فلمیں ، ناول اور تیل کا کنواں۔۔۔۔علی اختر

میدان جنگ میں دونوں لشکر آمنے سامنے تھے ۔ منگولوں کے مقابلے میں خوارزم شاہ کا لشکر آدھا بھی نہیں تھا ۔ اس نے میمنہ اور میسرہ پر اپنے آزمودہ کار جرنیلوں کو مقرر کر دیا تھا ۔ تیر انداز مرکز میں اسکے ساتھ تھے ۔ گھڑسوار جو کہ  تعداد میں چند سو بھی نہیں تھے داہنی طرف ایک ٹولی کی شکل میں موجود تھے ۔ خوارزم شاہ جانتا تھا کہ  آج اگر مسلمانوں کو شکست ہو گئی  تو اس پورے خطے سے اسلام کا نام ختم اور وحشی منگولوں کا دور شروع ہوجائےگا ۔

جنگ شروع ہو گئی  ۔ منگولوں کے گھڑ سواروں نے رائٹ فلینک کو نشانہ بنایا ۔ صفیں تتر بتر ہو  گئیں ۔ منگول تعداد اور رفتار دونوں میں تیز تھے ۔ خوارزم شاہ نے گھڑ سواروں کی ٹولی رائٹ فلینک کی مدد کے لیئے ورانہ کی۔ تیر اندازوں کو منگول لشکر کے مرکز کی جانب تیر برسانے کا حکم دیا ۔ لیفٹ فلینک کو ریزرو میں رکھا ۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ  اسکی فوج زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر پائے گی ۔

ایسے حالات میں وہ کچھ دیر کو اپنے خیمے میں گیا ۔ اللہ سے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی ۔ “یا اللہ تو ہی غیب سے کچھ سبب کر دے ” ۔ وہ روتا رہا ۔

اچانک مشرق کی سمت سے گرد و غبار اڑنا شروع ہوا ۔ دونوں لشکروں میں سراسیمگی پھیل گئی  ۔ جنگ کا زور کچھ دیر کو تھم گیا ۔ خوارزم شاہی لشکر کی ہمت جواب دے چکی تھی ۔ لگتا تھا منگولوں کو تازہ دم کمک پہنچ چکی ہے ۔ اچانک قریب آتے لشکر نے منگول فوج کے مرکز پر ہلہ  بول دیا ۔ یہ خوارزم شاہ کا ناراض جرنیل الطغتل بیگ تھا جو کہ  کئی  ماہ پہلے اپنے چالیس ہزار سواروں کے ساتھ خوارزم شاہ سے ناراض ہو کر جا چکا تھا اور آج واپس آگیا تھا ۔ خوارزم شاہ کے باقی ماندہ سپاہی بھی منگول فوج پر بجلی کی مانند ٹوٹ پڑے اور بہت جلد میدان میں صرف منگولوں کی لاشیں اور فتح مند خوارزم شاہ کے پرچم بچے تھے (حوالہ ۔ آخری چٹان از نسیم حجازی )

بیس سال پہلے پندرہ اگست کو ایک ہنستے بستے گھر سے اچانک ماں ، باپ اور تین بچے الگ ہو جاتے ہیں ۔ باپ جیل میں ہے ۔ ماں بچوں کے غم  میں  اندھی ہو چکی ہے ۔ بیٹے بھی در بدر ہیں اور پھر بیس سال بعد ایک ایکسیدنٹ میں ماں زخمی ہوتی ہے تو اچانک اسکے تینوں بیٹے بیک وقت اسے خون دیتے ہیں ۔ پھر ایک قوالی کے پروگرام میں قوالی کی برکت سے ماں کی آنکھیں واپس آتی ہیں ۔ پتا چلتا ہے کہ  قوال اسکا بیٹا ہے ۔ پھر پولیس اسٹیشن جانے پر دوسرا بیٹا ملتا ہے جو پولیس آفیسر بن چکا ہے پھر تیسرا بھی مل ہی جاتا ہے ۔ پھر باپ بھی اور ساری بھابیاں بھی ۔ ان سارے اچانک اور پہ در پہ معجزات کے بعد وہ سب ہنسی خوشی باقی زندگی گزار دیتے ہیں ۔ ( ماخوز از فلم امر اکبر اینتھونی )

ایک ملک جس پر  ٹو کے جتنا قرضہ چڑھ  چکا ہے ۔ ملک آئی  ایم ایف کے پاس گروی رکھا جا چکا ہے ۔ ڈالر پر لگا کر اڑ رہا ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ تین سال کی پست ترین سطح پر ہے ۔ مختصراً بہت نازک صورت حال ہے ۔

اچانک اس ملک کی عوام کو نوید سنائی جاتی ہے کے بحیرہ عرب میں تیل کی تلاش کے لیے  کنوواں کھودا جا رہا ہے ۔ بالفرض تیل نہ بھی ہوا گیس تو لازمی نکل ہی آئے گی ۔ ہماری مشکلات حل ہو جائیں گی ۔ قوم دعائیں کرے ۔ نفل مان لے ۔ ہمارا قرضہ ختم ہو جائے گا ۔ قوم   جائے نماز  سنبھال کے بیٹھی  رہے ۔

اچانک غیر ملکی کمپنی کو کھودا گیا گڑھا واپس بھرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ جی گڑھے سے جھینگوں کے فوسلز اور قدیم نایاب نسل کی شارک کا ڈھانچہ برآمد ہوا ہے جو میوزیم میں نمائش کے لیئے رکھے جائیں گے ۔ باقی تیل وغیرہ نہ مل سکا ۔ سوری ( بحوالہ : بے خبر نیوز چینل 9 بجے والا بلیٹن )

تحریر توجہ سے پڑھنے  کا شکریہ ۔ بس بتانا یہ تھا کہ  معجزات پیغمبروں کے دور میں ہوتے تھے اور صحن سے دیگ برآمد ہونا ۔ دادا کے مرنے کے بعد پتا چلنا کہ انکے صندوق میں سونے کے اشرفیاں تھیں ۔ مشکل وقت میں لاٹری کا نکلنا ۔ صبح گھر کا دروازہ کھولتے ہی نوٹوں کا بیگ مل جانا ۔ گولی چلتے ہی ہیرو کے سامنے کسی اور کا آجانا ۔ ولن کی بندوق جام ہو جانا وغیرہ جیسی باتیں یا تو پرانی دو روپے والی عمر وعیار ، ٹارزن وغیرہ کی کہانیوں میں ہوتی تھیں ، یا پھر امیتابھ کی فلموں میں ۔ فی زمانہ مشکلات سے نکلنے کے لیے  معجزات کی نہیں بلکہ پراپر اور سیریس پلاننگ اور دور اندیش  قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو میسر وسائل کو بروئے کار  لاتے ہوئے اس مشکل صورتحال سے قوم کو نکال کر سرخرو کرے ۔ شکریہ ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *