• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دتہ ڈکیت پارلیمانی پارٹی اور وزیر اعلی پنجاب ۔۔۔عامر عثمان عادل

دتہ ڈکیت پارلیمانی پارٹی اور وزیر اعلی پنجاب ۔۔۔عامر عثمان عادل

کچھ عرصہ قبل پنجاب اور آزادکشمیر میں دتے ڈکیت کی دہشت چھائی   ہوئی تھی، ظالم اتنا نڈر تھا جہاں ڈاکہ ڈالتا گھنٹوں کے حساب سے وقت گزارتا ،گھر والوں کو محبوس بنا کر فرمائشی کھانے بنوا کر کھاتا لیکن چھلاوے کی مانند غائب ہوجاتا۔ پولیس نے اس کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی تھی، اس نے کئی شادیاں کر رکھی تھیں اور لاہور میں ان بیگمات کو الگ الگ کوٹھیاں خرید کے آباد کر رکھا تھا۔
گجرات کے نواحی قصبہ جکھڑ کے معروف خاندان کے گھر بھی اس نے ڈکیتی کی ہولناک واردات کے دوران لاکھوں روپے کا سامان لوٹا اور فرار ہو گیا ۔جاٹ گھرانے کے غیرت مند سپوت چودھری غضنفر جکھڑ نے اس کی گرفتاری کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور دن رات ایک کر کے بالآخر لاہور پولیس کے ہاتھوں اسے گرفتار کرانے میں کامیاب رہے۔ اسکی گرفتاری اور گجرات پولیس کو حوالگی اہلیان تھانہ ککرالی کیلئے کسی بریکنگ نیوز سے کم نہ تھی۔

تھانہ ککرالی کا مہمان بنا تو اتنے خطرناک مجرم کو حفاظتی نقطہ نظر سے تھانے کی بجائے بنیادی مرکز صحت فرخ پور میں رکھا گیا جہاں اس کے پہرے پر صرف ایک سپاہی مامور تھا۔
میں اس وقت کے ڈی پی او گجرات راجہ منور حسین سے ملا اور ان کی توجہ دلائی کہ نہ تو دتہ ڈکیت سے برآمدگیاں کروائی  جا رہی ہیں اور نہ ہی اس کا پہرا کڑا ہے۔ لاہور پولیس نے کئی کلو خالص سونا بھی اس سے برآمد کر کے گجرات پولیس کے حوالے کر رکھا ہے ،ڈی پی او پر واضح کر دیا کہ دتہ فرار ہو جائے گا۔

اور ٹھیک دو دن بعد خبر آ گئی  کہ دتہ ڈکیت فرخ پور بی ایچ  یو  سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور مزے کی بات یہ تھی کہ اس کے پہرے پر کھڑا پولیس کانسٹیبل بھی ساتھ غائب تھا۔
اس سے اگلے ہی دن ہمیں لاہور سے بلاوا آ گیا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بسلسلہ بجٹ منعقد ہو رہا ہے  ،تمام ایم پی ایز لاہور پہنچیں۔
الحمرا ہال حکومتی پارٹی کے ایم پی ایز سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی اپنی کچن کیبنٹ کے ہمراہ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے ،ایم پی ایز کو خوش آمدید کہا اور نئے مالی سال کے بجٹ اور پالیسیوں پر مفصل خطاب فرمایا اور آخر میں ایم پی ایز کی رائے لینے کیلئے  ہاوس کو اوپن کر دیا ،اپنی اپنی باری پر ایم پی ایز کھڑے ہوتے ،بجٹ پر رائے دیتے جاتے۔
حلقہ پی پی 115 کھاریاں کے ایم پی اے کے پاس مائیک آیا تو وہ یوں گویا ہوا۔۔۔۔
” جناب وزیر اعلی آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے ہمیں رائے دینے کے قابل جانا ،میرے فاضل دوستو  نے بجٹ پر اپنی قیمتی تجاویز پیش کی ہیں لیکن جناب مجھے آج بجٹ پر کچھ نہیں سوجھ رہا کیونکہ میرے حلقہ انتخاب کے تھانہ ککرالی کی پولیس نے سونے کے لالچ میں ایک خطرناک ڈاکو کو فرار کروا دیا ہے جسے لاہور پولیس نے بڑے جتنوں سے گرفتار کر کے گجرات پولیس کے حوالے کیا تھا اور ستم یہ کہ ابھی دو دن پہلے میں نے ڈی پی او گجرات سے اس خدشے کا اظہار کر دیا تھا کہ وہ فرار ہو جائے گا اور وہی ہوا۔۔
جناب ! یہ ڈاکو نہیں درندہ تھا جو گھروں کو لوٹنے کے ساتھ عفت مآب خواتین کی عزت و ناموس پامال کیا کرتا تھا۔
جناب وزیر اعلی پنجاب!
میرے حلقہ کی وہ مظلوم بہنیں بیٹیاں جن کی عزت کی چادر اس درندے نے تار تار کی تھی آج مجھ سے اور آپ سے سوال کرتی ہیں کہ ہمارے سروں پہ چادر کون رکھے گا ؟ کون ہماری لٹی عصمتوں کا مداوا کرے گا؟ کون ہمیں انصاف فراہم کرے گا ؟ اس ننگ انسانیت کو چند ٹکوں کی  خاطر بھگانے والوں کا محاسبہ کون کرے گا “؟
ایم پی اے خاموش ہوا تو پورے ہال میں سناٹے کا راج تھا ۔الحمرا کے یخ بستہ ہال میں اسٹیج پر براجمان وقت کے وزیر اعلی کی پیشانی پسینے سے بھیگی ہوئی  تھی جسے وہ ٹشو پیپر سے بار بار پونچھتے  ہوئے   ساتھ بیٹھے وزیر قانون کو مخاطب کر کے پوچھنے لگا کہ نوٹ کریں کس تھانے کا معاملہ ہے۔
اس کے بعد باقاعدہ وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ بھی تو دیکھیں ہم نے گجرات میں لا اینڈ آرڈر کی صور تحال کو کیسے بہتر کیا ہے کتنے اشتہاری گرفتار ہوئے۔۔
میٹنگ ختم ہوئی  تو بہت سے ایم پی اے کھاریاں کے اس عاجز ایم پی اے کو گھیرے داد دینے میں لگے تھے کہ کمال کر دیا آپ نے خوشی ہوئی  کہ اتنی جرات سے آپ نے بات کر دی۔
اور وہ نمائندہ دل ہی دل میں ان سب سے کہہ رہا تھا کہ آپ بھی تو زبان کھولا کریں، ہمارے حلقوں کے لوگ ہمیں ووٹ ہی اس لئے دیتے ہیں کہ حاکموں کے سامنے ان کی آواز بن کر ابھریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *