۔اس میں کچھ سکھ بھی شامل ہوتے ہیں کچھ دکھ بھی۔

اس نظم میں بہت سے متضاد جذبات کو یکجا کرنے کی ایک عاجزانہ تخلیقی کوشش کی گئی ہے۔
یہ نظم صرف خود سوانحی نظم نہیں ہے۔۔یہ بیسویں صدی کے لاکھوں مہاجروں کی کہانی بھی ہے۔

میں اپنی نظموں اور افسانوں کی وضاحت سے بہت کتراتا ہوں لیکن چونکہ فیصل فارانی نے بڑی محبت اور اپنائیت سے سوال پوچھا ہے اس لیے اس ادبی وضاحت کی ضرورت پڑی۔

چھپنے کے بعد نظم اس کی ہو جاتی ہے جسے اس کی ضرورت ہو یا جس کے دل کے تاروں کو وہ چھو لے۔
میں فیصل فارانی کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو میرے دوست بھی ہیں نقاد بھی۔۔۔اور میری ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے میں ان کی محبت کی بارش سے اندر تک بھیگ جاتا ہوں۔
احمد رضوان  صاحب۔۔۔آپ کا بھی شکریہ کہ آپ کی مدیرانہ کوششوں کی وجہ سے یہ مکالمہ ہوا جو آپ کے میگزین مکالمے کی ادبی کرامت ہے۔
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل
۱۸ مئی ۲۰۱۹

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *