سمندر کی گہرائیوں میں۔۔۔۔وہارا امباکر

فروری 1977 کو ایک اچھوتے طرز کی گاڑی “ایلون” سمندر کی گہرائیوں کی طرف روانہ ہوئی۔ اس میں تین سائنسدان سوار تھے۔ اتنی چھوٹی گاڑی کہ یہ تینوں اپنے بازو نہیں پھیلا سکتے تھے لیکن اتنی مضبوط کہ یہ غیرمعمولی گہرائیوں تک بآسانی جا سکتی تھی۔ ان کی منزل گالاپاگوس کے جزائر سے اڑھائی سو میل شمال میں دو ٹیکٹانک پلیٹوں کے ملاپ پر تھی جہاں یہ دونوں پلیٹیں ناراض سابق محبوبوں کی طرح ایک دوسرے سے دور جا رہی تھیں۔ ان کی ہونے والی علیحدگی زمین کی کرسٹ میں شگاف ڈال رہی تھی۔ ان کو امید تھی کہ یہ پہلی بار ایک نئی چیز دیکھ لیں گی۔ ہائیڈروتھرمل وینٹ۔ سمندر کی تہہ میں ڈکار لیتے آتش فشاں جہاں پانی انتہائی زیادہ درجہ حرارت پر ہو۔

ایلون کی ٹیم اترنا شروع ہوئی۔ سطح کی نیلاہٹ سیاہی میں تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ پھر گھپ اندھیرا جو کسی بھی سیاہی سے زیادہ سیاہ تھا۔ کہیں پر کوئی کبھی جگنو کی طرح جگمگاتا جاندار یا پھر اس گاڑی کی آن ہو جانے والی لائٹ۔ سطح سے 2400 میٹر نیچے اس ٹیم کو واقعی وہ مل گیا جس کی پیشگوئی ان کے ماڈل نے کی تھی۔ اور ساتھ کچھ اور بھی، جو بالکل غیرمتوقع تھا۔

زندگی اور بے شمار زندگی۔ اس قدر زیادہ اور خوبصورت کہ اس جگہ کا نام “روز گارڈن” رکھا گیا۔

کیکڑوں اور شیل فِش کے گروہ جو دھواں دیتی چٹانوں سے چمٹے ہوئے تھے۔ بھوتوں کی طرح سفید جھینگے اور کلیم۔ تیرتی مچھلیاں اور سب سے عجیب وہ سفید ٹیوبیں جس میں بڑے بڑے کیچوے تھے۔ اس شکل کے جیسے لپ سٹک کو زیادہ کھول لیا جائے۔

اس جگہ دھوپ نہیں آتی، درجہ حرات چار سو درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ پانی کا زبردست پریشر ہے، ایلون کی ٹیم نے اتنا متنوع ایکوسسٹم دریافت کر لیا تھا جیسا کسی بارانی جنگل کا ہو۔ ان کے لئے یہ اس قدر غیرمتوقع تھا کہ یہ اپنے ساتھ کسی بائیولوجسٹ کو بھی نہیں لے کر آئے تھے۔ یہ تینوں جیولوجسٹ تھے۔ یہاں سے کچھ جانداروں کو اکٹھا کیا اور واپس چلے گئے۔

ان میں سے ایک ٹیوب وورم میریڈتھ جونز کو ملا جو سمتھسونین میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے تعلق رکھتے تھے۔ جونز کو اس قدر تجسس ہوا کہ دو سال بعد 1979 میں وہ ان کو اکٹھا کرنے خود گئے۔ Riftia pachyptila نامی یہ جاندار کسی بھی وورم سے بڑا تھا۔ اتنا لمبا کہ یہ خود جونز کے قد جتنا تھا۔ اور اس سے عجیب؟ نہ اس کو کوئی منہ تھا اور نہ کوئی پیٹ، نہ آنت؟ اگر یہ کچھ کھاتا نہیں تھا تو پھر زندہ کیسے تھا؟

جونز نے اس میں ایک پرسرار عضو ٹروفوسم کو نوٹ کیا۔ اس کا آدھا وزن اس عضو کا تھا۔ یہ خالص گندھک کے کرسٹل سے بھرا ہوا تھا۔ جونز نے ہاروڈ یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران اس کا ذکر کیا۔ سامعین میں ایک نوجوان زوولوجسٹ کولین کیوانا تھیں۔ ٹروفوسوم کا سن کر ان کے ذہن میں ایک خیال لپکا۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹروفوسوم اور گندھک کا تعلق اس کے توانائی بنانے کے طریقے سے کسی طرح سے ہو گا اور یہاں پر اس کا اتحاد کسی دوسرے خوردبینی جاندار سے ہونا چاہیے۔ جونز نے ایک وورم کولین کوانا کو سٹڈی کرنے کے لئے دیا۔

کوانا نہ صرف ٹھیک تھیں بلکہ ان کا خیال ایک انقلابی آئیڈیا تھا۔ خوردبین کے نیچے انہوں نے دیکھا کہ ٹروفوسوم بیکٹیریا سے بھرا ہوا ہے۔ ہر گرام میں ایک ارب بیکٹیریا سے۔ یہ عضو وہ انزایم رکھتا تھا جو سلفائیڈ کو پراسس کر سکتے تھے۔ سمندر کے نیچے اس ماحول میں ہائیڈروجن سلفائیڈ عام ہیں۔ کوانا نے ان دونوں کو ملا کر تجویز کیا کہ یہ انزائم پیدا کرنے والے یہ بیکٹیریا ہیں جو انکو استعال کر کے توانائی اخذ کر لینا کا ایسا طریقہ استعمال کر رہے ہیں جس کا اس وقت تک علم نہیں تھا۔

زمین پر زندگی کا چکر سورج چلا رہا ہے۔ پودے، الجی اور کچھ بیکٹیریا اس توانائی سے اپنے لئے خوراک بناتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سے شوگر بنا لیتے ہیں۔ غیرنامیاتی مادے کو نامیاتی مادے میں تبدیل کرنے کے اس عمل کو کاربن فکس کرنا کہا جاتا ہے۔ سورج کے ذریعے اس کو کرنے کو فوٹوسنتھیسز۔ خوراک کے تمام تانے بانے جن سے ہم واقف ہیں ۔ ہر درخت اور پھول، گدھ اور عقاب، ہم خود یا چیونٹی، کا بالآخر انحصار شمسی توانائی کو اس طرح حاصل کرنے کے اسی طریقے پر ہے۔ سمندر کی گہرائی میں یہ آپشن ہے ہی نہیں۔ کبھی اوپر سے آنے والا نامیاتی مادہ اتنی زیادہ زندگی کے لئے کافی نہیں، کچھ اور چاہیے۔ ریفٹیا کے اندر پائے جانے والے بیکٹیریا کے لئے یہ “کچھ اور” ان آتش فشانی دہانوں سے نکلتے سلفائیڈ تھے۔ یہ بیکٹیریا ان کو آکسائیڈائز کر کے ان میں سے توانائی لے کر کاربن فکس کرتے ہیں۔ یہ عمل کیمیوسنتھیسز ہے۔ شمسی توانائی کی بجائے اپنی خوراک کیمیائی توانائی سے بنانے کا عمل۔ جس طرح پودوں کے لئے فاصل مادہ آکسیجن ہے، اس عمل میں فاضل مادہ خالص گندھک اور یہی زرد کرسٹل اس وورم کے اس عضو میں موجود تھے۔

ان بڑے وورم کو کچھ کھانا ہی نہیں پڑتا۔ ان کی خوراک کی تمام ذمہ داری ان میں بسنے والے خوردبینی جاندار ادا کرتے ہیں۔

کیمیوسنتھیسز پر اںحصار کرنے والے واحد جاندار یہ نہیں۔ بہت سے جانور اپنی خوراک کے لئے ان سے میتھین یا سلفائیڈ کے ذریعے کاربن فکس کرواتے ہیں۔ ان میں سے کئی ان گرم دہانوں میں ہیں۔ کئی سرد دہانوں میں، جہاں پر یہی کیمیکل نکلتا ہے لیکن کم رفتار سے۔ اس جگہ پر کئی جاندار اوپر سے آئی خوراک پر زندہ ہیں۔ مثلا ایک وورم ہے جس کی سپشلائیزیشن اوپر سے گرنے والی مردہ وہیل ہیں۔

جب زندگی شروع ہوئی تھی تو سورج سے توانائی حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ پانی اور توانائی کی ضرورت یہی جگہیں پوری کرتی ہیں۔ ان دھواں دیتے آتش فشانی دہانوں سے زندگی نے جنم لیا تھا۔ سادہ اور نازک زندگی جس کی توانائی کا کھیل کیمیوسنتھیسز سے شروع ہوا تھا۔

وہ آباء جراثیم پھر بڑھتے بڑھتے طرح طرح کی رنگین اور خوبصورت زندگی میں ڈھل گئے تھے۔ سمندر کے کم گہرے پانیوں میں گئے۔ ان میں سے پیچیدہ جانوروں نے جنم لیا۔ سمندروں میں اور خشکی پر پھیلے۔ پھر ان میں سے کچھ نے واپس انہی پانیوں کا رخ کیا۔ ان وورمز کی اپنے آباء کم گہرے پانیوں سے تھے لیکن انہوں نے واپس آ کر یہاں کے قدیم باسیوں، یعنی ان مائیکروبز سے اتحاد بنا لیا۔ یہ مائیکروب یہاں کے ماسٹر رہے ہیں۔ ان کو رہنے کی جگہ دی اور توانائی کا کام ان کے سپرد کر دیا۔

جس طریقے سے سب کچھ شروع ہوا تھا، وہ جاری ہے۔ یہاں پر جانور ارتقا کے چکر کے واپسی کے ٹرپ پر پہنچے ہیں۔

جائنٹ ٹیوب وورم پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Riftia_pachyptila

جس گاڑی پر یہ سفر کیا گیا
https://en.wikipedia.org/wiki/DSV_Alvin

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *