مبادی تدبر سنت(ال میزان)۔۔ محمد حسنین اشرف

تدبر سنت کے عنوان کے تحت پہلے اصول کی شرح و وضاحت پچھلی نشست میں کی جاچکی ہے۔ دوسرا اصول جو المیزان میں استاد نے بیان کیا ہے:

سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہوگا۔ 

یہ بڑی واضح سی بات ہے اسکے لئے کوئی لمبی چوڑی بحث درکار نہی۔ سنت جس چیز کو ہم کہینگے وہ چیز عملی زندگی سے تعلق رکھتی ہوگی اور وہ عملی چیز ہوگی۔ مثال کے طور پر ختنہ وغیرہ۔ 

کیونکہ سنت، راستے، طریقےکو کہتے ہیں عربی لغت میں اسکے معنی پٹے ہوئےرستے کے ہیں۔ اسلئے کوئی بھی ایمانیات سے متعلق چیز سنت میں شامل نہی ہوسکتی۔ 

قران مجید میں بھی سنتہ اللہ، یعنی اللہ کا طریق یا اللہ کی سنت کو انہی معنیٰ میں بیان کیا گیا ہے۔

نبیﷺ نے بھی جب احادیث میں اسکا ذکر کیا ہے تو ارشاد فرمایا ہے۔ 

حضرت انس بن مالکؓ(۹۳ھ)کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا : “اَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي”۔ (بخاری،بَاب التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ، حدیث نمبر:۴۶۷۵،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:میں روزے رکھتا اور چھوڑتا بھی ہوں،تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کیے ہیں، جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں۔ اس حدیث میں آپﷺ نے اپنے طریق کو سنت کے لفظ سے بیان فرمایا ہے۔ 

یہاں سنت کے لفظ کے ساتھ جتنے اعمال چنے گئے وہ سب، عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں کم و بیش یہی بات بیان ہے۔ 

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ: “اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ،الخ”۔ (ابو داؤد،بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْقَصْدِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر:۱۱۶۲،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:نبیﷺ نے کسی کو حضرت عثمان بن مظعون کو بلانے کے لیے بھیجا، حضرت عثمانؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے کہا اے عثمان! کیا تم میری سنت سے ہٹنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں! خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ؛بلکہ میں آپ کی سنت کا طلب گار ہوں، آپ نے فرمایا:میں سوتا بھی ہوں اور نماز کے لیے جاگتا ہوں،روزے بھی رکھتا ہوں اور انہیں چھوڑتا بھی ہوں ۔

یعنی نبیﷺ کے اقوال اور تقریر کے لئے سنت کا لفظ نہی بولا جاسکتا کیونکہ وہ اپنے معنیٰ میں اس سے ابا کرتا ہے۔

تیسرا اصول: 

کوئی بھی عمل جسکا ماخذ قران ہو وہ سنت نہی ہوسکتا۔ 

نبیﷺ نے بہت سارے ایسے اعمال کئے جنکا اصلی ماخذ قران تھا۔ چونکہ اب ماخذ قران ہے تو یہ قرانی حکم ہوگا جسکے نبیﷺ نے عمل جامہ پہنایا۔ مثال کے طور پہ نماز قران سے ثابت ہے۔ تو نبیﷺ نے نماز پڑھی، قران نے چور کا ہاتھ کاٹنے یا جہاد کا حکم دیا اور آپ نے اپنے عمل سے ان چیزوں میں حصہ لیا تو یہ چیزیں صرف نبیﷺ کے عمل سے سنت نہی بن جائینگی کیونکہ اسکا اصل ماخذ تو قران مجید ہے۔

ہاں اس قسم کے عمل کو ہم اسوۃ حسنہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن سنت نہی۔ مثال کے طور پر دین ابراہیمی کی تجدیر اور تصویب کا کام نبیﷺ نے کیا قران نے اس موکد کردیا تو یہ لازماَ سنن ہونگی۔ جسکی بحث پہلی نشت میں ہوچکی ہے۔

اسلئے استاد نےجو جملہ لکھا ہے وہ بات کی وضاحت کردینے کے لئے کافی ہے “سنت صرف انہی چیزوں کو کہا جائےگا جو اصلاََ نبیﷺ کے قول و فعل اور تقریر تصویب پر مبنی ہیں۔ انہیں قران کے کسی حکم پر عمل یا اسکی تفہیم و تبین قرار نہی دیا جاسکتا” 

کیونکہ عمل اپنی اصل میں نبیﷺ کی ذات سے پھوٹ رہا ہے نہ کہ اس کی اصل قران مجید ہے۔ اسلئے اسے سنن کا حصہ بنایا جائے۔

توضیحاََ اشارہ: 

ایک بات ضروری سمجھ لینے کی ہے کوئی بھی چیز سنت میں داخل تب ہی ہوگی جب ان سات اصولوں پر پوری اترے گی مثال کے طور پر، کسی چیز کا دین ہونا یا نبیﷺ کا دین قرار دینا اسے سنن میں شامل نہی کردے گا۔ 

عین ممکن ہے وہ علمی نوعیت کی چیز ہو تو دوسرے اصول نے اسکو سنن کی بحث سے خارج کردیا ہو۔ وہ پہلے اور دوسرے اصول پر عین پوری اترتی ہو لیکن تیسرے اصول یا چوتھے اصول نے اسے سنن کی بحث سے خارج کردیا ہون۔ 

مثال کے طور پر ختنہ تطہیر بدن کی چیز ہے، یہ عملی زندگی کی چیز ہے، اور اسکا ماخذ قران بھی نہی، یہ پورے تینوں اصولوں پرپورا اترتی ہے اسلئے یہ سنن کی بحث میں شامل ہے لیکن عین ممکن ہے کہ چوتھا اصول اسے خارج کردے یا پانچواں یا چھٹا یا ساتواں؟ یا پھر یہ سنن میں شامل ہوجائے۔ 

واللہ عالم۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *