آہ جنید ….!

موت کا ایک دن مقرر ہے وہ کسی بھی لمحے انسان کو اس دنیا کے معاملات سے فوری طور پر ہمیشہ کے لیے منقطع کر سکتی ہے.
موت پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے موت پر کامل یقین رکھنے کے سوا شاید کوئی دوسری راہ بھی تو نہیں. ہر مذھب مسلک کے ماننے والے ہوں یا مذاھب سے دور رہنے والے وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایک نہ ایک دن ہم جو زندہ ہیں انہیں موت سے ہمکنار ہونا ہی ہوگا.
اس ہی طرح ہمارے آس پاس کچھ ایسے لوگ رہتے بستے ہیں جن کے حوالے سے ہم سمجھتے ہیں کہ انکا زندہ رہنا ہمارے سماج کے کیے لیے نہایت قیمتی اور کارآمد ہے. ایسا ہی ایک شخص جس نے ہر حوالے سے اپنی زندگی کو اپنے چاہنے والوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند رکھا وہ جب اسٹیج پر پرفارم کرتا تو اسکے آس پاس نوجوانوں کا ایک جھرمٹ ہوتا جو اسکی آواز پر جھومتا ناچتا گاتا اور اسکی آواز میں آواز ملاتا خاص طور پر خواتین کی ایک بڑی تعداد اس حسین نوجوان کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب رہتی ہر عمر کے افراد کے لبوں پر اس کے گیت ہوتے.
ملی نغموں کی کیسٹس ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتیں اس نوجوان نے اپنی زندگی ایک بھرپور طریقے سے جی تھی ایک ایسی زندگی جس کی چاہت میں آج کے نوجوان دیوانے ہیں..
اس نے وہ سب کچھ آج سے بیس پچیس سال پہلے حاصل کر لیا تھا جو کسی گلوکار کا خواب ہوتا ہے اس نے اپنے دور کا وہ عروج حاصل کیا جو شاید پاکستان تو کیا مغربی ممالک میں بھی چند ایک گلوکاروں کے نصیب میں آیا ہو.
مگر پھر یک دم اسکا منظر سے غائب ہوجانا سمجھ سے باہر تھا کسی نے کہا اس نے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا ہے کوئی کہتا کہ وہ مولوی بن گیا ہے تو کسی کا ماننا تھا کہ اس نے کاروبار پر توجہ دینا شروع کردی ہے الغرض جتنے منہ اتنی باتیں مگر پھر ایک بار اس نے الیکٹرانک میڈیا میں قدم رکھا اور اس بار اس نے گلوکاری نہیں کی مگر حمد و ثناء سے اپنی آواز کا ایسا جادو چلایا کہ ہر خاص و عام کے لبوں پر ایک بار پھر سے اس کی پڑھی گئی نعت ” مدینہ مدینہ ” گونج اٹھی…..
اس بار اسکا روپ کچھ اور ہی تھا چہرے پر ریش مبارک تھی اس بار وہ پھٹی ہوئی جینز ٹی شرٹ اور ہاتھ میں گٹار تھامے ہوئے نہیں تھا بلکہ اس بار سر پر ٹوپی ہاتھ میں تسبیح اور پائنچے ٹخنوں سے اوپر کئیے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے زباں پر حمد و باری تعالٰی کیساتھ تھا.
یہ تبدیلی اسکے اندر کیسے اور کیوں آئی یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر اسٹیج پر اچھلتے کودتے زندگی گزرانے والا راک اسٹار جسے ہر رات گناہ کا موقع ملتا ہو جس کی زندگی خوبصورت خواتین کے جھرمٹ میں گزرتی ہو جو گانوں میں ماڈلنگ سمیت اشہتارات میں خواتین کے ساتھ بلاجھجھک کام کرتا ہو اسکا اپنے رب کی خاطر اسکی خوشنودی کی خاطر ایسے تبدیل ہوجانا کسی معجزے سے کم ہرگز نہ تھا جو شخص ہر رات موج مستی میں گزار دیتا ہو وہ یک دم سے تہجد کے سجدوں میں اپنے رب کو راضی کرنے لگے تو مان لینا چاھیے کہ اس پر مالک کا کوئی خاص ہی کرم ہوا ہوگا.
ایسا کرم جس نے اسکی ساری زندگی بدل ڈالی ہو جو ہر نماز کی ادائیگی پر اتنا خوش ہو جیسے اسے کوئی نئی زندگی مل جائے.
اسکی عملی زندگی کو دیکھتے ہوئے کئی افراد شوبز کو چھوڑ کر اس کے مشن کا حصہ بن چکے تھے.
شوبز کے کئی افراد اور نامور کھلاڑی اسکے ساتھ ملک کے دورافتادہ علاقوں میں دین کی تبلیغ کا کام سرانجام دے رہے تھے.
کوئی مانے یا نہ مانے مگر جنید جمشید نے دعوت تبلیغ میں ایک نئی رو پھونک دی تھی انکے اس مشن میں انکے ساتھ کئی نامور افراد شامل ہوچکے تھے.
آج انکی شھادت کی خبر نے مجھ سے سمیت انکے لاکھوں کروڑوں چاھنے والوں کو شدید صدمے سے دوچار کیا.
انکی شھادت کی اندوہناک خبر کے ملتے ہیں میری نظروں کے سامنے فوراً وہ وقت گزرنے لگا جب میری اور انکی ایک رسمی سی ملاقات ہوئی تھی.
محض آٹھ دس منٹ کی وہ ملاقات جس میں وہ اپنی پریشانی کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے پریشان ہو رہے تھے مجھے آج بھی یاد ہے.
میں آج انکے لیے بہت کچھ لکھنا چاھتا ہوں مگر شاید الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے یا قلم لکھتے ہوئے زندگی اور موت کے بیچ کے اس معمولی سے سفر کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیسے ایک انسان چند ہی لمحات میں ہمیں چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتا ہے.
میں اپنی تحریر میں جنید جمشید کے لیے بہت کچھ لکھنا چاھتا ہوں.
مجھے یاد ہے وہ دن جب پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال تھی اور مجھ سمیت کئی افراد کا سامان ائیر پورٹ پر کھو گیا تھا کئی افراد ویٹنگ روم میں ڈیرا ڈالے ہوئے تھے سب کو اپنی اپنی فلائیٹس کا انتظار تھا کئی افراد مایوس ہو کر گھروں کو لوٹ چکے تھے.
ویٹنگ روم کے ایک کونے میں پڑے صوفے پر اپنے چند رفقاء کیساتھ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہشاش بشاش طبیعت کیساتھ جنید شاید کسی کے انتظار میں تھے.
کافی دیر تک وہ ہر آنے جانے والے سے پوچھتے کہ بھائی کیا آج اسلام آباد کوئی بھی فلائیٹ نہیں جائے گی..؟
اللہ کرے ان کے مسائل جلدی حل ہوں تو فلائیٹ آپریشن وغیرہ چلے مجھے اسلام آباد جانا ہے، بھائی بڑا ضروری کام ہے وہاں…
کیسا خوبصورت انسان تھا وہ جو آج ہم میں نہیں رہا مجھے یاد ہے جب ” ٹھنڈی سانس لیکر اور صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے وہ بلند آواز سے کہتے ” اوہ میرے بھائیوں یہاں سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا ” یہ ہڑتالیں یہ شہر کا بند کرنا یہ فلائیٹس آپریشن کو روکنا سب یہیں کی باتیں ہیں
اپنے آپ کو پہچانو تم لوگ یہاں آئے کیوں ہو ایک مقصد ہے تم لوگوں کا یہاں ہونا ارے بھائیوں مسلمان ہوکر کیوں دوسروں کی تکلیف کا سبب بن رہے ہو روزِ محشر پوچھا جائے گا تو کیا جواب دو گے “..
انکا دس پندرہ منٹ اس ویٹنگ روم میں بیٹھنا اور پھر انکی گاڑی کا آنا اور انکا وہاں سے اٹھ کر سب کو اسلام وعلیکم و رحمتہ اللہ کہہ کر جانا……
کیا آواز تھی کیا لہجہ تھا….
پر آج میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں جنید جمشید کے لیے کچھ لکھوں…
اللہ مغفرت فرمائے جنید جمشید اور انکے ساتھ شہید ہونے والے تمام افراد کی اور سب کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے آمین…..

الہی تیری چوکھٹ پر بھیکاری بن کہ آیا ہوں
سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *