اداروں کی حُرمت۔۔۔۔۔سبط حسن گیلانی

 کسی بھی مہذب جمہوری نظم و ضبط میں ادارے ریاست کی جان ہوا کرتے ہیں۔کسی بھی مہذب سوسایٹی میں نہ اداروں کا آپس میں ٹکراو ہوتا ہے اور نہ ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں اُٹھائے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ادارے کو کسی دوسریے پر برتری نہیں ہوتی ۔ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت ہوتی ہے۔ فوج ریاست کی سرحدوں کی محافظ ہوتی ہے۔ یہ سب سے اہم ترین ذمہ داری ہے۔ اور پولیس ریاست کے اندر امن و امان کی ذمہ دار ہوتی ہے۔یہ بھی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ یہی احساس تحفظ ہوتا ہے جو کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی برادری میں عزت اور شان عطا کرتا ہے۔

ریاست کے اندر بروے کار دوسرے اداروں اور ان دو مندرجہ بالا اداروں میں مگر ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔ جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔ وہ ہے ان اداروں میں شامل ہونے والے ہر سپاہی اور ہر افسر کا عہد۔حلف نامہ۔میں ملک کے ایک ایک چپے کا دفاع کروں گا۔ایسا کرتے ہوئے میری مادرِ وطن کو میرے لہو کی ضرورت پڑی تو اپنے جسم میں دوڑتے ہوے لہو کا آخری قطرہ بھی بہا دوں گا۔ یہ ہے ایک فوجی کی شان جس کی وجہ سے قوم کا ہر فرد و بشر اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔اسی طرح پولیس میں شامل ہونے والا بھی ہر سپاہی و افسر یہ عہد کرتا ہے کہ میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر۔قانون کو نافز کرنے والے ریاست کے ایک نمائندے کے طور پر اپنے فرائض ادا کرتے وقت اپنی جان کی پرواہ نہیں کروں گا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری فوج نے اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر ہمیشہ بے پناہ قربانیاں دیں،صرف گزشتہ دو اڑھائی سال کا ریکارڈ قوم کے سامنے ہے۔کسی دوسری فوج نے شاید ہی ایسی شاندار تاریخ رقم کی ہو۔ اس پر ہمیں بے پناہ فخر ہے۔سیاہ چین کی برفانی چوٹیوں سے لیکر فاٹا کے جنگلات تک قدم قدم پر یہ تاریخ بکھری ہوئی ہے۔دوسری طرف پولیس ہے۔یہ فوج جتنی مہارت اور ڈسپلن کی حامل نہیں ہے۔ ان کے پاس درکار وسائل کا عشر عشیر بھی نہیں۔لیکن اس کے باوجود ہماری چاروں صوبوں کی پولیس نے دہشت گردوں کے سامنے جرات و بہادری کے کارہاے نمایاں سرانجام دیے۔اس سلسلے میں جہاں جہاں ضرورت پڑی فوج نے انہیں ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی۔ ٹرینگ سے لیکر وسائل کی فراہمی تک یہ دونوں ادارے ریاست کے دست وبازو ہیں۔کسی ایک کے بغیر بھی نہ ریاست چلائی جا سکتی ہے نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی کبھی ناخوشگوار واقعات جنم لے لیتے ہیں۔ایسے واقعات بنیادی طور پر انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔جنہیں اگر مناسب حکمت عملی سے سنبھال لیا جائے تو اداروں کی حرمت پر سوال نہیں اٹھتا۔کسی بھی ادارے کی حرمت اس کا وقار اس کی سب سے قیمتی متاع ہوتی ہے۔ جو کسی صورت بھی داؤ پر نہیں لگنی چاہیے۔

گزشتہ دنوں موٹر وے پولیس اور فوج کے دوافسروں کے درمیان ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا۔سوشل میڈیا جو آج کی ایک حقیقت ہے ۔جس کا کردار مثبت بھی ہے اور منفی بھی ، اس واقعے کو غیر معمولی اہمیت دی ۔جسے کچھ حلقے سازش قرار دے رہے ہیں ۔یہ سازش ہر گز نہیں صرف بدلتے ہوئے زمانے کے بدلتے ہوے رنگ ڈھنگ ہیں۔ جن کی مثبت چیزوں کو قبول کیا جانا چاہیے اور غلطیوں کی اصلاح ۔میں یہاں دوواقعات کا حوالہ دوں گا۔ جہاں ادارے کی اعلی قیادت کی طرف سے دو مختلف قسم کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ 1992میں حیدرآباد سندھ کے قریب فوج کے ایک میجر نے اپنی زاتی دشمنی میں اپنی پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوے 9بے گناہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کربے دردی سے قتل کر ڈالا۔اس وقت فوج کے چیف مرحوم جنرل آصف نواز تھے۔انہوں نے جرم ثابت ہونے پر اس افسر کا کورٹ مارشل کر کے موت کی سزا سنائی۔1996میں جنرل جہانگیرکرامت فوج کے چیف تھے۔انہوں نے اس سزا پر عمل درامد یقینی بنایا۔جس کی وجہ سے پورے ملک سمیت سندھ میں فوج کی عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔دوسرا واقعہ بلوچستان کوئیٹہ کے قریب اخروٹ آباد میں پیش آیا۔جس میں ایک فوجی کپتان نے ایک لیڈی ڈاکٹر کی آبروریزی کی۔واقعہ رپورٹ ہوا۔ ہر طرف غم و غصے کی لہر دؤڑ گئی۔اس وقت فوج سمیت ملک کی کمان جنرل مشرف کے ہاتھ میں تھی۔ موصوف نے کسی تفتیش و تحقیق کے نتائج آنے کا انتظار کیے بغیر باقاعدہ ٹی وی پر نمودار ہو کر’’ جس کا انہیں بہت شوق تھا‘‘ کپتان کی ’’بیگناہی‘‘ اعلان کیا۔بعد میں لیڈی ڈاکٹر پرملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور اس سلسلے میں ہمارے ایک معروف ٹی وی اینکر کام آئے۔ بعد میں مشرف جب غیر ملکی دؤرے پر تھے تو مظلوم لیڈی ڈاکٹر والے واقعے پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دراصل ہمارے ہاں باہر جا کر سیٹل ہونے کی خواہش مند عورتوں کے ہاتھ ایک حربہ آ گیا ہے۔موصوف نے اپنی کتاب میں مختاراں مائی کے متعلق بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں مجھے لکھ کر یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مشرف کے اس طرح کے برتاؤ کی وجہ سے ادارے کے وقار کو کتنا دھچکا لگا۔

آج فوج کے دو تین افسروں پر سر عام غنڈہ گردی اور مارپٹائی کا الزام لگا ہے، یاد رہے یہ ابھی تک الزام ہے، جس کی وجہ سے پولیس اور اس کی اعلیٰ قیادت میں بہت بے چینی پائی جاتی ہے۔آج فوج کی کمان ایک ایسے جرنیل کے ہاتھ میں ہے ۔جس کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ادارے کے اندر جس نے اعلیٰ ترین سطح تک احتساب کی شان دار مثالیں قائم کی ہیں۔ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ کسی بھی ادارے کے اندر بے چینی کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔جو افراد اس میں ملوث ہیں انہوں نے عین حالت جنگ میں دو اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے جیسا بڑا اورقومی سطح کا جرم کیا ہے۔پولیس کی نمائندگی کے ساتھ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔اور ذمہ داروں کو اس کی سزا ملنی چاہیے، تاکہ آئیندہ کسی کو اپنی ذاتی انا کی خاطر اپنے اداروں کی حرمت داؤ پر لگانے کی جرات نہ ہو۔ ہمیں یقین رکھنا چایے کہ فوج خون کے دریا بہاکر کمائی گئی اپنی عزت پر کسی صورت کوئی داغ دھبہ برداشت نہیں کرے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *