• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔محمداقبال دیوان/ساتویں ،آخری قسط

پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔محمداقبال دیوان/ساتویں ،آخری قسط

یہ کہانی ہمارے مشفق و مہرباں دیوان صاحب کی ”تیسری کتاب پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ“کی فلیگ شپ اسٹوری ہے۔ ہم سات اقساط پر مبنی یہ کہانی مکالمہ کی  دوست پروفیسر نویدہ کوثر، کی فرمائش پر شائع کرر ہے ہیں۔ امید ہے پسند آئے گی چیف ایڈیٹر۔انعام رانا

تعارف

پروفیسر نویدہ کوثر
فیصل آباد
اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ۔
بے مثال کہ محبت کی اتنی دلنشین صورت پہلے کبھی پڑھی ہی نہیں بالکل ایسے جیسے سرمئی سی شام ہو،دودھیاصبح کی مسکرا ہٹ میں غنودگی کا رس بھرا ذائقہ ہو،جیسے بادل زمین پہ اتر آئے اور کسی کو آغوش میں لے ،بھگو کر شرارت سے مسکاتا چلا جائے۔
اس سحر آفرین کہانی میں تو محبوب ایک طرف رہا،خود عاشق بھی ایسا ہے کہ جس پہ عشق عاشق ہو جائے؎۔۔۔۔جنون اسے باہوں میں بھر لے اور اپنی بیخودی کا مزہ چکھ لے۔
ان گنت رنگوں کی بارش سے رنگا یہ عاشق کمال ہے کہ شرابور ہو کر بھی سوکھے چمک دار سپید لباس میں اجلے پن کی مثال ہے۔۔محبوب کی نسائیت اور حسن فتنہ ساز کا بیان مرد تو مرد۔خواتین کے دل کے ساز پر بھی استاد ولایت حسین کا راگ شنکراسنوا دیتا ہے۔۔یہ عالم کہ گدگدا ہٹ اور اکساہٹ میں ایسی نزاکت بھر ا سراپا سمو کر رکھ دیا ہے کہ سسکی کو چٹکی میں بھر کر اس بدن پہ پھونک دو تو نیل پڑ جائے۔۔آپ نے ایسا دیکھا کبھی۔نہیں ناں۔ چلیں بسم اللہ پڑھ کر چلتی گاڑی میں سوار ہوجائیں اور یہ نظارے اقبال دیوان کی کہانی میں دیکھ لیں۔سرشار بوسے،جسمانی تعلق کی الوہیت اور محبت کے جزیروں کی یہ مثلث آپ کو صحرا میں سمندر کا تجربہ کراتی ہے کیونکہ اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
سن  2000 ء  کی یہ کہانی کمپیوٹر کے ان دنوں کی یاد ہے جب یاہو میسنجر بغیر فون اور بغیر کیمرے کے ہوتا تھا۔اس وجہ سے خود سے دور ہٹ کر کوئی اور روپ دھار کر  جینا بہت آسان تھا۔

بہت پیار
مسحور و مسرور
آپ کی دعا کی طلب گار
نویدہ کوثر

مصنف نیویارک میں

گزشتہ سے پیوستہ

ماہم اٹھی اور اس نے اپنی وہ نائیٹی جو گیلی ریت کی رنگت کی ہے، الگنی سے کھینچ کر بدل لی۔اسمیں سینے سے کمر تک ایسی چنٹیں Pleatsہیں کہ وہ فراعنہء مصر کی کسی ملکہ کا گاؤن لگتی ہے۔اس کے تسمے بھی گردن کے پیچھے کی طرف باندھے جاتے ہیں اور کمر بالکل ننگی اور سینہ بہت حد تک کھلا کھلا رہتا ہے۔اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر قلوپطرہ کی آنکھوں والا میک اپ کیا۔ Taupe(ٹووپ) رنگ کا براؤن اور گرے آئی شیڈ جسمیں سنہری رنگ کی ہلکی سی آمیزش تھی وہ لگایا، کاجل کی پنسل سے اپنی بڑی شربتی آنکھوں کے گرد کوئین نیفرتیتی کی آنکھوں جیسے ہلکے بنائے۔بال سیدھی مانگ درمیان سے نکال کر کمر تک بنالیے،پیشانی سے سر کے پیچھے تک سونے کی ایک زنجیر باندھ لی۔وہ اپنا آرم بینڈ ڈھونڈنے لگی۔ اس دن اس کے زیوارت کے بکس میں یہ بینڈ
دیکھ کر امجد کچھ متعجب ہوا تھا۔سونے کی آپس میں گتھم گتھا باریک زنجیروں پر ایک سرخ پتھروں کی آنکھوں والاسانپ بنا ہوا ہے۔ اس آرم بینڈ کو اپنے ایک عریاں بازو پر پہن لیا۔یہ آرم بینڈ اس نے وہ نیکلیس کو پگھلواکر بنوایا تھا جو مکرم نے اسے اس کی اس سالگرہ پر تحفے کے طور پر دیا تھا جو ان کی شادی کے پہلے مہینے میں چوبیس فروری کو آئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے سونے کا ایک دائرے والا پینڈینٹ، ایک برسلیٹ اور ایک انگوٹھی بھی اپنے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہن لی۔

کورنیش

آئینے میں اپنا سراپا دیکھ کر وہ خود پسندی کے ایک جذبے سے مسکرا دی۔اسے لگا کہ مارک انطونی کا بچہ پیٹ میں لئے قلوپطرہ،ابو ظہبی کسی اسٹیٹ وزٹ پر آئی ہے۔
اب وقت ہے کہ آئندہ ڈھائی گھنٹوں کے اندر وہ رافع کا پندرھواں جھوٹ بھی قلمبند کرلے۔

ساتویں اور آخری قسط

ماہم نے دل میں ایک ارادہ کیا کہ اگر مہمان آج جلدی چلے گئے تو وہ ڈورتھی کو لے کر ساحل سمندر جسے وہاں ابو ظہبی میں کورنیش کہتے ہیں، وہاں ضرور جائے گی اگر وہ جاگ رہا ہوگا تو سلمان کو بھی ساتھ لے جائے گی۔وہاں موجود بینچوں پر اگر پہلے سے ہی کچھ لوگ بیٹھے ہوں گے بنگالی یا سری لنکن مردوں کو تو ڈورتھی کو ترکیب سمجھا کر اٹھا دے گی۔
ڈورتھی کو انہیں اٹھانے میں تامل ہوگا تو وہ اسے کہے گی کہ سولہ دسمبر کی رات جب وہ رافع کے ساتھ تنہا یہاں آئی تھی تو یہاں کچھ ایسا ہی سین تھا۔ ایک پرگولا جوکورنیش کی مڑنے والی دیوار کے سامنے بنا تھا اس میں بینچ رکھی تھی اس پر چاروں طرف چڑھی ایک بیل نے ایک پردے کا اہتمام کرلیا تھا۔یہاں بیٹھے ہوئے لوگ دنیا کی نظروں سے کچھ دیر کو اوجھل ہوجاتے تھے۔ اسمیں رکھی بنچ پر بیٹھ جانے سے سمندرصاف دکھائی دیتا تھا جس پر رافع نے ان میں سے وہاں بیٹھے پہلے سے ایک گروپ کو جاکر جانے کیا کہا کہ وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور وہ دونوں اس پر جاکر بیٹھ گئے۔ماہم نے جب اس سے پوچھا کہ ” اس نے ان ملّو لوگوں کو کیا کہا کہ وہ ایک دم جگہ چھوڑنے پر راضی ہوگئے؟!” وہ کہنے لگا” میں نے ان سے کہا کہ میری بیوی حاملہ ہے، وہ زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی”۔ ماہم نے اس کی اس بات کو سن کر زور کا قہقہہ لگایا۔ شاید اس میں جھوٹ بولنے کی مہارت سچ بولنے سے بہت زیادہ تھی۔
اسی دورا ن اس نے دو تین دفعہ اس کے بوسے بھی لئے ۔اپنی زندگی کے پہلے بوسے پر تو وہ دیر تک برگِ خفیف کی طرح کپکپاتی رہی۔دوسرا بوسہ اس نے کمال ہشیاری سے جیتا تھا وہ اس سے پوچھنے لگا کہ” یہ دن جو اس کے پیار میں اس نے گزارے ہیں وہ یہ فیصلہ نہیں کر پارہا کہ ا ن کو اپنی حیات میں جوڑ دے کہ انہیں گھٹا دے؟۔۔۔۔ماہم نے اپنی بڑی بڑی شربتی آنکھوں کو دور سے آتی روشنی میں جب اس کی آنکھوں میں اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے قریب کیا تو جواب میں اسے لگا کہ اس کے انگارہ ہونٹ، ماہم کے ہونٹوں کی کلیجی رنگت کی ساری لپ اسٹک اور آہستہ آہستہ اس کی بہت سی سانسیں بھی چراگئے ہیں۔تیسرا بوسہ جلد بازی کا الوداعی بوسہ تھا اس لئے کہ انہیں کھڑا ہوتا دیکھ کر وہی ملّو وں کا گروپ نیچے پتھروں سے اٹھ کر واپس بیٹھنے کے لئے بنچ کی طرف آرہا تھا۔

نومبر کے آخر میں رافع نے اعلان کیا کہ وہ بنفشے اور دیگر گھروالوں کے ساتھ ماہ دسمبر کے وسط میں مشہد جارہا ہے۔ وہ تو وہاں سے اور زیارتوں پر قم اور نیشا پور کی طرف نکل جائیں گے۔وہ ماہم سے ملنے ابوظہبی آئے گا۔وہ کسی ہوٹل میں دو دن اور دو رات کے لئے ٹھہرے گا۔
رافع کے اس پروگرام کا جان کر ماہم کی مسرتوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ایک لمحے  کو اس کا دل چاہا کہ وہ اپنی امی اور پونم کو بھی یہ سب کچھ بتادے مگر ہمیشہ کی احتیاط پسند رولا نے اسے سمجھایا کہ بہتر ہے وہ ایک دفعہ پہلے اس سے مل لے۔وہ دو دن تک یہاں ہے اگر سب کچھ اس کے حسبِ خواہش ہوتا ہے تو پھر گھروالوں کو یہ سب بتانا مناسب رہے گا۔ڈورتھی نے بھی اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا۔
ماہم کو اس ملاقات کے حوالے سے پہلی فکر تو یہ لاحق ہوئی کہ وہ کہاں ملیں اور دوسری یہ کہ وہ تو عبایا پہنتی ہے۔اس طرح کے عبایا اور بھی خواتین وہاں پہنتی ہیں وہ ان میں اسے کیسے شناخت کرے گا۔ کسی غلط فہمی کے نتیجے میں اگر وہ اور خاتون کے پاس جاپہنچا تو بڑی مشکل ہوگی۔۔رولا نے اس کی دو نوں مشکلات باآسانی حل کردیں۔ماہم اسے بتائے کہ وہ جامنی رنگ کی ایک فائل اور ویسی ہی رنگت کا پرس نمایاں طور پر شانے سے لٹکائے ہوگی۔اس کے ہاتھ میں مردانہ کپڑوں کی مشہور دکان کا ایک شاپر بھی نمایاں ہوگا۔وہ ٹھیک ساڑھے سات بجے خالدیہ اسٹریٹ پر لیمسی پلازا کی فارمیسی کے باہر ایک سیاہ  جیپ کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگی جو نو پارکنگ زون کے قریب میں موجود ہوگی۔ماہم کو تب یہ سمجھ میں آیا کہ یہ عرب عورتیں لف و نشر ( چھپانا اورظاہر کرنا) کے فن کا کس قدر بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔کس قدر اطمینان سے رولا نے اس کی  یہ سب سے بڑی الجھن منٹوں میں سلجھا دی۔
رافع نے ان ہدایات کو غور سے نوٹ کرلیا۔وہ بتانے لگا کہ وہ اعلی الصبح تہران کی فلائیٹ سے ابو ظہبی آئے گا اور ہوٹل پہنچ کر سو جائے گا۔شام تک وہ کچھ خریداری اور دو ایک دوستوں سے ملے گا اور وقت مقررہ پر وہ لیمسی پلازہ پہنچ کر اس سے مل لے گا۔

لیمسی پلازہ کی فارمیسی
آئی لو یو لاکٹ

ایتھوپیا کی کافی
ابوظہی کا کروز

ماہم شوخی میں آن کر کہنے لگی” وہ کیا پہنے ہوگا اس بارے میں اسے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں، یقینا ً وہ فیڈیڈ جینز، شوخ دھاری دھار قمیص جو کلائی پر تین فولڈز میں ہوگی، کولہا پوری چپل، گھنگریالے بال اور پونی ٹیل جس میں اس کی امی کا کوئی ہئیر بینڈ اڑسا ہوا ہوگا۔ہاتھ میں فیروزے کی انگوٹھی اورگلے میں پینڈینٹ بھی ہوگا۔ وہ پانچ فیٹ گیارہ انچ کا کسرتی بدن والا مرد ہے۔ بالکل Antonio Banderas جیسا Rugged Faced،اس کی آنکھیں گو بڑی بڑی نہیں،مگر ان کی رنگت ایتھوپیا کی کافی کے رنگ کی ہیں جن میں شراب نوشی کی وجہ سے کچھ بوجھل پن آگیا ہے اور کھلی، جاگی سی لگتی ہیں۔جیسے ان میں کئی ادھورے خواب آن بسے ہوں “۔
ماہم نے اسے اگلے دن بتایا کہ ” وہ Abu Dhabi Dhow Cruise with Dinner بک کرالے گی اور وہ ساتھ ہی سمندر کی سیر کرتے ہوئے راز و نیاز کریں گے۔وہ چلنے سے ایک دن پہلے اسے فون ضرور کرے۔ اس کی فلائیٹ کی آمد کے لیے صبح چھ بجے کا وقت ایسا ہے کہ وہ اسے لینے ائیر پورٹ نہیں آسکتی۔ یہ فلائیٹ اگر دن کے نو بجے کے بعد ہوتی تو وہ ضرور پہنچتی۔”

ماہم اسے ملنے کے شوق میں بے تاب تھی۔رات بھر وہ خود سے اسی کی باتیں کرتی تھی۔ان  دنوں اسے لگتا تھا کہ آج میں اوپر، آسماں نیچے والی کیفیت ہے۔کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ ایک سر سبز و شاداب پہاڑی ہے جسے محبت کی نیلی دھند نے چاروں طرف سے اپنی ان دیکھی بانہوں کے گھیرے میں لے رکھاہو۔ اس کی امی نے دو تین دفعہ اس سے پوچھا بھی کہ وہ ان دنوں اتنی خوش کیوں ہے؟ وہ انہیں جواب دیئے بغیر گلے لگ کر ٹال گئی۔رولا البتہ اسے جتلاتی رہی کہ وہ اپنے روئیے میں کچھ توازن پیدا کرلے تو اچھا ہوگا۔اس سے مل کر وہ کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ کرے۔انٹرنیٹ کے عشق  اکثر اوقات بڑے بھیانک نتائج پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ماہم کو اس نے کہا کہ ” رافع جیسے ہی اپنا فلائٹ نمبر بتائے وہ فون پر اسے مطلع کردے وہ اپنے بھائی کو کہہ کر اس کے ویزہ کے کوائف نکلوالے گی۔”
ماہم کو اس کی یعنی رولا کی یہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی عادت کچھ اچھی نہ لگتی تھی۔وہ سوچتی تھی کہ شاید رولا کے دل میں اس سے بچھڑجانے کے خدشات ہیں۔وہ اور ڈورتھی اس کی اسکول کے زمانے کی  ساتھی تھیں۔ رولا کی اس عادت سے ڈورتھی بھی بہت الرجک رہتی تھی ایک دن رولا نے ڈورتھی کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ” اگر سارے گورے اس جیسے نا عاقبت اندیش ہوتے تو یورپ  اور امریکہ پر اب تک مسلمانوں کا تسلط ہوتا”۔ڈورتھی کہاں کی باز رہنے والی تھی اس نے بھی توقف کئے بغیر جواب دیا کہ ” وہ شکر کرے کہ ہمارے بڑے ان صحراؤوں کی طرف آنکلے ورنہ وہ کسی کھجور کے درخت کے نیچے اپنے اونٹ کی نکیل تھامے، اپنے حمدان کا دمشق سے واپس آنے کا انتظار کر رہی ہوتی۔”
دوسری جانب رافع اس لئے پریشان تھا کہ اگر اس کے جھوٹ پر ماہم چراغ پا ہوئی تو اس کے لئے وہاں بڑی مشکل ہوگی۔ اس نے بہت آہستگی سے ماہم کو یہ بتایا کہ” وہ وہاں اس کی ضد پر آرہا ہے۔ یہ اس کا سچ کا سفر ہے۔ سچ، اس کے گمان سے مختلف ہو تو وہ کیا کرے گی؟!” ماہم نے اسے یقین دہانی کرائی کہ ” وہ اس کی حق گوئی اور بے باکی کی قدر کرتی ہے وہ کچھ بھی ہو جائے نہ تو اس سے لڑے گی نہ اس کے لئے کوئی مشکل پیدا کرے گی۔وہ اپنے امی ابو کی قسم کھاتی ہے کہ وہ دو دن اس کی میزبا ن ہوگی۔وہ اس کی پہلی اور آخری محبت ہے۔ اس میں ایک دوسرے سے بچھڑنا قسمت کی بات ہے پر وہ ایک اعلی ٰخاندان کی فرد ہے اس سے وہ کوئی برے رد عمل کی توقع نہ رکھے۔”

تیرہ دسمبر کے دن رافع نے اسے فون کیا کہ ” وہ مشہد سے تہران کے لئے بذریعہ ٹرین روانہ ہورہا ہے۔ٹرین اسے صبح سات بجے لے کر روانہ ہوگی اور وہ رات نو بجے تک انشاء اللہ تہران پہنچ جائے گا۔ وہاں سے وہ امام خمینی ائیرپورٹ سے گلف ائیر کی فلائیٹ جی ایف 337 سے بحرین اور وہاں سے جی ایف 542 پکڑ کر ابوظہبی آجائے گا۔” ماہم کی مرضی تھی کہ وہ فون پر اس سے لمبی بات کرتا مگر اس نے کہا کہ ” اس کا بھائی اور بنفشے ساتھ ہیں اور وہ کچھ ہی دیر میں زیارتوں کے لئے روانہ ہونے والے ہیں لہذا باقی باتیں ملنے پر۔”
رولا اس وقت ماہم کے ساتھ تھی۔اس نے ماہم کے سیل فون پر نمبر دیکھا تو وہ کہنے لگی کہ ” یہ کنٹری کوڈ تو مصر کا ہے وہ اس لئے یہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہے اپنی ایک کزن سے وہ ہر دوسرے تیسرے دن اسی نمبرکا کوڈ ملا کر بات کرتی ہے۔”ماہم کو یقین نہ آیا تو اس نے ماہم کے سامنے ہی یہ کنٹری کوڈ ملا کر اپنی کزن سے قاہرہ بات کی۔
ماہم نے جب اس کی بات کی مزید کھوج لگانے کے لئے رافع والے نمبر پر عربی زبان میں بات کی تو وہاں کوئی زرعی ادویات کی کمپنی میں موجود ایک خوش مزاج مصری خاتون تھی۔وہ کہنے لگی کہ “رافع تو نہیں البتہ کچھ دیرپہلے پاکستان کے سلمان سلیم نے ابوظہبی کا نمبر ملایا تھا اور وہ پاکستان جانے کے لئے اس کے باس فاروق حمادی کے ساتھ قاہرہ روانہ ہوگیا ہے۔وہ دونوں گلف ائیر کی فلائٹ جی۔ایف 80 اور جی۔ایف540 سے ابوظہبی پہنچیں گے۔ وہاں ان کا دو دن ٹھہرنے کا پروگرام ہے۔ان کے آگے کا پروگرام اسے پتہ نہیں “۔ماہم نے جب پوچھا کہ اسے ان کی فلائیٹس کا اتنا وثوق سے کیسے علم ہے تو وہ بتانے لگی کہ ” ان کے لئے ٹکٹوں کی بکنگ اس نے ہی کرائی تھی اور اس کی ساری تفصیلات کا فولڈر اس کے سامنے کھلا رکھا ہے۔ ”
” وہ کون ہے جو اتنے سوال پوچھ رہی ہے؟ ” مصری خاتون نے ماہم سے دریافت کیا۔
” میں یہاں ابو ظہبی میں ایک ایسی کمپنی کی نمائندہ ہوں جوایمنو ایسیڈ اور نائٹریٹ ایسیڈ بناتی ہے۔اس کی کمپنی نے انہیں سلمان سلیم صاحب سے رابطہ کرنے کو کہا تھا۔انہوں نے یہاں مجھ سے ہی ملنے آنا تھا اسی لئے فون بھی کیا تھا۔ ہماری کمپنی کو شاید ان کے نام کے معاملے میں کچھ غلط فہمی ہوئی تھی۔اسی لئے انہوں نے فون بھی کیا تھا مگر لائن ڈراپ ہوگئی۔وہ پوچھیں تو بتادیجئے گا کہ دوبئی سے مسز کھنہ کا فون تھا۔”
رولا کی تجویز تھی کہ ” اس غلط بیانی کے بعد ماہم کو رافع عرف سلمان سلیم سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ڈورتھی البتہ مصر تھی کہ” وہ سلمان کے ویزہ کے کاغذات اپنے بھائی سے کہہ کر نکلوالے اور اس کی مزید تفصیلات ہاتھ کرلے۔ یہ عمدہ بات ہے پر ماہم کے سلمان سے ملنے میں کوئی حرج نہیں۔وہ دونوں ماہم کے ساتھ اس ملاقات میں موجود رہیں گی۔ماہم البتہ اسے عشق کی ایک مہم جوئی سے زیادہ اہمیت نہ دے۔حالات اگر اسے موافق لگیں تو آگے کی بات سوچ کر کریں گے۔”
پندرہ دسمبر کا وہ دن ماہم کی زندگی کا ایک عجیب دن تھا۔ایک طرف یہ امید اور دعا کہ  رافع بھلے سے چاہے سلمان سلیم ہی کیوں نہ ہو مگر وہ بالکل ویسا ہی ہو،جیسا اس نے اب تک بتایا ہے تو دوسری طرف یہ خوف کہ وہ اگر اس کے برعکس نکلا تو وہ اپنی دونوں دوستوں کے سامنے کیا منہ دکھائے گی۔ایسا نہ تھا کہ اس رات اسے بالکل نیند نہ آئی مگر وہ نیند کئی دفعہ ٹوٹی۔اسے لگا کہ یہ رات اس کی انیس سالہ  زندگی کی سب سے بے چین رات ہے۔

اگلے دن دو بجے جب وہ انسٹیٹیوٹ سے فارغ ہوئی تو رولا اسے اپنی سیاہ جیپ میں لینے آگئی اس کے پاس سلمان کے اور فاروق حمادی کے ویزہ کی نقول تھیں۔ ویزہ فارم میں دی گئی تفصیلات کی روشنی میں، وہ بیالیس برس کا پاکستانی مرد اور شادی شدہ تھا، امارات کا ویزہ پاکستان کی ایک زرعی ادویات کی کمپنی کے حوالے سے جاری ہوا تھا جس میں وہ ایک مارکیٹنگ منیجر تھا۔وہ بضد تھی کہ” ان تفصیلات کو جان لینے کے بعد ماہم اس سے اخلاقی طور پر ملنے کی پابند نہیں “۔ماہم نے کہا “گھر چلتے ہیں۔سوچیں گے۔ملنے نہ ملنے کا آپشن تو ہمارے پاس ساڑھے سات بجے شام تک کھلا ہے۔”
ساڑھے پانچ بجے تک ڈورتھی بھی ماہم کے گھر پہنچ گئی۔تب تک ماہم تیار ہوچکی تھی۔وہ سب ایک شاپنگ مال میں گئیں جہاں سے ماہم نے رافع کے لئے کچھ قمیضیں اور ٹائیاں خریدیں۔سات بجے تک وہ فارغ ہوکر مقررہ مقام پر پہنچ گئیں۔جیپ البتہ انہوں نے ایک ایسی جگہ کھڑی کی جو فارمیسی کے قریب تھی اور وہاں پارکنگ پر بھی پابندی نہ تھی۔جیپ ماہم کے گھر سے ڈورتھی نے ہی چلائی۔ رولا کہنے لگی ” اسے کچھ گھبراہٹ ہے وہ گاڑی نہیں چلائے گی”۔ماہم پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ جیپ پارک کرنے کے بعد،ڈورتھی نے اپنی سائیڈ سے کھڑکی کا شیشہ نیچے کئے ہوئے تھا تاکہ وہ سلمان عرف رافع کو آتا ہوا دیکھ سکے۔
سات بجے ماہم نے ایک چکر فارمیسی کا بھی لگایا مگر وہاں کچھ اور لوگ شاپنگ کررہے تھے۔ڈورتھی کا مشورہ تھا کہ وہ ایک چکر ساتھ ہی کتابوں کی دکان کا بھی لگا لے۔رولا نے اسے سمجھایا کہ وہ ایک بیالیس برس کا پختہ عادتوں والا مرد ہوگا۔ اپنے وقت پر ہی ممکن ہے وہ کہیں سے کسی کار میں آئے۔ لہذا وہ چپ کر کے بیٹھی رہے۔ اب جو ہونا ہے   وہ ہو گا اور یہاں ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ماہم کو البتہ یہ شبہ ضرو ر ہوا کہ سوا سات بجے جو مرد ایک کار سے اتر کر تیزی سے فارمیسی کے اندر گیا ہے، وہ سلمان ہے۔وہ اسے ٹھیک سے دیکھ نہ پائی تھی مگر اسے پھر بھی اتنا نظر آیا کہ اس مرد نے ہرے سمندر کے رنگ کی بلیزر جیکٹ،سفید۔ہری دھاری دار قمیص، سیاہ پتلون کے ساتھ پہنی ہے۔اس کی بے قراری کا یہ عالم تھا کہ وہ سات بج کر بیس منٹ پر نیچے اتر کر جیپ سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔ فارمیسی کے اسٹینڈ کے پیچھے سے سلمان نے اسے کئی دفعہ دیکھا۔وہی سیاہ عبایا،جامنی رنگ کی ایک فائل اور ہاتھ میں مردانہ کپڑوں کی دکان کا ایک شاپر نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا البتہ فائل کی رنگت والا پرس نمایاں طور پر شانے سے غائب تھا۔اسے جیپ سے اترتا دیکھ کر اور اسٹیرنگ پر ایک گوری کو بیٹھا دیکھ کر اسے کچھ ملاقات کے حوالے سے تردد ضرور ہوا مگر اگلے ہی لمحے   ماہم کے حسن سلوک سے پیش آنے کا وعدہ یاد آگیا۔
اسے ڈورتھی نے ٹھیک ساڑھے سات بجے فارمیسی سے برآمد ہوتے دیکھ لیا۔اس لئے کہ اس نے قریب آنے پر سنا کہ وہ کہہ رہی تھی “مانوواچ آؤٹ ہی ازہیر۔”
اس نے قریب آن کر پکارا”مانو”
جواب میں ماہم نے بھی ہلکے سے” رافع “کہا۔
وہ بیالیس برس کا تھا،سنجیدہ چہرہ، سونے کی رنگت کے فریم والے ڈیزائنر چشمے،تندرست بدن، پر اعتماد شخصیت قدرے رکھ رکھا ؤ والی۔اسے دیکھتے ہوئے ماہم کی نگاہوں میں سپنوں کے ٹوٹ جانے والی بے چارگی تھی۔ ایسا لگا ہاتھ سے شیشے کا کوئی قیمتی برتن چھوٹ کر زمین پر گرا اورکرچی کرچی ہو گیا۔ماہم نے جب کبھی یہ سوچا کہ وہ کونسا لمحہ تھا جب اس کے اندر کوئی ایسی خواہش فنا ہوگئی کہ مرد وں سے تعلق، لذت اورلگن کے وہ تمام دلچسپ حوالے خاک میں مل گئے تو وہ ایک لمحہ تھا جس وقت رافع نے اسے مانو کہا۔
اس سے قبل ہمیشہ یوں ہوا کہ اس نے اپنے ہر شک کو، ڈورتھی اوررولا کے ہر اعتراض کے باجود خود کو یہ سمجھا کے ٹالا کہ ہوسکتا ہے اس کا سچا پیار ان کے ہر خدشے اور واہمے کو دور کردے گا۔دونوں نے ایک دوسرے کو بغور دیکھا اور یہ جان کر کہ ان کی اردو میں گفتگو کو وہ گوری دوست نہیں سمجھے گی اس نے آہستہ سے کہا “آپ اپنی تصویر سے بہت زیادہ حسین ہیں ”
ماہم نے سوچا کہ کاش یہ تعریف اس شخص نے کی ہوتی جس کا نام رافع تھا اور جو اپنے بیان کردہ ہیولے کی ہوبہو،منہ بولتی تصویر ہوتا مگر وہ یہ سوچ کر کہ یہ اس کی پہلی بات اور خاموشی اسے ایک موقع  یہ فراہم کرے گی کہ وہ اس ملاقات پر رضامند نہیں، لہذا اس نے بات بڑھانے کے لئے آہستہ سے کہا ” واقعی؟”۔۔
وہ کہنے لگا “جی آپ کی معصومیت اور نگاہوں کی یہ حسین اداسی،تصویروں میں دکھائی نہیں دیتی۔”

ماہم سوچنے لگی کہ یہ شخص کتنا نادان اور خود فریبی میں مبتلا ہے جسے اس کی بے چارگی اور اندرونی شکست و ریخت ،معصومیت، نگاہوں کی ایک حسین اداسی کے طور پر دکھائی دی ہے۔بات رکھنے کے لئے اس نے آہستہ سے کہا” آپ بھی سلمان صاحب اس رافع سے بہت مختلف ہیں جو مجھے نیٹ پر ملا تھا۔”
“اسی لئے میں خاص طور پر اس سچ کو ظاہر کرنے اتنی دور آیا ہوں، مجھے لگ رہا تھا کہ آپ جتنی تیزی سے اس راستے پر بڑھ رہی ہیں، آپ کا واپس لوٹنا شاید اور مشکل ہوجائے گا۔”اس نے ایک پر اعتماد مجرم کے لہجے میں وضاحت پیش کی۔
اس سے پہلے کہ  ماہم اس کی بات کا جواب دیتی ، ڈورتھی نے انہیں کہا کہ” کروز کے لئے دیر ہورہی ہے۔” ماہم نے کہا ” آئیے”۔اس نے ماہم کے لئے دروازہ کھولا اورجب وہ بیٹھ گئی تودروازہ بند  کرکے دوسری طرف سے خود بیٹھ گیا۔ماہم نے اس کا   دوستوں سے تعارف کرایا۔ماہم نے دیکھا رولا کی آنکھوں میں اس کے لئے ایک تحقیر تھی۔ماہم نے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دل کو  ٹٹولا۔اسکی امیدوں کے کئی تاج محل وہاں بکھرے ہوئے اس کی محبت کا مذاق اڑا رہے تھے پر اس کی اپنی نگاہوں میں اس دھوکہ باز، فریبی رافع کے لئے کوئی حقارت یا نفرت کا جذبہ نہ تھا۔
رولا نے ماہم سے دوران سفر آہستہ سے پوچھا کیف یا وجھک مسرور ؟  (مسکراتے چہرے کا کیا حال ہے؟) مگر ماہم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پر اسی آہستگی سے جواب دیا التحلی بالصبر یا صدیقتی (میری دوست کچھ صبر کرو)شاید اسے اپنی محبت سے محبت تھی۔کچھ بھی ہو وہ اس کا پہلا پیار تھا۔اپنی آئندہ زندگی کے تمام سپنے اس نے اسی کے وجود کے اردگرد بُنے تھے۔ڈورتھی البتہ ہمیشہ کی معاملہ فہم تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ ملاقات تلخیوں کے کسی کورٹ سین میں بدلے۔وہ اس سے جیپ چلاتے ہوئے گفتگو کرتی رہی۔ مصر کے بارے میں،اس کے کام کے بارے میں وہی زیادہ تر سوالات کرتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ سب کشتی میں سوار ہونے کے لئے پہنچ گئے۔
ڈنر سے کچھ دیر پہلے تک تو رولا اور ڈورتھی، ماہم کے ساتھ رہیں مگر جب ڈنر شروع ہونے لگا تو وہ جاکر ایک علیحدہ میز پر جا کر بیٹھ گئیں۔ماہم نے اس سے بہت سے سوال کئے جن کے تمام جواب اس نے بڑی خندہ پیشانی سے دئیے۔
اس نے ماہم کو بتایا کہ ” اس کی دو بیویاں ہیں اور دو ہی بیٹے ہیں شایان اور غفران۔ شایان کو وہ شے کہتے ہیں غفران کو البتہ وہ مانی پکارتے ہیں۔”ماہم نے جب اس سے پوچھا کہ ” اس نے یہ سب جھوٹ کیوں بولے؟ ” تو اس نے ایک ایسی توجہیہ پیش کی جس سے ماہم اس عشق میں تنہا اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگی۔ وہ کہنے لگا کہ ” اس نے ہر وہ بات کہی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ اسے جان کر اس سے دور چلی جائے گی مگر وہ تھی کہ ہر جھوٹ کے بعد اور قریب آتی گئی۔اسے لگا کہ ماہم کا عامر کے لئے جو رشتہ زیرِغور وہ کہیں اپنے عشق کی نادانی میں اسے ٹال نہ دے۔ وہ اسی کی خاطر اسے سب سچ بتانے کے لئے آیا ہے۔”
ماہم کو لگا کہ یہ عشق اس کا ایک ایسا تعزیت نامہ تھا جو خود اس نے اپنے ہاتھوں سے بڑی چاہت سے رقم کیا تھا۔رافع البتہ اس عشق کے اس جرم کی واردات میں اب ایک وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔ اس واردات کی وہی تنہا بڑی مجرم ہے۔
ماہم کو تب تک اس کی امی نے وہ بات کہ ہماری نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ مرد کی محبت راج کراتی ہے عورت کی محبت آنسو رلاتی ہے نہ بتائی تھی۔کشتی بحیرہ عرب کے ساکت سمند ر پر ہلکے ہلکے بہہ رہی تھی مگر اس کے اپنے سینے میں ندامت اور پچھتاو ے کے کئی طوفان مچل رہے تھے۔اسے اپنی بے بسی پر رونا آیا۔ شاید اس کی آنکھیں ان آنسووں سے کچھ دھندلا بھی گئیں۔ وہ اس لمحے میں اسے اپنے آپ سے بہت دور دکھائی دیا۔
وہ اچانک اسے کچھ کہے بغیر اٹھی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے ٹشو پیپر سے آنسو پونچھتی ہوئی اپنی دونوں سہیلیوں کی میز کی طرف چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ لئے، جس میں جھینپ اور خفگی نمایاں تھی،جاکر کچھ دیر کے لئے بیٹھ گئی۔اسے لگا کہ مردوں سے محبت کے معاملے میں وہ بھی اسی کی طرح نا آسودہ اور ادھوری ادھوری سی ہیں۔ ان کے دکھ آج اس کے غم سے لپٹ کر ایک ماتمی جلوس کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ ان ہم عمر لڑکیوں کی آنکھوں میں بھی اس نا آسودگی کے حوالے سے موت کا سا تحکم اور بکھرے ہوئے گمنام سپنوں کا دھیرے دھیرے اٹھتا ہوا ایک دھواں ہے۔ اسے آج اپنی اس شکست میں ایک تقدس بھرا ادراک محسوس ہوا۔
سلمان کے پاس سے کچھ دیر دور ہوجانے کا یہ سفر اسے خود آگہی کا ایک عجب سرور اور شعور دے گیا۔ اپنی تاحال ہونے والی گفتگو کی اس  مختصر رپورٹنگ کو اس نے بڑی خاموشی سے ایک جائزہ مشن گردانا۔ وقت کے شمار میں تو ان کے ساتھ بتایا ہوا گو یہ عرصہ بمشکل پانچ منٹ اور کچھ سیکنڈ تھے پر یہ دل کی اس بے پناہ تاریک شب میں روشنی کے وہ لمحات تھے، جنہوں نے اس پر واضح کیا کہ انسانوں کے بھی پھلوں کی طرح سے ذائقے ہوتے ہیں۔
جس طرح ایک ہی پھل کی انواع اقسام ہوتی ہیں اور ان میں لذت اور چاشنی کے مختلف معیار ہوتے ہیں۔یہی حال انسانوں کا بھی ہے۔اسے لگا کہ وہ خود ذائقے کے حوالے سے انسانوں میں ایک انگور ہے۔اس کا رافع سے یہ عشق اس سے تیار ہونے والی ایک ایسی شراب، جس کا نشہ اس پر تا عمر طاری رہے گا۔
عین انہی لمحات میں اسے امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہونے والی ایک رپورٹ کے انتہائی غیر ضروری حقائق یاد آگئے۔جو اس نے اپنی ایک رپورٹ میں اپنی انٹرن شپ کے دوران لکھے تھے۔اس میں درج تھا کہ امریکہ میں انگور اور اس سے تیار ہونے والی اشیا کی انڈسٹری سالانہ 162ارب ڈالر کی کمائی کا باعث بنتی ہیں۔اس سے ایک لاکھ سے زائد افراد وابستہ ہیں۔وہ یہ ان فضول خیالات کے آنے پر خود ہی مسکرائی تو ڈورتھی نے پوچھا Did he tell something amusing about these lies(کیا اس نے اپنے جھوٹ کے بارے میں کوئی دل چسپ بات بتائی)۔جس پر ماہم کہنے لگی “نہیں! آج تو وہ اتنا لمبا سفر طے کرکے صرف سچ بولنے آیا ہے”۔رولا نے البتہ پریشان ہوکر کہا کہ” وہ اگر شادی کا کہے تو انکار کردینا کیوں کہ اس کے دو بیٹے بھی ہیں۔تم وہ عورت نہیں ہو جو کسی کے گھر میں نقب لگانے کے لئے پیداہوئی ہو۔”ماہم پھر سے ان دونوں کی محبت میں ناآسودگی کا سوچنے لگی۔

رولا کی تو اپنے کزن سے شادی ہوئی تھی، جسے وہ بچپن سے پسند کرتی تھی۔وہ دو بچوں کی ماں کے پیچھے اسے چھوڑنے پر تیار تھا۔رولا نے اپنا دکھ اپنی ثقافت اور مردوں کے ہرجائی پن سے تعبیر کرکے رد کردیا تھا۔اس نے اپنے میاں حمدان سے کہہ دیا تھا کہ اگر وہ دمشق کی اس عورت جینی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے طلاق دے دے۔ماہم اور ڈورتھی کا خیال تھا کا وہ ایسا نہیں کرے گا مگر رولا کا نسوانی ادراک اسے قائل کیئے ہوئے تھا کہ حمدان اسے جلد ہی چھوڑ دے گا۔ وہ ان دنوں بھی دمشق میں زیتون کے تیل کے کاروبار کے سلسلے میں وہاں تین ماہ سے مقیم تھا۔ اس کے فون بھی اب آنا بند ہوگئے تھے۔ڈورتھی نے تو کھلی آنکھوں سے پہلے ڈیرک انڈرووڈ اور پھر جیمز رولنگ کے معاملے میں دھوکا کھایا تھا۔انسان کی فطرت عجیب ہے وہ اپنی غلطیوں کے لئے، ان کے واضح ہوجانے کے بعد بھی، جواز ڈھونڈتا ہے۔ماہم ان دونوں کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر یہی جواز تلاش کررہی تھی۔
پانچ منٹ بعد جب ماہم اس کی میز پر واپس آئی تو چھری کانٹے بدستور اس کی پلیٹ میں ویسے ہی رکھے تھے جیسے اس کے جاتے وقت تھے۔جب وہ آن کر بیٹھی تو اپنی پلیٹ سے اس نے کٹلیٹ میں سے ایک ٹکڑا  اس نے سلیقے سے علیحدہ کیا اور ماہم کے منہ کی طرف بڑھادیا۔ ماہم نے شرماتے ہوئے اسے نگل لیا۔اس نے ماہم کے مشروب کا گلاس اٹھایا اور اس سے ایک گھونٹ پیتے ہوئے کہنے لگا کہ ” اچھا ہے آپ کا کچھ ذائقہ میرے اندر بھی سما جائے۔”ماہم اس کے جملے کی اس جسارت پر شرم سے گلابی ہوگئی۔کھاناختم ہونے پر وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے ایک کونے پر ریلنگ کے پاس لے گیا اور اس کی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے کہنے لگا کہ” سمندر کی لہروں کی آواز سے یادیں خوش گوار ہوجاتی ہیں۔”

تین مرد، دو بچے اور چھ برس گزرے پر ماہم کو لگا کہ اس کی انگلیوں سے کسی اور کی انگلیوں نے وہ ان کہی باتیں پھر دوبارہ نہیں کیں۔ماہم نے پندرھواں جھوٹ کہ وہ مشہد سے براستہ تہران ابوظہبی آرہا لکھ لیا ہے۔ اس کی تحریر میں گو مارکیز والی روانی ا ور  تفصیلات کی بو قلمونی نہ تھی پھر بھی اسے ایک گونہ اطمینان سا  اپنے اندر محسوس کیا اور اسے لگا کہ اس کے غفران میاں شاید جاگ گئے ہیں اس لئے کہ ان کے ہاتھ پیر،پیٹ میں ایک دفعہ پھر سے چلنے لگے تھے۔اس نے پیٹ پر سے نائیٹی ہٹادی اور پردہ کھینچ دیا۔کہیں کہیں اس کی یہ حرکت اس کے پیٹ کی جلد پر بہت واضح تھی۔
عجب عالم غنودگی تھا وہ سوگئی۔ اس کی آنکھ دروازے پر بجنے والی گھنٹی سے کھلی۔ دروازے پرسلمان اور ڈورتھی تھے۔وہ دونوں پہلی دفعہ اندر آئے،شاید ڈورتھی کے لئے بھی سلمان کے پیار میں یہ فلیٹ اجنبی تھا۔ آج جب امجد موجود نہ تھا تو وہ اندر آئے۔اس نے سلمان اور ڈورتھی کو لیمونیڈ بنا کر دیا اور خود تیار ہونے لگی دونوں نے اس دوران اچھی طرح سے پولیس کی ایک مشاق تفتیشی ٹیم کی طرح خوب تفصیل سے موقع  معائنہ کیا۔ رات امی کے گھر مہمان آئے اور جلد ہی چلے گئے انہیں رات کہیں اور بھی کافی کی دعوت تھی۔گیارہ بجے وہ ٹہلتے ہوئے کورنیش پر جاکر بیٹھے۔ بینچ خالی تھی۔وہ سلمان کا نام ، اس کا سر گودمیں رکھ کر ،بار بار لیتی رہی۔وہ چاک بار کھارہا تھا اس نے ماہم کو کہا بھی کہ ” مما آپ کے کپڑے خراب ہوجائیں گے”۔اس نے کہا” تم فکر مت کرو مّما کے کپڑے پھر سے دھل جائیں گے”۔وہ رات کی ٹھنڈی مست ہوا میں اس کی گود میں ہی سر رکھ کر سوگیا۔ماہم البتہ اس کے کروز پر کہے گئے اس جملے کو سن کر لہروں کے مدھم شور میں آنسو بہاتی رہی کہ ” سمندر کی لہروں کی آواز سے یادیں خوش گوار ہوجاتی ہیں۔”

اگلے دن شام کو امجد اسے لینے آگیا تو سلمان کا موڈ پھر سے خراب ہوگیا اس نے لاکھ ضد کی کہ اس نے گھر دیکھ لیا ہے مما جنگل میں نہیں رہتی ہیں،وہ بھی ساتھ چلے مگر وہ نہ مانا تو وہ تیار ہوکر امجد کے ساتھ چلی گئی۔
رات خواب گاہ میں اس نے امجد کو جب بتایا کہ” ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک بیٹے کا باپ بننے والا ہے کیوں کہ اسے کل پیٹ میں بچے کی لاتیں ویسی ہی چلتی ہوئی محسوس ہوئیں جیسے سلمان کے وقت میں محسوس ہوتی تھیں تو جانتے ہوئے بھی کہ پونم اسے بیٹے کی مبارکباد دے چکی ہے۔”
وہ انجان بن کر کہنے لگا کہ” کیا پتہ لڑکے کی بجائے اس کے پیٹ میں کوئی لڑکی ہو اور اس کی بیٹی کسی مارشل آرٹ کی ماہر ہو جو ابھی سے پریکٹس کا اغاز کرچکی ہو؟ ”
ماہم نے کہا” ہوسکتا ہے آپ کے پنجاب والے خوشاب میں لڑکیاں لاتیں ایسے چلاتی ہوں۔”اس کے جواب میں اس نے اپنا چہرہ ماہم کے پیٹ پر ناف کے نزدیک رکھا مگر غفران لاکھ امجد کی اولاد صحیح پر وہ movement on demand کا عادی نہ تھا۔اس کی آنکھوں میں مایوسی کی جھلک ماہم کو اچھی لگی اور وہ اس کی بانہوں میں سمٹ کر بچوں کی طرح سوگئی۔
اگلی صبح اس نے ضد کی کہ وہ کل مہمانوں کی وجہ سے نہ تو سلمان کا ہوم ورک چیک کرسکی نہ ہی اس کے اسکول کے بارے میں ضروری سوال جواب کر پائی۔ لہذا اس کا امی کی طرف جانا ازحد ضروری ہے۔ دوسرے اس نے نومولود کے بارے میں امی کے ساتھ مل کر کچھ خریداری بھی کرنی ہے۔ امجد نے اپنا کریڈٹ کارڈ بھی اسے دیا اور ماہم کو اس کی امی کے گھر چھوڑ دیا۔امجد اپنی بہن کو لڑکے کو بارے میں بتا چکا تھا اس نے ضد کی کہ ہونے والے بچے کا نام بطور پھوپھی وہ خاور رکھے گی, مگر جب امجد نے بتایا کہ وہ اپنی سالی پونم کو زبان دے چکا ہے کہ اس کا نام غفران ہوگا۔ اسے وہ پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا “جنڈڑیئے جلدی کیا ہے بھائی زندہ تو بھتیجے، بھتیجیویوں کی اللہ نے چاہا توکوئی کمی نہیں ہوگی۔اگلا نام وہ ابھی سے سوچ کر رکھے۔”ماہم اپنی امی کے گھر پر ڈراپ ہوگئی تو سلمان اسکول میں تھا اور امی کاموں میں مصروف۔

ماہم نے ڈائری کھولی اور لکھنا شروع کیا کہ سترہ دسمبر کی وہ رات بہت اداس تھی ۔ ان کی ملاقات کی آخری رات۔اس رات دو باتیں ہونی تھیں۔رولا کو آخری بار طلاق کے ٖفیصلے سے باز رہنے کے لئے سمجھانے کے لئے حمدان کی بہن اور والدہ اس کے گھر آنے والے تھے۔ماہم کو اس کے ارادوں کی پختگی کا  علم تھا۔ وہ باز نہیں آنے والی تھی۔دوسری بات یہ تھی کہ اعلی الصباح سلمان کی پاکستان روانگی تھی۔سلمان نے اسے بتادیا تھا کہ وہ دن بھر تو ایک میٹنگ میں ہوگا پر سر شام وہ مل سکتے ہیں۔بہتر ہوگا وہ اور اس کی دونوں سہیلیاں اس کے اپنے ہوٹل میں اسے ڈنر کا میزبان بننے کا موقع  دیں مگر ماہم نے بتادیا کہ رولا کا آنا تو ناممکن ہے ڈورتھی کو البتہ وہ مدعو کرے گی، مگر ڈورتھی نے یہ سوچ کر معذرت کرلی کہ یہ اس محبت کی آخری شب وصال ہے اس کی موجودگی محض وقت کا زیاں ہوگی۔وہ رولا کے سا تھ رہے گی کیوں کہ اسے بھی ان لمحات میں جذباتی سہارا درکار ہو گا۔
دوستوں کے اس اجتناب کی وجہ سے میں ماہم کی اس بات پر رافع نے کہا ” موم بتیوں کی روشنی میں وہ اپنے کمرے پر ہی ڈنر کریں گے اب تک اس نے جان لیا ہوگا کہ وہ اتنا برا آدمی نہیں۔ وہ اس پر بھروسہ کرسکتی ہے ۔لیکن اگر وہ کوئی ساڑھی اس کے لئے پہنے تو وہ بہت ممنون ہوگا اس لئے کہ شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو۔”
شام سات بجے ڈورتھی اسے لینے آگئی ماہم اپنی امی کو اس نے بتادیا کہ رات وہ ڈورتھی کے فلیٹ ہی پر قیام کرے گی۔ شاید رولا بھی وہاں آجائے۔۔ اس نے ایک خاموشی سے شفون سلک کی سرخ شراب رنگ کی ہلکے بارڈر والی شفون کی ساڑھی اور چولی بلاؤز (جس کی وہ چندریکا کی مہندی پر پہننے کی فرمائش کرچکا تھا) چپ چاپ ڈورتھی کے سامان کے تھیلے میں رکھ دی۔ اسی کے فلیٹ پر ماہم تیار ہوئی اور وہ ساڑھی بلاؤز پہنا، کچھ دیر تک اسے اپنے بدن پر وہ لباس اجنبی لگا۔ اس نے جب شکایت کی کہ اس کے بلا  ؤز کی عریانی اسے کچھ کھل رہی ہے تو ڈورتھی نے کہا کہ اگر وہ اس سے پیار کرتی ہے تو ایک تو یہ عریانی کمرے کی حد تک ہی رہے گی اینڈ ریسٹ از اسٹوری۔ ۔امارات پیلیس ہوٹل جاتے ہوئے اس نے عبایا اس پر پہن لیا۔ ڈورتھی اسے رافع کے ہوٹل کی لاؤنج سے رات دو بجے جب وہ ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوگا لینے آئے گی۔ماہم کو سارا دن ڈی وی ڈی پر دیکھی ہوئی ایلزبیتھ ٹیلر اور رچرڈ برٹن کی فلم قلوپطرہ کا وہ مکالمہ اس رات رافع کی بانہوں میں سمٹ کر، اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے،ہونٹوں کو چومتے ہوئے،بہت یاد آتا رہا۔ یہ فلم کا وہ سین ہے جب جولیس سیزر کو سینیٹ کے حکم پرروم واپس طلب کیا گیا ہے۔ قلوپطرہ جس کے پیٹ میں جولیس سیزر کا بچہ ہے۔ وہ اس سے کہتی ہے کہ ” You take so much out of me and so far(تم مجھ سے اتنا کچھ لے کراتنی دور جارہے ہو)۔

ماہم کہیں جسے
ملاقات کی شام والی ساڑھی
taupe-ٹوپ
قلوپطرہ کی آمد روم میں

نیفرتیتی کا میک اپ
نیفرتیتی کا میک اپ
نییفرتیتی کے جلوے
نیفرتیتی والا برسلیٹ

ماہم کو پتہ نہ تھا کہ جب وہ اس کے جانے کے بعد پورا ایک مہینہ بیمار ہوکر بستر پر لیٹی رہے گی، اسی فلم کا ایک اور مکالمہ اس کا بار بار  پیچھا کرے گا کہ There are never enough hours in the days of a queen, and her nights have too many.(ایک ملکہ کی زندگی میں دن کی ساعتیں ناکافی اور رات کی گھڑیاں بے شمار ہوتی ہیں)۔اس رات وہ اس کے پاس ہوٹل میں ہی ٹھہری۔ جب کمرے میں کھانا لگ جانے پر اس نے شمعیں روشن کیں اور پیار کی ایک نگاہ بھرپور ماہم پر ڈالی تو اس نے فرمائش کی کہ وہ اپنا عبایا اور حجاب اتار دے ان کی وجہ سے جس شخص کے مطالبے پر اس نے یہ لباس زیب تن کیا ہے۔وہی اس لباس کو دیکھ نہیں پارہا۔ یہ تو ایسی بات ہوئی کہ مصور،تصویر دیکھنے کا حق اسی ہستی سے چھین لے جس کی تصویر بنائی گئی ہے۔ماہم نے یہ کہتے ہوئے کہ تصویر تو مصور کے دل میں ہوتی ہے سامنے توصرف Proportional Indi
ces(تناسب کے حوالے ہوتے ہیں)۔ماہم نے اس کی یہ فرمائش صرف اس حد تک پوری کی کہ اپنا حجاب اتار کر صوفے پر ڈال دیا۔
میز پر جلتی شمعوں کی روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو چہرہ گلنار ہوگیا۔وہ پاس آکر بیٹھ گیا۔وہ خود بھی بہت اچھا لگ رہا تھا چٹختی ہوئی سرخ پولو کی شرٹ اور سیاہ جینز میں لگتا ہی نہ تھا کہ یہ شخص بیالیس برس کا ہے۔بدن پر چربی نام کو نہ تھی، شراب اس نے ساری عمر نہ پی تھی، آنکھیں روشن اور قابل اعتماد،  آواز میں ٹھہراؤ اور گفتگو میں بہت روانی اور سلیقہ تھا۔ وہ اپنی نشست سے اٹھا اور ایک کشن زمین پر رکھ کر اس کے گٹھنوں سے لگ کر بیٹھ گیا۔کبھی وہ نوالہ دیتا تو اگلی بار ماہم اس کے بالوں سے کھیلتی ہوئی نوالہ اس کے منہ میں ڈال دیتی۔ مشروب کا کونسا گلاس کس کا گلاس  تھا، یہ بھی تخصیص نہ تھی۔ماہم جب ہاتھ دھونے کے لئے باتھ روم گئی تو میک اپ درست کرکے اپنا عبایا وہیں چھوڑ آئی۔
وہ بالکونی میں تھا تو ماہم نے رافع کہہ کر آواز دی اور وہ اس کا حسن جواں دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔ماہم نے مہر سکوت توڑتے ہوئے کہا کہI have trusted you. I know i am weak before you and you are strong.Dont betray me and i will never disappoint you.
(میں نے تم پر اعتماد کیا ہے۔ میں تمہارے سامنے کمزور ہوں اور تم میرے سامنے قوی۔مجھے تم دھوکہ نہیں دوگے تو میں بھی تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گی)
وہ رات یوں بھی عجیب تھی کہ نظاروں اور قربت کی اس فراوانی میں اس نے ماہم کو دئیے گئے وعدے کے مطابق مقررہ حدود کو اپنے ضبط کے بندھن سے باندھے رکھا گو کہ ماہم زیادہ تر اس کی بانہوں میں، اس کی لمس کی چھاؤں میں، اس کی نگاہوں کے سائے تلے اور اس کے ہونٹوں کے جام سے شرابِ عشق ،گھونٹ گھونٹ کرکے پیتی رہی۔ کئی دفعہ اسے لگا کہ اس  کا بلاؤز اس کی اپنی ہی وارفتگی میں ادھر ادھر ہوگیا اور لمس کی لذتیں حدود مقررہ سے کہیں دور،بہت پرے، رینگنے لگی ہیں پر اس نے کچھ رک کر خود کو سنبھالا۔۔۔یارافع ہی وہ محمود غزنوی تھا جو اس کی گنگناتی ہوئی مگر قدرے تحکمانہ۔۔۔ ام م م م۔۔پر لذتوں کے سومنات کی چوکھٹ سے پلٹ گیا۔کبھی وہ لمحات بھی آئے کہ دونوں ہی عہد و پیماں سے گزرجانے پر تلے دکھائی دیئے پھر دونوں ہی کی آنکھ کھلی اورسنبھل گئے۔
دونوں ایک دوسرے سے گلے لگ کر کئی دفعہ روئے بھی ،آپس میں ان کے درمیان بہت سے تحائف کا بھی تبادلہ اسی رات ہوا۔ اس نے سب سے پہلے تو اسے گابرئیل گارسیا مارکیز کا  آخری ناولٹ Memories of My Melancholy Whores دیا۔ ماہم نے مسکراکر پوچھا بھی کہ ” اسے اس کتاب کی وجہ سے مصر میں کسٹم نے نہیں پکڑا تو وہ ایک ڈھٹائی سے کہنے لگا ” نہیں۔” ماہم نے اسے اپنی ہاتھ سے تحریر میں ایک چھوٹی سی چھٹّی دی۔ جس کے پڑھنے کے بارے میں یہ تلقین کی کہ وہ اسے اپنے جہاز کے ہوا میں بلند ہونے کے بعد پڑھے۔ اس سے پہلے نہیں۔ ایک وعدہ وہ اس سے کرے اور ایک وعدہ ماہم کرے گی۔ماہم نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اس کے بعد بیوی تو کسی اور کی بن سکتی ہے مگر تاحیات محبت اسی سے کرے گی اور رافع، آپ میرے لئے ہمیشہ رافع ہی رہیں گے،آپ ایک نمبر اور ایک ای میل ایڈریس ہمیشہ میرے مخصوص رکھیں گے مگر مجھے کبھی نہ خط بھیجیں گے نہ کال کریں گے بشرطیکہ میں خود آپ سے اس کی فرمائش کروں۔
سلمان کا جہاز جب ہوا میں بلند ہوا تو جیب سے اس نے وہ تحریر نکالی جو کسی ڈائری کا سترہ دسمبر کا پھاڑا ہوا پرچہ تھا جس پر انگریزی میں لکھا تھا کہ:
میں تم سے پیار کرتی ہوں۔مگر میری محبت میں کوئی اور شریک ہو یہ مجھ سے گوارا نہیں ہوتا اور یہ قسمت کی بات ہے۔ میں اگر شادی کا فیصلہ  کروں تو ایک نہیں دو گھر اجڑیں گے جس کی اجازت میرا ضمیر نہیں دیتا۔میرا نمبر آپ کی زندگی میں جو بھی ہو مگر آپ میرے لئے ہمیشہ ہی Numero Uno رہوگے۔ساری زندگی کے لئے میری عمر میں آنے والا سترہ دسمبر کا دن صرف آپ کے لئے وقف ہے۔

آنسوؤں کے ساتھ

آپ کی۔۔مانو

رافع نے جس کااصل نام سلمان سلیم ہی تھا اسے جو تین تحائف دیئے، ان میں ایک گولڈ کا پینڈینٹ اس نے ماہم کے لئے مصر میں بنوایا تھا یہ ایک دائرے میں گھومنے والی سادہ سی پلاٹینم کی پلیٹ تھی جس پر کندہ آڑھی ترچھی لکیریں دائرے میں اٹکی اس پلیٹ کو تیزی سے گھمانے پر انگریزی میں آئی۔لو۔یو بن جاتی تھیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے جس سنار سے یہ برسلیٹ اور پینڈینٹ بنوایا اس کے پاس ایک دوسرے میں گتھم گھتا ہوتی ہوئی،سونے کی زنجیر والا ایک آرم بینڈ بھی تھا، بالکل ویسا ہی جیسا قلوپطرہ پہنتی تھی اس پر ایک سانپ بنا تھا۔
۔ جس کی آنکھیں سرخ روبی کی تھیں مگر اس نے یہ سوچ کر نہیں لیا کہ شاید وہ سانپ والا آرم بینڈ نہ پہنے۔سونے ہی کا ایک برسلیٹ بھی جس پر “Neferttiti.Where art thou?!!”(نیفرتیتی۔۔تم کہاں ہو؟) نقش تھااور نیشاپور کے فیروزے والی سفید سونے کی انگوٹھی،جس کا رنگ ان دونوں اوقات میں بدلا جب ماہم نے مکرم اور امجد کے شادی کے رشتے پر ہاں کہی۔ماہم نے اپنے یہ تینوں زیور اپنی دونوں شادیوں والی رات پہنے تھے اور انہیں اس نے اُس رات خود سے نہیں اتارا۔ یہ سلمان سے ا س کا وعدہ تھا۔جو اس نے ایک سلیقے سے آخر تک نبھایا۔ماہم کو البتہ یہ افسوس آج تک ہے کہ جہاں اس نے سلمان کے لئے اتنے تحائف خریدے اس نے یہ برسلیٹ کیوں نہیں بنوایا جس پر کوئین نیفیرتیتی کی جانب سے اپنے عزیز از جاں محبوب کے لئے یہ درج ہوتا کہ “Akhenaton I am here” (اخناتن میں یہاں ہوں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ کوئین نیفر تیتی۔۔ حضرت عیسؑیٰ سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل کی فراعنہء مصر کی وہ ملکہ جس کے القاب میں رحمت شیریں، نعمت خداوندی،وارثہء عظیم،،تسکین روح اور سکون قلب،اپنے مرد کا چین،شامل تھے۔اس کا مجسمہء برلن کے عجائب گھر میں ہے اور حسنِ انسانی کا مرقعہ ء عظیم سمجھا جاتا ہے۔
٭ ٭اخناتن اس کا محبوب جس پر اس کے شوہر ہونے کا قوی شبہ بھی ظاہر کیا جاتاہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *