سفر لا حاصل ۔۔۔۔ مبین امجد

میں جو ان گلیوں سے آشنا تھا، ایک عرصے بعد لوٹا تو پہچان ہی کھو بیٹھا۔۔۔ جانے کس گلی میں میرا اپنا بچپنا گذارا تھا۔۔۔ ؟کہاں میں نے گلی ڈنڈا اور بنٹے کنچے کھیلے تھے۔۔۔؟ زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا؟ مجھے تو وہ تالاب بھی یاد تھا جہاں ہم آنہ آنہ کرکے خریدی گئی کنڈی ڈال کر گھنٹوں مچھلیاں پکڑنے کو بیٹھے رہتے۔۔۔ مگر اب وہ کہاں گیا؟ شائد یہ جو پلازہ ہے پہلے یہاں تالاب ہی ہوا کرتا تھا۔ یا نہیں پہلے بھی پلازہ ہی تھا۔ چاہنے کے باوجود مجھے کچھ یاد نہیں آرہا ۔۔۔ کیا میں اپنی پہچان کھو بیٹھا ہوں ؟ جانے بھول کہاں ہوئی تھی ؟ انسان اتنی جدو جہد کیوں کرتا ہے؟ شائد اس لیے کہ میرا ایک نام ہو ۔۔۔ میری ایک پہچان ہو۔۔۔ اسی لیے وہ شادیاں کرتاہے کہ اولاد ہو گی تو نسل آگے چلے گی۔۔۔۔ محنت مشقت کرتا ہے کہ مال ہوگا تو عوام میں پزیرائی ملے گی۔ مگر اس شخص کی تمام تر کوششیں اور کاوشیں سب رائگاں جاتی ہیں جو دوسروں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتا ہے۔ اور شائد ۔۔۔ شائد مجھ سے بھی یہی بھول ہو گئی۔ میں بھی یہی خطا کر بیٹھا۔ اور میرے جرم کی سنگینی بھی تو ایسی ہی تھی ۔۔۔ آخر میں نے اپنی ماں سے منہ پھیرا تھا۔۔۔ حقیقی سے بھی اور دھرتی ماں سے بھی۔۔۔۔۔ اور مجھے وہ دن بھی یاد تھا جب جاتے سمے اماں نے مجھے تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا، بیٹا مت جا ورنہ تو میرا نشان تک نا پا سکے گا۔۔۔۔ اور واقعی میرے جانے کے بعد ماں نے منہ پھیر لیا تھا ۔۔۔۔اور آج لوٹنے پہ دھرتی ماں مجھے پہچاننے سے انکاری تھی۔۔۔

میں نے آج ایک عرصے بعد وطن کی سرزمین پہ قدم رکھا تھا۔ اصل میں، میں خود غرض ہو گیا تھا۔ اور شاید اس میں میرا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ جب میں نے شعور کی آنکھ کھولی تو خود کو اور اپنے گھر والوں کو حالات کے جبر سہتے دیکھا۔ شروع دن سے ہی محرومیوں نے مجھے سرکش کر دیا ۔۔۔ میں روایت توڑ کر ، رسے تڑوا کر یہاں سے جانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر یہ معلوم نا تھا کہ میری سرکشی کی اس قدر بھیانک سزا ملے گی۔ میں جب گھر میں داخل ہوا تو میری ماں کا بے جان سرد لاشہ صحن میں پڑا تھا اور میرا باپ جو اب بالوں میں سوت لیے عمر کا چرخہ کات رہا تھا، سر پکڑے سسک رہا تھا۔ مجھے وہ اس پرندے کی طرح لگا جو گرے ہوئے شجر کی ٹہنیوں میں اپنا گھونسلہ تلاشتا پھرتا ہے۔۔۔۔ اور عائشہ کی آنکھیں بھی رو رو کر متورم تھیں۔ میری ماں کہا کرتی تھی، تو عائشہ سے شادی کر لے۔ اس کے دل کی کلائیوں میں تیری ہی محبت کی چوڑیاں کھنکتی ہیں، اس کے دل کے آنچل سے تیری ہی یاد بندھی ہےاور اسکے دل کے نگار خانے میں تیری ہی تصویر سجی ہے۔ مگر وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تو مجھ سے کہتی کیوں نہیں۔۔۔؟ شاید وہ مجھے اپنی محبت کا اسیر کر لیتی تو میں نا جاتا ۔۔۔شاید یہ جذبہ اظہار سے ماورا ہے۔۔۔ اور اس کو کہے بغیر سمجھنا ضروری ہے ۔ اور میں نہیں سمجھ سکا تو اس میں قصور تو میرا ہی ہے نا۔۔۔!

خیر ماں کی تدفین کے کچھ روز بعد کی بات ہے میں سویا ہوا تھا کہ اچانک شور سے میری آنکھ کھل گئی ۔ اور یہ شور پرندوں کا تھا۔ جن کو شاید کئی روز سے دانہ دنکا نہیں ملا تھا۔ میری آنکھوں میں وہ منظر گھوم گیا جب میں یونیورسٹی سے ڈگری لے کر گاؤں پہنچا تو میری ماں صحن میں پرندوں کیلیے دانہ ڈال رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پہ رونق آگئی اور اس نے میرا ماتھا چوما اور دعا کے پھولوں کے ڈھیروں ہار میرے گلے میں ڈال دیے۔تب ۔۔۔ ہاں تب ہی میں پوچھا تھا کہ ماں تو ان پرندوں کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے؟ اس نے کہا تھا کہ ‘دیکھ پتر !جس کو بھوک کے عذاب کا پتہ ہو وہی اپنی فصل پرندوں کیلیے چھوڑ دیتا ہے۔’ میں کہا ماں یہ ہمارے پالتو پرندے تو نہیں ہیں تو اس نے بڑے دکھی انداز میں کہا تھا ‘پالتو پرندے کو اپنی غلامی کا غم نہیں ہوتا مگر یہ خدا کو پسند نہیں کہ اس کی مخلوق کو آزار دیا جائے ۔ اور ویسے بھی غلامی کے اسیروں کی دبے پاؤں چلنے کی عادت نہیں جاتی۔ پتر کسی کو اسیر ہی کرنا ہےتو اپنی محبت سے کر ۔۔۔۔’ اور شاید میں بھی اسیر تھا۔۔۔ اپنی خواہشوں اور تمناؤں کا اسیر۔ اسی لیے میں اس ملک سے ہجرت کر گیا۔ آہ! میرے باپ کی خواہش تھی کہ میں اس کے ساتھ زمینوں پہ کام کروں مگر مجھے پیسا کمانےکی دھن اس قدر سوار تھی کہ میں ولایت جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔میرے بے حد اصرار پہ انہوں نے مجھے اجازت تو دے دی تھی مگر یہ اجازت دکھی دل کے ساتھ دی گئی تھی۔

اس رات چاند بھی کہیں چھپ گیا تھا جب میں نے اگلے دن رخصت ہونا تھا۔ اندھیرے نے چپ سادھ لی تھی اور میرے اندر جگنوؤں کی رتھ پر سوار میرے خواب جھلملانے لگے مگر خواب ریشم و مخمل کے ہوں تو بھلے لگتے ہیں، کانچ کے خواب تو آنکھوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔ مجھے یاد تھا کہ جاتے سمے میرے باپ نے کہا تھا کہ ‘ جب کوئی خود غرض ہو کر اپنوں کی چاہت سے لاتعلق ہو جائے ، پھر قدرت عجیب فیصلہ کرتی ہے ۔ سب کچھ اس کی پہنچ میں تو ہوتا ہے مگر وہ طلب میں نہیں رہتا۔۔۔’ میری ماں نے پہلے میری طرف اور پھر عائشہ کی جانب دیکھا اور کہا بعض اوقات زبان معتبر نہیں رہتی۔۔۔ نظر سے نظر کا کہا ہی کافی ہوتا ہے۔ عائشہ نے میری جانب دیکھا اور پھر منہ پھیر کر سسکنے لگی۔ اپنوں سے رخصت ہونے کا غم مجھے بھی تھا مگر۔۔۔۔۔ میں پرندہ تھا ۔۔۔۔ خواہشوں کا اسیر پرندہ ! سو مجھے اڑان بھرنی ہی تھی۔ مگر اب میں تھک گیا ہوں ایسے سفر سے کہ جس کی کوئی منزل نا تھی۔ مگر تھکان سب سے بڑھ کر تھی۔۔۔بعض لوگ اپنا سفر اتنی جلدی کیسے طے کرلیتے ہیں میرا سفر تو شاید صدیوں پہ محیط تھا۔۔۔۔ سفر بے منزل سفر۔۔!مگر اب میں اپنوں میں آگیا ہوں۔۔۔ اس کونج کی مانند جو اپنی ڈار سے بچھڑ جاتی ہے اور یہاں وہاں ماری ماری پھرتی ہے مگر پھر ایک دن اسے اپنی ڈار کا نشان مل جاتا ہے۔ تو میں اب اپنوں میں تھا۔ میں اب بچھڑنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔میں اب واپس نہیں جانا چاہتا تھاکیونکہ میں اب تھک گیا تھا۔ ۔۔ میں نے اپنے باپ کو بتایا تو وہ بھی خوش ہو گیا۔۔۔ اور شاید میرے اس فیصلے سے عائشہ کو بھی خوشی ہو ئی تھی کہ ہر وقت اس کے گالوں پہ شرم و حیا کا غازہ رہنے لگا۔ میرے فیصلے سے شاید اس کی امیدوں کی دیے پھر سے جلنے لگے تھے۔ خاندان کے بڑے بزرگوں کے کہنے پہ اماں کے چہلم پہ ہی میں نے عائشہ سے شادی کر لی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *