برگد کا پیڑ۔۔۔محمد افضل حیدر

اُس کو مرے ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔۔ اسپتال کی ایمرجنسی سے ملحق ایک اسٹور نما کمرے میں اسٹریچر پر پڑی اس کی لاش کے اردگر د ایک نرس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔نرس ہاتھ میں ایک رجسٹر تھامے لاش کی کیفیت کو قلمبند کر رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کوہلوں تک بُری طرح کچلی گئی تھیں۔ہلکے ملگجی رنگ کی پتلون جگہ جگہ  سے مسک گئی تھی۔پنڈلیوں اور ران کے دونوں اطراف میں خون کے بڑے بڑے دھبے تھے۔سر کے داہنی طرف خون ابھی بھی رِس رہا تھا۔نیلے رنگ کی چیک کی شرٹ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔۔پاؤں میں مہنگے برانڈ کے جوتوں کا صرف ایک جوتا تھا۔لاش ایمبولینس میں رکھنے کے دوران ایک جوتا اسٹریچر کی راڈ سے اٹک کر نیچے سڑک پر گر گیا تھا۔وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔اسپتال کا عملہ اس کے بٹوے اور موبائل فون سے اس کے گھر رابطہ کرنے کی غرض سے لواحقین کے نمبر تلاش کر رہے تھے۔اس وقت اسٹریچر پر پڑا پینتیس برس کا وہ نوجوان احسن تھا۔دلکش و رعنا زندگی کی ہر اک ادا سے محبت کرنے اور کھل کر جینے والا احسن!

وہ سکول کالج اور یونیورسٹی کا ہر دل عزیز طالب علم تھا۔اس کے ہر ہم جماعت کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کے ساتھ دوستی کرے۔ وہ ٹیچرز کی بھی آنکھ کاتارا تھا۔سارا دن ڈیپارٹمنٹ میں اسی کا نام گونجتا رہتا۔یونیورسٹی کے دنوں میں تقریبا ً ہر دوسرے لیکچر میں کسی نہ کسی موضوع پرپروفیسر صاحبان کے ساتھ مدلل گفتگو اوربحث و مباحثہ کرنا اور جلدی ہار نہ ماننا اسے اساتذہ کی نظر میں ممتاز کرتا تھا۔اس کے گریڈز بھی بہت نمایاں رہتے۔۔بھاگ بھاگ کر اساتذہ اور اپنے کلاس فیلوز کے کام کرنے میں اسے روحانی خوشی ملتی تھی۔نوٹس کاپی کروانا،ٹیچرز کے گھروں سے ان کے لئے کھانا لانا،لائبریری سے مس پروین کی فرمائش پر کتابیں ڈھونڈ کر لانا۔سب سے پیسے اکٹھے کرکے حادثاتی پارٹیاں کرنا اس کے آئے روز کا معمول تھا۔

تعلیم سے فراغت،سرکاری نوکری،اور شادی کے بعد دو بچوں کی آمد سب کتنا تیزی کے ساتھ ہو گیا تھا۔وہ اپنی زندگی سے بے حد مطمئن تھا۔پڑھی لکھی،ملازمت پیشہ بیوی،خوبصورت بچے،اچھا روزگار،اپنا گھر،گاڑی،گھر کے ڈرائنگ روم کی دیواروں پر سجی چار ملکوں کی سیاحت سے بھرپور تصویریں۔۔اس کی زندگی میں کیا کچھ نہیں تھا۔وہ ان تمام نعمتوں پر اپنے رب کا شکر گزار تھا۔ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ وصول کرنے کے بعد وہ کوئی نہ کوئی نئی چیز گھر خرید کر لاتا اور اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا۔ابھی پچھلے ہفتے ہی وہ اپنے لئے چنیوٹی فرنیچر کی ایک ایزی چئیر خرید کر لایا تھا تاکہ مطالعہ کے دوران تھکنے پر اس پر تھوڑا سستا سکے۔نائلہ اور بچوں کا خیال کرکے اُسے دلی خوشی ہوتی۔بچوں کے لئے کھلونے اور بیوی کے لئے اچھے اچھے گفٹس لانا اسے طمانیت بخشتا۔ بیوی سے فرمائش کرکے طرح طرح کے چٹ پٹے کھانے بنوانا اور انہیں مزے لے لے کر کھانا اس کا آئے روز کا معمول تھا۔بات یہیں پر نہیں رُکتی تھی۔ہفتے میں ایک دو دن باہر سے پیزا،برگر،اور باربی کیو،گھر لے کر آنا یا بازار جا کر گھر والوں کے ساتھ پارٹی کرنا بھی اس نے اپنی عادت بنا لی تھی۔وہ زندگی سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونا جانتا تھا۔سال میں ایک بار پہاڑی علاقوں کی سیاحت بھی اس کی عادت تھی۔اس کے پاس اپنا مہنگا کیمرہ تھا جو اس نے پانچ سال قبل دبئی کی سیر و سیاحت کے دوران خریدا تھا۔وہ فطرت کے تمام دلکش مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیتا اور گھر آ کر اپنی نئی خریدی گئی ستر انچ کی ایل ای ڈی پر پوری فیملی کے ساتھ بیٹھ کر بہت مزے سے دیکھتا،ساتھ بیوی بچوں کو سفر کی تمام روداد بھی سناتا اور اس خاص تصویر کا مکمل پس منظر بھی کہ وہ کیوں اور کیسے کھینچی گئی تھی۔گلیوں بازاروں اور چوراہوں سے گزرتے ہوئے ریڑھیوں اور ٹھیلوں سے چٹ پٹے دہی بھلے،فروٹ چاٹ،سموسے،اور گول گپے کھانا اسے بے حد پسند تھا۔کوئی چیز زیادہ دل کو بھاتی تو اسے بیوی بچوں کے لئے بھی پیک کر وا لیتا۔

وہ ادب اورفنونِ لطیفہ کا بھی رسیا تھا۔میلوں ٹھیلوں،میوزک پروگرامز اور کنسرٹ پر جانا بھی اس کو اچھا لگتا تھا۔انگریزی ادبیات میں ماسٹر کرنے کے بعد اس کی ادب بینی میں بے حد اضافہ ہوا تھا۔ہومر،پی بی شیلے،ورڈزورتھ،جان کیٹس،چارلس ڈکنز،موپساں،ٹالسٹائی،جیمز ہلٹن ان سب کو اس نے زمانہ طالب علمی میں ہی پڑھ لیا تھا۔اُسے ورڈزورتھ ان سب سے زیادہ اچھا لگتا تھا کیوں کہ وہ اسے فطرت سے محبت کرنا سکھاتا تھا۔ان سب مغربی کہنہ مشقوں کے علاوہ وہ،غالب،اقبال،فیض،ناصر،فراز کی شاعری کو بھی پڑھ چکا تھا۔اس کو عبداللہ حسین کا اداس نسلیں،اور بانو قدسیہ کا راجہ گدھ بے حد پسند تھا۔وہ اکثر ان کرداروں سے متعلق بیوی نائلہ سے بحث بھی کرتا کہ بانو نے راجہ گدھ کے اند ر سیمی کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔زندگی کو بھرپور اندا زمیں جینے والی ایک شوخ اور چنچل لڑکی کا انجام اتنا بھیانک نہیں ہونا چاہیے تھا۔”ارے بھئی! انجام تو ان کا برا ہو جو زندگی اورفطرت کی دلکشی سے دور بھاگتے ہیں۔زندگی کو بوجھ اور لایعنی سی چیز خیال کرتے ہیں۔پتہ نہیں ہمارے رائٹرز ایسے کردار کیوں تخلیق کرتے ہیں جس میں رجائی کردارہی برُے انجام سے دوچار ہوں۔“نائلہ اس کی یونیورسٹی کے دنوں کی محبت تھی۔دونوں نے جلد ہی ہم جماعت سے ہم سفر بنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔وہ یونیورسٹی کے لان میں برگد کے پیڑ کے نیچے گھاس کے تنکوں سے کھیلتی نائلہ کو ”کہتا۔۔نائلہ یہ سچ ہے کہ تم میری پہلی محبت نہیں ہو۔مگر یہ اس سے بڑا سچ ہے کہ تم میری آخری محبت ہو۔تمہارے بعد شاید اب مجھے کسی سے محبت نہ   ہو۔نائلہ اس کی اس بات پر مسکرا کر رہ جاتی اور بڑی مشکل سے ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہتی چل جھوٹا! جو بندہ اتنا دل پھینک ہو وہ کبھی بھی کسی سے بھی محبت کر سکتا ہے۔۔!!“

وہ فطرت کے بے حد قریب ہونے کی وجہ سے پھولوں اور پودوں سے بھی محبت کرتا تھا۔اپنا گھر بناتے وقت اس نے نقشے میں لان کے لئے ایک اچھی خاصی جگہ مختص کی تھی۔وہ لان کم اور ایک نباتاتی باغ زیادہ لگتا تھا۔شاید ہی کوئی ایسا پودا اور پھول ہو جو اس کے لان میں موجود نہ ہو۔وہ صبح خیزی کا عادی تھا،صبح جلدی اٹھنا اور ننگے پاؤں گھر کے خوبصورت لان میں چہل قدمی کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔وہ فراغت پاکر پھولوں اور پودوں کی گوڈی کرتااور باقاعدگی سے ان کو پانی بھی لگاتا۔صبح ناشتے کی ٹیبل پر نائلہ سے کہتا:”نائلہ! ”مجھے ان پھولوں اور پودوں سے بے حد محبت ہے۔شائد اتنی جتنی اپنی سگی اولاد سے ہو۔۔صبح سویرے ان کو نہ دیکھوں تو دن اچھا نہیں گزرتا۔ان کو سینچنا ان کا خیال کرنا دل کو طمانیت بخشتا ہے۔یہ ایک روحانی خوشی ہے،ایسی خوشی جیسی عبادت کرکے یا کسی کی دلجوئی کرکے حاصل ہوتی ہے۔ان سے پیار کرکے ان کا خیال رکھ کر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہوں۔ویسے بھی یہ نباتات بھی جاندار چیزیں ہیں۔۔ہم انسانوں جیسی۔۔جاندار چیزیں۔۔یہ ہمیں دیکھتے ہیں،محسوس کرتے ہیں اور یقینا ً ہم سے پیار بھی۔۔خدا کی کسی مخلوق کا خیال رکھا جائے ان سے پیار کیا جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ہم سے پیار نہ کریں۔۔ نائلہ! باقی سب پھول اور پودے ایک طرف اور برگد کا پوداایک طرف۔۔مجھے میرے تمام پودوں کی نسبت برگد سے خاص اُنس ہے۔۔ایسا اُنس جو کسی سے پہلی محبت کے دوران ہوتا ہے۔ایک عجب طرح کی رومانیت کا احساس ہے اس میں۔۔گھنا گھنا سا بجھا بجھا سا۔۔ جیسے ہر ایک کو گھنی چھاؤں فراہم کرتے اس پیڑ کے سینے میں کئی دکھ پوشیدہ ہوں۔۔میری اس کے ساتھ انسیت کی وجہ فطری نہیں لگتی۔

ماضی میں جب اس کو دیکھتا تھا تو یہ ایک عام ساپودا محسوس ہوتا۔نہ کوئی کشش نہ خوبصورتی۔۔اس کے ساتھ لگاؤ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھا ہے۔۔ یہ لگاؤ اردو کے رومانوی ناولوں کو پڑھ کر زیادہ بڑھا ہے۔۔میں اس کلاسیکی ادب کو پڑھنے کے بعد سوچ میں پڑ جاتا کہ آخر ہر رومانوی جوڑا ہر کہانی میں برگد کے نیچے ہی کیوں بیٹھتا ہے۔۔اب ہمیں ہی دیکھ لو ہم یونیورسٹی کے دنوں اسی کی چھاؤں میں بیٹھا کرتے تھے۔اس کی گھنی چھاؤں نہ ہوتی تو ہم ایک نہ ہوتے۔۔ مجھے ہمارے برگد کے پیڑ کو دیکھ کر لگتا ہے یہ ہماری محبت کی نشانی ہے نائلہ! یہ پر وان چڑھے گا توہماری محبت پروان چڑھے گی۔۔ اسے مرجھانے مت دینا۔یہ مرجھا گیا تو ہماری محبت مر جائے گی۔۔“
”تم اتنے فلمی کیوں ہو رہے ہو۔۔بات کو کہاں سے کہاں لے آئے۔اور تو اور میرے حصے کی محبتیں اب پودوں اور درختوں پہ نچھاور کی جا رہی ہیں۔۔ایسا کرتے ہیں آپ کی چارپائی آج لان میں لگاتے ہیں کیونکہ گھر کے انسانوں سے محبت تو نبھائی نہیں جارہی۔۔ اب جن کا حق ہے ان کو ملنا چاہیے۔۔“نائلہ کے طنز پر وہ زوردار قہقہہ لگاتا اور کہتا:”بات تو ٹھیک ہے ویسے:رات کی رانی اور یاسمین کے ساتھ رو مانس کا چارم لفظوں میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا۔۔رنگوں اور خوشبوؤں سے بھرپور رومانس۔۔کیسا زبردست تجربہ ہوگا ویسے؟“ ”اب تم مجھ سے پٹو گے۔۔جلدی سے ناشتہ کرو اور آفس جاؤ۔۔“ ”اچھا بابا اچھا ناراض نہ ہو۔۔میرے آنگن کا حقیقی پھول۔۔اور میرے دامن کی حقیقی خوشبو تو صرف تم ہو۔۔باخدا تم ہو۔۔“
”چلو اب جھوٹ مت بولو۔۔آفس جاؤ۔۔نائلہ زیر لب مسکراتی اس سے جان چھڑاتی نظر آتی۔۔“

گھر کے مرکزی صحن میں پڑی اس کی لاش کے چاروں اطراف عزیز و اقارب اور محلے کی عورتوں کا ہجوم تھا۔ باہر لان میں مرد چا ر پائیوں پر براجمان تھے۔۔ہر ایک آنکھ اشکبار تھی۔ہر کوئی احسن کی اچانک موت پر سخت صدمے میں تھا۔احسن کے باپ اور بھائیوں سے لوگ گلے لگ لگ کر رو رہے تھے۔کچھ لوگ شہر میں آئے روز ہونے والے ٹریفک حادثات پر گفتگو کر رہے تھے۔گھر کے افراد آج اس کے گاڑی کی بجائے موٹر سائیکل پر کالج جانے پر رنجیدہ تھے۔۔بچے سکول سے گھر آچکے تھے۔وہ گھر میں اتنے سارے لوگوں کی موجودگی پر حیران حیران پھر رہے تھے۔وہ والد کی موت سے لا علم تھے۔شعور کی نا پختگی کی وجہ سے وہ یہ جاننے سے قاصر تھے کہ سب کے چہرے اتنے رنجیدہ کیوں ہیں۔۔اور ان سے محبت کرنے والا باپ گھر کے صحن میں بے حس و حرکت پڑا ہے۔

نائلہ سخت صدمے سے دوچار تھی۔دیوار سے ٹیک لگائے اور گھٹنوں میں سر دبائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ احسن اسے یوں اچانک چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جا چکا ہے۔احسن کا ہر پل کا مسکراتا چہرہ اس کے دل و دماغ پر گہری چوٹ لگا رہا تھا۔وہ اس وقت یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ احسن کے بغیر زندگی کیسی ہوگی،بلکہ یہ سوچ رہی تھی کہ اس کے ساتھ گزری اس کی زندگی کیسی تھی۔ایک ایسا مخلص اور محبتوں سے بھر پور جیون ساتھی جس نے سارے جہان کی خوشیاں سمیٹ کر اس کے دامن میں ڈال دی تھیں۔وہ سوچ رہی تھی ایسی کو ن سی خواہش تھی جواس نے پوری نہ کی ہو۔قدرت کی تمام نعمتیں اور رعنائیاں وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر گھر لاتا اور انہیں بیوی بچوں پر نچھاور کرتاچلا جاتا۔۔ابھی پچھلے سال دسمبر میں مری کے برف پوش پہاڑوں پر برف سے ڈھکے ٹریک پر چلتے ہوئے اس نے نائلہ کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔”نائلہ! مجھے ان حسیں وادیوں کی قسم تم میری ازلی محبت ہو۔ایسی پاکیزہ اور خالص محبت جو اپنے خدا سے کی جاتی ہے۔ایسی محبت جس میں انسان بچوں کی طرح سوچتا ہے کہ جو چیز میری ہے اسے کوئی اور نہ دیکھے۔۔ایسی محبت جس میں محبوب کے چھن جانے کے بعد زندگی کا کوئی تصور نا ہو۔۔ایسی محبت جو شہد سے میٹھی اور سمندروں سے گہری ہو۔۔اور ماں کے پیار کی طرح خالص۔۔!!

میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سُنا کہ شادی کے بعد محبت،محبت نہیں رہتی ایک عام سی ضرورت بن جاتی ہے۔۔مگر میں ان وادیوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں۔۔میری محبت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے۔۔میری محبت نا ضرورت ہے اور نا مجبوری۔۔بلکہ ایک ضد ہے اور انا بھی۔۔ایسی ضد اور انا کہ جس میں پہلی شرط صرف محبوب ہو۔۔ایسا محبوب جو سانسوں میں شامل اور دھڑکنوں میں غلطاں ہو۔ایسا محبوب جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نا ہو۔تم میرے لئے ویسا ہی محبوب ہو نائلہ۔۔بالکل ویسا محبوب۔۔!!“
اس کی ایسی ہی سینکڑوں باتیں پرچھائی بن کر اُس کا پیچھا کر رہی تھیں۔وہ ابھی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھی کہ احسن ا س کو اکیلا چھوڑ کر کبھی نہ لوٹ کر آنے والے سفر پر روانہ ہوچکا ہے۔وہ بچوں سے زیادہ اپنے حوالے سے فکر مند تھی،اس کو اپنا وجود ایک بوجھ لگنے لگا تھا۔وہ اب سے پہلے احسن کے ساتھ گزری ایک آزاد اور بے فکر زندگی کی عادی تھی۔ اس کے کان احسن کی میٹھی آواز کے رسیا تھے۔ جب وہ ہر شام آفس سے گھر آنے کے بعد اس کا نام پکارتا تو اس کے لہجے کی مٹھاس اس کے رگ و پے میں سرائیت کر جاتی تھی۔اب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔اب وہ ایک د م اکیلی تھی۔بالکل اکیلی۔اُسے اپنے وجود میں بہت کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہاتھا۔وہ خود کو کسی بے آب و گیاہ صحرا میں زندگی کو دھونڈتی نظر آ رہی تھی۔۔۔ایسا بے آب و گیاہ صحرا جہاں بار بار پکارنے پر بھی کوئی آواز نہیں سُنتا۔

احسن کو اس سے بچھڑے اب چار  ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا تھا۔وہ اپنے گھر سے والدین کے گھر منتقل ہو چکی تھی۔ وہ ابھی بھی صدمے کی کیفیت میں تھی۔چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں رتجگوں کے گہرے سائے تھے۔گھر والے تسلیاں دینے کے بعد کہتے احسن کو بھولنے کی کوشش کرو۔اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا،وہ سنتی سب کی تھی مگر جواب کسی کی بات کا نہیں دیتی تھی۔
آج احسن کے والدین نائلہ کے ابو کے گھر آئے تھے۔نائلہ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی رہی اور پھر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔شام کے کھانے کے بعد دستر خوان پھر احسن کے ابو نائلہ کے والد سے گویا ہوئے”۔۔۔بھائی صاحب! احسن کی نا گہانی موت کا صدمہ ہم دونوں خاندانوں پر کسی قیامت سے ہر گز کم نہیں۔مجھے یقین ہے یہ صدمہ آپ کے خاندان کے لئے ہم سے ذرا بھرکم نہیں۔۔موت بر حق ہے اس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔افسوس اس بات کا ہے کہ وہ بہت جلدی چلا گیا۔جانے کی ہماری باری تھی مگر۔۔خیر!اس کی موت کا دکھ اگر ہمارے برابر یا ہم سے بڑھ کر کسی کو ہے تو وہ نائلہ ہے۔نائلہ کی کیفیت کو لفظوں میں بیان کرناممکن نہیں ہے۔وہ سخت صدمے سے دوچار ہے۔اُس کے اوپر قیامت ٹوٹی ہے۔ایسی قیامت جس کے لئے وہ تیار نہیں تھی۔ہم بڑے ہیں ہم نے مل کر اُ سے اس کیفیت سے نکالنا ہے نہیں تو وہ مر جائے گی۔۔احسن کے گھر کو لگا تالا بھی میری جان نکالتا ہے۔میں نہیں چاہتا میرے بچے کے بیوی بچے اس کے جانے کے بعد کسی تکلیف میں رہیں۔میں اس کے کھنڈر بنتے گھر کو آباد دیکھنا چاہتا ہوں۔اور نائلہ کو پھر سے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔میں کبھی نہیں چاہوں گا۔میرے بچے کے چلے جانے کے بعد ہم دو خاندانوں کا تعلق ختم ہو یا ٹوٹنے کے قریب چلا جائے۔ میں یہ تعلق پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔احسن کی اپنی زندگی میں بھی ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ ہم دونوں خاندان ایک دوسرے کے قریب آئیں۔بات لمبی ہو رہی ہے مختصر یہ کہ میں نائلہ کے لئے اپنے چھوٹے بیٹے مبشر کا ہاتھ ما نگنا چاہتا ہوں۔عدت کے دن پورے ہوگئے ہیں۔چاہتا ہوں خاموشی کے ساتھ دونوں بچوں کا نکاح کر دیا جائے۔۔“

نائلہ کے والدجو سر جھکائے سنجیدگی سے احسن کے ابو کی باتیں سن رہے تھے۔ ایک سر د اور گہری آہ بھرنے کے بعد گویا ہوئے:”حاجی صاحب میں آپ کی تمام کی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔اتنی لمبی زندگی اکیلے   کسی صورت گزاری نہیں جا سکتی۔والدین بھی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے۔کل کو بچوں کو خود ہی اپنا بوجھ اٹھانا ہوتا ہے۔میں خودبھی نائلہ کی حالت کو دیکھ دیکھ کر اندر سے ٹوٹ رہا ہوں۔احسن بلا شبہ ایک نیک دل اور پیار کرنے وال انسان تھا۔جس نے نائلہ کا اپنی ذات سے بڑھ کر خیال رکھا۔اس جیسے پیار کرنے والے شریک حیات کو فراموش کرنا آسان کام نہیں ہے۔پھر بھی اسے اس کیفیت سے نکالنا ہم بڑوں کی ہی ذمہ داری ہے۔۔نائلہ صدمے میں ہے اس سے پوچھے اور اجازت لئے بغیر ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔“

”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی صاحب!نائلہ سے اس کی مرضی پوچھنا بے حد ضروری ہے۔میرے خیال میں آپ اُسے یہیں بلا لیں۔اس سے اجازت لے لیتے ہیں اور پھر جلد ہی کسی مبارک دن نکاح کا وقت مقرر کر لیتے ہیں۔نائلہ کمرے سے آنے کے بعد اپنی ساس کے پاس بیٹھ گئی۔کچھ پل کے توقف کے بعد نائلہ کے ابو نے بات شروع کی۔”بیٹا! حاجی صاحب اور میری بہن آئی ہیں آپ سے ملنے۔۔ہم سب احسن اور آپ کے متعلق باتین کر رہے تھے۔ہم آپ کے حوالے سے بہت پریشان ہیں۔۔احسن اس دنیا میں نہیں؛ابھی بھی یہ بات کرتے وقت کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔۔مجھے اندازہ ہے آپ کے لئے اس حقیقت کو قبول کرنا بہت مشکل ہے۔اتنا اچھا جیون ساتھی یوں ساتھ چھوڑ جائے۔۔کسی بہت بڑی قیامت سے ہر گز کم نہیں۔
بیٹا! بہت لمبی زندگی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی ذمہ داری ہے،حقوق ہیں۔۔گھر میں والد یا ایک مرد کی سرپرستی کے بغیر ان کی پرورش ممکن نہیں۔۔والدین بھی اڑتے پنچھی ہیں۔۔کوئی پتہ نہیں کب اُڑجائیں۔۔نفسا نفسی کا عالم ہے۔۔زندگی کا بوجھ اپنے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھاتا میرے بچے۔۔تمہیں خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔۔حالات کو دیکھ کر حقیقت پسندانہ سوچ اپنانی ہوگی۔۔حاجی صاحب احسن سے چھوٹے مبشر مجید کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنا چاہتے ہیں۔۔تم پڑھی لکھی اور صاحب بصیرت ہو۔مجھے بڑا مان ہے تم پر۔۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں تم ہم بزرگوں کا بھرم رکھو گی اور انکار نہیں کروگی۔“

نائلہ سپاٹ اور بے تاثر چہرے کے ساتھ والد کی پوری بات خاموشی سے سنتی رہی،منہ سے کچھ نہ بولی مگر اُس کی آنکھوں سے ضبط نہ ہوسکا اوروہ چھلکنے کے بعد اُس کے دل کی پوری کیفیت کو بیان کر گئیں۔وہ بدستور سر جھکائے وہاں بیٹھی رہی اور دوپٹے کے ایک کونے کو ہاتھوں کی انگلیوں کے ساتھ مسلتی رہی۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نائلہ کی ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور احسن کے ابو کو مخاطب کرکے بولیں:آپ اس جمعہ کو شادی کی تیاری کریں بھائی صاحب نائلہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اُس دن وہ ایک بار پھر عروسی لباس میں ملبوس تھی۔ہلکے میرون رنگ کا لہنگا۔ آج اس نے یہ جوڑا خود اپنی مرضی سے زیب تن کیا تھا۔اس جوڑے کے ساتھ اُس کی کئی یادیں جڑی تھیں بہت شیریں یادیں۔۔اسے اب بھی یاد تھا احسن نے شادی کی چیزوں کی خریداری کرتے وقت اسے فون کیا تھا۔”نائلہ:کونسے رنگ کا لہنگا خریدوں تمہارے لئے۔۔اس نے لجاجت سے کہا تھاجو رنگ آپ کو اچھا لگے وہ خرید لیں میں خوشی خوشی پہن لوں گی۔مجھے تو میرون رنگ پسند ہے میری جان!اس رنگ میں عجب سی اپنائیت ہے۔گلاب کی سی شوخی اور لہو جیسا جوش۔۔میرے خیال میں محبت کا کوئی نمائندہ رنگ ہے تو وہ یہی ہے۔“
”تم بھی نہ ہر بات میں رومانس ڈھونڈ لیتے ہو احسن۔۔!تمہیں فلموں میں ہونا چاہیے تھا پتہ نہیں ٹیچر کیوں بن گئے۔وہ اس کی اس بات پر ہنس دیا تھا۔۔

رخصتی کے بعد اُس نے مبشر کو احسن کی قبر پر جانے کا کہا۔عروسی لباس میں ملبوس دلہن کو قبرستان میں دیکھ کر لوگ حیرت میں مبتلا ہو رہے تھے۔اس دن گرمی معمول سے کچھ زیادہ تھی۔دن کے پچھلے پہر کا سورج ابھی بھی خاصا گرم تھا۔۔ہوا میں لوُ کا احساس تھا۔۔قبرستان میں گرد اُڑ رہی تھی۔احسن کی قبر کی مٹی کافی خشک ہو گئی تھی۔قبر کے درمیان میں ایک خود رو جھاڑی بھی اُگ آئی تھی۔قبر کے سرہانے گلاب کے پھولوں کی چند سڑی ہوئی پتیاں پڑی تھیں جن کو دوماہ پہلے احسن کو دفنانے کے بعد قبر پر ڈالا گیا تھا۔نائلہ قبر کے سامنے کچھ دیر خاموش کھڑی رہی اسی اثنا میں  تند و تیز ہوا کا ایک گرم اور گرد آلود جھونکا آیا اور کافی ساری گرد قبرستان میں موجود لوگوں کے وجود پر ڈال کر چلا گیا۔مبشر نے نائلہ کا کندھا تھپتپایا اور وہ وہاں سے چل دیے۔۔ وہ لوگ گھر پہنچے اور دیکھا کہ لان کی گھاس کافی حد تک جل چکی تھی۔ مرجھائے پھول ٹہنیوں کے ساتھ لٹک رہے تھے۔ برگد کا پودا سوکھ کر کانٹا بن چکا تھا۔ نائلہ نے ایک ثانیے رُک کر برگد کی طرف دیکھا اور ایک جملہ اس کے دماغ میں دستک دینے لگا۔۔”نائلہ اس برگد کو مرجھانے مت دینا یہ مر جھا گیا تو ہماری محبت مر جائے گی“۔۔
اس نے ایک سرد آہ بھری اور مبشر کا ہاتھ تھامے آگے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔!!

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *