آداب سے عاری رویہ۔۔۔۔۔۔علی اختر

اتفاق سمجھیے کے مکالمہ پر لگنے والا میرا آخری مضمون “کچھ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے” بھی گفتگو کے آداب کے بارے میں ہی تھا ۔ کل  ایک افسوسناک واقعے میں جناب محترم قمر زمان کائرہ صاحب کا بیٹا ایک ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گیا اور اس افسوسناک موقع پر ہمارے رویوں نے اس پچھلے مضمون کے موضوع کو مزید تقویت دی ۔

پہلا افسوسناک اور انتہائی مایوس کن بلکہ ادب سے عاری رویہ اس صحافی کی جانب سے تھا جس نے انہیں خبر سنائی ۔ بیچ پریس کانفرنس میں بیٹے کے ایکسیڈنٹ کی خبر ایک بریکنگ نیوز کی طرح سنائی  گئی  ۔ جو کہ  کسی بھی طرح سے مناسب نہیں تھا ۔ پھر دوسرا افسوسناک رویہ سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا جہاں کچھ لوگوں بلکہ نوجوانوں کی جانب سے بجائے افسوس کرنے کے یا  خاموشی اختیار کرنے کے قمر صاحب  کےبیٹے  کی المناک موت کو کرپشن سے جوڑنے کی کوشش کی اور دوسرے الفاظ میں خوشی کا اظہار کیا کہ  اچھا ہوا بہت کرپشن کی تھی اب بھگتو ۔

انسانی تربیت سب سے پہلے اسکی ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ۔ گھر کے بعد نمبر آتا ہے ان تدریسی اداروں کے استادوں کا اور ماحول کا جہاں اس نے تعلیم حاصل کی اور پھر وہ جگہ جہاں وہ گھر سے بھی زیادہ وقت گزارتا ہے یعنی اسکی کام کی جگہ دفتر ، دکان وغیرہ ۔ جب کوئی  انسان آپ کے سامنے کوئی  گھٹیا  اور آداب سے یکسر عاری رویہ اختیار کرے، فحش گوئی یا اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدسلوکی کرے تو سمجھ جائیں کہ  اس ساری تربیت میں کہیں نہ کہیں کھوٹ موجود ہے ۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کسی کی میت پر جا کر لطیفے سناتے ہیں ۔ ہنستے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ  اچھا ہوا مر گیا ۔ یقینا ً کوئی  نہیں بلکہ مرنے والا اگر گنہگار بھی ہو تو کہا جاتا ہے میت پر اچھی باتیں ہی دہرا نی چاہئیں یہ سب ادب و آداب کی باتیں ہیں ۔ کسی کو بری خبر دینی ہو تو کیسے دی جائے ۔ اگر وہ بلندی پر ہو تو نیچے بلا لیا جائے ۔ اگر کسی کام میں مصروف ہو ۔ گاڑی چلا رہا ہو ۔ کسی مشین کو آپریٹ کر رہا ہو تو پہلے تسلی سے اس کام سے الگ کر کے بٹھایا جائے ۔ پھر اسے خبر دی جائے کہ مبادا اس بری خبر کو سن کر وہ کسی حادثہ کا شکار نہ ہو جائے ۔ یہ سب انسان تربیت سے ہی سیکھتا ہے ۔

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  ہماری سیاسی قیادت نے خود اسٹیج پر مخالفین کو گالیاں دے کر اپنے فالورز کی وہ نسل تیار کی ہے جو دلیل کے بجائے گالی کا اصول اپنائے ہوئے ہے ۔ دوسری طرف چند نام نہاد مولوی حضرات نے بھی منبر سے مغلظات اور تشدد کا پیغام عام کیا ہے ۔ مجھے افسوس ہوا جب میں نے ایک پاکستانی یوٹیوبر کے ملین کے قریب سبسکرائبر دیکھے اور وڈیو کھولی تو گالیاں الزامات اور فضولیات کے علاوہ کچھ نہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ  انتہائی سنجیدہ بنیادوں پر سیاسی و مذہبی لیڈر، اساتذہ، والدین ، اداروں کے منتظمین اپنے ورکرز ، طلبہ ، ماتحتوں وغیرہ کی ناصرف اخلاقی تربیت پر توجہ دیں بلکہ اپنے عمل اور مختلف واقعات  پر رد عمل کے طور پر ایسا رویہ اپنائیں جو انکے فالورز کے لیے  اچھی تعلیم و تربیت کا سبب بنے ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *