چڑھدا کتھوں تے لہندا کتھوں

مائی ڈئیر پرائم منسٹر آف انڈیا
مسٹر نریندر مودی !

مجھے آپ سے براہ راست گفتگو کا قطعاً کوئی شوق نہیں اور نہ ہی ایک ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے آپ کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ آپ کسی عام آدمی کی بات سن سکیں ۔۔۔۔۔ برسبیل تذکرہ عام آدمی تو آپ سے دہلی کا بھی برداشت نہیں ہوا، پاکستان کا کیا ہو گا ۔۔۔۔۔
بہر حال چونکہ آپ نے پاکستانی عوام کو براہ راست مخاطب فرمایا ہے تو عرض یہ ہے کہ تھوڑی بہت بدن بولی ہم بھی سمجھتے ہیں اور اس فن پر اجیت ڈووال کا اجارہ نہیں ۔۔۔۔ اس لیے آپ کی جانب سے اپنے “غیر ضروری” ارادے ملتوی کرتے ہوئے ہمیں بھاشن دینے کا شکریہ ۔۔۔۔۔ آپ کی اس خوبصورت تقریر پر ایک پنجابی کہاوت یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔
چڑھدا کتھوں تے لہندا کتھوں ۔۔۔۔
(اس کا ترجمہ اجیت صاحب سے کرا لیجیے گا کہ وہ طویل عرصہ لاہور میں رہنے کے دعویدار بھی ہیں)
امید ہے کہ آپ کی جانب سے ارادوں کی عارضی معطلی مستقل ثابت ہوگی۔
خیر اندیش
ایک پاکستانی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *