ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم کے حوالے سے ایک استفسار۔۔۔فیصل فارانی

ڈاکٹر صاحب !
آپ کی نظم پڑھی اور ماں کی محبت اور قربانیوں کے حوالے سے یہ نظم بہت پسند آئی ۔۔۔ دلی داد قبول کیجئے !
لیکن ایک ماں نے اپنی محبت اور قربانیوں سے اپنی اولاد کے پاؤں میں محبت اور اپنی قربانیوں کی جو زنجیر باندھی ۔۔۔ اُس زنجیر کی خاطر ایک شاعر کی ہجرت سمجھ میں نہیں آئی ۔
نظم میں کسی خاص مقصد کے تحت اپنی ماں کی محبت کی اٗس زنجیر کو توڑ کر اگر ہجرت کی وجہ بیان کی گئی ہوتی تو اِس نظم کا جواز سمجھنے میں بہت آسانی ہوتی۔
شاعر نے اپنی ماں کی محبت اور قربانیوں کی زنجیر کے باوجود ہجرت کرکے اُس ماں کو چھوڑ دیا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ شاعر کی اِس ہجرت کے بعد اٗس ماں کی آنکھوں میں محرومی کے باوجود مایوسی کے خار نہیں رہے۔
اپنے شاعر بیٹے سے محبت کرنے والی ایک ماں کو اپنے بیٹے کی جدائی پر مایوسی نہیں ؟؟؟
کیا آپ کی یہ نظم میں اُس ماں کی آنکھوں میں محرومی کے باوجود مایوسی کے رنگ نہ ہونے کی وجہ بیان کر رہی ہے ؟؟؟
ہرگز نہیں !!!

میری ذاتی رائے میں یہ نظم ایک ماں کی محبت اور قربانیوں کا خوبصورت اظہار کے باوجود ایک نامکمل نظم ہے

فیصل فارانی
فیصل فارانی
تمام عُمر گنوا کر تلاش میں اپنی نشان پایا ہے اندر کہِیں خرابوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ڈاکٹر خالد سہیل کی نظم کے حوالے سے ایک استفسار۔۔۔فیصل فارانی

  1. سوال ٹھیک اٹھایا ہے ۔یہ نظم پڑھتے ہوئے مجھے بھی یہی خیال آیا تھا کہ محنت کی زنجیر توڑ کر گئی ہجرت میں بیٹے کے لئے امرت اور ماں کے لئے سکون کیسے آگیا ؟ وہ تو تب ہوتا جب ڈاکٹر صاحب اس محبت کی زنجیر سے بندھے رہتے ۔ ان لائنیوں میں موجود تضاد سمجھ نہیں آیا ۔آپ نے یہ لکھ کر میرے شبے کوُ تقویت دی ہے کہ میں ٹھیک سوچ رہی تھی ۔

  2. میں اس رائےسے جزوی طور پر متفق ہوں، نظم میں کچھ پہلو تشنۂ اظہار معلوم ہو رہے ہیں اگر ہم نظم کے متن میں رہیں۔ اگر میں متن کے باہر اس کا مطلب ڈھونڈوں تو اس سوال کا جواب شاید مل جائے جو نظم کو نا مکمل قرار دینے کے بجائے شاعر کے اس تجربے یا اس تاثر کو نا مکمل قرار دے جو ہجرت کے بعد اس کے ذہن میں ماں کے جذبات کے بارے میں ہے۔ شاعر نے شاید کہنا یہ چاہا ہے کہ ماں کی محرومیوں کا خلا پُر کرنے کے لیے اور اس کی محبت کا قرض ادا کرنے کے لیے شاعر نے وہ کیا (جس سے دوسرے لوگ شاید متفق ہوں) جس کے ذریعے اس نے اپنی دانست میں ماں کی عمر بھی کی تکلیفوں کا صلہ دینے کی کوشش کی اور اس میں اسے اپنی کامیابیوں کا تحفہ دیا کیونکہ وہ جو اس کی محرومیاں گھر میں رہ کر دورنہیں کر سکتا تھا (جو مادّی محرومیاں ہیں یا آسائشیں ہیں)، اس نے باہر جاکر ماں کے وہ آنسو پونچھنے کی کوشش کی جو اس نے عمر بھر ماں کی آنکھوں میں دیکھے۔ البتہ یہاں اسے ایک نئی محرومی یعنی اولاد سے دوری کا سامنا کرنا پڑ گیا، جسے شاعر نے محرومی تو مانا ہے مگر اس کے مقابلے میں بچوں کی کامیاب زندگی کو ایسا حاصل قرار دیا ہے جس کے آگے ماں اس فیصلے سے مایوسی کا شکار نہیں ہو رہی۔اب یہ فیصلہ تو خود ماں کا ہوگا کہ اس کی محرومی واقعی دور ہوئی یا نہیں اور اسے ساری عمر کی تکان کے بعد اولاد سے دوری بھی سہنا پڑی تو اس سے اس کی محرومی کم ہوئی یا اس کی صرف شکل بدل گئی اور (یا) اس نے ہمیشہ کی طرح اس پر بھی صبر کر لیا اور بیٹے کو یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ یہ بھی ایک قربانی ہی تھی جس کی حسرت کے کانٹے اس نے آنکھوں میں نظر آنے نہیں دیے اور بچوں کی خوشیوں پر ان کا سایہ نہیں پڑنے دیا بلکہ یہ تکلیف بھی اکیلے ہی سہ گئی۔ یہاں اگر میں نظم کی روح کو صحیح سمجھا ہوں تو میں یہ فیصلہ تو نہیں کروں گا کہ ماں کو سکون نہیں ملا یا اس کی محرومی یا مایوسی کا عالم کیا رہا بلکہ یہ کہوں گا کہ اس نظم میں یہ پتہ نہیں چل رہا کہ ماں اس رائے یا تجزیے سے متفق بھی ہے یا نہیں، یہ ماں کے جذبات کا تجزیہ تو ہو سکتا ہے مگر ماں کا اپنا اس بارے میں کیا فیصلہ تھا، وہ کسی کو معلوم نہیں، ہاں ایک خوش خیالی اس بیٹے کی ہو سکتی ہے جو ماں کو سمجھتا ہے اور وثوق سے کہ سکتا ہے کہ اس کی ماں کا یہی خیال رہا ہوگا یا وہ خود کو مطمئن کر رہا ہے کہ ماں نے ایسا ہی ساچا ہوگا جیسا کہ اس نے خود سوچا

Leave a Reply to فیصل عظیم جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *