پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔۔ محمداقبال دیوان/قسط 5

یہ کہانی ہمارے مشفق و مہرباں دیوان صاحب کی ”تیسری کتاب پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ“کی فلیگ شپ اسٹوری ہے۔ ہم سات اقساط پر مبنی یہ کہانی مکالمہ کی  دوست  پروفیسر نویدہ کوثر، کی فرمائش پر شائع کرر ہے ہیں۔ امید ہے پسند آئے گی۔چیف ایڈیٹر۔انعام رانا

تعارف
پروفیسر نویدہ کوثر
فیصل آباد
اقبال دیوان کی تحریر کمال ھی کمال ھے۔
پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ۔
۔بے مثال کہ محبت کی اتنی دلنیشن صورت پہلے کبھی پڑھی ھی نہیں بالکل ایسے جیسے سرمئی سی شام ہو،،دودھیاصبح کی مسکرا ہٹ میں غنودگی کا رس بھرا ذائقہ ہو،،جیسے بادل زمین پہ اتر آئے اور کسی کو آغوش میں لے بھگو کر شرارت سے مسکاتا چلا جائے۔
اس سحر آفرین کہانی میں تو محبوب ایک طرف رہا

خود عاشق بھی ایسا ہے کہ جس پہ عشق بھی عاشق ہوجائے ۔جنون اسے باہوں میں بھر لے اور اپنی بیخودی کا مزہ چکھ لے۔
ان گنت رنگوں کی بارش سے رنگا یہ عاشق کمال ہے کہ شرابور ہو کر بھی سوکھے چمک دار سپید لباس میں اجلے پن کی مثال ہے۔۔محبوب کی نسائیت اور حسن فتنہ ساز کا بیان مرد تو مرد۔خواتین کے دل کے ساز پر بھی استاد ولایت حسین کا راگ شنکراسنوا دیتا ہے۔۔یہ عالم کہ گدگدا ہٹ اور اکساہٹ میں ایسی نزاکت بھر ا سراپا سمو کر رکھ دیا ہے کہ سسکی کو چٹکی میں بھر کر اس بدن پہ پھونک دو تو نیل پڑ جائے۔۔آپ نے ایسا دیکھا کبھی۔نہیں ناں۔ چلیں بسم اللہ پڑھ کر چلتی گاڑی میں سوار ہوجائیں اور یہ نظارے اقبال دیوان کی کہانی میں دیکھ لیں۔سرشار بوسے،،جسمانی تعلق کی الوہیت اور محبت کے جزیروں کی یہ مثلث آپ کو صحرا میں سمندر کا تجربہ کراتی ہے کیونکہ اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
بہت پیار
مسحور و مسرور
آپ کی
نویدہ کوثر

گزشتہ سے پیوستہ
پڑوس کی رکمنی بائی نے اسے یہ بات اس سونوگراف سے پہلے بتائی تھی جو اس نے اپنی امی کے کہنے پر چپ چاپ رولا کے ساتھ جاکر کرایا تھا۔ ا ن کا خیال تھا کہ ہونے والی ماں کو بچے کی پیدائش سے پہلے کچھ تیاریاں کرنی ہوتی ہیں۔ پیٹ میں اگر لڑکا ہے تو سلمان کے وقت کی چیزیں انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں لہذا تردد کی کوئی بات نہیں، اگر لڑکی ہوگی تو انہیں کچھ کپڑے بنانے ہوں گے۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو رولا بچے کی جنس کے بارے میں جاننے کے لئے امجد ہی کی طرح بے تاب تھی۔ماہم نے مسکر کر اسے کہا He wins again. Its a boy (وہ جیت گیا۔ اب کی دفعہ بھی لڑکا ہی ہے) رولا بہت دیر تک اسے واپس گھر کی طرف لے جاتے ہوئے سوچتی رہ کہ یہ جیت ماہم نے کس سے منسوب کی ہے؟!
وہ جب بھی رکمنی بائی کے سامنے جاتی ہے، پیٹ پر ململ کا نماز کا اپنا بڑا سا د وپٹہ ڈال لیتی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسکی امی نے اسے سمجھا رکھا ہے کہ پیٹ کے بچوں کو نظر بہت جلدی لگتی ہے۔ اس دوپٹے کو اوڑھ کر اب وہ باقاعدگی سے تہجد، اشراق،چاشت اور اوابین کی نفلی نمازیں بھی پڑھتی ہے۔

پانچویں قسط
امجد کے نمازیں پڑھنے میں کوئی باقاعدگی نہیں البتہ وہ جمعے کی نماز   بڑے اشتیاق اور اہتمام سے پڑھتا ہے،مکرم تو تھا ہی مُواء دہریہ۔وہ کہتا تھا کہ یہ خدا کا تصور، ذہن کا انجانا خوف ہے۔انسان ایک فنا ہوجانے والے مٹیریل سے بنا ہے جو مرنے کے بعد مٹی میں اس لئے دبا دیا جاتا ہے یا اس لئے جلا دیا جاتا ہے کہ وہ ایک Bio-Degradable مٹیریل ہے۔انسان کا یہ مرا ہوا جسم اگر بغیر جلائے اور دفنائے یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو اس  سے بیماریاں پھیلنے اور ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ دنیا اتنی کمینی ہے کہ نومولود کو جو یہ کپڑے پہناتی ہے اس سے بہتر کپڑے موت پر اس کے بدن سے کھینچ کر ا تارنے کے بعد اسے ایک سستے،سادہ اور اَن سلے کفن میں لپیٹ دیتی ہے۔ماہم عام حالات میں اس سے بحث و تمحیص سے گریز کرتی مگر اس وقت جانے کیوں ایک دلیل ذہن میں آئی کہ وہ کہنے لگی اور یہ عیسائی لوگ جو اپنے مردہ لوگوں کو بہترین لباس زیب تن کر کے دفناتے ہیں تو اس کا کیا جواب ہے؟

سیاہ سوٹ میں  تدفین ۔جوک
مد رتھریسا تدفین کے لیے تیار
مارلن منرو تدفین کے لیے تیار

اس کا جواب یہ ہے کہ ” تمہارے جیسی ایک خاتون کسی مردہ خانے کی انچارج تھی،حسین اور بے وقوف۔مردہ خانے میں ایک لاش لائی گئی جسے بیوی نے نیلا سوٹ پہنایا ہوا تھا۔اس نے جب بیوی سے پوچھا کہ کیا یہ رنگ اسے بہت پسندہے؟۔۔ بیوی کہنے لگی نہیں اس کے میاں پر سیاہ رنگ کا سوٹ بہت جچتا تھا مگر وہ نیا سیاہ سوٹ نہیں خرید سکتی لہذا اس نے پرانے نیلے سوٹ میں ہی اپنے محبوب شوہر کو دفنانے کا ارادہ کیا ہے۔ دوسرے دن عجب ماجرا ہوا ایک بڑی بی اپنے نوجوان بیٹے کی لاش لے کر آئیں جو سیاہ سوٹ میں ملبوس تھا۔بڑی بی اس کو بتانے لگیں کہ سیاہ رنگ ان کے خاندان میں نحوست اور تباہ کاریوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ارادہ اپنے پسندیدہ رنگ میں بیٹے کو نیلے سوٹ میں دفنانے کا  تھا مگر وائے قسمت کہ  وہ مالی طور پر تنگ دست ہیں۔
اس نے ان دونوں خواتین سے اجازت لے لی کہ وہ فارغ ہوکر ان دونوں کے سوٹ تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان کے ارمان تاکہ ، اپنے پیارے مردوں کو اپنے پسندیدہ رنگ کے سوٹ میں دفنانے کے حوالے سے پورے ہوجائیں۔بڑی بی نے ا سے جتایا بھی کہ لاش کے کپڑے تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔جتنا وہ سمجھ رہی ہے مگر وہ مردہ خانے کی انچارج حسینہ انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اگلے دن بیوہ تو خوشی خوشی اپنے مرحوم، شوہر کی لاش دفنانے لے گئی اور انچارج کا اس نے شکریہ بھی بہت دل سے ادا کیا کہ اس نے میاں کو سیاہ سوٹ میں دفنانے کی خواہش پوری کردی مگر نوجوان کی والدہ اپنے بیٹے کی لاش نیلے سوٹ میں دیکھ کر کچھ غیر مطمئن تھیں۔ انہیں یقین نہ آتا تھا کہ کوئی لاش کے کپڑے اس مہارت سے تبدیل کرسکتا ہے ۔انہوں نے جب انچارج سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہوا تو اس نے کہا کہ جب سب چلے گئے تو سرجری میں اپنے بوائے فرینڈ سے بجلی کا آرا لائی اور گردنوں کے پاس سے دونوں کے چہرے کاٹ کے نیلے کا کالے سوٹ والی لاش پر۔ اور کالے کا چہرہ نیلے سوٹ والی لاش پر اطمینان سے سجادیا۔

ماہم کے لئے مکرم کا یہ بیان سن کر مسکرانے کا سامان پیدا ہو ہی رہا تھا کہ اس نے رنگ میں یہ کہہ کر بھنگ ڈال دی کہ ” مجھے بھی لگتا ہے  کہ اس شادی میں بھی بدن کسی اور کا اور صرف چہرہ میراہے۔دونوں میں اس پر بہت تکا فضیحتی ہوئی۔ ماہم نے جب اسے یہ کہا کہ ” وہ اللہ کے بارے میں اپنے خیالات کی وجہ سے جہنم کی آگ کا ایندھن بنے گا ” تو وہ اس کی تضحیک کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ” اس جیسی جاہل اور بدکار عورت کے ساتھ زندگی گزارنے کے تجربے کے بعد جہنم تو ہمارے کشمیر کا گلمرگ لگے گی” ۔

ماہم نے اس کے جب یہ بے ہودہ خیالات سنے تو بستر سے اٹھی اور بالکونی میں جاکر کرسی ڈال کر بیٹھ گئی وہیں اسے نیند آگئی اور وہ وقت مقررہ پر تہجد کے لئے جاگی تو وہ فلیٹ میں  موجود نہ تھا۔
اگلے دن سے اس نے زیادہ شدت سے نمازیں پڑھنا شروع کردیں۔ سلمان کے پیدا ہونے کے بعد اس نے بطور ماں تہیہ کیا تھا کہ وہ سلمان کو اس کی ان ناہنجار سوچوں کی نحوست سے محفوظ رکھے گی۔ماہم کئی دفعہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ ان کی باہمی طلاق کی وجہ  سے شے اپنے اس گمراہ، جہنم رسیدہ باپ کے ناپاک خیالات کے پرتو سے محفوظ رہا۔سلمان کو اس نے اپنی امی کو خاص ہدایت کی  ہے کہ نماز کی پابندی کرائی جائے۔ وہ ڈورتھی کو آج کہے گی کہ وہ سلمان کو قائل کرے کے وہ امجد کے ساتھ جمعے کی نماز پڑھنے مسجد جایا کرے۔

پام کے پتوں کی برسات
پام کے پتوں کی برسات

اسے یاد آیا،رمضان شروع ہونے کو تھے اس نے رافع سے پوچھا کہ وہ رمضان میں عام دنوں جیسا ہی ہوتا ہے یااس کے معمولات کچھ تبدیل ہوجاتے ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ پورے روزے رکھتا ہے ان دنوں میں وہ بہت نیک بن جاتا ہے، اگرچہ اس کانیکی کا تصور بھی صرف جسمانی عبادات تک محدود ہے ۔ پانچ نمازیں تو وہ پاس کی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے اور چار نفلی نمازیں اشراق، چاشت، اوابین اور تہجد وہ گھر پر ہی پڑھتا ہے۔سچ پوچھیے تو اس نے اشراق، چاشت، اوابین کی نمازوں کے بارے میں پہلی دفعہ رافع ہی سے سنا۔ اس سے پہلے صرف تہجد کی نماز کا اسے پتہ تھا۔ان کے اوقات اور ادائیگی کی تفصیلات بھی ماہم نے اس کی زبانی ہی سنیں۔اس رمضان میں ماہم نے بھی یہ نمازیں پڑھیں۔وہ افطاری کی کسی دعوت میں کہیں نہیں جاتا۔وہ کہہ رہا تھا کہ ” کسی بزرگ نے اسے بتایا تھا کہ عصر سے مغرب کا وقت انوار الہی کے برسنے کا رمضان میں بہترین وقت ہوتا ہے”۔” وہ کیوں؟ “ماہم نے اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ” اس وقت بندے کا صبر اور اللہ کی رحمت اپنی انتہا پر ہوتی ہے”۔

اس کے رمضان کے معمولات ایک ایسا حوصلہ افزا انکشاف تھے جن کو سن کر ماہم کو یقین آگیا کہ اس کی شراب نوشی،منشیات کی عادت، خراب عورتوں سے رفاقت کی طلب،ان تمام خرابیوں کے باوجود اس میں اچھائی کا ایک ایسا بنیادی جوہر موجود ہے جو محض ایک ہمدرد رفیق حیات کی نگرانی میں چمکنے کے لئے منتظر ہے۔اسے اس بات سے بہت تقویت کا احساس ملا۔
ماہم آہستہ آہستہ مشین سے دھلے ہوئے کپڑوں کا گٹھا لے کر باہر بالکونی کی طرف گئی اور انہیں الگنی پر سکھانے کے لئے پھیلانے لگی۔ رکمنی بائی بھی ساتھ کی بالکونی میں بھی اسی کاروائی میں مصروف تھی اس نے پھر ماہم کے حمل کے بارے میں سوال کئے اور اپنی لڑکے کی پیدائش والی پیش گوئی دہرائی۔اس کے پیٹ پر اس وقت نماز والا دوپٹہ نہیں تھا۔
ماہم مسکراتی ہوئی باتھ روم کی طرف لوٹ گئی۔ اس نے اپنی نائٹی کھونٹی پر لٹکائی تو اسے اپنا پیٹ آج کچھ زیادہ بڑا بڑا سا لگا۔اس نے شاور کے مکسر زموسم کی مناسبت سے سیٹ کئے اور اپنی ہتھیلی پر ان سے بہنے والے پانی کی حدت کا جائزہ لیتی رہی۔ کچھ ہی دیر میں پانی کی حدت اسے اپنے مطلوبہ معیار کی لگی تو اس نے یہ دھار اتنی مدھم کردی کہ اسے لگا کہ وہ کوئی ایسا پرنالہ ہے جس سے بہت دیر سے رکی بارش کے بعد بھی پانی کے قطرے ٹپ ٹپ کر  کے نیچے پام کے بڑے پتے پر گر رہے ہوں۔ یہ قطرے آہستگی سے اٹھلا اٹھلا کر پھسلتے ہوئے عین نیچے اُگے ہوئے پودے پر کھلے تازہ پھول کی آغوش میں جاگرتے ہوں اور ان کے مزید وجود کا کوئی نشان اس لئے نہ ملتا ہو کہ وہ پھول کی تازگی میں سماجاتا ہو۔ماہم کے بدن پر یہ شاور سے بہتے ہوئے پانی کے یہ قطرے کبھی اس کے بالوں اور کبھی سینے پر گرکر انجانی مسافتوں پر روانہ ہوجاتے تھے۔

جم کے جلوے
جم کے جلوے
روز انتھال

پانی کی اسی مدھم سی دھار میں بھیگتے ہوئے اس نے اس لگاؤ کی تمام تر جزئیات کا سوچا جو ایک بڑے سچ میں ضم ہورہی تھیں۔اپنے پر گرتی ہوئی ہر بوند اُسے لگا کہ شعور کی توانائی اور آگہی کی ایک ایسی ٹھنڈک بھری روشنی تھی جو قطرہ قطرہ اس کے بدن پر بہتی ہوئی اسے اس  محبت کے بارے میں ایک نیا ادارک عطا کر رہی تھی۔
وہ سوچنے لگی کہ اس عشق میں وہ خود سے کہاں جدا ہوئی۔وہ کونسا ایک بڑا طلسم تھا جو اسے اپنے آپ سے یوں کاٹتا چلا گیا جیسے ایک تیز دھار کی چھری، ٹرے میں رکھی مکھن کی ٹکیہ کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔

اس کا ذہن، یاداشت کے معاملے میں اب بہت اُجلا ہوچلا ہے۔ہر قطرہ ء آب جو شاور سے گر کر اس کے بدن کواپنی گیلاہٹ سے آشنا کرتا ہوا، کہیں اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوگیا ہے، وہ اسے احساس دلاتا ہوا گیا ہے کہ اس کی یادیں رافع کے معاملے میں کبھی بھی موہوم نہ تھیں،پر وہ اس پر، آج کے دن سے پہلے اتنی اجاگر کبھی نہ ہوئی تھیں۔
اس کا پہلا جھوٹ کہ وہ تین سال کی عمر میں ہی اپنی امی کی وفات سے یتیم ہوگیا تھا اور اس کاپانچواں جھوٹ کہ وہ اسکول ڈراپ آؤٹ ہے اس میں ممتا کے جذبات کو اجاگر کرگیا۔اس کا چوتھا جھوٹ کہ وہ منشیات، شراب نوشی اور خراب عورتوں کی رفاقت کا عادی ہے۔وہ انیس برس کی کسی اور مرد نا آشنا لڑکی کو تو شاید اس سے پرے لے جاتا مگر ماہم نے اس کے بارے میں کچھ دوسرے انداز سے سوچا۔شراب اس کا اپنا باپ بھی پیتا تھا۔ ماں اور دونوں بہنوں کے سامنے اس کے آبگینے بھی سرِشام سلگ اٹھتے تھے۔منشیات اس کے نک Nick کے حوالے سے ایک رسک فیکٹر ضرور تھا مگر یہاں ابوظہبی میں جب وہ اس کے تسلط میں آجائے گا۔اس کی منشیات تک رسائی ناممکن ہوگی،اگر وہ بہت نادان نہیں ہے تو وہ یہ جسارت نہیں کرے گا کہ انہیں پاکستان سے سامان میں چھپا کر لائے۔ان کی کسٹم میں سونگھنے والے کتے اسے ایک منٹ میں پکڑ لیتے ہیں اور پھر ساری عمر وہ جیل میں سڑتا رہے گا وہ اس کی اس حرکت پر کوئی مدد نہیں کرے گی۔ پھر وہ خود کیا کم نشیلی ہے۔ایسا تراشا ہوا بدن نہ تو رولا کا ہے نہ ڈورتھی کا ہے۔اس نے تصویر میں خود ہی دیکھ لیا ہوگا کہ وہ کتنی متناسب اور جان لیوا ہے۔اسے رولا پر پیار آیا کہ اس کی شرارت نے یہ بات اس پر کتنے آرام سے واضح کردی ہوگی۔ وہ اس تصویر میں اپنی مختصر سی نائیکی کی سیاہ ڈرائی فٹ اسپورٹس برا اور میکنزی کی چھوٹی سی سرخ ٹائیگر اسپورٹ شارٹس میں ملبوس تھی اور اس نے یہ تصویر اس وقت کھینچی تھی، جب وہ تولیہ ہاتھ میں پکڑے جم میں شاور لینے جارہی تھی۔رہ گئیں خراب عورتیں تو ماہم نے اسے یہ رعایت بن مانگے ہی دے دی کہ ہوسکتا ہے وہ اس کی رفاقت میں خود کو اچھا محسوس کرتی ہوں اور اگران میں سے کوئی اچھی بھی ہو تو ممکن ہے وہ اس کی صحبت میں خرابیوں پر با آسانی آمادہ ہوجاتی ہو۔یہ تمام خیالات جو پانچویں جھوٹ کے حوالے سے اس کے ذہن میں اس وقت آئے تھے اسے نسوانی طاقت کے ایک توانا بخش احساس سے مالا مال کرگئے۔

شاور سے ٹپکا ہوا پانی کا ایک شریر قطرہ اسے لگا کہ رافع کے خیالات کی طرح اس کے سینے سے نیچے ڈھلکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اس نے مسکراکر بہت پیار سے اس ڈھیٹ قطرے کو ہونٹوں پر تبسم سجائے دیکھا ۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ وہ اس کا کوئی نام رکھے رافع کو بہت شعر یاد تھے مگر وہ اردو شاعری سے کچھ ایسی خاص رغبت نہ رکھتی تھی ۔اس محبت میں پھر وہ مقام بھی آگیا کہ اسے شعر سمجھ میں بھی آنے لگے اور یاد بھی رہنے لگے ۔ماہم نے اس قطرے کو اشکِ بلبل کا شاعرانہ نام دیا اور کھل کھلا کر ہنس پڑی ایسا لگا کہ کسی نے روز انتھال کی قیمتی چینی کی پلیٹ پر سونے کی اشرفی اچھال دی ہو۔ اپنی انگشت شہادت اور انگوٹھے کی  مدد سے اسے کیرم بورڈ کے اسڑائیکر کی طرح سے ضرب لگائی تو وہ جاکر سامنے آئینے پر پھر اسی مقام پر عکس پر جا دھمکا جہاں،وہ اس پر گرتے وقت ابتدا میں پہلے سے موجود تھا۔

وہ اس کی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی ڈھٹائی بھری بے چارگی کو مسکراکر لجاتے ہوئے دیکھنے لگی۔اس نے قطرے کے قریب جاکر آہستہ سے سرگوشی کی کہ “وہ لوگ جو کسی کی زندگی میں بن بلائے آجائیں اور بن چاہے قیام پذیر ہوجائیں ان کا یہی انجام ہوتا ہے Away you go. Go to your own world Mr. Rafay”۔وہ سوچنے لگی کہ اس قطرے کی مانند رافع بھی اچھائی اور برائی کو کس قدر سہولت سے برتنا جانتا تھا۔اس نے آہستہ سے کہا “اگر اچھائی اور برائی کے تجریدی تصورات کا کوئی Serial Killer ہوتا تو وہ مسٹر رافع آپ تھے۔یہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے مگر یہ رازمیں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی”۔اس ایک بات کے بعد وہ خود سے ہم کلامی کرنے لگی ہے۔وہ رافع کو جتلارہی ہے کہ آپ میں ایک مردانہ جارحیت کی شدید کمی ہے، گو آپ کی مردانگی، ایک ایسا زہر تھی جو کسی بھی نسوانی وجود میں بہت آرام سے سرائیت کرسکتا تھا،بہت عرصے تک وہ زہر بے نمود رہنے کے بعداپنے من پسند لمحات میں جب آپ کے طلسم کے زہر کا ڈسا ہوا وہ نسوانی وجود، اپنے نقطہء مدافعت کے سب سے نچلے درجے پر ہوتا، اسے بے رحمی سے ہلاک کردیتا۔عجب بات یہ ہے مسٹر رافع کہ یہ ہلاکت اس وجود کی زندگی کا خاتمہ نہ ہوتی بلکہ یہ ایک اور ہی طرح کی ایسی حیات نو کہ جس پر آپ کی نادیدہ محبت کے واٹر مارک ایک سلیف ڈیزائن کی مانند جابجا موجود ہوتے۔آپ عشق میں کاپی رائٹ کے سب سے جان لیوا نقیب ہو۔

ماہم کا یہ رافع آخر کون تھا۔ سندھ کے شہر ٹنڈو اللہ یار کا رافع جس کا اصل نام سلمان تھا۔ اس کا انٹر میڈیٹ کا نتیجہ عین اسی شام آیاجس رات اس کا ولیمہ تھا۔ اس نے پورے حیدرآباد ڈویژن میں پہلی پوزیشن لی تھی ان دنوں کسی کا بورڈ کے امتحان میں پوزیشن لینا ایسی ہی بڑی خبر تھا جیسا ڈاکیومنٹری کی کیٹگری میں تیزاب سے جھلسی ہوئی رخسانہ پر شرمین عبید کی بنائی گئی فلم کا آسکر ایوارڈ لینا تھا۔ صحافی بھی اسی لیے اپنے اخبارات کے لئے اس کا تصویر اور انٹرویو لینے ولیمے میں ہی بن بلائے پہنچ گئے تھے۔

ان میں سے دو چار شیطان صحافیوں کی تو مرضی تھی کہ وہ اس کی تصویر ولیمے کے دولہا کے طور پر ہی چھاپ دیں مگر رافع کا باپ سائیں اللہ ڈینو جو ایسے موقعوں پر بہت رواجی طرز عمل کا مظاہرہ کرتا تھا۔اس نے شہر سے آئے ہوئے دوستوں کی جانب سے رافع کو بدھائی کے طور پرملے ہوئے ایک دو لفافے، ان ضدی رپورٹروں کے حوالے کئے تو رافع کی اخبارات میں وہی تصویر چھپی جو اس نے بہت اہتمام سے شہر کے ایک بڑے فوٹو اسٹوڈیو سے کھنچوائی تھی۔تنگ سے کوٹ میں کس کر باندھی ہوئی ایک ٹائی، کیمرے کو ایک بے یقین بے رحمی سے گھورتی ہوئی آنکھیں، لبوں پر مسکراہٹ نہ دارد۔سر میں ایک اہتمام سے کچھ تیل لگا ہوا۔بیچ سے نکلی ہوئی تلوار کی دھار جیسی مانگ اور احتیاط سے بنائی ہوئی بے ربط موچھیں۔کالے بھدے فریم والا چشمہ جس کے پیچھے اس کی ذہین آنکھیں دنیا کو ایک بے اعتباری سے تک رہی تھیں۔

حبیب بنک
راجیش کھنہ

رافع کی یہ تصویر اس سے کہیں زیادہ اچھی آسکتی تھی مگر ان کی فوٹو کھنچوانے کے اوقات نامناسب تھے۔ جب وہ فوٹو گرافر کی دکان پر پہنچے اس وقت فوٹو اسٹوڈیو کا مالک لنچ کر کے سورہا تھا۔ ان کا مین فوٹوگرافر ایک نوجوان طوائف کا پورٹ فولیو بنانے اپنے کیمرے اور  کچھ پراپس Props اسی کی بھیجی ہوئی بگھی میں رکھ کر ہیرا منڈی چلا گیا تھا۔(حیدرآباد شہر میں تب تک رکشے چل پڑے تھے مگر دید و باز دید کی شوقین رنڈیاں بگھی کو ہی اپنی پسندیدہ سواری میں شمار کرتی تھیں اور کہیں آتے جاتے ہوئے مشتاقان دید و ہوس کے لیے اس کے ہڈ کو پیچھے ڈھلکا دیتی تھیں۔) اس طوائف کو کسی ٹی وی پروڈیوسر نے اپنے سیریل میں ہیروئین کا رول دینے کا وعدہ کیا تھا۔ حیدرآباد کی اس ہیرا منڈی میں یہ غائب کے سودے بھی عام تھے۔ان سے نوجوان طوائفیں کچھ دن کے لئے بہل جاتی تھیں۔چال باز فن کار،چمتکار کے ماہر، ریڈیو،ٹی وی اور فلموں کے چند پروڈیوسر ڈائریکٹر جو باتوں کے بگھار میں پورے، ہلکی جیب اور اس سے بھی ہلکا ضمیر رکھنے والے گنی لوگ کچھ دن ان کے بدن سے کھیلنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔

ان طوائفوں کے لئے بھی یہ گھاٹے کا سودا نہ ہوتا۔ دن میں اپنے ان مالی طور پر تنگ دست دنیائے فن کے لوگوں کے ہاتھوں لٹنے کا پورا معاوضہ، ان کی نائیکائیں رات میں کچھ بے تاب قسم کے زمین داروں سے یہ پورٹ فولیو جو انہوں نے ایک مخمل میں لپیٹ کر البم کی صورت رکھا ہوتا دکھاتے ہوئے یہ کہہ کر وصول کرلیتی تھیں ۔” بے بی فلم اور ٹی وی میں آئے گی تو پھر عید کا چاند ہوجائے گی۔دور سے ہی حبیب بینک کی اونچی ماڑی(منزل) پر دیکھنے کو ملے ؎ گی سائیں۔ابھی موقع ہے تو مزے کرلو۔ کل کس نے دیکھی۔ ” فیمس فوٹو گرافر کے ہاں یہ وقت بہت سے گاہکوں کے آنے کا نہ تھا مگر گاؤں سے رافع کا بڑا کز ن رٖحیم بخش آیا تھا جس نے رافع کو لے کر وہیں جانا تھا جہاں وہ فوٹوگرافر پورٹ فولیو بنانے گیا تھا۔
یونی ورسٹی میں داخلے کے فارم جانے کی آخری تاریخ بھی قریب تھی۔ لہذا رافع نے ضد کی کہ وہ محلہ بھی قریب ہے اور فیمس فوٹوگرافر بھی تو ہاتھ کے ہاتھ تصویر کھنچوانے کا کام بھی کرتے چلیں۔تاکہ وہ وقت پر اپنی تصویر امتحانی فارم پر لگا سکے۔

فیمس فوٹوگرافر کے ہاں جس ملازم نے اسکی تصویر کھینچی اسے فوٹوگرافر بننے کا شوق تو بہت تھا مگر اس کا اصل کام دکان کی صفائی وغیرہ کا تھا۔ سیٹھ کو سوتا دیکھ کر اس نے موقع غینمت جانا۔رافع کو اسی نے کھینچ کھانچ کر کیمرے کے سامنے بٹھایا۔ اسکا کوٹ کا کالر درست کیا۔ اس کے کاج میں اپنی طرف سے پھونک مارکر مٹی اڑاتے ہوئے، پلاسٹک کے پھولوں کے گلدستے سے کھینچ کر ایک نوخیز کلی بھی سجا دی اور اپنی اس کوشش میں رافع کی ٹائی بھی کالر کے مرکز سے ذرا ادھر ادھر کردی ۔رافع نے اعتراض بھی کیا کہ اس کی ٹائی لگتا ہے کچھ ٹیڑھی ہوگئی ہے، تو وہ کہنے لگا یہ اداکار راجیش کھنہ کا اسٹائل ہے۔ ڈھیلی اور ٹیڑھی ٹائی۔ ساتھ والے سچل گرلز کالج کی پرنسپل کا میاں بھی ایسی ہی ٹائی والی فوٹو پندرہ منٹ پہلے کھنچواکر گیا ہے ۔ راجیش کھنہ ان دنوں فیشن کا آخری اسٹیٹمنٹ تھا۔ اس پر گورنمنٹ کالج۔پھلیلی حیدرآباد کا دیہاتی پس منظر رکھنے والا لڑکا کیسے کوئی اعتراض کرسکتا تھا۔ اس سے فارغ ہوکر دو ایک ادھر ادھر کی بڑی بڑی لائٹیں آن کیں۔خود کیمرے کے سیاہ پردے میں منہ ڈال کر کھڑا ہوگیا، زور سے ریڈی کہا اور رافع جب تن گیا تو اس نے اس کے پاس جاکر اس کے کاندھے بیلنس کئے جس پر رحیم بخش نے متاثر ہوکر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” لڑکا دیکھنے میں کم عمر ہے مگر اپنے کام میں ہشیار ہے۔” جس پر رافع نے سندھی میں کہا کہ” یہ مکڑوں (سندھی زبان میں ٹڈے کی اصطلاح پڑھے لکھے سندھی لوگوں میں مہاجروں کے لیے استعمال ہوتی تھی)کے لڑکے شروع ہی سے اپنے ہنر میں زیادہ دل چسپی لیتے ہیں۔”

حیدرآباد ڈویژن میں انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحان میں پہلی پوزیشن لینے والے رافع نے حجلہء عروسی میں اپنی دلہن نورجہاں کا چہرہ پہلی دفعہ دیکھا اور بجھ گیا۔ گھونگٹ اٹھا نے پر وہ اسے کچھ زیادہ اچھی نہ لگی۔اس کے دانت عام لڑکیوں سے بڑے تھے اور اس میں نہ کوئی ادا تھی نہ ان کی ادا کاری۔رحیم بخش کے ساتھ ہیرا منڈی کے مختلف پھیروں پر وہ پورٹ فولیو بنوانے کی شوقین طوائف، جس کی بڑی بہن سے وہ جسمانی طور پر مل چکا تھا وہ دلہن کے روپ میں اسے پیش کی گئی نوری سے زیادہ حسین اور دلربا تھی۔اس کی نئی امی بھی جو اسی بازار کی تھی اور جنہیں دس سال کی عمر میں رافع کے یتیم ہونے پر اس کے باپ نے گھر میں ڈال لیا تھا وہ بھی اٹھائیس برس کی عمر میں پندرہ سال کی نوری سے حسین تھی۔ ماہم کو اگر یہ سب کچھ پتہ ہوتا تو وہ اسے اس کے پہلے اور چوتھے جھوٹ کے معاملے میں کچھ معافی دے دیتی۔ وہ دو جھوٹ اس کے بچپن میں یتیم ہونے اور خراب عورتوں سے تعلق کے حوالے سے بولے گئے تھے۔
صبح نوری جب اپنے وقت مقررہ پر باتھ روم گئی تو رافع نے دیکھا کہ اس کے ایک پیر میں کچھ لنگ بھی ہے۔ وہ اور بھی بکھر سا گیا۔

اس نے اگلے دن جب اپنے باپ سے نوری کے سر اپے کی شکایت کی تو اس نے اسے یہ کہہ کر قائل کردیا کہ نوری کے باپ نے اسی وجہ سے تو سو ایکڑکا آم کا باغ اور میرپور خاص کا شاپنگ پلازہ اپنی بیٹی کے نام کیا ہے۔ اس کی وجہ سے اب وہ ساری زندگی کے لئے فکر معاش سے آزاد ہوگیا ہے۔ اس کی اپنی زمین بمشکل دو سو ایکڑ ہے اور وہ تین بھائی ہیں ان میں تقسیم ہوکر اسے کچھ زیادہ حصہ نہ مل پائے گا۔مرد کی زندگی میں عورتیں تو آنے جانے والی شے ہیں اور اسلام نے چار شادیوں کی اجازت اسی لئے دی ہے کہ اگر پہلی دفعہ کوئی کمی رہ جائے تو اسے بعد میں درست کرلیا جائے۔رافع کو اپنے باپ کی بات کچھ زیادہ اچھی نہ لگی وہ شہر میں پڑھ کر کچھ روشن خیال ہوگیا تھامگر عورتیں تو مرد کی زندگی میں آنے جانے والی شے ہیں والی بات اس نے مردوں کے مروجہ آئینِ حیات کے طور پر اپنا لی۔
جب وہ یونیورسٹی کے شعبہء معاشیات میں اپنی تعلیمی قابلیت کا سکہ منوارہا تھا تو اسے شعبہء سیاسیات کی خیر النساء اچھی لگی۔وہ بھی اس کی طرح یونیورسٹی کی ڈبیٹنگ ٹیم کی ممبر تھی اور ان کا پیار فیصل آباد کے ایک مقابلہء تقریر میں پروان چڑھا اور اسی طرح کے تقریری مقابلوں میں بطور ٹیم ممبر ان کا بہت ساتھ رہا اور وہ رافع سے حاملہ ہوگئی۔اس کے اے۔ ایس، آئی باپ نے ہنگامہ کیا تو رافع نے اس سے چپ چاپ شادی کرلی۔شادی میں اس کی طرف سے اس کا کزن رحیم بخش اور کالج کے زمانے کے کچھ چار پانچ پرانے دوست شریک ہوئے۔شایان اسی شادی کے نتیجے میں ٹھیک سات ماہ پیدا ہوا اور دوسرے برس کے اختتام پر غفران بھی پیدا ہوگیا۔خیر النساء نے پڑھائی چھوڑ دی۔نوری سے رافع کو کوئی اولاد نہ ہوئی۔شاید نوری میں ہی کوئی مسئلہ تھا۔
جن دنوں رافع نے یونیورسٹی کے امتحان میں بھی ٹاپ کیا انہیں دنوں ایک ملٹی نیشنل میں اس کو مارکیٹنگ اسٹنٹ کی نوکری بھی مل گئی۔باپ کا ارادہ تھا کہ وہ پولیس میں جاتا۔علاقے کے ایک ایم۔پی۔اے صاحب ان دنوں صوبے کے وزیر داخلہ تھے۔رافع کے باپ سے ان کی بہت دوستی تھی۔رافع نے انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ آنے والا زمانہ معاشیات کا ہے۔ یہ ملٹی نیشنل آپ دیکھنا مملکتوں سے زیادہ طاقتور ہوجائیں گی۔ وہ چاہیں تو اس کے چھوٹے بھائی جس نے تھرڈ ڈویژن میں بی۔اے کیا ہے اسے پولیس میں ڈائیریکٹ اے ایس
آئی بھرتی کروادیں۔وہ گاؤں میں ہی رہتا ہے۔ تھانے کچہری کے حوالے سے وہ ان کا نام بہت روشن کرے گا۔ اس دوران رافع کی ملازمت نے کئی روپ دیکھے بالآخر اسے ایک ایسی زرعی ادویات کی کمپنی میں ملازمت مل گئی جو تھی تو مصری مگر اسے پنجاب میں زرعی ادویات کی منڈی میں اپنی مصنوعات کے لیے بہت وسیع مواقع دکھائی دیے تھے۔
دو سال کی ملازمت کے بعد وہ اپنی کمپنی کی جانب سے دومیات چلا گیا۔ جہاں سے اسے ضروری تربیت کے بعد پنجاب کا جوائینٹ ڈائیریکٹر مارکیٹنگ بنا کر بھیج دیا گیا۔ آپ اگر یہ لفظ برداشت کرسکتے ہیں تو رافع نے ماہم کو اپنی دومیات،مصر میں تعیناتی کے دورمیں پھنسایا تھا۔ اس کی علالت پر مزاج پرسی کا فون البتہ اس نے کمپنی کی طرف سے اپنے ملتان والے دورے میں کیا۔ یہ اس کا لاہور میں عرصہء تعیناتی تھا۔ یہ ملٹی نیشنل زرعی ادویات کے بنانے میں ایک بڑا نام تھی۔خیر النساء ان دنوں اپنے ماں باپ کے ساتھ حیدرآباد میں ہی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ رہتی تھی۔
رافع کی معلومات بہت تھیں۔ مطالعے کا بھی بے حد شوقین تھا اور کمپیوٹر کے بارے میں اسے عام لوگوں سے زیادہ پتہ تھا۔کمپیوٹر پر وہ مختلف سوشل سائٹس پر اپنا پروفائل ادھر اُدھر سے ڈاؤن لوڈ کی تصویروں سے اتنا پرفریب بناتا تھا کہ اس کے سحر سے تنہائی پسند لڑکیوں کا محفوظ رہنا آسان نہ ہوتا۔ انگریزی پر اس کی بے پناہ کمانڈ، اور جملوں میں ایک چبک دست مہارت ، انہیں اس کی شخصیت کے فریب میں مبتلا کرلیتی تھی۔
یہ عجیب بات تھی کہ وہ حقیقی زندگی میں خواتین کے لئے ایسا پر فریب نہ تھا۔ شاید وہ خیر النساء والے عشق کے تجربے کے بعد کچھ اس حوالے سے بجھ گیا تھا۔اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں اسے بے شمار خواتین سے ملنے کا اتفاق ہوتا تھا مگر کوئی بھی اس کے دام فریب میں نہ آئی۔سچ پوچھو تو اس نے اس معاملے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی ورنہ اپنے باپ کی ابتدائی تعلیم کہ مرد کی زندگی میں عورتیں تو آنے جانے والی شے ہیں اور اسلام نے چار شادیوں کی اجازت اسی لئے دی ہے کہ اگر پہلی دفعہ کوئی کمی رہ جائے تو اسے بعد میں درست کرلیا جائے۔خیرالنساء کے ذریعے اس نے پہلی کمی نوری کے بعد پوری کی،وہ یہ سلسلہ دراز کرسکتا تھا۔خیر النساء میں بھی اب اسے بہت خامیاں دکھائی دیتی تھیں۔وہ زبان دراز تھی۔ پوہڑ تھی۔ سست تھی اور جانے کیا کیا تھی۔
جن دنوں ماہم اس کے دام محبت میں تیزی سے گرفتار ہو رہی تھی۔ اس کا انٹرنیٹ پر پیار کا سلسلہ، آرمینیا کی ایرینا جسے وہ پیار سے رینی کہتا تھا اور کوالالمپور کی ستی روحانہ سالکین سے بھی چل رہا تھا۔ روحانہ کی دادی اسکاٹ لینڈ کی تھی لہذا وہ ملائیشیا کی باقی لڑکیوں سے دیکھنے میں بہت مختلف تھی۔دراز قد، ستواں ناک، دلربا بھرے بھرے خطوط اور بے باک طبیعت۔سال کے تین مہینے وہ اپنی دادی کی جائداد جو عین اسی قصبے بالمورل اسکاٹ لینڈمیں تھی جہاں ملکہ برطانیہ اپنی تعطیلات گزارتی تھی۔واپس آتی تو اس کے لئے لندن سے مارک اینڈ اسپینسر کی دکان سے عمدہ قمیضیں  اور ٹائیاں لاتی تھی۔ وہ بھی اسے دومیات یا قاہرہ سے تحفے خرید کے فیڈ ایکس کے ذریعے بھجواتا تھا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *