جماعت اسلامی۔۔۔ نور الوھاب

جماعتِ اسلامی کے بنیادی طور پر دو ونگ ہیں، ایک فکری ونگ، دوسرا سیاسی ونگ، (ایک تیسرا ونگ بھی ہوا کرتا تھا، آج کل کا پتہ نہیں ). فکری ونگ ہمیشہ جماعت اور بانی جماعت کے افکار کا پرچار اور اس کا دفاع کرتا ہے، اس کی رائے بے لچک ہوتی ہے، سیاسی تبدیلیاں عام طور پر اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں، فکری ونگ پس منظر میں رہتا ہے لیکن جماعت میں فیصلہ کن حیثیت اسی کو حاصل ہوتی ہے، جب کہ سیاسی ونگ سیاسی طور تو خود مختار ہوتا ہے لیکن فکری معاملات میں پہلے ونگ کے زیرِ اثر ہوتا ہے ـ

اب اگر جماعت کا امیر محض سیاسی ونگ سے وابستہ رہا ہو تو بہت سے معاملات میں اس کے پاؤں میں بیڑیاں ہوتی ہیں، وہ فیصلے کرنے میں فکری ونگ کا محتاج رہتا ہے، لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر وہ آزاد ہوتا ہے، اس لئے ایسا امیر سیاسی طور پر بہت کچھ کرسکتا ہے البتہ فکری معاملات میں وہ مجبورِ محض ہوتا ہے ـ اور اگر امیر سیاسی ونگ کے ساتھ ساتھ فکری ونگ سے بھی وابستہ رہا ہو تو اس کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہوتی ہے، کیونکہ ایک طرف اس کا اثر رسوخ فکری ونگ میں ہوتا ہے تو دوسری طرف سیاسی طور پر وہ خود مختار ہوتا ہے، اس کے پاؤں میں جماعتی نظم کی بیڑیاں اگر ہوتی بھی ہیں تو کچھے دھاگے کی بیڑیاں ہوتی ہیں، جنہیں وہ کسی بھی وقت جھٹکا دے کر توڑ سکتا ہے، قاضی حسین احمد مرحوم اسی وجہ سے مضبوط ترین امیر تھے کہ وہ دونوں ونگز کے شناسا تھے، یہ قاضی صاحب مرحوم ہی کا کرشمہ تھا کہ مولانا مودودی مرحوم کے بہت سے فکری تفردات کو کتابوں سے نکال باہر کیا (اور شائد ان سے لاتعقلی کا بھی اظہار کیا) قاضی صاحب مرحوم کی دانش مندی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ مذکورہ فیصلہ کی صورت میں نظر آتا ہے، ورنہ مولانا مودودی کے تفردات کچھ ایسے عام تفردات نہ تھے جسے پاکستان کے حساس مذہبی لوگ بآسانی برداشت کرلیتے، انہی تفردات سے دامن چھڑانے کے نتیجے میں ہی جماعت کو عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی، ورنہ تو جماعت اب تک قصہ پارینہ بن چکی ہوتی، جماعتِ اسلامی کی اصل بنیاد (دعوت و اصلاح) کو چھوڑ کر سیاست میں کود پڑنے کے فیصلے کے پیچھے شائد یہی وجہ تھی کہ فکری طور مولانا مودودی کے تفردات کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے جماعت کے لئے اپنا وجود باقی رکھنا ناممکن نہ سہی، مشکل ترین ضرور تھا ـ

جماعتِ اسلامی کے منشور میں جو باتیں علماءِ اہلِ سنت اور جماعت کے بیچ وجہِ نزاع تھیں، قاضی صاحب ان میں بھی تبدیلی کے لئے تیار ہوگئے تھے، مگر یہ بیل منڈھے کیوں نہ چڑھ سکی؟ اس کا علم اللہ ہی کو ہے، قاضی صاحب مرحوم کی اسی مضبوط پوزیشن کی وجہ سے جماعت کے پرانے جیالے انہیں جماعتِ اسلامی کے گوربا چوف کہتے تھے ـ قاضی حسین مرحوم سیاسی طور پر انتہائی پختہ سوچ کے حامل تھے، ہمیشہ جماعتی سطح سے بلند ہو کر سوچتے تھے، ملی اور ملکی معاملات میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے شانہ بشانہ چلتے تھے، لیکن ان کے بعض سیاسی فیصلوں سے بالکل بچگانہ پن کا احساس ہوتا تھا، ( 2008 کے قومی انتخابات کا بائیکاٹ، لیکن ضمنی انتخابات میں ہر سیٹ پر امید وار کھڑا کرکے تمام کی تمام سیٹوں کو ہارنا اس کی ایک واضح مثال تھی)

اگر امیر محض فکری ونگ سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے فیصلے ہمیشہ افراط تفریط پر مشتمل ہوتے ہیں، کیونکہ فکری وابستگی اس کے اندر توسع نہیں آنے دیتی، جب کہ سیاست دان کو ہمیشہ توسع سے کام لینا پڑتا ہے، ایسا امیر ہمیشہ ذہنی طور پر تضاد کا شکار رہتا ہے، وہ دو کشتیوں کے مسافر کی مانند ہوتا ہے، اگر فکری وابستگی کا لحاظ کرتا ہے تو سیاسی طور پر متشدد رہنا پڑتا ہے، اور اگر سیاسی طور پر توسع سے کام لیتا ہے تو فکری وابستگی کی ڈور کمزرو پڑتی دکھائی دیتی ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے فکر و سیاست میں سے کسی ایک کی قربانی دینا پڑتی ہے، سید منور حسن صاحب کے ساتھ بعینہ یہی معاملہ تھا کہ وہ فکری ونگ کے آدمی تھے مگر سیاسی طور پر امیر بنادئے گئے، امارت ملنے کے بعد انہوں نے عمومی طور پر سیاسی توسع کے مقابلے میں فکری وابستگی کو ترجیح دی اس لئے سیاست کی قربانی کے ساتھ جماعت کی بھی قربانی دینا پڑی، بالآخر جب گزشتہ انتخابات میں سید صاحب کے فیصلوں کی وجہ سے جماعت کو ناقابلِ یقین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اصل وجہ سمجھے بنا ایک بار پھر تضاد پر مبنی فیصلہ کیا، کیونکہ سید منور حسن صاحب فکری طور پر بے لچک تھے تو اس کا تقاضا تھا کہ وہ کسی سیکولر جماعت کے ساتھ اتحاد کی بجائے کسی مذہبی یا نیوٹرل جماعت سے اتحاد کریں، لیکن سیاست کا تقاضا تھا کہ جہاں سیاسی فائدہ ہو وہاں اتحاد کیا جائے، اب ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی اگرچہ مکمل سیکولر جماعت ہے لیکن صوبائی سطح پر سیاسی فائدہ اسی میں تھا کہ ان کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد کیا جائے، چنانچہ سید صاحب نے یہی فیصلہ کیا، فکر پر سیاست کو ترجیح دی اور ایم ایم اے میں شامل کسی بھی جماعت کے ساتھ نہ انتخابی اتحاد کیا اور نہ ہی حکومتی اتحاد، لیکن یہ فیصلہ صرف کے پی کے کی حد تک تھا، کیونکہ مرکز میں مسلم لیگ ن کے مخالف ہی رہنا پسند کیا، انہی چور، لٹیرا، لبرل اور بادشاہ قرار دیا، یہاں فکر کو سیاست پر ترجیح دی گئی، جب کہ پی ٹی آئی کے اتحادی ہونے کی بناء پر جائز ناجائز باتوں میں ان کی تائید بلکہ بسا اوقات ان کے شانہ بشانہ رہے، چنانچہ اس دوئی پر جماعت کے سنجیدہ اور پرانے ورکرز شدید اضطراب اور بے چینی کا شکار ہوئے، کچھ نے جب دیکھا کہ پی ٹی آئی سیکولر ہونے کے بوجود سیاسی طور پر “مشرف بہ اسلام” ہوگئی ہے تو انہوں نے پی ٹی آئی کو جوائن کیا، کچھ نے کنارہ کشی اختیار کرلی، کچھ دوسری مذہبی جماعتوں کی جانب کھسک گئے، کچھ کنفیوژن کا شکار ہوکر پرتشدد تنظیموں کی جانب مائل ہوئے، لیکن اب بھی ایسے مخلص جیالوں کی کمی نہیں جو ہر حال میں جماعت کا دامن تھامے رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں.

سراج الحق صاحب کے بارے میں شنید تو یہی ہی ہے کہ یہ فکری ونگ کا حصہ کبھی نہیں رہے، بلکہ سیاسی ونگ کا حصہ رہے۔ (اگر حقیقت میں بھی ایسا تھا تو شائد سید منور حسن سے امارت لے کر انہیں امارت دینے کی وجہ بھی ممکن ہے یہی ہو، واللہ اعلم) لیکن ان اس وقت تک کے ان کے فیصلوں سے لگتا ہے وہ جماعتِ اسلامی کے امیر تو کیا، کبھی ورکر اور رکن بھی نہیں رہے، نہ وہ فکری پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے فکری ونگ سے وابستہ دِکھتے ہیں اور نہ ہی سیاسی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے سیاسی ونگ کے نمائندہ معلوم ہوتے ہیں، کبھی کبھار تو پی ٹی آئی کے بلا معاوضہ ترجمان محسوس ہوتے ہیں ـ سراج الحق صاحب کے امیر بننے سے قبل میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ جماعت کو اب لیاقت بلوچ صاحب کو امارت دینی چاہئے، کیونکہ وہ ایک طرف فکری ونگ کا حصہ رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی میدان کے بھی شناور ہیں، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور سراج الحق صاحب غیر متوقع طور پر امیر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے، اب یہاں آکر سراج الحق صاحب کی ذہانت کا سخت امتحان تھا، کہ وہ سید منور حسن کے سابقہ غلط فیصلوں پر ڈٹے رہتے ہیں یا کوئی انقلابی قدم اٹھاکر نئے حالات کے تناظر میں نئے فیصلے کرتے ہیں؟ ابتداء میں جب مولانا فضل الرحمان سے انہوں گرمجوشی سے کئی ملاقاتیں کیں تو محسوس ہوا کہ شائد اب کچھ بہتر فیصلے کرنے کے موڈ میں ہیں، اور امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب جمود کی برف پگھلنا شروع ہوجائے گی، اور جرات سے کام لیتے ہوئے سید منور حسن کے غلط فیصلوں کو حرفِ غلط کی طرح مٹادیں گے، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ !

انہوں نے سید صاحب ہی کے کئے گئے غلط فیصلوں پر صاد کرتے ہوئے اپنا سفر اسی “اونٹ گاڑی” یا “گدھا گاڑی” پر جاری رکھا جس پر سفر کو وہ سادگی کہہ کر اپنی کامیابی کی کلید سمجھا کرتے تھے ـ نتیخہ سامنے ہے کہ اب اگر بیچ چوراہے جماعتِ اسلامی پی ٹی آئی کے اتحاد سے دامن چھڑاتی ہے تو سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے، عوامی سطح پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنے گی، پی ٹی آئی بھی قربتوں کی داستانیں سنا سنا کر بدحال کرنے کی کوشش کرے گی، اور اتحاد برقرار رکھنے کی صورت میں اگلے انتخابات میں اگر پی ٹی آئی کے چودہ طبق روشن ہوئے، تو حکومتی اتحادی ہونے کی بنا پر، کم از کم آٹھ دس طبق تو ان کے بھی روشن ہونے کے واضح امکانات ہیں ـ

مستقبل میں جماعتِ اسلامی کے لئے دو ممکنہ راستے ہیں جن کی بدولت دوبارہ سیاسی میدان میں بڑی انٹری مار سکتی ہے ورنہ مزید گہرائی میں گرنے کے امکانات زیادہ ہیں ـ ایک تو یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد ایم ایم اے کی بحالی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرکے مولانا فضل الرحمان کے غضب سے بچنے میں کامیابی حاصل کریں، ایسی صورت میں مولانا کا دستِ شفقت انہیں باقی مذہبی جماعتوں کے غیظ و غضب سے بچانے میں کام کرے گا اور سابقہ غلطیوں پر پردہ پڑا رہے گا۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ فکر و سیاست کی اس دوئی سے نجات پاکر یا تو کم از کم لیاقت بلوچ کو نیا امیر منتخب کریں یا اسی جیسا کوئی اور امیر جس نے دونوں گھاٹوں کا پانی پیا ہو ـ ورنہ خاکم بدہن پیچھے کنواں آگے کھائی والا معاملہ نہ ہوجائے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *