• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لفظی خیرات و صدقات بذریعہِ آفسانہ و مضامین۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

لفظی خیرات و صدقات بذریعہِ آفسانہ و مضامین۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

 

ہم پاکستانی لوگ بھی کافی سمجھدار اور عجیب و غریب خصلت کے مالک ہیں۔ باشعور اتنے کہ وطن عزیز میں جیسے ہی کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے خواہ وہ اتفاقی ہو یا پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہم فی الفور اُس واقعے کی مذمت کرنے سے لے کر اُس کی بنیادوں تک کو کھود کر سچائی سامنے لے کر آتے ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور معاشرتی مسائل پر اپنے اصلاحی و تنقیدی بےلاگ تبصرے اور مضامین لکھنے اور دوسروں کو بھی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اُکسانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

مذہبی تہواروں سے لیکر معاشرتی اور محلے والوں کی خوشی اور دکھ درد سمیت ہر چیز میں اپنے اعلی فکر و فہم کی اشاعت کرنے سے نہیں جھجکتے ۔ محلے میں کسی پر کوئی ظلم ہو یا پھر ریاست کا ڈنڈا کسی غریب و بےکس پر بےبھاؤ  کے پڑتا ہو تو ہم آگے آ کر اُس مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں۔ جو کہ حقیقی نقطہِ نظر سے ایک زندہ معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اِس طرح ہمارا ایسے مظالم و زیادتیوں پر آواز اٹھانا اِس بات کی دلیل ہے کہ ہم زندہ دلوں کے ساتھ زندہ قوم بھی ہیں۔

ہم ہر ایک مشکل میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں خواہ وہ مشکلات کتنی  ہی کٹھن اور پُرخطر کیوں نہ ہو۔ یہاں پر آج میں ایک خاص مسئلے پر لکھنے کے لئے اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہوں اور مجھ جیسے کم علم انسان کو لکھنا پڑا کہ ہاں اِس سچ کو بھی دوسرے لوگوں تک پہنچانا چاہیے ۔ اور میں اِس بات کو بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا کہ ایسا سچ لکھتے ہوئے جس میں میری اپنی ذات بھی لپیٹے میں آجاتی ہے بیان کر رہا ہوں۔

جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے۔ اور اِس بابرکت مہینے میں ہم سب مسلمان روزہ رکھ کر اپنے رب پاک کے حکم کی پیروی کر رہے ہیں۔ اِس حکم کی پیروی کے ساتھ ساتھ بحیثیت ایک مسلمان اور انسان ہمارا یہ بھی حق بنتا ہے کہ اپنے آس پاس کے معاشرے میں ایسے نادر و غریب طبقے پر گہری نظر رکھیں جِن کے معاشی حالات اچھے نہیں۔ کوئی بھی سفید پوش اپنی عزت اور وقار و خودداری کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔ اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا اور نہ ہی وہ اپنی زبان سے کسی کو کہے گا کہ میں لاچار و مسکین ہوں میری مدد کریں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہم میں شاید ہی کچھ ایسے ہوں گے جن کی معاشی حالت کافی بہتر ہوتی ہے۔ باقی کے لوگ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک مڈل کلاس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ دس بیس گھرانوں کے خرچے پانی کا انتظام کرسکے۔ تاہم اتنا وہ کر سکتا ہے کہ اپنے آس پڑوس میں کسی بھی ایک یا دو گھرانوں کی مالی معاونت کرے۔ ہماری یہ فطرت بن چکی ہے کہ جو صدقات و خیرات ہمارے اوپر فرض کئے گئے ہیں وہ ہم رمضان کے آخری عشرے تک لٹکا کے رکھتے ہیں۔ اور آخری عشرے تک اُن مساکین کو اِس مدد سے محروم رکھتے ہیں۔

بطور ایک لکھاری مجھ سمیت خواہ وہ کسی بھی نیٹ ورک پر لکھ رہا ہو اُس کا یہ فرض بنتا ہے کہ دوسروں کو ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ  خود اپنا بھی احتساب کرے۔ لفظی جمع خرچ سے نکل کر وہ حقیقی دنیا میں بھی اپنے لکھے ہوئے الفاظ کو حقیقی جامہ پہنائے۔ رمضان کے آتے ہی ہم لوگ شروع ہو جاتے ہیں مجبور و لاچار مخلوق پر افسانے و مضامین لکھنے کے لئے۔ کبھی کسی کردار کو اتنا مجبور پیش کرتے ہیں کہ نہ  ہی اُس کے گھر میں کوئی راشن چھوڑتے ہیں اور نہ ہی ایک کلو آٹا رہنے دیتے ہیں نہ ہی پانی کا ایک گلاس۔ اپنے لفظوں سے کسی گھر کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں   کہ جیسے وہ لوگ رمضان میں ہی بھوکوں مر رہے ہیں۔ اور اِس سے پہلے خوب کھاتے پیتے تھے۔

ایسا نہیں ہوتا۔ بیشک کسی بھی فِکشن اور افسانے میں ایسے کرداروں کو سامنے لانا ایک لکھاری کی اچھی کوشش ہوتی ہے۔ مگر اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی  ہی لکھی ہوئی اخلاقی و معاشرتی اصلاحی مضامین و افسانوں کو پہلے خود ایک بار عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔ اور ہم اِس اعلی مزاج و کردار کا عملی نمونہ پیش کرسکیں کہ جب ہم لکھنے بیٹھ جائیں ایسے مسائل کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے تو ہمارا ضمیر ہمیں ملامت نہ کرے۔

کسی افسانوی کردار کو اتنا کمزور و کمتر کرکے پیش کرتے ہیں کہ  جیسے وہ  انجانے کردار کوئی حقیقی ٹھوس وجود ہی نہیں رکھتے؟ ایسے حساس و رحم طلب موضوع پر قلم کشائی کرنا لفظی گولہ باری تک محدود نہیں ہونا چاہیے  ہمیں۔ بلکہ ہمیں اِس تلخ حقیقت کو اپنے دل کے پَنہاں جذبات کے ساتھ محسوس کرنا چاہیے  اور ساتھ میں اِس حقیقت کو بھی قبول کریں کہ ہاں واقعی میرے جو لفظ سفید کاغذ کو کالے لفظوں کے ساتھ داغدار کر رہے ہیں یہ سچ ہے اور اِس سچ کو میں پہلے خود قبول کرتا ہوں اور دوسروں کو بھی شدت کے ساتھ اِسے قبول کرنے کی التجا کرتا ہوں اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی آئیں اور اِس پر عملی اقدامات کرکے دیکھائیں۔

آخر میں مضمون کا لبِ لباب یہی سمجھتا ہوں کہ بیشک ہمیں ایسے گھرانوں کے  معاشی حالات پر مضمون نگاری اور اُن کی افسانوی منظر کشی کرنی چاہیے  ضرور کرنی چاہیے۔ مگر اِس کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی لازمی جُزو  کے طور پر اپنی کارکردگی کا ایک اہم رکن بنائیں۔

خواہ آپ محلے گلی میں دس بیس گھرانوں کو امداد فراہم نہ کریں بلکہ اپنی استطاعت  کے مطابق  اِس پر عمل کریں۔ جتنا آپ کے بس میں ہو وہی کریں۔ لکھاری اور قاری دونوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اصلاحی مواد نشر کرنے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اُس نصیحت پر بذاتِ خود سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر عمل کرے۔ اور اِس عمل میں ہم سب پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے سب سے پہلے مجھ پر پھر آپ پر۔

کم از کم ایک بار کسی مجبور کی مدد کرکے تو دیکھیں اور محسوس کرسکیں کہ حقیقی منظر میں کسی کے  تلخ  ایامِ حیات اور افسانوی کرداروں میں کتنا تضاد پایا جاتا ہے؟۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *