نظم کوئی ریاضی کا سوال نہیں ۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

محترمی رضوان صاحب !
اپنے انٹرنیٹ میگزین ‘ مکالمہ’ میں میری نظم ‘ بوڑھی آنکھیں’ چھاپنے کا اور مجھے فیصل فارانی کا محبت بھرا استفسار بھیجنے کا شکریہ۔یہ میری نظم کی خوش بختی ہے کہ اس نے فیصل فارانی کو ایک ادبی محبت نامہ لکھنے کی تحریک دی۔ مجھے ان کا ادبی محبت نامہ پڑھ کر آج سے دو دہائیاں پہلے کے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب میرا افسانہ ‘ یوسف کی ماں’ ہندوستان کے ادبی مجلے ‘ شاعر’ میں چھپا تھا۔ اس افسانے نے بھی فیصل فارانی کو ایک جوابی افسانہ لکھنے کے لیے انسپائر کیا تھا جو بعد میں اسی رسالے میں چھپا تھا۔
کسی بھی نظم یا افسانے کے بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ شاعر یا افسانہ نگار کو اپنی تخلیق کی تشریح نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر قاری اسے اپنی شخصیت اور اپنے ذوق کے مطابق پڑھتا ہے۔ اس نظم کو جس نگاہ سے روبینہ فیصل اور فیصل فارانی نے پڑھا وہ اس زاویے سے بالکل مختلف ہے جس سے اسے سید حسین حیدر نے دیکھا۔ چونکہ یہی نظم ’ہم سب‘ پر بھی چھپی ہے اس میں بھی مختلف قارئین کی آرا مختلف ہیں۔
میری نگاہ میں میری نظم اس ambivalence کے جذبات کا تخلیقی اظہار ہے جس سے پہلی نسل کے مہاجر خاندان گزرتے ہیں۔ دکھ سکھ کے ملے جلے احساسات۔ وہ مہاجر خوش بھی ہوتے ہیں اور غمگین بھی۔کبھی سکھی کبھی دکھی۔ کبھی مایوس کبھی پرامید۔اسی لیے بعض قارئین نے کہا ہے کہ نظم مہاجروں کی مائوں کے ملے جلے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
میں جس تضاد کر ذکر کر رہا ہوں اس کی ایک مثال امریکہ کے شاعر سلمان اختر کی شاعری میں ملتی ہے۔ سلمان اختر ان جذبات کی عکاسی بڑی تخلیقی خوبصورتی سے کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ ان کی ایک غزل کے چند اشعار اپنے موقف کی حمایت میں پیش کرنا چاہتا ہوں امید ہے پسند آئیں گے
؎ لہر کا سر سے گزرنا بھی نہ دیکھا جائے
اور پانی کا اترنا بھی نہ دیکھا جائے
اس کو برداشت نہ تھی ایک خوشی بھی میری
جس سے اب میرا بکھرنا بھی نہ دیکھا جئے
جا بسوں اپنے وطن میں اسے منطور نہیں
میرا پردیس میں مرنا بھی نہ دیکھا جائے
حوصلہ میرا بڑھانا نہیں آتا جس کو
میرا حالات سے ڈرنا بھی نہ دیکھا جائے
رضوان صاحب !
آپ خود بھی شاعر اور ادیب ہیں آپ جانتے ہیں کہ نظم یا افسانہ کوئی ریاضی کا سوال نہیں جس میں دو جمع دو چار ہوں۔ یہ تو ادبی ذوق کی بات ہے اور فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت اوست۔
مجھے اس بات کی بے انتہا خوش ہے کہ آپ نے اسے چھاپا اور فیصل فارانی۔۔۔روبینہ فیصل۔۔۔اور سیدحسین حیدر نے اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ میری عزت افزائی ہے۔۔۔یار زندہ صحبت باقی۔۔
ایک درویش شاعر
خالد سہیل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نظم کوئی ریاضی کا سوال نہیں ۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

  1. سو فی صد متفق۔ نظم میں جتنا شاعر نے کہنا چاہا اور جس پہلو کو چاہا اس پہ لکھا، کوئی ضروری نہیں کہ ایک نظم میں سب کے سوالوں کے جواب ہوں یا کسی بھی سوال کا جواب ہو۔ یہ صرف شاعر کی مرضی وہ کیا کہے اور کیا چھوڑ دے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *